محمد اظہار الحق صاحب کی تجاویز اور مغالطے
آپ نے کہا” قومی اسمبلی میں غیر مسلم قرار دے دیا تو اس کے بعد ترغیب ۔ تحریص ۔ اور تبلیغ کا دور آجانا چاہئے تھا”۔
بالکل ایسا ہی کرنا چاہئے تھا۔ لیکن ا س کے لئے شہر طائف میں سے گزرنا پڑتا ہے ۔ہاتھ میں پتھر اٹھائے ہوئے اور گالیاں دیتے ہوئے نہیں۔ پتھر کھاتے ہوئے بہتے لہو کے ساتھ۔ لبوں پر دل کی اتھا ہ گہرائیوں سے دعا دیتے ہوئے ۔ اور عین حالت تکلیف میں خون صاف کرتے ہوئے اختیار ملنے کے باوجود معاف کرنے کا پہاڑوں سے بلند حوصلہ چاہئے ہوتا ہے۔ یہ حوصلہ ہمیں ہمارے آقا و مولیٰ ﷺ نے سکھایا ۔ لیکن آج اس پر عمل پیرا کو ن ہے ۔ وہی احمدی جو بدترین کافر ٹھرائے گئے ہیں۔آپ کہاں سے لائیں گے ایسے بلند حوصلہ لعل و جواہر؟ ہاں مگر ایک ہی دن میں لاہور میں سو کے قریب لاشے اٹھانے والے احمدیوں نے یہ ثابت ضرور کر دیا کہ انہیں ترقی کیوں ملنی چاہئے۔ دودھ پینے والے مجنوں کون ہیں اور خون دینے والے کون۔ اور خون کے پیاسے درندے کون؟ اپنی عمر کے ستر برسوں میں کوئی دھرنا، ہڑتال، ہنگامہ آرائی، قتل و غارت، روڈ بلاک اور ٹریفک جام احمدیوں کی طرف سے بھی کبھی دیکھا آپ نے؟
آپ نے ایک سو فیصد سچا واقعہ سنایا ۔ آپ کے بیان کردہ اس شمالی امریکہ ماڈل کو احمدی ویلکم کہیں گے۔ ضرور لے آئیے۔ اور پاکستان کے قریہ قریہ میں اس کو آزمائیے۔ وہاں تو ایک مجاہد نے چند ملاقاتوں میں ایک ” گمراہ ” کو بچا لیا ۔پاکستان میں تو مومنین یہ کام بآسانی سر انجام دے کر اس مسئلہ کو ہمیشہ کے لئے حل کر سکتے ہیں۔ نئی احمدی نسل کا ایک سو فیصد سچا واقعہ آپ بھی سنتے جائیے۔
گڑھی شاہو میں احمدیہ بیت الذکر پر 2010 میں ہونے والے حملے میں ایک احمدی مارا گیا۔ اگلے جمعہ اس کی بیوہ نے اپنے بیٹے کو نہلا دھلا کر جمعہ کے لئے تیا رکیا اور نصیحت کی بیٹا اسی جگہ پر جا کر کھڑے ہونا جہاں تمھارا باپ مارا گیا ۔ یہ ہے نوجوان احمدی نسل جو احمدی ماؤں کی گودوں میں پروان چڑھ رہی ہے۔ اور ماڈل ٹاؤن میں نشانہ بننے والوں میں سے والدین کا اکلوتا بیٹا جب جان کی بازی ہار گیا تو والدین نے کہا ہم نے اپنا بیٹا اپنی گود سے اٹھا کے خد اکی گود میں رکھ دیا ۔ ہم بھی جان دینے کے لئے تیار ہیں۔ کیا بند فرقے (CULT) ایسی تبدیلیاں پیدا کر سکتے ہیں۔
فرق صرف یہ ہے کہ غازیان نے تو تلوا راٹھا لی اور احمدیوں نے کلمہ و نماز کو حرز جان بناکر اپنی الگ پہچان بنا لی ۔ اپنے ہمسائے، کالم نگار اور اینکر پرسن جاوید چوہدری صاحب کا بیان کردہ صرف ایک چھوٹا سا نمونہ ملاحظہ ہو۔ لکھتے ہیں۔
” ہم شک، پروپیگنڈے اور کسی کو تسلیم نہ کرنے کی بدعت کے اس قدر شکار ہو چکے ہیں کہ ہم اب لوگوں کی نمازوں تک میں کیڑے نکال لیتے ہیں۔ مجھے ایک صاحب کسی کے بارے میں بتا رہے تھے وہ قادیانی ہے ۔ میں نے پوچھا تمہیں کیسے پتا چلا ۔ اس نے جواب دیا ۔ وہ بار بار کلمہ پڑھتا ہے اور ایسا کرنے والے لوگ قادیانی ہوتے ہیں ۔میں سر پکڑ کربیٹھ گیا۔ ” ( زیرو پوائنٹ ۔ ایکسپریس 14 جون2012 )
آپ نے مثال بہائی ازم کی دی ہے ۔ بہاء اللہ کا دعویٰ جماعت احمدیہ کے قیام سے 26 سال پہلے سامنے آیا ۔ آج بہائیت کہاں ہے اور احمدیت کہاں کھڑی ہے ۔ اگر معاملہ صرف مار کٹائی کا ہوتا تو وہ عالمی سطح پر احمدیت سے آگے کھڑے ہوتے۔
اگراحمدیوں کے عقائد غیر منطقی اور کمزور ہیں تو مسئلہ آسان ہونا چاہئے تھانہ کہ مشکل ۔ گلی گلی مفت ختم نبوت کورسز پڑھانے والے ہزاروں علماء اور مدرسے قادیانیوں کے غیر منطقی عقائد سے خائف کیوں ہیں ۔ خائف ہونے کا ثبوت یہ کہ بات دلیل سے نہیں کرتے مار کٹائی کی زبان بولتے ہیں۔ جبکہ تعلیم ” ان کے ساتھ احسن طریق پر مجادلہ کر ” کی پڑھتے ہیں۔خدائی کے دعویدار فرعون سے تو نرم بات کرنے کا حکم کلیم اللہ کو ملا۔ لیکن یہ اکثریت مسئلہ نبوت پر نرم بات رد کر کے گولی کی زبان بولتے ہوئے بڑی خدائی کا دعویٰ کرنے پر مصر کیوں ہے۔؟ حالانکہ مسئلہ توحید بہر حال مسئلہ نبوت سے پہلے ہے ۔
چلیں احمدی تو بد ترین کافر ٹھرائے گئے ۔ ان کا قصور تو بہت بڑا ہے ۔ ان کے ساتھ نرم بات کرنے کے روادار نہیں ہونا چاہتے لیکن باقی فرقے ایک دوسرے کی جان کے دشمن کیوں ہیں۔ پاکستان میں بیسیوں ایسی مساجد ہیں جن کے صدر دروازے پر یہ تحریر آویزاں ہے کہ یہ فلاں خاص فرقے کی مسجد ہے اس میں فلاں فلاں فرقے کے لوگ داخل نہیں ہو سکتے۔ یہ آپ کا مغالطہ ہے کہ آج کے علماء تحریص ترغیب اور تبلیغ سے قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔ کیونکہ ایسا کرنے سے مفادات پر زد پڑتی ہے ۔ اگرحوصلہ ہو تو دل تھام کر دیکھ لیجئے کہ مشہور اہلحدیث عالم نواب صدیق حسن خاں صاحب کے فرزند مولوی نورالحسن خاں صاحب کیا لکھتے ہیں :
”یہ بڑے بڑے فقہیہ ، یہ بڑے بڑے مدرس، یہ بڑے بڑے درویش ، جو ڈنکا دینداری ، خد اپرستی کا بجا رہے ہیں ردّ حق تائید باطل تقلید مذہب وتقید مشرب میں مخدومِ عوام کالانعام ہیں ۔ سچ پوچھو تو دراصل پیٹ کے بندے ، نفس کے مرید ، ابلیس کے شاگرد ہیں ۔ چندیں شکل از برائے اکل ان کی دوستی دشمنی ان کے باہم کا ردّ و کد فقط اسی حسدو کینہ کے لئے ہے نہ خد اکے لئے نہ امام کے لئے نہ رسول کے لئے ۔ علم میں مجتہد مجدد ہیں ۔ لاکن حق ، باطل ، حلال ، حرام ، میں کچھ فرق نہیں کرتے ۔ غیبت ، سب و شتم ، خدیعت و زور ، کذب و فجور ، افترا ء کو گویا صالحات باقیات سمجھ کر رات دن بذریعہ بیان و زبان ، خلق میں اشاعت فرماتے ہیں ” (اقتراب الساعۃ۔ ص 8 مطبع سعید المطابع الکائنہ بنارس)
دنیا کے بہترین دماغوں میں شمار کیا جانے والا عاطف میاں کئی سال کی تحقیق اور مطالعہ کے بعد 2002 میں احمدی ہوا۔ کس لالچ ، کس آمریت اور نگرانی نے انہیں باند ھ رکھا ہے ۔ان کا اپنا بیان ریکارڈ پر ہے شاید اسے بھی آپ جیسے صاحبان علم آمریت کی وجہ سے دیا گیا بیان کہیں گے۔ خدارا احمدیت کی مخالفت میں اتنا آگے نہ جائیں کہ زد کہیں اور جا پڑے ۔ حضرت کعب بن مالک او رآپ کے ساتھیوں کے ساتھ کیے جانے والے مقاطعہ کو کوئی غیر مسلم آمریت کہے تو آپ کیا جواب ارشاد فرمائیں گے۔ افسوس آپ کا مبلغ العلم صرف اتنا ہی نکلا کہ بس احمدیوں پر تہمت لگا دیں نتائج بے شک کتنے ہی بھیانک کیوں نہ نکل رہے ہوں ۔

