نیوزی لینڈ میں مسلمان شہید ہوئے اور کوئٹہ میں شیعہ مرے

حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں غالب اگر اس زمانے میں ہوتے تو شاید کبھی ایسی بات نہ کرتے۔ کیونکہ کون سا نوحہ گر ان کے ساتھ چلنے کے لئے تیار ہوتا۔ وہ تو ایک دو بم دھماکوں کے بعد ہی ہاتھ…

Read more

ہم نیوزی لینڈ میں اذان سن کر اور اپنے ملک میں اذان بند کر کے خوش ہیں

پندرہ مارچ کو نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کی کارروائی ہوئی۔ دو مساجد پر حملے میں پچاس نمازی شہید ہو گئے۔ ا س موقع پر نیوزی لینڈ کے عوام اورخاص طور پر وہاں کی خاتون وزیر اعظم نے کمال کر دیا۔ جس طرح مظلوموں سے ہمدردی کی گئی۔ جس طرح مسلمانوں کی دل جوئی کے…

Read more

مئی 2010 اور مارچ 2019: ہم واقعی منافق ہیں

حامد میر صاحب کا کالم ”ہمارا اصل قصور، ہماری منافقت ہے“ پڑھا تو یادوں کے دریچے وا ہوتے چلے گئے۔ یہ یادیں مجھے 2010 میں لے گئیں۔ میں نے دیکھا : وہ بھی باپ تھے۔ بھائی تھے۔ بیٹے تھے۔ ان کی بھی راہ تکتی مائیں تھیں۔ صدقے واری جاتی بیٹیاں اور بہنیں تھیں۔ انہیں بھی…

Read more

   خالی فیڈر، معصوم بچے اور راج محل کے کتے

میری بیٹی کی عمر تین سال تھی۔ بڑی پیاری معصوم سی گڑیا۔ سارا دن ہم میاں بیوی اس سے اپنا دل بہلاتے رہتے۔ معصوم شرارتیں ، توتلی باتیں اور اچھل کود ہر وقت۔ ایک دن شرارتوں ہی شرارتوں میں بیڈ پر اچھل رہی تھی۔سامنے ڈریسنگ تھا۔ بیڈ پر جمپ کھاتی اور آئینے میں خود کو…

Read more

”مذہب سے متعلق ملانہ رویے“ کے جواب میں

جناب ڈاکٹر مجاہد مرزا صاحب کا ایک کالم ”مذہب سے متعلق ملانہ رویے“ ”ہم سب“ فورم پر شائع ہو اہے۔ اس مضمون میں جناب ڈاکٹر صاحب مذہب میں ملائیت کی بے جا دخل اندازی پر نوحہ کناں ہیں۔ بے شک ”نیم حکیم خطرہ جان او رنیم ملاں خطرہ ایمان“ ایک اٹل حقیقت ہے۔ اس نیم…

Read more

ہوائی فائرنگ اور مفرور عشق

ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔ ناموس رسالت کے مقدس نام پر ذاتی مقاصد کی تکمیل کا اچھا موقع تھا۔ موقع پرست عناصر، سربراہان دھنگا و فساد اور طفلان کوچہ و بازار برساتی مینڈکوں کی طرح باہر نکل کر ٹر ٹر کر رہے تھے۔ جگہ جگہ ناکے لگا کر شہر بند کر دیے گئے۔ عورتیں، بچے اور بوڑھے خدا کے نام پر ہونے والے فساد فی الارض میں خدا کی زمین پر بے یارو مدد گارہو گئے۔

دوسروں کو نقصان پہنچا کر اپنے عشق رسول کا اظہار کرنے کا تازہ تازہ سبق پڑھ کر آنے والے ڈنڈا برداروں کے ہاتھوں سبھی تکلیف اٹھا رہے تھے۔ گاڑیاں محفوظ تھیں نہ راہگیر۔ ہر قسم کے پرجوش نعرے لگا رہے جا رہے تھے۔ ان نام نہاد عاشقان میں ایسے بھی تھے جنہیں گھر والے گھاس ڈالتے ہیں نہ گلی محلے والے پوچھتے ہیں۔ لیکن آج و ہ جو جی میں آئے کر رہے تھے جسے چاہیں پتھر ماریں جس کی گاڑی کو چاہیں آگ لگا دیں۔

ان کٹھ پتلیوں کے سرغنہ جگہ جگہ سٹیج بنا کر اور کچھ بنا سٹیج کے ہی پر جوش خطابت کے جوہردکھا رہے تھے۔ ان کے آگے ہر چیز خس و خاشاک کی طرح بہ رہی تھی جیسے بہتا ہوا لاوہ ہر سد راہ کو خاکستر کرتا جائے۔ ”جو منہ میں آئے کہ دو“ کی پالیسی پر عمل پورے جوش سے جاری تھا۔ کوئی روکنے والا تھا نہ پوچھنے والا۔ جو کچھ کہا جا رہا تھا وہ بے ربط بھی تھا اور بے ربط کرنے والا بھی۔

Read more

یہ ہے عشق رسول ﷺ

عاشق جانثاران رسول، فدائیان رسول، ناموس رسالت کے الفاظ روزانہ سماعتوں سے ٹکراتے ہیں۔ بیشتر دفعہ یہ الفاظ چوراہوں، سٹرکوں کے بیچوں بیچ لگے مجمع سے اٹھ رہے ہوتے ہیں۔ بیک گراونڈ میں جلتے ٹرک، ذلیل و خوار ہوتے مسافر، بھوک سے نڈھال عورتیں بچے، تڑپتے مریض اور نعرے لگانے والے ڈنڈا بردار ہوتے ہیں۔…

Read more

امن کا نوبل انعام کرشماتی ڈاکٹر کے لئے

بچے نے اپنے والد کے ساتھ مریضوں کی عیادت کرتے کرتے ڈاکٹر بننے کی ٹھان لی۔ بڑا ہوا تو ہمسایہ ملک برونڈی میں جا کر ڈاکٹری تعلیم مکمل کی اور گائناکالوجسٹ بن گیا۔ کہیں بیرون ملک جا کر دولت کے انبار لگانے اور پر تعیش زندگی پر اپنی ہی دھرتی پر تڑپتی اورسسکتی انسانیت کی…

Read more

موچی کا احتجاج

طفیل صبح اپنے ٹھکانے پر پہنچا تو وہاں منظر ہی بدلا ہو اتھا۔ اس کاسارا سامان جل کر بکھر چکا تھا۔ سامان تھا ہی کتنا۔ جوتے پالش کرنے والے کچھ پرانے برش اور مختلف رنگوں کی پالش کی ڈبیاں۔ الگ الگ پاؤں والی کچھ چپلیں۔ جسے وہ اپنے گاہکوں کو عارضی طور پر پہننے کے…

Read more

بیگم کلثوم نواز، مولانا فضل الرحمن اور دینی مدارس

حلقہ زہد و تقویٰ کے ارباب از قسم فضل الرحمان، اکرم درانی اور خادم رضوی کو ابال آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اسلام خطرے میں ہے کے نقارے پر چوٹ پڑنے لگی ہے۔ مدارس کا نصاب بدلنے نہ دیں گے کے نعرے لگنا شروع ہو گئے ہیں۔ اسلام کے ان قلعوں میں اصلاحات لانے کی…

Read more