ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔ ناموس رسالت کے مقدس نام پر ذاتی مقاصد کی تکمیل کا اچھا موقع تھا۔ موقع پرست عناصر، سربراہان دھنگا و فساد اور طفلان کوچہ و بازار برساتی مینڈکوں کی طرح باہر نکل کر ٹر ٹر کر رہے تھے۔ جگہ جگہ ناکے لگا کر شہر بند کر دیے گئے۔ عورتیں، بچے اور بوڑھے خدا کے نام پر ہونے والے فساد فی الارض میں خدا کی زمین پر بے یارو مدد گارہو گئے۔
دوسروں کو نقصان پہنچا کر اپنے عشق رسول کا اظہار کرنے کا تازہ تازہ سبق پڑھ کر آنے والے ڈنڈا برداروں کے ہاتھوں سبھی تکلیف اٹھا رہے تھے۔ گاڑیاں محفوظ تھیں نہ راہگیر۔ ہر قسم کے پرجوش نعرے لگا رہے جا رہے تھے۔ ان نام نہاد عاشقان میں ایسے بھی تھے جنہیں گھر والے گھاس ڈالتے ہیں نہ گلی محلے والے پوچھتے ہیں۔ لیکن آج و ہ جو جی میں آئے کر رہے تھے جسے چاہیں پتھر ماریں جس کی گاڑی کو چاہیں آگ لگا دیں۔
ان کٹھ پتلیوں کے سرغنہ جگہ جگہ سٹیج بنا کر اور کچھ بنا سٹیج کے ہی پر جوش خطابت کے جوہردکھا رہے تھے۔ ان کے آگے ہر چیز خس و خاشاک کی طرح بہ رہی تھی جیسے بہتا ہوا لاوہ ہر سد راہ کو خاکستر کرتا جائے۔ ”جو منہ میں آئے کہ دو“ کی پالیسی پر عمل پورے جوش سے جاری تھا۔ کوئی روکنے والا تھا نہ پوچھنے والا۔ جو کچھ کہا جا رہا تھا وہ بے ربط بھی تھا اور بے ربط کرنے والا بھی۔
Read more