گھوٹکی جلاؤ۔ اسلام بچاؤ

میں جب بھی چشم تصور میں مسجد نبوی ﷺ میں نجران کے عیسائیوں کا وفد بیٹھے دیکھتا ہوں تو روح وجد میں آجاتی ہے۔ مذہبی رواداری کے امین اور امن کے سفیر ﷺ کے لئے درو د و سلام کے دھارے بہہ نکلتے ہیں۔ آپ بھی میرے ساتھ اس منظر کو دیکھئے : عیسائی عالموں،…

Read more

خیالی امت کی گرتی دیواریں

آج کل بہت ہا ہاکار مچی ہوئی ہے کہ یو۔ اے۔ ای نے ہندوستانی وزیر اعظم کو سب سے بڑا سول اعزاز دے کر مسلم امہ کے سینے پر منج دلی ہے۔ مودی سرکار کا کشمیر میں ظلم یقیناً ناقابل بیان ہے۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ لیکن یو اے ای ا س کی مذمت کیوں کرے۔ وہ اپنے مفادات کی حفاظت کرے یا بیگانی لڑائی میں کود پڑے۔ آج عرب دنیا کے اقتصادی مفادات انڈیا سے وابستہ ہیں اور انڈیا نے مسلسل محنت کر کے یہ جگہ بنائی ہے۔

Read more

سائنس جوتے کی نوک پر یا مفتی

بجا فرمایا مفتی صاحب نے کہ ہم سائنس کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔ ہم نے اس کے علاوہ آج تک اور کیا ہی کیا ہے۔ سائنس کو جوتے کی نوک پر رکھا کوئی ڈھنگ کا ادارہ بننے دیا نہ کوئی عالمی سطح کی یونیورسٹی۔ کسی صاحب علم کو گھاس ڈالا نہ سا ئنس دان کو منہ لگایا۔ ایک درویش جس کاماننا تھا کہ قرآن حکیم کا آٹھواں حصہ سائنس پر ہی مشتمل ہے اس نے اسی نہج پر سوچتے قرآن کریم سے راہنمائی لیتے ہوئے دنیا کے سب سے بڑے سائنسی انعام پرجا ہاتھ ڈالا۔ دنیا معترف ہوگئی۔ اس کے لئے تمام ملکوں نے اور ہر بڑی یونیورسٹی نے اپنے دروازے کھول دیے۔

Read more

نیوزی لینڈ میں مسلمان شہید ہوئے اور کوئٹہ میں شیعہ مرے

حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں غالب اگر اس زمانے میں ہوتے تو شاید کبھی ایسی بات نہ کرتے۔ کیونکہ کون سا نوحہ گر ان کے ساتھ چلنے کے لئے تیار ہوتا۔ وہ تو ایک دو بم دھماکوں کے بعد ہی ہاتھ…

Read more

ہم نیوزی لینڈ میں اذان سن کر اور اپنے ملک میں اذان بند کر کے خوش ہیں

پندرہ مارچ کو نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کی کارروائی ہوئی۔ دو مساجد پر حملے میں پچاس نمازی شہید ہو گئے۔ ا س موقع پر نیوزی لینڈ کے عوام اورخاص طور پر وہاں کی خاتون وزیر اعظم نے کمال کر دیا۔ جس طرح مظلوموں سے ہمدردی کی گئی۔ جس طرح مسلمانوں کی دل جوئی کے…

Read more

مئی 2010 اور مارچ 2019: ہم واقعی منافق ہیں

حامد میر صاحب کا کالم ”ہمارا اصل قصور، ہماری منافقت ہے“ پڑھا تو یادوں کے دریچے وا ہوتے چلے گئے۔ یہ یادیں مجھے 2010 میں لے گئیں۔ میں نے دیکھا : وہ بھی باپ تھے۔ بھائی تھے۔ بیٹے تھے۔ ان کی بھی راہ تکتی مائیں تھیں۔ صدقے واری جاتی بیٹیاں اور بہنیں تھیں۔ انہیں بھی…

Read more

   خالی فیڈر، معصوم بچے اور راج محل کے کتے

میری بیٹی کی عمر تین سال تھی۔ بڑی پیاری معصوم سی گڑیا۔ سارا دن ہم میاں بیوی اس سے اپنا دل بہلاتے رہتے۔ معصوم شرارتیں ، توتلی باتیں اور اچھل کود ہر وقت۔ ایک دن شرارتوں ہی شرارتوں میں بیڈ پر اچھل رہی تھی۔سامنے ڈریسنگ تھا۔ بیڈ پر جمپ کھاتی اور آئینے میں خود کو…

Read more

”مذہب سے متعلق ملانہ رویے“ کے جواب میں

جناب ڈاکٹر مجاہد مرزا صاحب کا ایک کالم ”مذہب سے متعلق ملانہ رویے“ ”ہم سب“ فورم پر شائع ہو اہے۔ اس مضمون میں جناب ڈاکٹر صاحب مذہب میں ملائیت کی بے جا دخل اندازی پر نوحہ کناں ہیں۔ بے شک ”نیم حکیم خطرہ جان او رنیم ملاں خطرہ ایمان“ ایک اٹل حقیقت ہے۔ اس نیم…

Read more

ہوائی فائرنگ اور مفرور عشق

ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔ ناموس رسالت کے مقدس نام پر ذاتی مقاصد کی تکمیل کا اچھا موقع تھا۔ موقع پرست عناصر، سربراہان دھنگا و فساد اور طفلان کوچہ و بازار برساتی مینڈکوں کی طرح باہر نکل کر ٹر ٹر کر رہے تھے۔ جگہ جگہ ناکے لگا کر شہر بند کر دیے گئے۔ عورتیں، بچے اور بوڑھے خدا کے نام پر ہونے والے فساد فی الارض میں خدا کی زمین پر بے یارو مدد گارہو گئے۔

دوسروں کو نقصان پہنچا کر اپنے عشق رسول کا اظہار کرنے کا تازہ تازہ سبق پڑھ کر آنے والے ڈنڈا برداروں کے ہاتھوں سبھی تکلیف اٹھا رہے تھے۔ گاڑیاں محفوظ تھیں نہ راہگیر۔ ہر قسم کے پرجوش نعرے لگا رہے جا رہے تھے۔ ان نام نہاد عاشقان میں ایسے بھی تھے جنہیں گھر والے گھاس ڈالتے ہیں نہ گلی محلے والے پوچھتے ہیں۔ لیکن آج و ہ جو جی میں آئے کر رہے تھے جسے چاہیں پتھر ماریں جس کی گاڑی کو چاہیں آگ لگا دیں۔

ان کٹھ پتلیوں کے سرغنہ جگہ جگہ سٹیج بنا کر اور کچھ بنا سٹیج کے ہی پر جوش خطابت کے جوہردکھا رہے تھے۔ ان کے آگے ہر چیز خس و خاشاک کی طرح بہ رہی تھی جیسے بہتا ہوا لاوہ ہر سد راہ کو خاکستر کرتا جائے۔ ”جو منہ میں آئے کہ دو“ کی پالیسی پر عمل پورے جوش سے جاری تھا۔ کوئی روکنے والا تھا نہ پوچھنے والا۔ جو کچھ کہا جا رہا تھا وہ بے ربط بھی تھا اور بے ربط کرنے والا بھی۔

Read more

یہ ہے عشق رسول ﷺ

عاشق جانثاران رسول، فدائیان رسول، ناموس رسالت کے الفاظ روزانہ سماعتوں سے ٹکراتے ہیں۔ بیشتر دفعہ یہ الفاظ چوراہوں، سٹرکوں کے بیچوں بیچ لگے مجمع سے اٹھ رہے ہوتے ہیں۔ بیک گراونڈ میں جلتے ٹرک، ذلیل و خوار ہوتے مسافر، بھوک سے نڈھال عورتیں بچے، تڑپتے مریض اور نعرے لگانے والے ڈنڈا بردار ہوتے ہیں۔…

Read more