طویل ہوتی شام غریباں

ایک روز موسموں کی بات چھڑی تو استاد محترم فرمانے لگے ہمیں تو پانچواں موسم پسند ہے۔ عرض کیا یہ پانچواں موسم کیا ہے۔ جواب ایسا عطا فرمایا کہ دریا کو کوزے میں بند کر دیا۔ فرمایا پانچواں موسم ہے دل کا موسم۔ جب دل کا موسم سہانا ہو تو باہر کے موسم بھی بڑے اچھے لگتے ہیں۔ اگر دل مردہ ہو جائے تو باہر کتنا بھی خوبصورت موسم ہو اس سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ پر کیا کریں

Read more

کچھ نہیں ہو گا، یہ تو روٹین ہے

”بھائی جان! اگر میسج کرنا بہت ضروری ہے تو گاڑی کھڑی کر کے کر لیں۔“ ”نہیں۔ کچھ نہیں ہوتا یہ تو ہماری روز کی روٹین ہے۔“ ہم نے رکھ رکھاؤ کے ساتھ اپنے میزبان کو توجہ دلائی جو لندن کی اے تھری پر تیز رفتاری سے گاڑی چلاتے ہوئے ایک ہاتھ سے ٹیکسٹ میسجز کرنے میں مصروف تھے۔ لیکن وہاں سے جو جواب عنایت ہوا تھا وہ تو اور خوفناک تھا کہ موصوف اس عمل سے باز رہنے کے بجائے

Read more

فیصلہ ہمارا چلے گا

ہر انسان کے اندر خواہشات کی نمو کا ایک سلسلہ دراز موجزن رہتا ہے۔ کچھ کا اظہار ممکن ہو پاتا ہے تو بعض کی تکمیل۔ ہزاروں لاکھوں خواہشیں وہ ہیں جن پر دم تو نکلتا ہے لیکن ان کو لب اظہار عطا نہیں ہوتا تکمیل تو بس ایک خواب ہی رہتا ہے۔ غالب بھی کہتے پائے گئے۔ /ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے /بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے / خواہشات کا پالنا، معاشرتی

Read more

قبر کی حفاظت ممکن نہیں

بیٹا میرا ایک کام کر و گے۔ جی ضرور دادا جان۔ آپ حکم کریں۔ میں خوشی سے آپ کا ہر کام کرنے کے لئے تیار ہوں۔ بیٹا کسی طرح میری قبر کی حفاظت کا انتظام کروا دو۔ کسی سیکورٹی ایجنسی سے بات کرو۔ اور گارڈ رکھوا دو۔ دادا جان کی روح مجھ سے مخاطب تھی۔ میں نے دادا جان کا کام کرنے کے لئے بظاہر تو بڑی گرم جوشی دکھائی تھی لیکن جو کام انہوں نے کہ دیا وہ تقریباً

Read more

مشتاق بھٹی صاحب اور ان کے بدمعاش

گورنمنٹ ہائی سکول چونڈہ میں ارد گرد کے بے شمار دیہات سے بچے پڑھنے کے لئے آیا کرتے تھے۔ چونڈہ میں اس وقت دو ہائی سکول تھے اور دونوں آمنے سامنے واقع تھے۔ ایک اسلامیہ ہائی سکول اور دوسرا گورنمنٹ ہائی سکول۔ اسلامیہ ہائی سکول کے انتظام و انصرام پر ملائیت کی چھاپ تھی۔ اس کے ساتھ ایک وسیع و عریض مسجد اور مدرسہ بھی قائم تھا۔ مسجد کے صدر دروازے پر لگی تختی مسجد میں کسی احمدی، قادیانی، لاہوری،

Read more

یہ سکول ہیں یا پھانسی گھاٹ

”سکول وہ عمارت ہے جس کی چار دیواری کے اندر آپ کا آنے والا کل پایا جاتا ہے۔“ تعلیمی ادارے قوم کا اندرونہ زبان حال سے بیان کر دیتے ہیں۔ ان اداروں کی سنجیدگی، دیانت اور مہارت کل کی راہنما نسل کی خبر لاتی ہے تو لا پرواہی، بددیانتی اور غیر سنجیدگی قوم کے در دیوار پر اگنے والے خار دار ببول کو حتمیت کی ردا پہناتی ہے۔ تعلیمی ادارے ہی وہ نرسری ہیں جہاں سے کل کے سیاستدان، سپہ

Read more

عورتوں کی مرمت کرنے سے جوتے چاٹنے تک

جوزف کونراڈکا ناول Heart of darkness افریقہ کے دل کانگو کے بارے میں اس کے اپنے تجربات کی روشنی میں لکھا گیا تھا جو 1902 میں شائع ہوا۔ آج بھی بہت سارے لوگ کانگو کو پس ماندہ، غریب، بغاوت اور سازشوں میں گھرا ہوا ملک خیال کرتے ہیں۔ کانگو کا واحد اسلامی ایٹمی طاقت سے کوئی تقابلی جائزہ شاید نازک طبائع پر گراں گزرے۔ لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ بہت سے معاملات میں کانگو خود ساختہ ریاست مدینہ سے

Read more

اسلم قریشی کو ہم نے سرحد پار چھوڑا

الم نگار نے مولانا اسلم قریشی پر دو اقساط میں کالم لکھ کر یادوں کے دریچے کھول دیے۔ وہ کیا ہی ہنگامہ خیز دور تھا۔ مولانا اسلم قریشی صاحب کے متعلق روزانہ نئی نئی خبریں آتی تھیں۔ پورے پاکستان میں اور خاص طور پر سیالکوٹ میں ایسے معلوم ہوتا تھا کہ زندگی کا سب سے اہم مسئلہ مولانا صاحب کی گمشدگی کے متعلق بات کرنا ہے۔ کسی چائے خانے، تھڑے، دکان، کھوکھے پر کھڑے ہو جائیں کوئی نہ کوئی اس

Read more

بلوغت مبارک ہو!

آنا ً فاناً تیز و تند ہوائے بلا کی طرح سب کو بہا کر لے جانے والے اقدامات، خیالات، محرکات اور حرکات نے قوم کو پریشان کر دیا تھا۔ بندوبست سیاست و ریاست و حکومت ہچکولے لینے لگا تھا۔ یہ واقعات ہیں اپریل 2022 کے۔ اور اس سے ذرا پہلے گزشتہ ماہ میں اٹھنے والے طوفان نے جہاں کشتی بانوں کو سوچنے سمجھنے کے مواقع فراہم کیے تھے لیکن اس بلائے ناگہانی کو روکنے کے لئے کھیسے میں کوئی عملی

Read more

پتوکی واقعہ: لاشوں کو نوچنے والے گدھ

اشرف نام رکھا گیا تھا۔ نیک تفاؤل یہی تھا کہ معاشرے میں شرف پا سکے گا۔ عزت و قار سے جئے گا۔ اشرف نے شرف قائم رکھا اور غربت کے باوجود کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے، چوری اور ڈاکا ڈالنے کے بجائے مزدوری کو ترجیح دی۔ لیکن کیا خبر تھی کہ یہی غربت اس کا قصور بن جائے گی۔ سینکڑوں لوگوں کے بیچ مارا جائے گا لیکن کوئی پرسان حال نہ ہو گا۔ اس ہجوم میں کوئی رجل رشید نہیں

Read more

عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے مرد

مارچ میں ایک ہاہا کار مچ جاتی ہے۔ عورت مارچ کے حق میں نعرے اور مخالف نکتہ نظر ہر طرف موضوع بن جاتا ہے۔ ایک طبقہ ہر صورت میں اس مارچ کو کامیاب کرنے اور دوسرا اس عورت مارچ کے مد مقابل اپنی دکانداری سجاتے ہوئے مارکیٹ میں نئے برانڈ کے احتجاج لانے پر مصر ہے۔ بہرحال ہم ہر صورت میں عورت کی تعلیم، سماجی و معاشرتی خود مختاری، اس کی رائے کا احترام، حقوق کا خیال رکھنا اور اسے

Read more

کیا سوال پوچھنے کی اجازت ہے؟

پشاور دھماکے کی خبر دیکھی تو قصہ خوانی بازار کی رونق وہاں کی چہل پہل، معصوم بچے، خریداری کرتی خواتین، رکھ رکھاؤ والے دکاندار، قسم ہا قسم کے کھانے، چپلی کباب، پٹا تکہ (دنبے کی چربی میں لپٹے تکے ) ایک ثانیے میں نظروں سے گزر گئے، ابھی دو ماہ پہلے ہی دسمبر میں پشاور شہر دیکھنے کا پروگرام بن گیا تھا۔ پشاور کا ہمارا یہ پہلا سفر تھا ایک تو بچوں کو سیر کروانا تھی اور دوسرے ایک بہت

Read more

میاں صاحب کے بچے

وطن عزیز پر یہ کیسا موسم اتر آیا ہے کہ رکھ رکھاؤ روا داری، ایک دوسرے کے عقائد کا احترام، ہمدردی خلق اور درگزر جیسے بنیادی معاشرتی آداب عنقا ہوتے چلتے جاتے ہیں۔ شرف انسانیت نیست و نابود ہے۔ سگ آوارہ کو مارنا مشکل جب کہ ایک جیتے جاگتے اپنے ہی جیسے انسان کی جان لینا آسان بنا دیا گیا ہے۔ نفرتوں کے بیج تناور درخت بن گئے ہیں۔ معاشرتی تقسیم کو اقلیتوں کے نام پر ہم نے روا رکھا

Read more

ذہنی مریض کون؟ قاتل یا مقتول؟

”کیا آپ مجھے ناشتہ لے کر دے سکتے ہیں۔ “ ایک بلند، مہذب اور شائستہ آواز نے میرے قدم روک لئے۔ مڑ کر دیکھا تو ایک تیس پینتیس سالہ، پینٹ شرٹ پہنے، بال کھلے اور دوپٹہ گلے میں ڈالے درمیانے قد کی خاتون مجھ سے مخاطب تھی۔ میں اس وقت سرراہ ایک معروف ریستوران سے ناشتہ لے کر مڑا ہی تھا کہ اس خاتون کی آواز نے مجھے روک لیا۔ ایک لمحے کے لئے اس کی کیفیت کا اندازہ نہیں

Read more

اقتدار کی منتقلی اور نیا مرد آہن

میں اب گھر کیسے پہنچوں گا۔ ؟ کوئی گاڑی نہیں بھیج سکتے۔ ؟ کیا آپ نہیں آسکتے۔ ؟ ہمارے آگے امیگریشن کے لئے قطار میں کھڑا ایک فرانسیسی پریشانی کے عالم میں فون پر کسی سے گفتگو کر رہا تھا۔ اس وقت اندازہ نہیں ہوا کہ باہر کیا منظر ہے۔ لیکن تھوڑی ہی دیر بعد یہی سوالات ہماری زبان پر بھی تھے۔ رات دس بجے برکینا فاسو کے ائر پورٹ پر اترے تو بس میں بیٹھ کر لاؤنج میں آنے

Read more

کیا برکینا فاسو، مالی میں ہے؟

آپ نے کہاں جانا ہے؟ برکینا فاسو۔ یہ ساؤتھ افریقہ میں ہے؟ نہیں جناب یہ ویسٹ افریقہ کا ایک ملک ہے۔ اچھا۔ کیا یہ مالی میں ہے۔ ؟ اس پر ہمارا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا لیکن خاموشی ہی بہتر تھی۔ عرض کیا نہیں جناب برکینا فاسو مغربی افریقہ کاکی ایک خودمختار ریاست ہے جبکہ مالی ایک دوسرا ملک ہے۔ ہاں یہ دونوں ممالک ہمسائے ضرور ہیں۔ لاہور ائرپورٹ پر امیگریشن افسر ہمارا پاسپورٹ دیکھتے ہوئے یہ سوال

Read more

مُردوں سے خوفزدہ ریاست

”پاکستان میں اقلیتوں کو مکمل حقوق حاصل ہیں اور اقلیتوں کے جان و مال کو مکمل تحفظ حاصل ہے۔“ کے اعلانات آئے روز ملکی اخبارات کی زینت بنتے ہیں۔ ہر دوسرے دن وزیر مشیر اور جبہ دار ترجمان حکومت یہ بیان داغنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری مکمل طور پر ریاست کی اولین ترجیحات میں سے ہے۔ لیکن حقائق کے اعشاریے کچھ اور ہی داستان سناتے

Read more

سانحہ مچھ:تم آؤ تو کیا نہ آؤ تو کیا

جنازہ آتے دیکھ کر رحمت للعالمین میت کے احترام میں اٹھ کھڑے ہوئے۔ احباب نے عرض کیا حضرت یہ تو ایک یہودی کا جنازہ ہے۔ آپ کے خوبصورت تاریخی جواب نے احترام انسانیت کو بلندیوں کی معراج عطا کر دی۔ فرمایا کیا وہ ایک انسان نہیں تھا۔

ہمیں ریاست مدینہ جدید بنانے کے دعویٰ کا خیال تو آیا لیکن ریاست مدینہ کے بانی کے بنیادی اصول ریاست سیکھ نہ پائے۔ اس کے بے کراں تبحر علمی و عملی سے فیض یاب ہونا تو دور کی بات یہ بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ ریاست مدینہ کی بنیاد انسان دوستی پر تھی۔ اقلیتوں کے تحفظ پر تھی۔ بنیادی انسانی آزادیوں کو یقینی بنانے پر تھی۔ شدید ناموافق حالات میں بھی بانی ریاست مدینہ سب سے آگے خود رہے۔

جب عوامی عہدے سنبھالنے کی تمنا ہو تو خطرات کے لئے بھی تیار ہونا پڑتا ہے۔ بزعم خویش لیڈر بن کر اور حواریوں درباریوں سے چاپلوسی کا شیرہ چاٹنے والے تاریخ کے دھندلکوں میں ایسے گم ہیں کہ کوئی نام لیوا بھی نہیں۔

Read more

تو اور تیری شاہی نوکری جلتے تندور میں

خطا ہو گئی تھی تو سزا بھی ملنا تھی۔ قادر الکلام تھے مافی الضمیر عمدہ سے عمدہ انداز میں بیان کر کے دوسروں کی طرح معافی کا پروانہ لے سکتے تھے۔ دل مگر مانا نہیں۔ ارشاد ہوا کوئی وجہ ہے تو بتاؤ۔ کوئی معقول وجہ تھی نہیں۔ خاموشی نے سب کہ دیا۔ دربار رسالت سے مقاطع یعنی سوشل بائیکاٹ کی سزا تا اطلاع ثانی سنا دی گئی۔ یہاں سے ایمان و سرفروشی کی ایک عجیب داستان شروع ہوتی ہے۔ آیئے

Read more

حکمرانوں کی اوقات اور وبا کا علاج

کبھی آپ نے سوچا ہے کہ پیرا سٹا مول کی چند گولیا ں خریدنے کے لئے آپ کو دس بارہ کلومیٹرز کا سفر پیدل طے کرنا پڑے لیکن یقین پھر بھی نہ ہو کہ وہاں سے دوائی ملے گی بھی یا نہیں۔ اور جب آپ تھکا دینے والا سفر کرکے مطلوبہ جگہ پہنچیں اورقسمت یاوری نہ کرے۔ خالی ہاتھ لوٹنا پڑے تو بوجھل قدم کیسے آپ کا ساتھ دیں گے۔ مریض کو واپس جا کر کون سا دلاسا دے پائیں

Read more

وبا کا خراج اور تاریکی کے فرزند

مارٹن لوتھر کنگ نے نسلوں کو نفرت کی بھینٹ چڑھتے دیکھا۔ انسان کہلانے والا اپنے ہی برادر زادوں کے لئے کتنا وحشی کتنا ظالم ہو سکتا اور ذلت کی کن اتھاہ گہرائیوں میں اتر سکتا ہے، اس کا گواہ بھی بنا۔ نفرت، وحشت، درندگی اور رنگ ونسل کی بنیاد پر اٹھائی گئی دیواروں کے سائے روح انسانی کو کس طرح پائمال کرتے ہیں اس بات کا تجربہ تھا۔ امتیازی سلوک کے شکار ابنائے آدم کی نسلیں کس کس محرومی کا

Read more

برکینا فاسو علماء کونسل کا مشترکہ اعلامیہ اور پاکستانی علماء کا المیہ

جس قدر ارض پاکستان پر مذہبی طبقات کی من مانی تسلیم کی جاچکی ہے شاید ہی دنیا کے کسی ملک میں اس بات کی اجازت دی جا سکے۔ دنیا بھر میں ریاستیں امور سلطنت کے لئے مشاورتی بورڈز اور تھنک ٹینکس بناتی ہیں۔ ایسے بورڈز میں ہمیشہ موضوع پر دسترس رکھنے والے افراد اور ماہرین شامل کیے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں المیہ مگر یہ ہے کہ ہر معاملے میں جبہ و دستار کی رائے مقدم گردانی جاتی ہے۔ خواہ معاملے

Read more

علما اپنی معقولیت کھو چکے

ہزاروں مساجد، لاکھوں علماء، دانشوروں اور مفتیوں کی ایک فوج ظفر موج موجود ہو۔ مملکت کا بندوبست اسلامی کہلائے۔ کفر کے فتوے دن رات ارزاں ہوں۔ پر ایک حقیقی ضرورت کے لئے، بقائے انسانی کی خاطر اور زندگی کو رواں دواں رکھنے کے لئے صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان اتنا مایوس ہو جائے کہ اسے اپنے علماء سے یہ امید ہی باقی نہ رہے کہ یہ کوئی معقولیت کی بات کریں گے، اسے فتویٰ لینے الازہر کے در پر جانا

Read more

احتیاط کریں مایوسی مت پھیلائیں

ایک عام سی کہانی ہے کہ ایک سانپ اپنے زہر کی تعریف کررہاتھا کہ میراڈسا پانی نہیں مانگتا۔ پاس بیٹھا مینڈک اس کا مذاق اڑا رہاتھا کہ لوگ تیرے زہر سے نہیں بلکہ تیرے خوف سے مرتے ہیں۔ دونوں کا مقابلہ کرنے کے لئے طے پایا کہ کسی راہگیر کو سانپ چھپ کرکاٹے گا اور مینڈک سامنے آئے گا۔ دوسرے راہگیر کو مینڈک کاٹے گا اور سانپ سامنے آئے گا۔ اتنے میں ایک راہگیر گزرا اسے سانپ نے چھپ کر

Read more

برکینا فاسو کی کرونا وائرس سے جنگ

برکینا فاسو مغربی افریقہ کا ایک لینڈ لاکڈ ملک ہے یعنی کسی طرف سے اسے سمندر تک رسائی حاصل نہیں۔ ہمسایہ ممالک ایوری کوسٹ، غانا، ٹوگو، بینن، نائیجراور مالی ہیں۔ کل رقبہ دو لاکھ چوہتر ہزار مربع کلومیٹرز جبکہ آبادی دو کروڑ سے زائد ہے۔ جس میں ساٹھ فیصد مسلمان، (متفرق مسالک) تئیس فیصد عیسائی ہیں اور دیگر میں دہریہ اور لامذہب لوگ شامل ہیں۔ یہاں کرونا وائرس کا پہلا باقاعدہ کیس 9 مارچ 2020 کو سامنے آیا۔ ایک معروف

Read more

کبوتروں کے پوٹے اور پیر صاحب کی روٹی بوٹی

رنگ دار اونچی دستار سجائے، آرام دہ تخت پر براجمان، گلاب کے پھولوں کے ہار گردن میں ڈالے، آلہ شیطان (مائک ) دہان مبارک کے عنقریب رکھے، مریدوں کے جھنڈ سامنے فرش پر اور حضرت گویا عرش پر۔ عشاق دہان مبارک سے جھڑنے والے پھولوں کی خوشبو دامن میں سمیٹنے کے لئے تیار و بے قرار۔ حضرت کا دہان وا ہوا۔ کھنگارتے بلکہ چنگاڑتے ہوئے غریب دھاڑی داروں کو مژدہ جاں فزاں سنایا۔ کرونا ویرس (وائرس نہیں ویرس ) کا

Read more

کرونا وائرس اور مفتی آمنے سامنے

ایک بدو آیا اور مسجد میں پیشاب کرنے لگا۔ بعض لوگ اسے منع کرنے کے لئے آگے بڑھنے لگے تو رسالت مآب ﷺ نے فرمایا رک جاؤ۔ اسے اپنی ضرورت پوری کرنے دو۔ بعد میں ا س جگہ پانی بہا دو۔ مقصد یہ کہ لوگوں پر سختی نہ کرو۔ اپنی ہٹ دھرمی اور سختی دکھا کر انہیں دین سے متنفر نہ کرو۔ کسی کم علم کی غلطی اور کوتاہی پر بھی محبت، پیار اور جذبہ ء ترحم پیش نظررہے۔ ایک

Read more

توہین وہ اپنی یاد تُو کر!

ایک اہل نظر کا کلام ملاحظہ ہو کس خوبصورتی سے حالات و واقعات کی عکاسی کی گئی ہے۔ رکھ پیش نظر وہ وقت بہن، جب زندہ گاڑی جاتی تھی گھر کی دیواریں روتی تھیں، جب دنیا میں تو آتی تھی جب باپ کی جھوٹی غیرت کا، خوں جوش میں آنے لگتا تھا جس طرح جنا ہے سانپ کوئی، یوں ماں تیری گھبراتی تھی یہ خونِ جگر سے پالنے والے تیرا خون بہاتے تھے جو نفرت تیری ذات سے تھی فطرت

Read more

کچھ صدر مملکت کی خدمت میں۔۔۔ واہ عالی جاہ واہ

عزت ماب صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب ڈاکٹر عارف علوی صاحب کا، امت مسلمہ کے غم اور انسانیت کی تڑپ لئے ہوئے ٹویٹر پر ایک بیان نظر سے گزرا۔ آنجناب دہلی کے حالیہ فسادات کو بربریت قرار دیتے ہیں۔ وہاں مساجد کی شہادت کو بابری مسجد کی شہادت سے جوڑتے ہیں۔ صدر مملکت دکھی ہیں۔ اسی لئے کم از کم مذمتی بیان داغ کر اپنا فرض پورا کر رہے ہیں۔ یقیناً انسانیت کے ناتے ہر انسان ظلم کو ظلم

Read more

میرے بیٹے کا نام محمد ہے اور احمدی کافر ہیں

لڑکھڑاتی زبان سے نکلنے والے بے ربط الفاظ ایسے ادا ہو رہے تھے جیسے ایک مجرم طاقتور ظالم حاکم کے سامنے پیش ہو۔ اور اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے ہر حربہ استعمال کر رہاہوں۔ خیالات منتشر ہوں اور زبان ساتھ نہ دے رہی ہو۔ جسے یقین ہو کہ کچھ بھی کہ دیا جائے فرد جرم عائد ہو کر رہے گی۔ کچھ ایسی ہی حالت اس وائرل ہونے والی ویڈیو میں ہے جسے اسسٹنٹ کمشنر اٹک کی ویڈیو بتایا

Read more

گھوٹکی جلاؤ۔ اسلام بچاؤ

میں جب بھی چشم تصور میں مسجد نبوی ﷺ میں نجران کے عیسائیوں کا وفد بیٹھے دیکھتا ہوں تو روح وجد میں آجاتی ہے۔ مذہبی رواداری کے امین اور امن کے سفیر ﷺ کے لئے درو د و سلام کے دھارے بہہ نکلتے ہیں۔ آپ بھی میرے ساتھ اس منظر کو دیکھئے : عیسائی عالموں، پادریوں کا جبہ دار وفد گلے میں صلیبیں لٹکائے، اپنے روایتی مجسموں، رسم و رواج، لوازمات اور طور طریقوں کے ساتھ حاضر خدمت ہوتا ہے۔

Read more

خیالی امت کی گرتی دیواریں

آج کل بہت ہا ہاکار مچی ہوئی ہے کہ یو۔ اے۔ ای نے ہندوستانی وزیر اعظم کو سب سے بڑا سول اعزاز دے کر مسلم امہ کے سینے پر منج دلی ہے۔ مودی سرکار کا کشمیر میں ظلم یقیناً ناقابل بیان ہے۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ لیکن یو اے ای ا س کی مذمت کیوں کرے۔ وہ اپنے مفادات کی حفاظت کرے یا بیگانی لڑائی میں کود پڑے۔ آج عرب دنیا کے اقتصادی مفادات انڈیا سے وابستہ ہیں اور انڈیا نے مسلسل محنت کر کے یہ جگہ بنائی ہے۔

Read more

سائنس جوتے کی نوک پر یا مفتی

بجا فرمایا مفتی صاحب نے کہ ہم سائنس کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔ ہم نے اس کے علاوہ آج تک اور کیا ہی کیا ہے۔ سائنس کو جوتے کی نوک پر رکھا کوئی ڈھنگ کا ادارہ بننے دیا نہ کوئی عالمی سطح کی یونیورسٹی۔ کسی صاحب علم کو گھاس ڈالا نہ سا ئنس دان کو منہ لگایا۔ ایک درویش جس کاماننا تھا کہ قرآن حکیم کا آٹھواں حصہ سائنس پر ہی مشتمل ہے اس نے اسی نہج پر سوچتے قرآن کریم سے راہنمائی لیتے ہوئے دنیا کے سب سے بڑے سائنسی انعام پرجا ہاتھ ڈالا۔ دنیا معترف ہوگئی۔ اس کے لئے تمام ملکوں نے اور ہر بڑی یونیورسٹی نے اپنے دروازے کھول دیے۔

Read more

نیوزی لینڈ میں مسلمان شہید ہوئے اور کوئٹہ میں شیعہ مرے

حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں غالب اگر اس زمانے میں ہوتے تو شاید کبھی ایسی بات نہ کرتے۔ کیونکہ کون سا نوحہ گر ان کے ساتھ چلنے کے لئے تیار ہوتا۔ وہ تو ایک دو بم دھماکوں کے بعد ہی ہاتھ جوڑ کر غالب سے معافی تلافی کا خواستگار ہوتا۔ اور کہ دیتا کہ یہ کام اپنے بس کا نہیں۔ یہاں تو ہر قدم پر نوحہ

Read more

ہم نیوزی لینڈ میں اذان سن کر اور اپنے ملک میں اذان بند کر کے خوش ہیں

پندرہ مارچ کو نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کی کارروائی ہوئی۔ دو مساجد پر حملے میں پچاس نمازی شہید ہو گئے۔ ا س موقع پر نیوزی لینڈ کے عوام اورخاص طور پر وہاں کی خاتون وزیر اعظم نے کمال کر دیا۔ جس طرح مظلوموں سے ہمدردی کی گئی۔ جس طرح مسلمانوں کی دل جوئی کے سامان کیے گئے وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ وزیر اعظم خود لواحقین کے ایک ایک فرد کو گلے لگا کر اظہار تعزیت کرتی رہیں۔ ہر

Read more

مئی 2010 اور مارچ 2019: ہم واقعی منافق ہیں

حامد میر صاحب کا کالم ”ہمارا اصل قصور، ہماری منافقت ہے“ پڑھا تو یادوں کے دریچے وا ہوتے چلے گئے۔ یہ یادیں مجھے 2010 میں لے گئیں۔ میں نے دیکھا : وہ بھی باپ تھے۔ بھائی تھے۔ بیٹے تھے۔ ان کی بھی راہ تکتی مائیں تھیں۔ صدقے واری جاتی بیٹیاں اور بہنیں تھیں۔ انہیں بھی ماؤں بہنوں بیٹیوں نے نما زجمعہ کے لئے بھیجا تھا۔ ان میں بچے بھی تھے۔ نوجوان اور بوڑھے بھی تھے۔ ہر طبقہ زندگی سے تعلق

Read more

   خالی فیڈر، معصوم بچے اور راج محل کے کتے

میری بیٹی کی عمر تین سال تھی۔ بڑی پیاری معصوم سی گڑیا۔ سارا دن ہم میاں بیوی اس سے اپنا دل بہلاتے رہتے۔ معصوم شرارتیں ، توتلی باتیں اور اچھل کود ہر وقت۔ ایک دن شرارتوں ہی شرارتوں میں بیڈ پر اچھل رہی تھی۔سامنے ڈریسنگ تھا۔ بیڈ پر جمپ کھاتی اور آئینے میں خود کو دیکھ کر خوشی سے نہال ہوجاتی۔ ایک آدھ بار اس کی ماں نے منع بھی کیا لیکن اسے تو جیسے کل کائنات مل گئی ہو۔

Read more

”مذہب سے متعلق ملانہ رویے“ کے جواب میں

جناب ڈاکٹر مجاہد مرزا صاحب کا ایک کالم ”مذہب سے متعلق ملانہ رویے“ ”ہم سب“ فورم پر شائع ہو اہے۔ اس مضمون میں جناب ڈاکٹر صاحب مذہب میں ملائیت کی بے جا دخل اندازی پر نوحہ کناں ہیں۔ بے شک ”نیم حکیم خطرہ جان او رنیم ملاں خطرہ ایمان“ ایک اٹل حقیقت ہے۔ اس نیم ملائیت اور اب ڈیڑھ ملائیت نے جتنا نقصان اسلام کو پہنچایا ہے اتنا کسی اور چیز نے نہیں پہنچایا۔ مذہبی تعلیمات کو من چاہی تشریحات

Read more

ہوائی فائرنگ اور مفرور عشق

ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔ ناموس رسالت کے مقدس نام پر ذاتی مقاصد کی تکمیل کا اچھا موقع تھا۔ موقع پرست عناصر، سربراہان دھنگا و فساد اور طفلان کوچہ و بازار برساتی مینڈکوں کی طرح باہر نکل کر ٹر ٹر کر رہے تھے۔ جگہ جگہ ناکے لگا کر شہر بند کر دیے گئے۔ عورتیں، بچے اور بوڑھے خدا کے نام پر ہونے والے فساد فی الارض میں خدا کی زمین پر بے یارو مدد گارہو گئے۔

دوسروں کو نقصان پہنچا کر اپنے عشق رسول کا اظہار کرنے کا تازہ تازہ سبق پڑھ کر آنے والے ڈنڈا برداروں کے ہاتھوں سبھی تکلیف اٹھا رہے تھے۔ گاڑیاں محفوظ تھیں نہ راہگیر۔ ہر قسم کے پرجوش نعرے لگا رہے جا رہے تھے۔ ان نام نہاد عاشقان میں ایسے بھی تھے جنہیں گھر والے گھاس ڈالتے ہیں نہ گلی محلے والے پوچھتے ہیں۔ لیکن آج و ہ جو جی میں آئے کر رہے تھے جسے چاہیں پتھر ماریں جس کی گاڑی کو چاہیں آگ لگا دیں۔

ان کٹھ پتلیوں کے سرغنہ جگہ جگہ سٹیج بنا کر اور کچھ بنا سٹیج کے ہی پر جوش خطابت کے جوہردکھا رہے تھے۔ ان کے آگے ہر چیز خس و خاشاک کی طرح بہ رہی تھی جیسے بہتا ہوا لاوہ ہر سد راہ کو خاکستر کرتا جائے۔ ”جو منہ میں آئے کہ دو“ کی پالیسی پر عمل پورے جوش سے جاری تھا۔ کوئی روکنے والا تھا نہ پوچھنے والا۔ جو کچھ کہا جا رہا تھا وہ بے ربط بھی تھا اور بے ربط کرنے والا بھی۔

Read more

یہ ہے عشق رسول ﷺ

عاشق جانثاران رسول، فدائیان رسول، ناموس رسالت کے الفاظ روزانہ سماعتوں سے ٹکراتے ہیں۔ بیشتر دفعہ یہ الفاظ چوراہوں، سٹرکوں کے بیچوں بیچ لگے مجمع سے اٹھ رہے ہوتے ہیں۔ بیک گراونڈ میں جلتے ٹرک، ذلیل و خوار ہوتے مسافر، بھوک سے نڈھال عورتیں بچے، تڑپتے مریض اور نعرے لگانے والے ڈنڈا بردار ہوتے ہیں۔ عشق رسول کا پیمانہ کیا ہے۔ اس کے تقاضے کیا ہیں۔ آج ہمارا عشق، صحابہ کے عشق رسول سے مختلف کیوں ہے۔ وہ جان، مال،

Read more

امن کا نوبل انعام کرشماتی ڈاکٹر کے لئے

بچے نے اپنے والد کے ساتھ مریضوں کی عیادت کرتے کرتے ڈاکٹر بننے کی ٹھان لی۔ بڑا ہوا تو ہمسایہ ملک برونڈی میں جا کر ڈاکٹری تعلیم مکمل کی اور گائناکالوجسٹ بن گیا۔ کہیں بیرون ملک جا کر دولت کے انبار لگانے اور پر تعیش زندگی پر اپنی ہی دھرتی پر تڑپتی اورسسکتی انسانیت کی خدمت کو ترجیح دی۔ ہر ستائش اور تعریف سے بالا ہو کو کام میں جت گیا اور حقیقی معنوں میں مسیحائی کرکے دکھا دی۔ اپنے

Read more

موچی کا احتجاج

طفیل صبح اپنے ٹھکانے پر پہنچا تو وہاں منظر ہی بدلا ہو اتھا۔ اس کاسارا سامان جل کر بکھر چکا تھا۔ سامان تھا ہی کتنا۔ جوتے پالش کرنے والے کچھ پرانے برش اور مختلف رنگوں کی پالش کی ڈبیاں۔ الگ الگ پاؤں والی کچھ چپلیں۔ جسے وہ اپنے گاہکوں کو عارضی طور پر پہننے کے لیے دیتا تھا۔ جوتے مرمت کرنے اور پالش کرنے کے لئے بنیادی چیزیں۔ ایک لکڑی کا صندوق جس میں وہ سب سامان رکھ کر جاتا

Read more

بیگم کلثوم نواز، مولانا فضل الرحمن اور دینی مدارس

حلقہ زہد و تقویٰ کے ارباب از قسم فضل الرحمان، اکرم درانی اور خادم رضوی کو ابال آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اسلام خطرے میں ہے کے نقارے پر چوٹ پڑنے لگی ہے۔ مدارس کا نصاب بدلنے نہ دیں گے کے نعرے لگنا شروع ہو گئے ہیں۔ اسلام کے ان قلعوں میں اصلاحات لانے کی کوشش کرنے والوں کو دشمن اسلام ٹھہرائے جانے کی تیاریاں پھر عروج پرہیں۔ چند دن قبل مولانانے میڈیا سے بات کرتے ہوئے وعید سنا دی

Read more

محمد اظہار الحق صاحب کی تجاویز اور مغالطے

تشدد کسی مسئلہ کا حل نہیں۔ نرمی اور دلائل سے بات کرنے کا ڈھنگ سکھانے کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار نمائندگان رب جلیل نے بھجوائے ۔ حتی کہ موسیٰ کلیم اللہ کو بھی زمین پر خدا بنے بیٹھے فرعون سے” قولاً لیناً ” یعنی نرم لہجے میں بات کرنے کا ارشاد ہوا۔ پر گالی گلوچ ، تلواراور گولی کی زبان ہمیشہ دلائل میں عاجز آنے والوں کا شیوہ رہا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے جس سے مفر ممکن

Read more

کپتان بالکل نہیں ڈرتا

صوفی ازم میں ایک ایسے فرقے نے بھی جنم لیا ہے جس نے اشیاء کے خارجی وجود کا سرے سے انکار ہی کر دیا تھا۔ یعنی جو بھی ہے سب ہمارا وہم ہے اور حقیقت میں کوئی مادی شے موجود ہی نہیں۔ یہاں تک کہ وہ اپنے مادی وجود سے بھی انکار کر بیٹھے۔ اس فرقہ کے ایک صوفی راہنما کے متعلق ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔ بعض سرکردہ علماء سے مناظرہ کے لئے اسے بادشاہ کے دربار میں

Read more

ناموس رسالت ﷺ کی حفاظت کے لیے راست اقدام

دشمن تلا بیٹھا ہے کہ وہ ہر صورت اسلام کوبدنام کرنے کے لئے جھوٹ کی نجاست پر با ربار منہ مارتا رہے گا۔ اپنی حسرت و یاس کو ٹھنڈا کرنے کے لئے مسلم دنیا میں آگ لگاتا رہے گا۔ اس کے لئے خواہ اسے اپنا کتنا ہی تصوراتی گند باہر لانا پڑے ۔کتنی جھوٹی کہانیاں گھڑنی پڑیں ۔ گستاخانہ خاکے آئے دن کا معمول بنتے جا رہے ہیں ۔ ایک شاتم رسول ٹھنڈا پڑتا ہے تو دوسرا سر اٹھا لیتا

Read more

حسینان عالم ہوئے شرمگیں

اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا تھا۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون عملاً اور سرعام رائج تھا۔ جو جتنا بڑا مجرم اتنا بڑا معزز تھا۔ بظاہر دین ابراہیم کے پیرو کہلانے والے عملاً دین حنیف سے کوسوں کیا ہزاروں کوسوں کی دوری پر تھے۔ اپنی پگڑی اونچی رکھنے کے لیے کچھ بھی کر جاتے اور پھر تکبر کرتے اور فخر کی نگاہ سے دیکھے جاتے۔ معاشرہ، ذلت اور جہالت کی اتھاہ گہرائیوں میں لڑھک کر گندگی اور عفونت

Read more

ریاست مدینہ سے گھیسٹ پورہ تک

”بابا! کیا یہ ہر عید پر ایک مسجد کو گراتے ہیں؟ ‘‘ اس معصوم سوال نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔ میں فیصل آباد گھیسٹ پورہ میں ہونے والے واقعہ کی خبریں سوشل میڈیا پر دیکھ رہا تھا۔ اسی حوالے سے گھر میں بات ہو رہی تھی کہ ارض پاک پر ظلم و تعدی کایہ سلسلہ کب رکے گا؟ میرا چھ سالہ بیٹا جو میرے پاس ہی بیٹھا تھا، نے یہ سوال کر دیا۔ ” بابا! کیا یہ ہر عید

Read more

گھوڑے کا انڈہ

’گھوڑے کب سے انڈے دینے لگے۔ ’ ’اچھا آپ کو ابھی تک گھوڑوں کے انڈوں کا علم نہیں ہوا۔ ‘ چلیں پھر آپ کو اس بار لگنے والی گھوڑا منڈی میں لیے چلتے ہیں۔ ’یہ گھوڑا ہمیں کتنے میں مل سکتا ہے۔ ہمیں فوری بعض گھوڑوں کی ضرورت ہے۔ ‘ ’ پینتیس چالیس گھوڑے تو ہر صورت درکار ہیں۔ اس سے زائد ہو جائیں تو بھی خرید لیں گے۔ دیکھیں جناب! آپ معزز آدمی معلوم ہوتے ہیں۔ اس لئے آپ

Read more

فلاحی مملکت کے قیام میں بس سمارٹ فون رکاوٹ ہیں

کچھ دنوں سے ویڈیوز سامنے آرہی ہیں۔ عوام کی طرف تشریف لے جانے والے انتخابی امیدواروں سے لوگ سوالات پوچھ رہے ہیں۔ کچھ کی تو دوڑیں لگو ارہے ہیں۔ لیکن چشم فلک ایسے نظارے کیوں دیکھ رہی ہے۔ اس بار تو وطن عزیز میں بڑے مقدس انتخابات منعقد ہونے جا رہے ہیں۔ جیسے جیسے انتخابی مہم زور پکڑے گی ویسے ویسے سیاستدانوں کا تقدیس سے بھر پور بیانیہ بھی سامنے آتا جائے گا۔ تاہم اس وقت تک سامنے آنے والی

Read more

جیل، غسل خانہ اور بنیادی حقوق

عزت مآب جناب شہباز شریف صاحب سابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے نگران حکومت کی خدمت میں خط لکھا ہے کہ عزت مآب جناب نواز شریف صاحب کو جیل میں ائیر کنڈیشنڈ روم نہیں دیاگیا اور باتھ روم بھی بہت گندہ ہے۔ اس سے قبل جناب حسین نواز شریف صاحب کی ٹویٹ منظر عام پر آئی تھی۔ وہ لکھتے ہیں۔ ‘ مجھے بتایا گیا ہے کہ میرے والد کو سونے کے لئے بستر نہیں دیا گیا اور غسل خانہ انتہائی غلیظ

Read more

گالی دو۔ ووٹ لو

رک۔ ۔ رک۔ ۔ رک۔ ۔ پچھلے ساڑھے پینتیس منٹ سے تیرے مغلظات سن رہے ہیں۔ ملکی اقتصادیات۔ عالمی تعلقات، امن عامہ کی صورت حال، تعلیم، پولیس، لوٹ مار چوری چکاری کی بات کرتے جا رہے ہو۔ ہم برداشت کررہے ہیں اور تم بڑھتے ہی جارہے ہو۔ گھٹیا معیار تعلیم، طبقاتی بنیادوں پر تقسیم تعلیمی نصاب کی بات تم چھوڑو۔ گندگی کے ڈھیروں، کھلے گٹروں، اور روزانہ ان میں گرنے والوں کی بات نہ کرو۔ ہم یہاں رہتے ہیں۔ یہ

Read more