لکھنا کیسے سیکھا جا سکتا ہے


کسی بھی فن کے طالب علم کے لیے، دیگر فنون کے طلبا سے میل ملاپ، دیگر فنون کے مکاتب فکر، ان فنون میں مختلف ادوار میں اُبھرتی ڈوبتی تحاریک، تازہ رحجانات، اُن فنون پر مباحث، اپنے فن نکھارنے میں بہت مدد دیتا ہے۔ فلم میکنگ تمام فنون کا مجموعہ ہے۔ یہ ایک ہی وقت میں کاروبار بھی ہے؛ فن بھی۔ پینٹنگ بھی، عکاسی بھی، رقص بھی ہے، موسیقی بھی، اداکاری بھی ہے، ماڈلنگ بھی، سنگھار بھی، اور صدا کاری بھی۔ قلم بھی ہے، فیشن ڈزائنگ بھی۔ شاعری بھی، تو نقشہ نویسی، فن تعمیر بھی۔ اور بھی بہت کچھ۔

ایک بار ایک استاد نے سمجھایا تھا، کہ کسی پینٹنگ کو سمجھنے کے لیے کم سے کم پانچ چھہ منٹ تو دیکھو؛ یہ سبق وہ پینٹنگ کے فن محظوظ ہونے کے لیے دے رہے تھے۔ ایک استاد نے اشارہ دیا، کہ سینما اسکرین یا ٹیلے ویژن کے ’فریم‘ کو سجانے کے لیے منی ایچر پینٹنگ کا مطالعہ کرو۔ لو یہ کیا بات ہوئی کہ لائف سائز سے بڑی اسکرین کے لیے کام کرنے سے پہلے ہتھیلی جتنی پینٹنگز کو اسٹڈی کیا جاے۔ روح چوں کہ پرانے زمانے کے طالب علموں کی سی ہے، کہ اُستاد نے جو کَہ دیا، پتھر پہ لکیر ہوا، تو منی ایچر پینٹنگ کو محدب عدسہ لگا لگا دیکھتے رہے کہ اس میں ہے کیا۔ سمجھ کبھی کچھ نہ آیا۔ خیر کوشش کے مارکس ملتے ہیں۔

فکشن لکھا کیسے جاتا ہے، یہ مجھے معلوم نہیں۔ اس فن کی تکنیک کیا ہیں، یہ با قاعدہ تو کہیں سے سیکھا نہیں۔ ایسے ہی اُلٹ پلٹ لکھتے، کچھ کرم ہو جاے تو ہو جائے؛ کئی بار تو کوشش کر کے بھی کچھ نہیں لکھا جاتا؛ اور پھر بہت اچھا لکھنا تو بس میرے لیے ایک خواب ہی بن کے رہ گیا ہے۔

اسکرین پلے رائٹنگ کی مشق سے سمجھا جا سکتا ہے، کہ کیسے کھیل رچانا ہے۔ موسیقی سے محبت کرنے والوں کے بیچ میں بیٹھ کر یہ نکتہ پایا جا سکتا ہے کہ ’’جگہ لینا‘‘ کیا ہوتا ہے۔ لکھنے والا موسیقار یا گلوکار سے سیکھ سکتا ہے، کہ کہانی میں کیسے ’جگہ‘ لینی ہے۔ رقص دیکھنے سے ادراک ہو سکتا ہے، کہ لفظوں کو ناچ نچایا جا سکتا ہے۔ ایک اچھا سینماٹو گرافر یا ڈائریکٹر آف فوٹو گرافی پوری فلم میں، روشنی کا ’موڈ کیری‘ کرتا ہے، لکھنے والے کو اپنی تحریر کا ’موڈ‘ کیسے ’کیری‘ کرنا ہے، یہ اُس سے سیکھ سکتے ہیں۔

ہر تحریر کا ایک ’کلر ٹمپریچر‘ ہوتا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے، کہ جانا جاے، ’کلر ٹمپریچر‘ کیا ہوتا ہے۔ ’کلر ٹمپریچر‘ کو سنبھالا کیسے جائے۔ فِکشن لکھنے والا اداکار ہوتا ہے؛ ایک پل وہ ایک کردار کا جملہ لکھتا ہے، تو پل کے ہزارویں حصے میں سوئچ کرتے دوسرے کردار میں ڈھل کر، اُس کردار کے مکالمے لکھتا ہے۔ وہی ولن ہوتا ہے، وہی ہیرو، وہی ہیروئن اور وہی ظالم سماج۔ وہ جتنی اچھی اداکاری کرے گا، اتنا پرفیکٹ، کیریکٹرز نباہ پائے گا۔

یہاں ایک اور بات کہ شاید یہی وجہ ہو، لکھنے والا جب اتنے کردار ایک ساتھ بدلتا ہے، تو اپنا کردار بھول کے کہانی کے کرداروں کے ساتھ بہتے، یہ فراموش کر بیٹھتا ہے، کہ اُس نے کہانی کہیں اور لے جانی تھی، یوں بعض اوقات کردار کہیں اور گھسیٹ لے جاتے ہیں، کہانی کے کچھ حصے، بہت سے حصے، یا کہانی کا اختتام وہ نہیں ہوتا، جو لکھنے سے پہلے لکھنے والے کے ذہن میں ہو۔ بہ ہر حال لکھنے والا اپنے لکھے کا ہدایت کار بھی خود ہی ہوتا ہے، تو اپنے سینماٹو گرافر، رقاص، موسیقار، اداکار کو ڈائریکٹ کرنا، اُسے کنٹرول کرنا اُسی کی ذمہ داری ہے۔

آخر میں سب سے اہم شعبے کا ذکر ضروری ہے۔ وہ شعبہ ہے ’پوسٹ پروڈکشن‘ کا۔ ’کیمرا کلوز‘ ہو جائے، یعنی فلم کی شوٹنگ مکمل ہو جائے، تو فلم کو اڈیٹنگ ٹیبل پر لایا جاتا ہے۔ ایک لگا بندھا پیمانہ یہ ہے کہ ’تین ایک‘ کی ریشو سے شوٹ ہوتی ہے۔ یعنی ایک منٹ کی فائنل رِیل کے لیے اجازت ہے، کہ تین منٹ تک کی شوٹ کی جا سکے۔ اسے اوور شوٹ نہیں کہا جا سکتا۔ اڈٹنگ ٹیبل پر اضافہ نہیں ہوتا، بل کہ کانٹ چھانٹ ہوتی ہے۔

کئی بار تو ایسے حصے کاٹ دیے جاتے ہیں، جنھیں ابتدا میں ضروری سمجھا گیا تھا۔ لیکن رِکارڈنگ کے بعد واضح ہوا، کہ یہ حصہ کہانی کی رفتار یا معیار کو متاثر کرے گا۔ تحریر کی ’’کلر گریڈنگ‘‘ کرنا، اس کی کوالٹی کو بڑھانا، یہ اڈٹنگ کے دوران ہو گا۔ کسی مصنف کو کوئی اڈیٹر مل جاے تو پوہ بارہ ہیں۔ نہیں تو خود اپنے لکھے پر دشمن کی نظر کرنا ضروری ہوتا ہے۔

اُن حصوں کو حذف کرنا فرض ہے، جو کہانی کو، کہانی کی پیس کو، یا سبجیکٹ کو گزند پہنچا رہے ہیں۔ وہ لکھا ہوا حرف، مصنف کے تئیں خواہ ماسٹر پِیس ہی کیوں نہ ہو، اس مقام پر نہیں جچ رہا، جس جگہ ہے تو کچرا ہے۔ اڈیٹر وہ نگینہ تراش ہوتا ہے، جو ہیرے کو کوہ نُور بنا سکتا ہے، اور خراب یا غلط کٹ لگانے سے ہیرے کو کوڑی کر سکتا ہے۔

یہ سب یونھی خود کلامی کرتے بیان کیا ہے؛ راہ چلتے کی تحریر ہے؛ ان لفظوں میں ویسی خوبیاں دیکھنا، جو اچھی تحریر کے لیے بیان کی ہیں، یا دانش مندی تلاش کرنے کی کوشش مہمل مشق ہے۔

Facebook Comments HS

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 326 posts and counting.See all posts by zeffer-imran