نہ ملنگ بچا نہ استاد
اختر کا قد مجھ سے بھی چھوٹا تھا۔ اس پر کچھ موٹا سا بھی تھا۔ چوڑی کمر، سانولا رنگ اور ایک نمبر کا جملے باز۔ کرکٹ کھیلنے کا شوقین تھا۔ ٹینس اور ٹیپ بال سے تو سبھی کھیل لیتے ہیں۔ میں نے اسے ہارڈ بال سے بھی کھیلتے دیکھا تھا۔ پانچ فٹ کا آدمی چھ فٹ کے فاسٹ بولر کو ایسے چھکے لگاتا تھا کہ دیکھنے والے حیران رہ جاتے تھے۔
اختر کی بہت سے لوگوں سے دوستی تھی، مجھ سے بھی تھی لیکن پکی دوستی کامران حسین سے تھی۔ کامران نے کراچی کے علاوہ پی آئی اے کی جانب سے بھی فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی۔ سب اسے مامن کہتے تھے۔ شاید اب بھی کہتے ہوں۔ مامن اختر کو کبھی بنیا اور کبھی چکی کہتا تھا۔ میں نےایک بار پوچھا کہ اسے چکی کیوں کہتے ہو؟ مامن نے کہا، اختر رننگ کرے گا تو اسے غور سے دیکھنا۔ بھاگتے ہوئے اس کا ایک ہاتھ ایسے گھومتا ہے جیسے چکی چلا رہا ہو۔
اختر کے والد کی انچولی کی مرکزی شارع پر کریانے کی دکان تھی۔ بعد میں اس کے بھائی اور وہ خود بھی وہاں بیٹھنے لگا۔ میرا خیال ہے کہ وہ دکان اب بھی وہیں موجود ہے۔ اختر کے کئی بھائی تھے۔ ان میں سے ایک بہت خوش مزاج اور محلے بھر کا دوست تھا۔ مجھے اس کا نام یاد نہیں۔ ایک دن ڈبو پر دو لڑکوں کا جھگڑا ہوا اور پستولیں نکل آئیں۔ اختر کا بھائی بیچ بچاؤ کراتے ہوئے فائرنگ کی زد میں آکر جاں بحق ہوگیا۔
اختر کچھ عرصہ دبئی میں بھی رہا۔ میری وہاں اس سے کبھی ملاقات نہیں ہوسکی۔ وہ شاید ریسٹورنٹ چلارہا تھا۔ پھر دل اکتا گیا اور واپس کراچی آگیا۔ کراچی اور خاص طور پر انچولی میں رہنے والا دنیا میں کہیں خوش نہیں رہ سکتا۔
اختر نے واپس آکر ریسٹورنٹ کے تجربے کو کام میں لانا چاہا۔ اس نے کیٹرنگ کا کام شروع کردیا۔ انچولی میں کیٹرنگ کی کئی دکانیں ہیں کیونکہ محرم میں ہر روز بہت سے مقامات پر نذر نیاز ہوتی ہے۔ اختر نے انچولی کے بجائے عباس ٹاؤن میں دکان کھولی۔
تین مارچ 2013 کو عباس ٹاؤن میں دھماکا ہوا جس میں پچاس بے گناہ افراد شہید ہوگئے۔ اختر، میرا دوست ان میں سے ایک تھا۔
میرے لڑکپن میں انچولی میں لوگوں سے متعارف ہونے کے تین طریقے تھے۔ ایک تو وہی کہ مجلس ماتم میں نئے لوگ مل جاتے ہیں۔ میں نے کچھ عرصہ انجمن فدائے اہل بیت کے ساتھ گزارا ہے۔ ماتمی انجمنوں میں سرگرم لوگوں کا حلقہ احباب بہت وسیع ہوجاتا ہے۔ نوے کے عشرے میں ڈبو کی دکانوں پر ہمیشہ ہجوم رہتا تھا۔ اس کے علاوہ کرکٹ کھیلنے والوں کی میدان میں نئے لڑکوں سے دوستیاں ہوجاتی تھیں۔
خرم مجھ سے کافی چھوٹا تھا۔ اس سے آشنائی کرکٹ کے میدان ہی میں ہوئی۔ میں کھلاڑی نہیں اناڑی تھا۔ لٹھ باز بلکہ لپاڑو بیٹسمین لیکن شاید ایک اچھا فیلڈر۔ خرم بہت اچھا بولر تھا۔ اس کا ہاتھ قدرتی طور پر گھومتا تھا اور وہ لیگ بریک گیندیں پھینکتا تھا۔ میرا خیال ہے کہ اس نے انڈر فورٹین انڈر سکسٹین کرکٹ کھیلی تھی۔
اختر کی طرح خرم بھی جملے باز تھا بلکہ اس سے کچھ بڑھ کر۔ وہ تیز طرار تھا اور اس کے ہم عمر اس سے پناہ مانگتے تھے۔ اس کی آواز بھی اچھی تھی اور نوحہ مرثیہ پڑھنے کے لیے موزوں۔ کرکٹ کھیل کر یا نوحے پڑھ کر گھر نہیں چلتا اس لیے خرم نے غالبا سیرینا مال میں موبائل فونز کی دکان کھول لی۔
کئی سال پہلے میری رہائش انچولی میں امام بارگاہ شہدائے کربلا کے بہت قریب تھی۔ درمیان میں رشید ترابی پارک تھا۔ امام بارگاہ سے بلند ہونے والی ہر آواز میرے گھر میں پہنچتی تھی۔ ایک رات میں حسب معمول دو بجے گھر پہنچا تو امام بارگاہ سے خواتین کے بہت زور سے رونے اور چیخنے کی آوازیں آئیں۔ بین سن کر کلیجہ پھٹ رہا تھا۔ میں گھر کے بجائے بے اختیار امام بارگاہ کی طرف چل پڑا۔ وہاں جاکر دیکھا کہ خرم کی خون آلود میت پڑی تھی اور اس کی بہنیں بین کررہی تھیں۔
کسی نے بتایا کہ خرم سیرینا مال میں اپنی دکان پر نوحے لگائے رکھتا تھا۔ اس دن واپسی پر موٹرسائیکل سواروں نے اس کا تعاقب کیا اور گلبرگ کے قریب فائرنگ کرکے آگے بڑھ گئے۔ خرم زخمی تو ہوا لیکن زندہ تھا۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا تو قاتل واپس آئے اور سر میں گولی مار دی۔
’’کربل میں آگئے ہیں کربل سجانے والے، مولا مدینے والے!‘‘
اگر آپ انچولی میں کبھی رہے ہیں یا آئے گئے ہیں تو کبھی نہ کبھی یہ سلام ضرور سنا ہوگا۔ ایک ملنگ یہ کلام پڑھتا پھرتا تھا۔ گہرا سانولا رنگ، ملگجا لباس، سر پر گول ٹوپی، گلے میں رنگ برنگے پتھروں کی مالا اور ہاتھ میں ایک ڈنڈا ہوتا تھا جس میں چھلا تھا۔ مجھے یاد نہیں کہ اس کے ہاتھ میں کشکول ہوتا تھا یا نہیں۔
میں نے بہت سال اس ملنگ کی آواز سنی ہے۔ وہ تقریبا روزانہ ہماری گلی سے گزرتا تھا۔ بابا تھوڑے بہت پیسے دیتے تھے۔ یہ بابا کی عادت تھی کہ گلی سے گزرنے والے ہر فقیر اور ملنگ کو کچھ نہ کچھ ضرور دیتے تھے۔ چار آنے ہی سہی، لیکن دیتے ضرور تھے۔
جب بابا کا انتقال ہوا اور ہم چہلم کے بعد کرائے کا وہ مکان چھوڑنے لگے تو اس گلی کی ایک آنٹی نے مجھے بلایا۔ بیس سال میں پہلی بار میں نے ان پردہ دار خاتون کو دیکھا۔ میں انھیں نہیں جانتا تھا۔ پتا ہے انھوں نے کیا نصیحت کی؟ ’’بیٹے! تمھارے والد نے کبھی کسی مانگنے والے کو اس گلی سے خالی ہاتھ نہیں جانے دیا۔ باپ کی ہر بات بھول جاؤ تو کم از کم یہ بات کبھی مت بھولنا۔‘‘
بابا اپنی زندگی میں کبھی میرے آئیڈیل نہیں رہے۔ انھوں نے کبھی مجھے حیران نہیں کیا۔ لیکن انتقال کے بعد مجھے دوسروں سے ان کی باتیں سن کر کئی بار جھٹکا لگا ہے۔
میں انچولی چھوڑ چکا تھا اور بابا بدستور وہیں رہتے تھے۔ میں ان سے ملنے جاتا رہتا تھا۔ ایک دن کسی فقیر نے آواز لگائی تو میں نے بابا سے پوچھا کہ وہ ملنگ اب بھی آتا ہے؟
بابا نے کہا، وہ ملنگ سڑک کے دوسری طرف سامنے والے بلاک میں بھی گشت کرتا تھا۔ ایک دن وہ وہاں حسب معمول نذر اللہ نیاز حسین کے نعرے لگارہا تھا کہ کسی نے سر راہ اسے گولیاں مار کے ہمیشہ کے لیے خاموش کردیا۔
چوتھا واقعہ میں پانچ سال پہلے لکھ چکا ہوں اور میری کتاب میں شامل ہے۔ لیکن یہاں بھی یاد کرنا ضروری ہے۔
صبح سات بجے میرے بیٹے نے مجھے اٹھاکر کہا، پاپا اسکول وین نہیں آئی۔
بیٹی نے پوچھا، آج چھٹی کرلیں؟
بیوی نے کہا، ہمارا علاقہ انچولی مکمل طور پر بند ہے۔
کل سبط جعفر صاحب کو قتل کردیا گیا تھا۔ آج یہاں ان کا جنازہ ہے۔
میں خاموشی سے اٹھا۔ بچوں کو گاڑی میں بٹھایا اور کسی طرح اسکول پہنچا آیا۔
دوپہر کو وین ڈرائیور کا فون آیا۔
کہنے لگا، میں انچولی کے باہر کھڑا ہوں۔ آکر اپنے بچے لے جائیں۔
میں جاکر بچوں کو لے آیا۔
واہس آکر بیٹے نے کہا۔
پاپا، ہڑتال والے دن آپ ہماری چھٹی کرادیتے ہیں۔ آج کیوں نہیں کرائی؟
میں نے کہا۔
بیٹے، کل سبط جعفر صاحب کو قتل کیا گیا ہے۔
وہ ایک استاد تھے۔
اس خسارے پر قابو پانا ہے۔
اسکول جانا ہے۔


