ممی اور صرف دو بچے


میں یہ نہیں کہتی کہ فیملی بڑی کرنا حرف آخر ہے یا بچوں میں وقفہ مناسب نہیں۔ میں تو یہ کہتی ہوں کہ وہ سچ جس پر ہم یقین کر رہے ہوتے ہیں اس سے بڑھ کر بھی بہت کچھ ہوتا ہے۔ ہروہ ٹرینڈ جس پر ہم چل رہے ہوتے ہیں ضروری نہیں مفید بھی ہو، یا کم سے کم سب کہ لئے مفید ہو۔ ہمیں کیا بتایا جا رہا ہے وہی اس دنیا کا مکمل سچ نہیں۔ چیزوں کو روایات کو، عقاید کو، ادل بدل کر کے جانچنا سیکھیں۔ ہمارے بہت سے مسائل ہم نے ہر راہ چلتے علم کو پکڑ کر پیدا کر لئے ہیں۔ وہ رویے وہ عادتیں وہ عقاید جو ہم نے گلابی گال دیکھ کر بدل لئے منہ کے تھپڑ نکلتے ہیں۔

دو بچوں کا سبق دیتے اور تین سال کا وقفہ سکھاتے یہ بھی کوئی نہیں بتاتا کہ دوسرے بچے پر پہلے سے کم محنت اور توجہ لگتی ہے۔ دو بچوں کے ساتھ دو مزید محنت کے بغیر بھی پل جاتے ہیں۔ اور بچوں کو ہر وقت گود میں بٹھا رکھنا، ہر خواہش پوری کرنا، ہر وقت چومتے چاٹتے رہنا بھی اک ابنارمل رویہ ہے جس سے مکمل انسان بن نہیں سکتے۔ بچوں کو اپنے قد آور شخصیت کے ساتھ کھڑے ہونے دیں، ان کے دماغ و دل کو کچھ صبر اور حوصلہ بھی چاہیے، زندگی کے لئے کچھ قناعت، اور شراکت داریاں بھی بہت ضروری ہیں اور یہ سب نارمل رویے بچوں کی شخصیت کا حصہ بنانے کے لئے گھر میں دو نہیں تین چار پانچ بچے ضروری ہیں۔

تاکہ آپ کے بچے گھر میں ہی دوست بنا سکیں، گھر کے اندر ہی ہنس اور رو سکیں۔ گلی میں نکل کر ان بچوں کے ساتھ نہ کھیلنا پڑے جن کی عادتیں آپ کو پسند نہیں۔ آپ کو ان کے لئے دوست ڈھونڈنا نہ پڑیں یا اپنی تھکاوٹ کو تیوریوں پر سجا کر سوجے منہ سے ان کے ساتھ بچہ بننے کی بیکار کوشش نہ کرنی پڑے۔ ماں باب بہت ضروری ہیں بچوں کے لئے مگر صرف ماں باپ ہی نہیں۔ انہیں بہن بھائی بھی چاہئیں۔ کم سے کم دو دو! ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھ، ایک دوسرے کے قریب، اک دوسرے سے لپٹ کر سونے والے!

عرب میں ہم نے بچوں کی بہتات دیکھی ہر ماں کے آنگن میں مگر ہم نے کسی ماں کے چہرے پر وہ الجھن نہ دیکھی جو ہمارے ماتھوں پر تھی نہ کسی کے گھر وہ غربت دیکھی جو ہمارے ہاں گھر کے زیادہ افراد سے منسوب کی جاتی ہیں۔ ماؤں کی بیماریوں اور گھر کی غربت میں سارا کردار صرف اولاد کا ہی نہیں ہوتا اور بھی بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں ان آزمائشوں کی۔ سب قصور صرف اولاد کی جھولی میں ڈال دینا بھی کونسی عقلمندی ہے؟

یہ باتیں بھی ممی نے وقت اور عمر گزار کر سیکھیں۔ کوئی وقت پر یہ بتا دیتا تو آج اس ممی کے گھر میں بھی کم سے کم چار بچے ضرور ہوتے، ایک دوسرے سے مختلف مگر ایک جیسے، کوئی ہنس مکھ کوئی شرارتی، کوئی سنجیدہ کوئی پیار کرنے والا۔ مگر ہوا کے رخ سے مختلف رستہ دکھانے والا اور اندر کی بات بتانے اور سمجھانے والا ہمیں کوئی نہ ملا۔ مگر شاید اب مشاہدے سے ہی کسی اک کو ٹھیک راہ مل جائے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2