بیگم کلثوم نواز۔ کچھ یادیں کچھ باتیں
میں نے بیگم کلثوم نواز کو اس وقت قریب سے دیکھا جب وہ بارہ اکتوبر ننانوے کو لگنے والے مارشل لاء میں میاں نواز شریف کے اٹک قلعے میں قید ہونے کے بعد تحریک چلانے کے لئے نکلیں۔ دنیا کے دوسرے ترقی پذیر ممالک کی طرح پاکستان میں آمریت کا مقابلہ کون سا آسان ہے، اچھے خاصے مردوں کا پتہ پانی ہوجاتا ہے اور حیلے بہانوں سے آمروں کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں۔
کیا یہ دلچسپ امر نہیں کہ پاکستان میں لگنے والے تینوں بڑے مارشل لاوں کا مقابلہ خواتین نے ہی کیا۔ ایوب خان کے مارشل لاء میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح نے جمہوری قوتوں کی لاج رکھی، ضیاء الحق کی آمریت کا مقابلہ بیگم نصرت بھٹو نے کیا اوراس کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو نے قیادت سنبھالی، پرویز مشرف کی آمریت کو سب سے پہلا اور بڑا چیلنج بیگم کلثوم نواز کی تحریک تحفظ پاکستان کا ہی رہا۔
یہ سن دوہزار تھا جب میاں نوازشریف پر طیارہ ہائی جیکنگ کیس ڈالا جا چکا تھا اوراٹک قلعے میں قید تھے۔ بیگم کلثوم نواز کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں تھی۔ وہ دور پرنٹ میڈیا کا تھا جبکہ الیکٹرانک میڈیا مکمل طور پر سرکار کے کنٹرول میں تھا۔ ماڈل ٹاون میں ان کی رہائش گاہ کو ہر طرف سے پولیس نے گھیرا ہوا تھا کہ مسلم لیگ ن کے ذرائع سے پیغام ملا کہ بیگم کلثوم نواز پریس کانفرنس کرنا چاہتی ہیں۔
ہمیں علم تھا کہ ہم ماڈل ٹاون نہیں جا سکتے۔ رابطہ کرنے والے نے ہدایت کی کہ ہم میاں نواز شریف کی رہائش گاہ کے باہر ماڈل ٹاون پارک میں پہنچ جائیں۔ بیگم کلثوم نواز چھت پر آئیں گی اور وہاں ان کے پا س ایک میگا فون ہو گا۔ اس دور میں موبائل ٹیکنالوجی آچکی تھی، ہمارا ان سے موبائل فون پر رابطہ ہوا، ماڈل ٹاون پارک کی جھاڑیوں میں چھپے ہوئے ہم صحافی ایک موبائل فون کے ذریعے ان سے سوال پوچھتے تھے اور وہ چھت پر ایک بڑے میگافون کے ذریعے اس کا جواب دیتی تھیں۔ کسی کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے کہ پولیس گھر کے اندر چھت پران تک اور ماڈل ٹاون پارک میں ہم تک پہنچتی، پریس کانفرنس کی جا چکی تھی۔
میں آج سوچتا ہوں کہ میڈیا پرویز مشرف کے دور میں بھی اتنا ڈرپوک اور یک طرفہ نہیں تھا جتنا اب اس جمہوری دور میں ہوچکا ہے۔ پریس کانفرنس کا یہ واقعہ غالبا اس وقت پیش آیا تھا جب انہوں نے تحریک تحفظ پاکستان کے تحت مارچ کرنے کا اعلان کیا تھااور ان کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا اور فیروز پورروڈ سمیت پر ہرطرف سے گھر کی طرف آنے والوں کے لئے ناکوں اور گرفتاریوں کا پورا انتظام تھا مگر بیگم کلثوم نواز شریف، تہمینہ دولتانہ کے ہمراہ ایک گاڑی میں گھر سے نکلنے میں کامیاب ہوگئی تھیں۔ ان کی کار کو لاہور کی کینال روڈ پر پولیس کی گاڑیوں نے گھیر کے سرکاری افسران کی رہائش گاہوں کے علاقے جی او آر میں پہنچا دیا تھا۔یہ عجب منظر تھا کہ ایک کرین کی مدد سے ایک کار کو لے جایا جا رہا تھا۔ بیگم کلثوم نواز نے کمال جرات کا مظاہرہ کیا تھا کہ پولیس والے دن بھر کی کوشش کے باوجود ان کی گاڑی کھول نہیں سکے تھے۔ رات کو انہیں گاڑی سمیت ماڈل ٹاون واپس پہنچا دیا گیا تھا۔
مجھے یاد ہے کہ جب ہم نوے کی دہائی میں صحافت کیا کرتے تھے تو میاں نواز شریف کے ہر ہفتے اسلام آباد سے لاہور پہنچنے پر صحافیوں کی بڑی تعداد ائیرپورٹ پہنچ جاتی تھی، جہاں ان سے کچھ سوال جواب ہوجاتے تھے مگر جب بیگم کلثوم نواز یا فیملی کی دیگر خواتین ساتھ ہوتیں تو پی آئی ڈی کی طرف سے مطلع کر دیا جاتا کہ آج گفتگو نہیں ہوسکے گی۔ اس سے پہلے بیگم کلثوم نواز جب بھی کسی تقریب میں شرکت کرتیں تو لیڈی رپورٹرز ہی کوریج کے لئے جایا کرتی تھیں مگر مارشل لا لگنے کے بعد بیگم کلثوم نواز باہر نکل آئی تھیں۔ میں ان دنوں نیا اخبار ہونے کے باوجود مقبولیت میں بہت آگے جانے والے روزنامہ دن کا چیف رپورٹر ہوا کرتا تھا اور تین سے چار راخبارات کے سینئر رپورٹرز کے ساتھ ان کے گھر کے اندرونی حصے کے ڈرائنگ روم میں ہماری نشست ہوا کرتی تھی جس میں وہ اپنے سیاسی موقف کا جرات کے ساتھ کھل کر اظہار کیا کرتی تھیں۔
ایک مرتبہ مختلف اخبارات میں جناب شہباز شریف کا چودھری نثار کے نام ایک مبینہ خط شائع ہوا جس میں انہوں نے فوج سے براہ راست ٹکرانے سے گریز اور مفاہمت کا مشورہ دیا تھا۔ بیگم کلثوم نوازنے لگی لپٹی رکھے بغیر کہا، یہ مشورہ وہ اپنے دوست پرویز مشر ف کو کیوں نہیں دیتے، یہ خبر اگلے روز تین بڑے اخبارات میں بہت نمایاں طور پر شائع ہو گئی جس پر میاں محمد شریف نے مداخلت کی اور اس کی خبر کی تردید کر دی گئی مگر میرا اندازہ ہے کہ میاں نواز شریف کی طبیعت میں مزاحمت کے عنصر کو اوپر لانے میں بیگم کلثوم نواز شریف کا بھی بڑا ہاتھ تھا اور اب ان کی صاحبزادی مریم نواز شریف اپنی والدہ ہی کی طرح جرات ، استقامت اور بہادری کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔
بیگم کلثوم نواز ہمیں کہا کرتی تھیں کہ وہ ایک گھریلو خاتون ہیں، وہ اپنے ملک اور شوہر کی خاطر گھر سے باہر نکلی ہیں، جس طرح شوہر کی قید سے پہلے وہ کسی سیاسی سرگرمی میں نظر نہیں آتی تھیں اسی طرح ان کے قید سے نکلنے کے بعد بھی نظر نہیں آئیں گی اور پھر یہی ہوا تھا کہ وہ منظر سے غائب ہوگئی تھیں اور دوبارہ اس وقت انتخابی میدان میں آئیں جب ان کے شوہر ایک مرتبہ پھر مشکل وقت کا سامنا کر رہے تھے۔ وہ ہماری مشرقی خواتین کی وفاشعاری کی علامت قرار دی جا سکتی ہیں۔
ہمارے بعض دوست کہتے ہیں کہ میاں نواز شریف کو جلاوطنی پر آمادہ کرنے میں بھی ان کا بڑا کردار تھا۔ اس وقت جلاوطنی کا فیصلہ غلط لگتا تھا جس کے نیتجے میں ڈر تھا کہ میاں نواز شریف کی سیاست ہمیشہ کے لئے ختم ہو کے رہ جائے گی مگر وقت نے بتایا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ جو اس سے پہلے ایک وزیراعظم کو پھانسی پر چڑھا چکی تھی اس سے جا ن بچا کے نکل جانا ہی دانش مندی تھی۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ میاں نواز شریف زندہ سلامت وطن واپس لوٹے اور ایک مرتبہ پھر وزیراعظم بنے۔
اس دور میں بیگم کلثوم نواز کا ایک فقرہ بہت مشہورہوا تھا جو وہ ماڈل ٹاون میں ا پنی رہائش گاہ کے لان میں کارکنوں کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کرتی تھیں کہ وہ اپنی فوج سے محبت کرتی ہیں مگر فوجی آمریت سے نفرت کرتی ہیں۔
بیگم کلثوم نواز شریف نے بھرپور زندگی گزاری، انہیں محبت کرنے والے شوہر اور فرماں بردار اولاد کا ساتھ بھی ملا مگر بدقسمتی یہ رہی کہ اپنے آخری وقت میں وہ اپنے غم گسار شوہر اور نچھاور ہونے والی بیٹی سے دور رہیں۔ نواز شریف ان کے باقاعدہ ہوش میں آنے سے پہلے ہی سیاسی دباو کے باعث وطن واپس لوٹ آئے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان کے اور مریم نواز شریف کے وطن واپس جانے سے پاکستان کے عوام ان کے لئے اتنے ووٹ ڈالیں گے کہ نتائج تبدیل کرنا ممکن نہیں رہیں گے مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ پاکستانی عوام کی نفسیات پے در پے مارشل لاوں نے بہت تبدیل کر دی ہیں۔ وہ بہت سارے جو نعرے لگاتے ہیں کہ قدم بڑھاو نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں ، نواز شریف کے قدم بڑھانے پر پیچھے سے غائب ہوجاتے ہیں۔
آج سے تیس برس پرانا نواز شریف ضرور کسی حد تک تبدیل ہوا ہے کہ وہ وطن اور جمہوریت کی خاطر اپنی وفا دار، وفاشعار بیوی کو بستر مرگ پر چھوڑ کے آگیا اور اپنی بیٹی کو بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے دیکھ لیا مگرپاکستانی عوام ابھی اتنے زیادہ تبدیل نہیں ہوئے۔
مجھے اپنی ذاتی اور صحافتی حیثیت میں مشاہدات سے یہ گواہی دینے میں کوئی عار نہیں کہ میاں محمد شریف کا خاندان مذہب سے محبت والا اور مشرقی روایات کو اہمیت دینے والا ہے۔ بیگم کلثوم نواز آخری دنوں میں پوچھتی تھیں کہ وہ بیٹی جو روزانہ دو، دو مرتبہ واٹس ایپ پر ویڈیو کال کرتی تھی اب اس کی وائس کال بھی کیوں نہیں آتی۔
میں اندازہ لگا سکتا ہوں کہ اتنی طویل اور کامیاب ترین رفاقت کے بعد بیوی کے مرنے کی خبر جیل میں سننے پر میاں نواز شریف کے دل پر کیا گزری ہو گئی مگرمیں یہ بھی جانتا ہوں کہ ہم سب جس ملک میں رہتے ہیں وہاں کی روایات یہی ہیں، ان میں سے کچھ بدلنے والا نہیں، بس وہ بیگم کلثوم نواز جیسی خواتین یاد رہ جائیں گی جن کو دیکھ کے مردانہ وار لڑنے کی بجائے عورتوں کی طرح لڑنے کے الفاظ کو جرات اور بہادری کا استعارہ سمجھا جائے گا۔ اللہ عزوجل انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں۔



