اس دیس کی زنانہ وار لڑنے والیاں


سکندر اعظم جب ایران، مصر، بابل اور باختر کو فتح کرنے کے بعد انڈیا میں داخل ہوا تو اس کا سامنا ایک ایسی قوم سے ہوا جسے مغربی تاریخ دان اساکینوئی کہتے ہیں۔ سکندر کے دنیا فتح کر ڈالنے والے جرنیل سوات میں مساگا کے قلعے کو فتح کرنے میں ناکام رہے تو سکندر کو فوج کی کمان خود اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ سکندر حملہ کرتے ہوئے خود پیر پر ایک گہرا زخم کھا بیٹھا۔ روایت ہے کہ اس زخم کو دیکھ کر وہ حیران ہوا کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ وہ زیوس دیوتا کا بیٹا ہے اور فانی انسانوں جیسا نہیں ہے۔ اس جنگ میں کئی دن تک دونوں فریقین کا خوب جانی نقصان ہوا۔ جنگ کے چوتھے دن اساکینوئی کا بادشاہ اساکینوس ایک مقدونوی منجنیق سے پھینکے گئے پتھر کا نشانہ بن کر مارا گیا۔

اس کی ماں کلوئفس نے فوج کی کمان اپنے ہاتھ میں لے لی اور جیداری سے لڑی۔ شہر بھر کی عورتیں اسے دیکھ کر خود بھی میدان جنگ میں لڑنے پہنچ گئیں۔ دونوں اطراف کے بھاری جانی نقصان کے بعد سکندر اعظم نے صلح کی بات چیت شروع کی۔ معاہدے کے تحت سکندر نے قلعے کے بدلے اسکینوئی قوم کو امن سے باہر جانے کا حق دیا۔ اسکینوئی قلعہ خالی کر کے جانے لگے۔ وہ کچھ دور ہی پہنچے تھے کہ سکندر نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے ان پر عقب سے اچانک حملہ کر دیا۔

قدیم یونانی مورخ دیودورس اس معرکے کا مفصل حال لکھتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ”اسکندر کے اس مکارانہ حملے کا اسکینوئی نے بہادری سے سامنا کیا۔ یقینی موت سامنے دیکھتے ہوئے بھی وہ دائرے کی صورت میں کھڑے ہو گئے جس کے درمیان میں انہوں نے اپنی عورتوں اور بچوں کو رکھا۔ وہ اس جیداری سے لڑے کہ سکندر کی فوج ہکا بکا رہ گئی۔ جب بہت سے مرد زخموں سے چور ہو گئے یا مارے گئے تو ان کی جگہ لینے کو ان کی عورتیں آ گئیں۔ ان میں سے کچھ اپنے زخمی مردوں کو دشمنوں سے بچانے لگیں اور کچھ اپنے گرے ہوئے مردوں کے ہتھیار اٹھا کر دشمنوں سے لڑنے لگیں۔ آخر کار وہ سب مارے گئے۔ انہوں نے موت کو بے عزتی پر ترجیح دی“۔

سکندر کو اسکینوئی پر اس قدر جھنجھلاہٹ تھی کہ اس نے نہ صرف تمام آبادی کو قتل کر دیا، بلکہ قلعے کی تمام عمارات کو زمین بوس کر دیا۔ اس وعدہ خلافی کے ذریعے حاصل ہونے والی کو سکندر اعظم کے اوپر ایک شرمناک داغ سمجھا جاتا ہے اور یہ اس کی واحد فتح ہے جو اس نے عہد شکنی اور دھوکے سے حاصل کی۔

اس دیس کی یہ ریت ہزاروں برس سے چلی آ رہی ہے کہ اپنے بچوں اور مردوں کی حفاظت کے لئے عورتیں زنانہ وار لڑی ہیں۔ جب بھی مرد زخموں سے چور ہو گئے یا مارے گئے تو ان کی جگہ لینے کو ان کی عورتیں آ گئیں اور اپنے کنبے قبیلے قوم کی قیادت سنبھال لی۔ خواہ وہ اساکینوئی کی رانی کلوئفس ہو، سری لنکا کی مسز سریماوو بندرا نائیکے ہو، بنگلہ دیش کی حسینہ واجد اور خالدہ ضیا ہوں، ہندوستان کی اندرا گاندھی اور سونیا گاندھی ہوں، یا پاکستان کی فاطمہ جناح، عاصمہ جہانگیر، نصرت بھٹو اور بے نظیر ہوں، سب نے یہ تاریخ رقم کی ہے۔ جہاں بڑے بڑے جیدار مردوں کے قدم لرز گئے وہاں یہ جرات کا استعارہ بن کر سربلند ہوئیں۔

بیگم کلثوم نواز بھی اسی درخشاں روایت کی ایک امین تھیں۔ جب شوہر اور بچے مشکل میں پڑے تو گھر سے نکلیں اور اس وقت ان کو جنرل مشرف جیسے ڈکٹیٹر سے بچا کر لے گئیں جب بڑے بڑے نامور مرد خوف کھا کر چھپ گئے تھے۔ اور اس کے بعد دوبارہ سیاست کی چمک دمک سے دور جا کر اپنے گھر گرہستی میں گم ہو گئیں۔ آج پاکستانی سیاسی تاریخ کی ایک ہیروئن رخصت ہوئی۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar