طے کیا جائے کہ اصل حکمران کون ہے
’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ اگرچہ نواز شریف نے ایک ایسے وقت میں بلند کیا تھا جب ان کے سیاسی سفر میں آگے بڑھنے کے تمام راستے بند کردئیے گئے تھے۔ تاہم اس نعرہ کی اہمیت اور ملک میں جمہوری روایت کی سربلندی کے لئے اس کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ نواز شریف اپنی بیٹی مریم نواز کے ساتھ اڈیالہ جیل میں اپنے سیاسی انداوزوں کی غلطیوں اور ماضی میں غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھوں میں کھیلنے کی سزا بھگت رہے ہیں۔ بظاہر انہیں بدعنوانی کی سزا دی گئی ہے۔ البتہ یہ ایک ایسا الزام ہے جسے ان کے خلاف مقدمہ کا فیصلہ سنانے والی احتساب عدالت بھی درست قرار نہیں دے سکی۔ لیکن اس کے باوجود دونوں کو بالترتیب دس اور سات برس قید کی سزا دی گئی ہے۔ ان مقدمات پر اپیلوں کا سلسلہ دارز ہوتا جارہا ہے اور ملک کی کوئی عدالت فی الوقت قانون کے تقاضے پورے کرتے ہوئے، پاناما پیپرز کے انکشافات کے علاوہ گزشتہ تین چار دہائیوں کے دوران قائم ہونے والے مقدمات کا میرٹ پر فیصلہ کرنے کا حوصلہ نہیں کر پارہی۔ نواز شریف کی حراست سے ایک مقبول اور طاقت ور سیاسی آواز دبا دی گئی ہے اور تحریک انصاف کی حکومت کو پارلیمنٹ کے اندر یا باہر چیلنج کرنے والے دیگر گروہوں، سیاسی پارٹیوں اور لیڈروں کا مختلف طریقوں سے ’زہر‘ نکال لیا گیا ہے۔ اسی لئے قومی اسمبلی ہو یاپنجاب اسمبلی بھاری بھر کم اپوزیشن کی حیثیت ابھی تک کاغذی ہاتھی سے زیادہ نہیں ہے۔
یہ صورت حال بقول شہباز شریف نامزد کی گئی اور بزعم خویش منتخب ہو کر آنے والی حکومت کو ورکنگ سپیس دینے کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ لیکن عمران خان کی سرکردگی میں حکومت ابھی تک صورت حال کا ادراک کرنے، اپنی صلاحیت، حدود اور امکانات کا جائزہ لینے اور ان کے مطابق ٹھوس اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانے کی کوشش کرنے کی بجائے بدستور اپوزیشن کا لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے عوام کو یہ بتانے کی کوشش کررہی ہے کہ ملک کے تمام مسائل کی بنیادی وجہ مسلم لیگ (ن) کی سابقہ حکومت تھی۔ یہ وزیر اعظم ہاؤس کے اخراجات کا معاملہ ہو، سرکاری گاڑیوں کے استعمال کا سوال ہو یا انرجی سیکٹر و گیس کے شعبہ میں خسارہ کی بات ہو، وزیروں کے علاوہ وزیر اعظم کی تان اس بات پر آکر ٹوٹتی ہے کہ ملک کو سابقہ حکومت کی غلط کاریوں کی وجہ سے موجودہ حالات کا سامنا ہے۔ حالانکہ پانچ برس تک دھرنا سے لے کر احتجاج کے دیگر طریقے اختیار کرنے تک عمران خان بار بار کہتے رہے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت ناقص اور عوام دشمن پالیسیوں پر عمل کرتی رہی ہے۔
ایسے میں یہ توقع کی جاسکتی تھی کہ عوام کو یہ پیغام دیتے ہوئے عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے ملکی معیشت کے اتار چڑھاؤ کا جائزہ لے کر ایسا جامع منصوبہ تیار کرلیا ہوگا کہ تحریک انصاف کے برسر اقتدار آتے ہی اس کے خد و خال واضح ہونے لگتے۔ لیکن اس کی جگہ حکمرانی کے ایوان سے وہی پیغام دیا جارہا ہے جو دھرنا کنٹینر سے عام کیا جاتا تھا۔ ایسے میں حکومت کی صلاحیت کے بارے میں سوال اٹھنا لازمی ہے۔ اسد عمر اور عمران خان سمیت ملک کے کسی شہری کو اس بارے میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ملکی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ملک کے زر مبادلہ کے ذخائر کم ہورہے ہیں، ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے کے لئے نئے وسائل کی ضرورت ہے، سی پیک کے تحت لئے جانے والے قرضوں کی ادائیگی کا سلسلہ شروع ہورہا ہے لیکن ان کی پیداواری صلاحیت کی رفتار ابھی تک سست روی کا شکار ہے۔ امریکہ کے مقابلہ میں چند تند و تیز بیانات کے بعد ’مفاہمت‘ کا بگل بجا دیا گیا ہے اور شاہ محمود قریشی کا دعویٰ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے۔ اس نئے دور کے آغاز میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومیو نے چند گھنٹے اسلام آباد میں قیام کرنے کے بعد نئی دہلی میں تین روز تک بھارتی وزرائے خارجہ و دفاع کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا وہ انہی اصولوں پر مبنی ہے جن میں پاکستان کو دہشت گردی کے حوالے سے مشکوک ریاست قرار دیتے ہوئے صورت حال تبدیل کرنے کے لئے نئے اتحاد و اشتراک کو ضروری سمجھا جاتا ہے۔ یہ اتحاد امریکہ اور بھارت کی اسٹریجک دوستی کی صورت میں سامنے آچکا ہے۔ لیکن بھارت، پاکستان کی طرف سے مذاکرات کی درخواستوں (یا سہولت کے لئے اسے پیشکش بھی کہا جاسکتا ہے) کا کوئی جواب دینے پر آمادہ نہیں۔
پاکستان کے وزیر خارجہ اور دیگر اکابرین بھارت کے ساتھ نئی حکومت کی طرف سے مذاکرات کی پیش کش کا ذکر کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ اب بال بھارت کے کورٹ میں ہے۔ اب تاخیر بھارت کی طرف سے ہو رہی ہے۔ لیکن یہ زعما یہ بتانے یا سمجھنے سے قاصر نظر آتے ہیں کہ بھارت نے یہ رویہ جنوری 2016 میں پٹھان کوٹ ائیر بیس پر حملہ کے بعد سے اختیار کیا ہؤا ہے۔ بھارت کا مسلسل یہ مؤقف رہا ہے کہ پاکستان ان عناصر کو گرفتار کرے جو اس کے ملک میں دہشت گرد حملوں میں ملوث ہیں لیکن پاکستان کی عدالتوں کو ان لوگوں کے خلاف کارورائی کرنے کے ثبوت ہی فراہم نہیں ہوتے۔ لہذا یہ گروہ اور ان کے محب وطن لیڈر محفوظ ہیں اور ملک میں عزت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ جب موقع ہوتا ہے تو بھارت کے خلاف جنگی ماحول پیدا کرنے کے لئے ان جاں نثاروں کو جلسے کرکے اور ریلیاں نکال کر دھؤاں دار تقریریں کرنے کا موقع بھی دیا جاتا ہے۔
پاکستان امریکہ کے ساتھ مفاہمت اور دوستی کی نئی منزل کی تلاش میں اسے یہ باور کروانے میں کامیاب نہیں ہوسکا کہ پاکستان کے خلاف بھارت کا معاندانہ رویہ اور مذاکرات نہ کرنے کی ہٹ دھرمی دراصل خطے میں امریکی مفادات کے لئے بھی خطرہ کا سبب بنی ہوئی ہے۔ امریکہ کو حقانی نیٹ ورک اور افغانستان میں طالبان کی سرگرمیوں کے حوالے سے پاکستان سے جو شکایات ہیں، ان کے پیدا ہونے کی ایک وجہ بھارت کے ساتھ پاکستان کا تصادم اور افغانستان میں بھارت کا بڑھتا ہؤا اثر و رسوخ ہے۔ پاکستان کی حکومت قدرے معتدل مزاج اور ہوشمند امریکی صدر باراک اوباما کی حکومت کو بھی اپنا مؤقف سمجھانے میں کامیاب نہیں ہوئی تھی۔ اب تو وہاں ڈونلڈ ٹرمپ جیسے صدر کی حکومت ہے جو عالمی سفارت کاری کو ایک ٹویٹ دھمکی کی مار سمجھتے ہیں۔ وہ اس کا استعمال پاکستان کے خلاف بھی کر چکے ہیں جس کے بعد سے پاکستان صرف اسٹیٹس کیو کو برقرار رکھنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت بھارت کے ساتھ مفاہمت اور مذاکرات کی پیش کش کی جس نئی پالیسی کا فخر سے اعلان کرتی ہے اس کا آغاز نومبر 2016 میں جنرل قمر جاوید باجوہ کے آرمی چیف بننے کے بعد ہی ہو گیا تھا۔ جنرل صاحب کئی بار اس خواہش کا اظہار کرچکے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے ہی مسائل حل ہو سکتے ہیں اور جنگ سے اس خطے کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ بھارت نے پاکستان کے سب سے طاقت ور شخص کی طرف سے مصالحت کی پیشکش کا جو جواب دیا تھا، اس کا اب بھی وہی مؤقف ہے۔ شاہ محمود قریشی ان تفصیلات میں جائے بغیر چکنی چپڑی باتوں سے اخبار نویسوں اور اینکرز کو چٹپٹی ہیڈ لائن تو فراہم کرسکتے ہیں لیکن صورت حال کو تبدیل کرنا ان کے اختیار میں نہیں ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیراعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کرنے والے نجوت سنگھ سدھو کو گلے لگاتے ہوئے اگلے برس اپریل میں بابا گرو نانک کے 550 ویں جنم دن کے موقع پر سرحد کھولنے اور بھارت کے سکھ زائرین کو بلا روک ٹوک پاکستان آنے کی پیشکش کرتے ہوئے دشمنی کے ماحول کو خیرسگالی میں بدلنے کا موقع فراہم کیا تھا۔ لیکن فی الوقت بھارت نے اس غیر معمولی پیش کش کا بھی کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی اپریل 2019 میں بھارت سے پاکستان کے گاؤں کرتار پورہ میں واقع بابا گرو نانک کی جنم بھومی گوردوارہ دربار صاحب کی زیارت کے لئے آنے کے خواہش مند زائرین کی سہولت کے انتظامات کا آغاز کیا ہے۔
اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ امریکہ کی طرح بھارت بھی اب خیر سگالی کے علامتی اظہار کی بجائے پاکستان کی سیکورٹی پالیسی میں بنیادی تبدیلی کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہ مطالبہ پورا کرنے کے لئے پاک فوج کو اپنی گزشتہ دو دہائیوں کے دوران راسخ ہونے والی افغان پالیسی تبدیل کرنا پڑے گی جو تصادم اور پراکسی وار کی بجائے مصالحت اور بات چیت کی بنیاد بن سکے۔ پاک فوج نے ابھی تک ایسا اشارہ نہیں دیا ہے۔ منتخب حکومت کے وزیر خارجہ جو چاہے کہیں یا کریں ان کی چرب زبانی صورت حال کو تبدیل کرنے کا سبب نہیں بن سکتی۔
خارجہ پالیسی میں فوج کی بالادستی قبول کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ سے مزید وقت مانگا گیا ہے تاکہ پاکستان ان شکایات کو دور کرنے کی کوشش کرے جو ٹرمپ حکومت کو پاکستان سے لاحق ہیں۔ امریکہ کے پاس پاکستان کے حوالے سے کھونے کو کچھ نہیں ہے، اس لئے وہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ فیصلہ تو فوج کو کرنا ہے، ملک میں نئی حکومت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک موقع دینے پر آمادہ لگتا ہے۔ لیکن یہ آمادگی کس کام کی جب دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بامعنی بنانے کی ہر کوشش ناکام ہو رہی ہے اور پاکستان کے بارے میں امریکی پالیسی بھارتی خواہشات کا چربہ دکھائی دیتی ہے۔
اس دوران نئی جمہوری حکومت ملک کو درپیش شدید مالی مشکلات کے لئے کبھی ڈیم فنڈ میں چند جمع کرنے کی مہم چلاتی ہے اور کبھی سرکاری اخراجات کو کم کرکے وزیر اعظم کی سادگی کا ڈھول پیٹتی ہے۔ اب وزیر اعظم عمران خان یہ دور کی کوڑی لائے ہیں کہ حکومت پاکستان کے پاس باون ہزار کنال سے زائد املاک جامد سرمائے کی صورت میں موجود ہیں جن سے حاصل ہونے والی رقم کو بہتر طور سے صرف کیا جاسکتا ہے۔ اس جامد سرمایہ کا تخمینہ وزیر اعظم نے 300 ارب روپے بتایا ہے۔ اگر وزیر اعظم یا ان کے معاونین خود ہی غور فرمائیں تو جان سکیں گے کہ جب قرض اور ان پر ادا کیا جانے والا سود اربوں ڈالر میں ادا ہونا ہے تو تین سو ارب روپے کی املاک کو فروخت کرکے کون سے شعبہ کی کون سی ضرورت پوری کی جاسکے گی۔ ایسے بیان اور ٹویٹ پبلک ریلشننگ کی حد تک ہی کارآمد ہوسکتے ہیں۔ مسائل حل کرنے کے لئے ٹھوس پالیسی بنانے اور اس پر قائم رہنے کی ضرورت ہوگی۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ سی پیک اور گیس ٹیرف کے بارے اعلان اور فیصلے کرنے کے بعد تبدیل کرلئے جائیں اور حکومت کو طاقت ور اور مؤثر ماننے کا مطالبہ بھی کیا جائے۔
حکومت کی اس بے بسی کی اصل تصویر جنرل قمر جاوید باجوہ نے آج سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار سے ملاقات کرکے ڈیم فنڈ میں فوج کی طرف سے ایک ارب سے زائد رقم کا چیک دے کر واضح کردی ہے۔ فوج کا سربراہ ملک کے منصف اعلیٰ سے مل کر پارلیمنٹ کے فراہم کردہ وسائل میں سے کثیر رقم عطیہ کرتا ہے۔ ایسے میں حکومت اور اسے منتخب کرنے والے عوام ٹک ٹک دیدم کی صورت بن کر اپنی بے بسی پر صبر کا گھونٹ ہی پی سکتے ہیں۔ عمران خان خواہ ’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرہ کو نواز شریف کی طرف سے بدعنوانی کو چھپانے کی کوشش ہی مانتے رہیں لیکن وہ دست بستہ پاک فوج کے سربراہ اور چیف جسٹس سے یہ تو پوچھ سکتے ہیں کہ ’ یہ تو بتا دیا جائے کہ اصل حکمران کون ہے ‘۔


