حکمرانوں کے فیصلے یا کتھک ڈانس؟
آپ بھی کہہ رہے ہوں گے کہ یہ کتھک ڈانس اور حکمرانوں کے فیصلوں کا آپس میں کیا تعلق ہو سکتا ہے بھلا۔ ہوسکتا ہے یا نہیں یہ بعد میں سمجھتے ہیں، پہلے یہ جانے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر یہ کتھک ڈانس ہے کیا بلا؟
کتھک ڈانس بر صغیر کے ان آٹھ کلاسیکی رقصوں میں سے ایک انتہائی اہم اور مشہور ڈانس ہے جسے قدیم دور میں کہانیوں کو بیان کرنے کے لئے پرفارم کیا جاتا تھا۔ کتھک، لفظ کتھا سے نکلا ہے یعنی کہانی کو بیان کرنے کا رقص۔ رقاص اپنے جسم کے مختلف جسم کو طبلے کی تھاپ پر خوبصورتی سے گھما کر کہانی بیان کیا کراتے تھے اور آج بھی یہ رقص خاص طبقوں میں مشہور ہے۔ حکمرانوں اور رقص و سرود کی محفلوں کا آپس میں گہرا تعلق رہا ہے، اور حکمران ماضی میں رقص اور سرود کی خصوصی محفلیں سجایا کرتے تھے۔
کتھک ڈانس کو خواص ہی سمجھا اور سمجھایا کرتے تھے کیوں کہ عام اور غریب طبقے کے پاس نہ تو رقص اور سرود کے لئے وقت تھا نہ اب ہے۔
پر آج یہ رقص حکمران اپنے وہ فیصلے کر کے دکھا رہے ہیں، جو نہ تو ان کے اپنی سمجھ میں آرہے ہیں اور نہ ہی عوام کو سمجھ میں آرہے ہیں، ہاں سوشل میڈیا پر خاص طور پر تیار کیے گئے برقی برگیڈ جو کہ خلائی مخلوق کا درجہ رکھتے ہیں ان کو حکمرانوں کے فیصلوں کا یہ رقص سمجھ آیے یا نہ آ یے وہ، پنی انگلیوں کو سمارٹ فون کے برقی کی بورڈ پر نشتر کی طرح مار مار کر اس کا کا دفاع کرنے پر تل جاتے ہیں، اور جوں ہی حکمرانوں کو اپنے غلط فیصلے کی سمجھ آتی ہے اور اس کو اگلے ہی لمحے واپس لیتے ہیں، یہ برقی برگیڈ جو غیرت کے علاوہ گالم گلوچ، بدتہذیبی، ماں بہن کو ایک کرنے کے نشتروں سے لیس ہوتے ہیں کے ساتھ ساتھ اگر تنقید کرنے والا سامنے ہو تو انہی نشتروں سے وہ ان کو زندہ درگور کر دیں۔ یہ عمل حزب مخالف پارٹیوں کے برقی برگیڈ جنھیں اگر غیرت برگیڈ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، کر رہے ہوتے ہیں، کیوں کہ اب سب کچھ یہی برگیڈ کر رہے ہیں اور یہ شاید سیاسی جماعتوں اور حکمرانوں کے لئے اپنے مخالفین اور ناقدوں سے نمٹنے کا سستا اور موثر طریقہ ہوگا۔
ہمارے نیا پاکستان کا نعرہ بلند کرکے کرسی حکمرانی پر براجمان ہونے والے حکمرانوں نے اپنی تین ہفتوں کی حکمرانی میں تین درجن اگر فیصے کیے ہوں گے تو ان فیصلوں نے ابھی کتھک ڈانس کی رقاصہ کی طرح اگلی انگڑائی لی ہی نہیں تھی کہ تنقید کا نشانہ بن گئی اور پھر دوسرے ہی لمحے ان کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔
واپس لئے گئے ان فیصلوں میں سے سب سے بد ترین مثال اقتصادی مشاورتی کونسل سے دنیا کے پچیس اہم ترین ابھرتے ہوئے معاشیات کے ماہرین میں سے ایک جو پاکستانی نژاد قادیانی عاطف میاں کی انتہائی شرمناک صورتحال کے بعد کونسل سے اخراج تھا۔ ان پر میڈیا خاص کر سوشل میڈیا پر جو کیچڑ اچھالا گیا اور جس طرح ایک خاص نکتہ سے ان کے خلاف مہم چلی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ عمران خان کی حکومت کو یا تو ان کو کونسل کا رکن بنانا ہی نہیں چاہیے تھا، کیوں کہ انہیں پتہ ہونا چاہے تھا کہ اس فیصلے کی بنا پر ان پر شدید پریشر پڑے گا، کیوں کہ عاطف میاں کا قادیانی ہونا کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں، اور اگر انہیں شامل کر ہی لیا گیا تھا تو پھر حکومت کوا پنے فیصلے پر ڈٹ جانا چاہیے تھا۔ ملک کے لئے اور ریاست کا شہری ہونے کی بنا پر مذہب سے بلا تر ہو کر ہر شہری کا یہ حق ہے کہ اسے برابری کی بنیاد پر مواقع ملیں۔
آئین کا آرٹیکل ستائیس ریاست کے ہر فرد کو مذہب سے بلا تر ہو کر روزگار کے یکساں مواقعوں کی گارنٹی دیتا ہے۔ میثاق مدینہ اور مدینہ کی ریاست جس کا عمران خان بار بار حوالہ دیتے ہیں اور ان کی خواہش بھی ہے کہ پاکستان کو مدینہ کی طرح مثالی فلاحی ریاست بنایا جائیے، پر میثاق مدینہ کی بنیادی روح تمام قبائل کے درمیان امن آشتی قائم کر کے مذہب اور فرقوں سے بلا تر ہوکر یکساں سلوک کیا جانا تھا اور کیا گیا۔
حکمرانوں کے اس اقدام سے دینا بھر میں ہماری جگ ہنسائی ہوئی ہے، جس کا مداوا نہیں کیا جا سکتا۔
یہ تو ایک فیصلہ ہے، پر تبدیل کیے گئے فیصلوں کی ایک طویل فہرست ہے، جن میں کابینہ کے ارکان کو شامل کرنا اور پھر نکال دینا، ایک شعبہ دے کر دوسرے ہی دن واپس لے کر دوسرا دے دینا، گورنر اور وزیر ایسے بھی نکلے جن پر نیب کیسز تھے، وہ نام واپس لے لئے گئے۔
چلیں ہم مان لیتے ہیں کہ خان صاحب کو پہلی مرتبہ حکمرانی ملی، تو کیا وہ جو ان کے ساتھ گھاٹ گھاٹ کا پانی پی کر بنی ٹیم ہے، ان سے مشاورت نہیں ہوتی، اور اگر مشاورت ہوتی ہے اور فیصلے غلط ثابت ہوتے ہیں تو پھر وزیر اعظم کو سوچنا ہوگا کہ کیا ان کی کچن کیبنٹ کیا سنجیدہ لوگوں پر مبنی ہے؟
سیاسی اناڑیوں کایہ کتھک ڈانس اگر یوں ہی چلتا رہا تو لوگ یہ کتھک ڈانس دیکھنا ہی چھوڑ دیں گے حضور۔


