بیگم کلثوم نواز کی چند باتیں چند ملاقاتیں

پھر جب 1999ء کی آمریت قائم ہوئی تو بڑے بڑے نام بھی طوطا چشم ہو گئے لیکن انہوں نے حوصلہ نہ ہارا اور میدان میں کود پڑی۔ غالباً انہوں نے اسی زمانے میں اپنی پہلی سیاسی سرگرمی بنگالی گلی، پیسہ اخبار، نئی انار کلی لاہور میں کی۔ اس دن کے بعد سے جلا وطنی تک ان کی ذات تھی اور جمہوریت کی شمع۔ میری ان سے پہلی ملاقات 2003ء میں سعودی عرب میں ہوئی اور یہ محسوس کیے بناء نہ رہ سکا کہ ان کی ذات پر اس تمام مقام و مرتبے کے باوجود عاجزی اور شفقت کا پہلو نہایت نمایاں تھا۔ اپنی ذات کو کسی دوسرے سے بلند سمجھنا ان کے لئے نا ممکن تھا۔ گھریلو ملازمین سے بھی اتنی شفقت سے بات کر رہی تھی کہ گمان ہوتا تھا کہ مادر مہربان محو گفتگو ہے۔
انہوں نے اپنی آمریت کے خلاف جدوجہد کے ایام کو اپنی ڈائری میں قلمبند کر رکھا تھا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ ان دنوں کے واقعات کو جاننا پاکستانیوں کا حق ہے۔ لہٰذا اس ڈائری اور اس دوران کی گئی تقاریر کو کتابی شکل میں چھاپنے کا فیصلہ کیا گیا اور اس خاکسار کے ذمے معاونت کی ذمہ داری رکھی گئی۔ ہمیشہ اس پر فخر رہے گا۔ ”جبر اور جمہوریت“ کے نام سے یہ کتاب چھاپنے کی ذمہ داری پیر امین الحسنات شاہ کے ادارے ضیاء القرآن پبلشر کو دی گئی۔
پیر صاحب کے بھائی میجر صاحب نے جوش و خروش سے یہ کام اپنی نگرانی میں پائیہ تکمیل تک پہنچایا۔ پاکستان میں کتاب کی تقریب رونمائی کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی اور مشرف نے ہتھکنڈے آزمانا شروع کر دیے کہ یہ تقریب نہ ہو سکی۔ تفصیل پھر سہی لیکن ہم یہ تقریب کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ کیپٹن صفدر نے مجھے بتایا کہ بیگم کلثوم نواز صاحبہ بہت خوش ہوئیں اور ڈھیروں دعاؤں سے نوازنے لگیں۔
مشرقی اقدار کا بے مثل نمونہ تھیں۔ 2009ء میں میری والدہ داغ مفارقت دے گئی تو انہوں نے تعزیت ایسے کی کہ جیسے میرا غم ان کا غم ہے۔ مائیں سب سمجھتی ہیں۔ 2016ء میں میاں نوازشریف عارضہ قلب کے علاج کی غرض سے لندن مقیم تھے۔ یار لوگوں نے اس پر بھی بہت باتیں بنائیں۔ ہدایت سے عاری لوگ کہ جن کے لئے بیماری بھی سیاست کا میدان ہے۔ میاں نوازشریف سے لندن ملاقات کے لئے حاضر ہوا۔ بیگم کلثوم نواز صاحبہ اور حسن نواز بھی موجود تھے۔
وہ چیزوں کا کتنا احساس رکھتی تھیں جب جام معشوق علی اپنی آمد کا بتانے لگے تو بیگم صاحبہ نے بتایا کہ یہ تو ہسپتال بھی تیمار داری کے لئے آئے تھے۔ وہ میاں نوازشریف سے جڑی چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی دھیان میں رکھتی تھیں کہ یہی ان کے لئے سب سے بڑی بات تھی۔ ان کے ملاقاتیوں سے لے کر دوائی، ڈاکٹر، فزیو تھراپی غرض سب کچھ ایک مشرقی شریک حیات کی مانند ان کے شانہ بشانہ تھیں۔
ان کے اہل خانہ سے تعزیت کے لئے میں بیگم صاحبہ کے ہی وہ الفاظ استعمال کروں گا جو انہوں نے اپنی والدہ کے انتقال پر تحریر کیے تھے۔ ” 15 دسمبر کو ماں کی مامتا سے بھی سدا کی جدائی ہو گئی اور میں اپنے آپ کو لمحوں میں اس بچے کی طرح محسوس کرنے لگی جو کارواں سے کسی جنگل، بیاباں میں بچھڑ جائے“ خدا اس بچھڑنے پر ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطاء فرمائے کہ یہ لمحات نہایت تکلیف دہ ہیں۔

