بیگم کلثوم نواز: مثالی ہاؤس وائف اور بہادر سیاسی کارکن

چند ایک سیاستدان تھے جو اس وقت تھوڑی بہت مزاحمت کررہے تھے، ان میں ایک احسن اقبال اور دوسرے جاوید ہاشمی تھے جنہیں کچھ عرصے بعد غداری کے الزام میں جیل میں قید کردیا گیا تھا۔ اب وہ خاتون جو ساری زندگی ہاؤس وائف رہی، جنہیں سڑک اور مزاحمت کی سیاست کا علم نہ تھا۔ وہ اپنے شوہر اور جمہوریت کے لئے گھر سے باہر نکلیں۔ ایسی خاتون جو ایم اے تھیں، جنہیں گھر چلانے میں مہارت حاصل تھی۔ جو اردو ادب اور شاعری کی شوقین تھی۔ وہ سیاست کے میدان میں آگئیں۔ مریم نواز اور مسلم لیگ کے چند رہنماؤں کے ساتھ مل کر نواز شریف اور جمہوریت کے حق میں آواز بلند کرنے لگیں۔ ہر طرف سے سوالات اٹھ رہے تھے کہ کیا کلثوم نواز صاحبہ مزاحمتی سیاست کرپائیں گی؟ مگر وہ بہادر اور عزم کے ساتھ میدان میں اتریں اور ڈکٹیٹر کے سامنے کھڑی ہو گئیں۔
مثالی ہاؤس وائف نے اب مثالی انقلابی سیاسی کارکن کا روپ اختیار کر لیا۔ بیک وقت دو محازوں پر وہ مشرف کو ٹف ٹائم دیتی نظر آئیں۔ پہلے انہوں نے جمہوریت کی بحالی اور نواز شریف کی رہائی کے لئے قانونی راستہ اختیار کیا۔ اور اس کے بعد احتجاج کا مشکل راستہ چنا۔ ایسی سیاسی جرات کا مظاہرہ کیا کہ ڈکٹیٹر بیگم کلثوم نواز شریف کی سیاسی مزاحمت کے سامنے خوف زدہ نظر آیا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ دور نواز شریف کی سیاست کے لئے بہت اہم تھا۔ بیگم کلثوم نواز صاحبہ اگر اس وقت باہر نہ نکلتیں تو شاید نواز شریف کی سیاست کا خاتمہ ہوجاتا۔
اس ملک میں بہت ساری خواتین میدان سیاست میں آئیں اور پھر ہمیشہ کے لئے سیاست کا حصہ بن کر رہیں۔ لیکن کلثوم نواز صاحبہ الگ رنگ ڈھنگ کی خاتون تھی۔ وہ ایک مخصوص سیاسی رول ادا کرنے کے لئے میدان سیاست میں آئیں، مخصوص پیریڈ تک سیاست کا حصہ رہیں۔ اور پھر مخصوص کردار ادا کرنے کے بعد دوبارہ مثالی ہاؤس وائف بن گئیں۔ وہ خاتون جو ایک ڈکٹیٹر کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئی تھی، اب گھر داری اور بچوں کی دیکھ بھال میں لگ گئی۔ اب وہ اپنے شوہر کو باؤ جی کہتی اور انہیں حوصلہ دیتی کہ ضرور اچھا وقت آئے گا۔
لیکن یہ معاشرہ بھی کتنا گھٹیا اور گندہ ہے۔ وہ بستر مرگ پر تھی اور لوگ انہیں سیاسی لاش بناکر ان کا مذاق اڑارہے تھے۔ وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں تھی۔ اور نام نہاد صحافی، نام نہاد سیٹیزن، نام نہاد سیاستدان، نام نہاد قانونی ماہر انہیں سیاسی لاش کہہ رہے تھے۔ کہہ رہے تھے کہ بیگم کلثوم نواز تو عرصہ ہوا فوت ہو گئی ہیں اور نواز شریف ان کی لاش پر ہمدردی کی سیاست کا ڈرامہ رچا رہے ہیں؟ کیا وہ ڈرامہ تھا؟ اب وہ کس منہ سے معذرت کریں گے؟ ہر طرح کا گند اچھا لا گیا۔ کہا گیا سیاسی مقصد کے لئے لاش کا استعمال کیا جارہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا نواز شریف نے کلثوم نواز کو سیاست کے لئے استعمال کیا؟ سوشل میڈیا پر تو بے غیرتی کی انتہا کردی گئی تھی۔ کچھ اینکر پرسنز نے تعصب اور نفرت کا ایسا مظاہرہ کیا کہ خدا کی پناہ۔
اسی دور میں 2000 جولائی میں ان کی ایک تصویر سامنے آئی جو مزاحمت کی علامت بن گئی۔ لاہور میں ایسے ہی ایک اجلاس میں شرکت سے روکنے کے لیے ان کی گاڑی کو پولیس نے روکا تو بیگم کلثم نواز نے گاڑی اندر سے بند کر لی اور اترنے سے انکار کر دیا۔ حتٰی کہ ان کی گاڑی کو لفٹر کی مدد سے آگے سے اٹھا لیا گیا اور وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ مگر وہ اپنے انکار پر قائم رہیں اور باہر نہیں آئیں۔ اس تصویر کے سامنے آنے سے مارشل لا حکومت سے مزاحمت کا ایک مضبوط پیغام گیا۔
یہ انتہائی اہم امر ہے کہ اپنی اس جدوجہد سے وہ اپنے شوہر اور ان کے خاندان کو بحفاظت ملک سے باہر لے گئیں۔ ان کی جدوجہد نہ ہوتی تو مارشل لا حکومت پر کوئی دباؤ نہ ہوتا۔ نواز شریف کی شخصیت میں حال ہی میں جو سیاسی اور نظریاتی تبدیلی نظر آئی اور جس کا وہ خود ذکر بھی کرتے تھے، ’اس میں بھی بیگم صاحبہ اور ان کی بیٹی مریم نواز کا بڑا کردار ہے‘۔
بیگم کلثوم نواز 1950 میں ڈاکٹر محمد حفیظ کے گھر پیدا ہوئیں، وہ رستم زمان گاما پہلوان کی نواسی تھیں۔ انہوں نے اسلامیہ کالج خواتین، ایف سی کالج اور پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور اپریل 1971 میں ان کی شادی معروف صنعت کار میاں شریف کے صاحبزادے نواز شریف سے ہوئی، ان کے چار بچوں میں مریم، اسما، حسن اور حسین نواز شامل ہیں۔ بیگم کلثوم نواز 1999 سے 2002 تک مسلم لیگ (ن) کی صدر رہیں اور انہوں نے 12 اکتوبر 1999 کے بعد جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف ایک سال تک تحریک چلائی، انہیں تین مرتبہ خاتون اول رہنے کا اعزاز حاصل رہا۔

