کلثوم نواز: مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
لیکن ان لوگوں کو کیا کہ وہ ایک پڑھی لکھی نمود و نمائش اور تکبر سے بہت دور ایک پڑھی لکھی ( حتٰی کہ صاحب کتاب ) خاتون تھیں ان لوگوں نے تو وہی کہنا تھا جو انھیں سمجھایا گیا تھا یا جس طرح ان کی تربیت کی گئی ہے۔
لیکن ٹھہریے پہلے ہمیں یہ بات پوری طرح سمجھ لینی چاہیے کہ بے شک اس ملک میں سمجھ اور شعور سیاسی سوجھ بوجھ اور احترام جمہوریت کا علم ایک جذبے کے ساتھ یقینًا اٹھایا گیا ہے اورخلقت کا ایک توانا ریلا اسے تھامے ہوئے ہے لیکن حقیقت کی اس تلخی کو بھی تسلیم کرنا ہی پڑے گا کہ دوسری سمت سمجھ بوجھ سے عاری جذباتی ابھار بھی موجود ہے۔
جن کے رُخ کا تعین سفاک طبقے کے ہاتھ میں ہے تبھی تو ایک بے رحم ظالمانہ اور تہذیب سے دور ایک سیاسی رویے نے گزشتہ ماہ وسال میں جنم لیا اس طرح کی ذھن سازی کے لئے میڈیا اور سیاست میں ایسے ایسے لوگوں کو سامنے لایا گیا کہ مستقبل میں ان کا ذکر آتے ہی تاریخ منہ چپھاتی پھرے گی، اور یہی وہ رویہ تھا جس نے بے رحم بیماری سے لڑتے ہوئے ایک غیر سیاسی خاتون کلثوم نوازکو بھی نہیں بخشا کیونکہ وہ شریف کی بیوی تھی۔
عاصمہ جہانگیرنے ایک بار کہا تھا کہ مجھے سمجھ نہیں آئی کہ ایسے بے حس اور بے حیا لوگ ہی کیوں ہمیشہ منظورِ نظر ہوتے ہیں۔ لیکن المیہ تو یہ ہے کہ وہی بے حسی اور بے حیائی ایک مخصوص طریقے سے عوامی سطح پر بھی منتقل کر دی گئی جس نے ایک نسل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تاہم یہ نسل خود بھی نہیں جانتی کہ ان کے ساتھ کیا اور کیسے ہوا؟
دراصل یہ ”وبا“ کچے ذھنوں پر ہی حملہ آور ہوتی ہے اور اس سے بچنے کے لئے جس پختگی اور شعور کی ضرورت ہوتی ہے وہ اس عمر میں بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔
سو یہی ہونا تھا جو ہو رہا ہے۔
ایک خاتون کینسر کے جان لیوا مرض سے لڑ رہی تھی شوہر اور بیٹی جرم جمہوریت کے سبب اس سے ہزاروں میل دور اپنے وطن کے کسی عقوبت خانے میں اسیری کے دن کاٹ رہے تھے۔ ( باپ بیٹی کا جرم ہی ایسا ہے جو کسی طور قابل معافی نہیں ورنہ اس مملکت خداداد میں تو قانون بہت فرینڈلی اور مہربان ہے حتٰی کہ احسان اللہ احسان سے راؤ انوار تک کو ریلیف دیتا ہے۔ ڈاکڑ عاصم سے جہانگیر ترین تک کو آزاد اور معزز شہری بناتا ہے )
پورے خاندان پر ابتلاء اور آزمائش کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے وطن اور خاندان سے بہت دور اور موت سے حد درجہ قریب اس نفیس خاتون کو لمحہ بھر کو ہوش آتا تو شوہر اور بیٹی کا پوچھتی لیکن اسے نہیں بتایا جاتا کہ وہ کس حال میں ہیں؟
ڈاکڑوں کی باتوں سے مایوسی ٹپکنے لگی تھی۔ آخری بار شوہر اور بیٹی نے جیل جانے کا انتخاب کیا اور تقریبًا نصف صدی ساتھ بتانے والی نفیس اور کم گو بیوی کے چہرے پر وہ جھکا اور آواز دیتا رہا کلثوم آنکھیں کھولو، لیکن آنکھیں نہیں کھلیں۔ اس کے سینے پر چند آنسو ٹپکے ایک دل چیر دینے والی خاموشی چھا گئی اور دونوں باپ بیٹی نے الوداعی نظریں اس پر جما دیں کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ آخری ملاقات ہے۔
آخری ملاقات کا جملہ تو پھانسی گھاٹ سے وابستہ رہا کسی ہسپتال سے نہیں لیکن جس منظر نامے کا ہمیں سامنا ہے وہ شاید کسی پھانسی گھاٹ سے کم بھی تو نہیں۔
اور ہاں کلثوم نواز مر گئی ہے اس لئے حماقت کی لہر کو اب کسی اور زاویے کی طرف موڑ ہی دیا جائے، اور یہ کون سا مشکل کام ہے؟
ان خدمات پر مامور صحافی اور سیاستدان حکم کے انتظار میں پہلے ہی دست بستہ اورتیار کھڑے ہیں۔ جو حکم ملتے ہی ٹی وی چینلوں پر ایک سرکس سجا دیں گے اور تالیوں سیٹیوں اور بھنگڑوں پر مامور وہ خلقت نکل آئے گی جنہوں نے کھبی سکھ کے موسم دیکھے ہی نہیں آزادی اور حقوق تو دور کی بات ہے
اور اب جاتے جاتے ایک شعر
تو دشتِ بے وطنی میں لہولہان ہوا
ہم اپنے دیس میں سینہ فگار پھرتے ہیں


