نواز لیگ کا سیاسی مستقبل کیا ہے؟
ایڈیٹر انویسٹی گیشن دی نیوز انصار عباسی نے کہا ہے کہ کلثوم نواز کی وفات کا سیاسی پہلو بھی ہے ،شریف خاندان کیخلاف مفروضہ کی بنیاد پر کمزور فیصلہ دیا گیا، کلثوم نواز کی وفات کے بعد ردعمل نواز شریف اور مریم پر منحصر ہوگا، نواز شریف کو بار بار نکالا گیا لیکن وہ سیاست میں بدلہ لینے پر نہیں اترے۔ وہ جیو کے پروگرام ”نیا پاکستان طلعت حسین کے ساتھ“ میں میزبان طلعت حسین سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں بیوروچیف جیو نیوز لاہور رئیس انصاری،سینئر صحافی مبشر زیدی،اینکر پرسن منیب فاروق،ماہر نفسیات ڈاکٹر عثمان امین ہوتیانہ اور نمائندہ جیو اویس یوسف زئی سے بھی گفتگو کی گئی۔منیب فاروق نے کہا کہ کلثوم نواز کی وفات محض خاندانی سوگ تک محدود نہیں رہے گی، ایون فیلڈ ریفرنس میں شریف خاندان کیخلاف فیصلہ قانونی طور پر بہت کمزور ہے، نواز شریف اور مریم نواز باہر آئے تو اب جارحانہ سیاست کریں گے ،کلثوم نواز کو اس بیماری میں چھوڑ کر واپس آنے سے نواز شریف اور مریم نواز کی سیاسی ساکھ بڑھ گئی ہے۔رئیس انصاری نے کہا کہ یہ سوچ غلط ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کے جیل جانے سے شریف خاندان سیاسی طور پر ختم ہوگیا ہے، نواز شریف نہ ہوں تب بھی مریم نواز کا سیاسی مستقبل نظر آرہا ہے۔مبشر زیدی نے کہا کہ احتساب
عدالتوں کے فیصلے اعلیٰ عدالتوں میں برقرار نہیں رہتے ہیں، نواز شریف اور مریم نواز کی شکایتیں اب غصہ میں تبدیل ہوں گی، پیرول کی درخواست پر دستخط کرنے سے انکار سے ان کا غصہ ظاہر ہورہا ہے، نواز شریف کا واحد مقصد کسی بھی طرح مریم نواز کو لانچ کرنا رہ گیا ہے۔عثمان امین ہوتیانہ نے کہا کہ انسان کسی کوکھوتا ہے تو انکار، غصہ اور قبولیت کے مختلف مرحلوں سے گزرتا ہے، مرد اور عورت میں کچھ اثرات مختلف بھی ہوتے ہیں، بالغ لوگوں پر اگر کسی حادثہ کا سب سے زیادہ اثر ہوتا ہے تو وہ شریک حیات کی موت ہوتی ہے۔اویس یوسف زئی نے کہا کہ احتساب عدالت نے کلثوم نواز کی تدفین کی وجہ سے کارروائی موخر کی۔انصار عباسی نےکہا کہ کلثوم نواز کی وفات کا سیاسی پہلو بھی ہے،اس وقت ان کے شوہرنواز شریف، بیٹی مریم نوازاور داماد کیپٹن صفدر جیل میں ہیں جبکہ ان کے بیٹے جنازے میں شرکت نہیں کرسکے، بہت سے لوگ تعزیت کے ساتھ نواز شریف سے ہمدردی کیلئے بھی ملنے جارہے ہیں، عمران خان کی شادی بھی ذاتی معاملہ تھا لیکن سیاسی معاملہ بھی بن گیا تھا، سوشل میڈیا کے ساتھ ہمارا مین اسٹریم میڈیا بھی غیرذمہ دار ہے، شہباز شریف کے مقابلہ میں نواز شریف اور مریم نواز کی سیاست کا طریقہ مختلف ہے، شہباز شریف اپوزیشن کے نہیں حکومت کے آدمی ہیں، نواز شریف اور مریم نواز جارحانہ اپوزیشن کرسکتی ہیں جس کا مظاہرہ بھی کیا ہے، ن لیگ ریڈلائنز کراس نہیں کرے گی لیکن سویلین بالادستی کے حوالے سے پارلیمنٹ میں جارحانہ نظر آئے گی۔انصار عباسی کا کہنا تھا کہ ریاست کو دیکھنا ہوگا کہ وہ شہریوں کے ساتھ انصاف کرتی ہے یا نہیں ہے، شریف خاندان کیخلاف مفروضہ کی بنیاد پر کمزور فیصلہ دیا گیا، اس کیس میں واضح طور پر ریاست کی زیادتی نظر آتی ہے، کلثوم نواز کی وفات کے بعد ردعمل نواز شریف اور مریم پر منحصر ہوگا، نواز شریف کو بار بار نکالا گیا لیکن وہ سیاست میں بدلہ لینے پر نہیں اترے، پرویز مشرف کا ٹرائل نواز شریف نے نہیں کیا بلکہ سپریم کورٹ کا حکم تھا۔منیب فاروق نے کہا کہ کلثوم نواز کی وفات محض خاندانی سوگ تک محدود نہیں رہے گی، ن لیگ خصوصاً نواز شریف کے ہمدردوں میں غصہ پایا جاتا ہے، کلثوم نواز کو اس بیماری میں چھوڑ کر واپس آنے سے نواز شریف اور مریم نواز کی سیاسی ساکھ بڑھ گئی ہے، ایون فیلڈ ریفرنس میں شریف خاندان کیخلاف فیصلہ قانونی طور پر بہت کمزور ہے، نیب کو سمجھ نہیں آرہا اس فیصلے کا دفاع کیسے کرے،نواز شریف تین دفعہ وزیراعظم رہے اور ہر مرتبہ نکالے گئے، اس دفعہ نواز شریف کی شکایت اس حد تک بڑھ گئی ہیں کہ نہ صرف وہ خود بلکہ ان کی بیٹی بھی جیل گئی ہیں،شہباز شریف بھی نواز شریف کو چپ ہو کر بیٹھنے کیلئے نہیں کہیں گے۔منیب فاروق کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور مریم نواز باہر آئے تو اب جارحانہ سیاست کریں گے اور جو جانتے ہیں سب بتادیں گے۔رئیس انصاری نے کہا کہ کلثوم نواز کے جنازے میں عام لوگ سیاسی وابستگی کی وجہ سے آئے، کلثوم نواز پہلے دن سے ہی شدید بیمار تھیں، اپریل میں ایک رپورٹ سامنے آئی جس کے مطابق ان کی زندگی تین ماہ سے زیادہ نہیں تھی، یہ سوچ غلط ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کے جیل جانے سے شریف خاندان سیاسی طور پر ختم ہوگیا ہے، نواز شریف نہ ہوں تب بھی مریم نواز کا سیاسی مستقبل نظر آرہا۔


