ریاست کا نام و نشان مت مٹائیں


دنیا کی بہترین یونیورسٹیاں انگلینڈ اور امریکہ میں ہیں۔ پچھلے دو سو سال سے دونوں ملکوں نے یکے بعد دیگرے پوری دنیا پر اپنی طاقت اور علم کا سکہ جمایا ہے۔ آپ یقین مانیں یہ یونیورسٹیاں نہیں، عجوبے ہیں۔ امریکہ میں واقع کیلی فورنیا یونیورسٹی ہماری پنجاب یونیورسٹی سے عمر میں صرف چودہ برس بڑی ہے۔ درجن بھر کیمپسز میں اڑھائی لاکھ طلباء پڑھتے ہیں۔ اس سے ملحقہ تحقیقاتی اداروں، لیبارٹریوں، تدریسی ہسپتالوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ اس کا موجودہ سال کا بجٹ پاکستان کی کل ٹیکس آمدن کے تقریباً برابر ہے۔ جی ہاں پینتیس ارب ڈالر۔

حیران مت ہوں۔ جتنے میں ہمارا بھاشا ڈیم بن سکتا ہے، اتنا اسے سالانہ چندہ ملتا ہے۔ اور اس بھی زیادہ صرف اس کے ہسپتال کما لیتے ہیں۔ دو سو سے بھی کم ایکڑ رقبے پر سفر شروع کیا، وقت گزرتا گیا، زمین خریدتی رہی۔ اسی طرح دنیا کی دوسری یونیورسٹیاں پھلی اور پھولیں۔ تحقیق اور ترقی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ یونیورسٹیاں تحقیق کرتی اور کرواتی ہیں اور معاشرہ اس تحقیق سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آگے بڑھتا ہے۔ اگر آپ نے کسی ملک کی ترقی کے حال یا مستقبل پر بات کرنی ہے تو سب کچھ چھوڑ کے اس کےاعلی تعلیم کے اداروں پر ایک نظر دوڑا لیں۔ یہیں سے آپ کو پتہ چل جائے گا کہ اگلے چالیس پچاس سال میں وہ ملک اور قوم کہاں کھڑے ہوں گے۔

مجھے یقین ہے کہ مجھ سمیت میرے کسی بھی دوست میں موجودہ معیار کے مطابق وہ اہلیت نہیں کہ ہم سے کوئی بھی مستقبل میں وزیراعظم یا وزیر، مشیر بن جائے۔ شاید ہم محب وطن پاکستانی ہی بن جائیں تو ملک کے لئے کافی ہے۔ آپ نے وزیراعظم ہاؤس میں یونیورسٹی بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ آپ کا اختیار ہے۔ اب چونکہ ہمارے پاس زبان ہے تو سوال پوچھنا ہمارا اختیار ہے۔

دنیا کی کونسی عظیم یونیورسٹی ہے جو اس طرح معرض وجود میں آئی؟ کیا وہ جہاں آپ کو کھیلوں کی بنیاد پر داخلہ ملا تھا؟ وزیراعظم ہاؤس سے ایک کلو میٹر کے فاصلے پر واقع، وزیر اعظم ہاؤس سے ساٹھ گنا بڑی سترہ سو ایکڑ پے محیط قائد اعظم یونیورسٹی میں دس ہزار طلباء بھی نہیں پڑھتے۔ کونسی ایسی مجبوری ہے جو کروڑوں روپے سے ایک خاص مقصد کے لئے بنائی گئی عمارت کو آپ زبردستی یونیورسٹی بنا رہے ہیں؟ آپ کو پتہ ہے کہ اس عمارت کو ایک تعلیمی ادارے کے لئے موزوں بنانے پے کروڑوں روپے خرچ ہوں گے؟ ریڈزون میں یونیورسٹی بنا کر آپ تو اپنے پانچ سال گزار کر گھر چلے جائیں گے۔ کیا آپ نے ان دھرنوں کا بھی سوچا ہے جن سے ریڈ زون چار چار مہینے بند رہ سکتا ہے؟

یہاں پڑھنے کے لئے تھر، خضدار، بھاولپور اور جیکب آباد سے آنا آسان نہ ہو گا؟ تو کیا یہ صرف پنجاب اور کے پی کے لئے بن رہی ہے؟ اگر یہ صرف راولپنڈی کے لئے بن رہی ہے تو اس کے باسیوں کو 23 ایکڑ پر پھیلا آرمی ہاؤس زیادہ قریب پڑتا ہے جس کے پیچھے سینکڑوں ایکڑ پر پھیلا گالف کورس بھی ہے۔ یہ کیسی سادگی ہے جو ریاستی اداروں کے نشان تک مٹانا چاہتی ہے۔ آپ آکسفورڈ یا کیلی فورنیا کے ماڈل پے چلیں اگر آپ نے وہاں سے کچھ سیکھا ہے۔

دو سو ایکڑ پر بنا کیمپ ڈیوڈ، اٹھارہ ایکڑ پر پھیلا وائٹ ہاؤس، بارہ ایکڑ پر بنی نمبر ون آبزویٹری، اٹھارہ ہزار مربع میڑ پر واقع بلئیر ہاؤس اور کئی مقامات امریکی صدر کی سرکاری رہائش گاہیں ہیں۔ جبکہ برطانیہ کے وزیراعظم کی رہائش گاہ ”چیکیرز“ پندرہ سو ایکڑ پر محیط ہے۔ یہ سرکاری عمارتیں کسی کی ذات سے منسلک نہیں ہوتیں۔ یہ قوموں کا مشترکہ ورثہ ہوتی ہیں۔ امریکی وائٹ ہاؤس کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ جس طرح ہندوستانیوں کے دل میں راشٹرپتی بھون کا احترام ہوتا ہے۔ مینار پاکستان سے ہمیں کونسا منافع آرہا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارے رہنماؤں نے یہاں قرار داد پاکستان منظور کی تھی۔ آپ بے شک ملٹری سیکریٹری کے گھر میں رہ لیں۔ لیکن بعد میں آنے والے کیا کریں گے۔ اور یہ کیسی سادگی ہے کہ صدر مملکت، آرمی چیف اور کور کمانڈرز تو انہی تاریخی عمارتوں میں رہیں گے اور وزیر اعظم صاحب ملٹری سیکرٹری کے گھر میں رہیں گے۔

خوشامد کسی بھی لیڈر کے لئے زہر قاتل ہے۔ خوشامدی آپ کو سچ نہیں بتاتا۔ اس کے سامنے اس کا مقصد ہوتا ہے۔ وہ ہر بات اسی مقصد کے حصول کے لئے فریم کرتا ہے۔ خوشامدی کی نشانی یہ ہے کہ اس کی بات آپ کو سننے میں بہت بھلی لگتی ہے۔ اچھا خوشامدی وہی کہتا ہے جو ہم دل سے سننا چاہتے ہیں۔ اس نے آپ کو بتایا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس اور وزیراعظم کا گھر بیچنے سے عوام مطمئن ہو جائیں گے، آپ لی کوان یو یا ڈنگ شاؤ پنگ بن جائیں گے۔ لوگوں کی ہمدردیاں بٹورنے میں وقت مت ضائع کریں۔ گورباچوف آپ سے بڑا لیڈر تھا۔ ہمدردیاں بٹورنے کے چکر میں پڑ گیا۔ سپر پاور کو آسمان سے زمین پے گرا دیا۔ آج بھی زندہ ہے۔ اقتدار سے اترے ستائس برس بیت گئے۔ آج بھی وہ روسی لوگوں کا مجرم ہے۔

یہ پرشکوہ عمارتیں ہماری ریاست کا نام و نشان ہیں۔ ریاست کے نام و نشان مٹانے سے بہتر ہے ریاست بنائیں۔ ریاست بنتی ہے اداروں سے۔ اداروں کا وقار بحال کریں۔ آپ پہلے ہی وزیر اعظم کے دفتر کا قد بہت گرا چکے ہیں۔ اب وزیراعظم کا گھر مت گرائیں۔ وزیر اعظم ہاؤس بھی ایک ادارہ ہے۔ یہ آرمی ہاؤس سے کہیں بڑا ادارہ ہے۔ ہمیں دونوں ہی چاہیں۔ وزیراعظم ہاؤس کی آٹھ بھینسوں اور بیس گاڑیوں کا ڈھنڈورا پیٹ کے شاید ایک مہینہ اور گزر جائے۔ کبھی کسی مشیر سے پوچھیے گا کہ آپ کے ماتحت کچھ محکمے ایسے بھی ہیں جن کے پاس لاکھوں بھینسیں، ہزاروں گاڑیاں ہیں اور سینکڑوں محلات ہیں۔ لیکن آپ اپنے اقدامات سے صرف ایک متروک محل، بیس گاڑیوں اور آٹھ بھینسوں کے وزیراعظم بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

الیکشن سے پہلے آپ نے بہت سے وعدے کیے تھے۔ ہمیں معلوم ہے نہ سب پورے ہوں گے اور نہ پانچ سال میں اتنا کچھ کر پانا ممکن ہے۔ ایک مہینہ دیکھیں کتنی جلدی گزر گیا۔ وقت گزرنے کا پتہ نہیں چلے گا۔ ملٹری سیکٹری کے کمپارٹمنٹ سے باہر نکل آئیں۔ آپ اصلی وزیراعظم ہیں۔ وزیراعظم والے کام کریں اور خاتم الوزرائے اعظم مت بنیں۔ یہ سلسلہ قیامت تک چلتا رہے گا۔ وزیر اعظم تو انسان ہوتا ہے، اس دنیا میں تو خدا نے بھی اپنا گھر بنایا ہے۔

Facebook Comments HS