گھریلو مکھیوں سے اک گزارش

گھریلو مکھی کو چائے سے عشق ہے۔ آپ کی شکل کتنی ہی ڈراؤنی کیوں نا ہو، بھلے آنکھوں میں خون اترا ہو، پیشانی پے بل پڑے ہوں، مونچھیں پھڑک رہی ہوں، آپ گرج رہے ہوں، برس رہے ہوں، اگر آپ کے سامنے چائے کا کپ ہے اور اس علاقے میں کسی ایک بھی مکھی کو اس کی مخبری ہو گئی تو آپ کے پاس دو ہی راستے بچتے ہیں۔ یا تو گرما گرم چائے غٹا غٹ پی جائیں یا پھر مکھیاں اڑاتے رہیں۔

نارمل حالات میں انسان مکھی اڑانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ بس پھر انسان چھوٹی سی مخلوق کی حب مفرط سے بے خبر لمحے بھر کے لئے چْوک جاتے ہیں اور چائے کی پیالی میں محبت کی ایک اور داستان ڈوب جاتی ہے۔ لیکن وہ چائے کی ایک پیالی کو اپنا جاتی ہے۔

دوستو اس دنیا میں کچھ انسان بھی ایسے ہیں جو چائے کی پیالی پے مکھی سے بھی زیادہ فدا ہیں۔ چائے نہ ملے تو انہیں سر میں درد ہوتا ہے، متلی آنے لگتی ہے، نقاہت ہونے لگتی ہے، ایک عجیب بے چینی لاحق ہو جاتی ہے۔ ان کی ایک کثیر تعداد مملکت خدا داد کے سرکاری دفاتر میں پائی جاتی ہے۔ بلکہ یہی ہیں وہ عشاق جو چائے کی پیالی میں اوندھے منہ تیرتے ہوئے رقیب کی لاش کو داہنے ہاتھ کی چھوٹی انگشت سے اس طرح نکالتے ہیں کہ بالائی کی تہہ بھی ٹوٹنے نہیں پاتی۔ یہ نابغے اپنی اپنی مسندوں پے حسب صلاحیت سرکاری امور کی بجائے صبح سے شام تک مکھیاں مارتے ہیں تاکہ چائے کی چند پیالیاں بلاشرکت مگس نوش فرمائی جاسکیں۔ گھریلو مکھیوں میں سرکاری انسانوں کی طرح سستی، ڈھٹائی، مکاری، فنکاری اور بے زاری باتم موجود ہیں۔

Read more

حامد خان کا انکشاف

استاد محترم حامد خان کا ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے۔ ٹھیک گیارہ سال پہلے راقم نے پنجاب یونیورسٹی لا کالج کے ایل ایل ایم پروگرام میں داخلہ لیا۔ اس وقت یہ پاکستان کا واحد تعلیمی ادارہ تھا جہاں پر ملک کے مایہ ناز وکلا اور قانون دان پڑھاتے تھے۔ ان…

Read more

ہوائی خوشی اور دکھوں کا سفینہ

انگلینڈ کی جھنڈا بردار برٹش ائر ویز اگلے سال کے وسط میں اسلام آباد سے لندن کے لئے ہفتہ وار تین پروازوں کا آغاز کر رہی ہے۔ ڈریم لائنر بوئنگ 787 کو اس مقصد کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ ابتدائی طور پے ریٹرن ٹکٹ تقریباً 632 ڈالر میں دستیاب ہو گی۔ انگلستان جانے والے احباب کے لئے یہ ایک بہت اچھی خبر ہے۔ دو ملکوں کے درمیان سستی معیاری اور متبادل ڈائریکٹ فلائٹ ممکن ہو سکے گی۔

خواتین و حضرات اس وقت لاہور سے پی آئی اے کی ہفتہ وار تین پروازیں ہیں جو بوئنگ 777 استعمال کرتے ہوئے لندن جاتی ہیں۔ اگر چار مہینے بعد کی ریٹرن ٹکٹ کی قیمت دیکھیں تو 1000 ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔ یہ پی آئی اے کے چند منافع بخش روٹس میں سے ایک ہے۔

Read more

لال بھکاری معیشت کے اصول

عزیز ہم وطنو بوراکئے ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جس کا سائز ڈی ایچ اے کے ایک سیکٹر سے بھی کم ہے اور غیر ملکی سیاحوں کی تعداد بارہ لاکھ سالانہ ہے۔ اس کے برعکس ورلڈ اکانامک فورم کی سیاحت کے بارے میں رپورٹ برائے 2017 کے مطابق تقریباً نو لاکھ مربع کلو میٹر پے پھیلے پاکستان میں ایک سال میں کل ملا کر نو لاکھ پینسٹھ ہزار سیاح آئے۔ بقول برٹش فارن ٹریول ایڈوائزری کے ان میں سے بھی دو لاکھ ستر ہزار برطانوی شہری ہیں جن میں اکثریت ممکنہ طور تارکین وطن کی ہو سکتی ہے۔

آج دوپہر میں ناچیز فلپائن کے محکمہ سیاحت کے منیلا ہیڈکواٹر میں بیٹھا تک رہا تھا کہ چودہ دسمبر 2018 تک فلپائن میں ستر لاکھ کے قریب غیر ملکی سیاح آ چکے ہیں جن میں چار ہزار کے قریب پاکستانی بھی ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی پاکستانی مل جائے تو ضرور پوچھیں۔ نہ ان کی پولیس ہم سے اچھی ہے، نہ سفارت خانے بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ کرپشن وہاں بھی ہے، جرنیل ان کے بھی گوڈوں اور گٹوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اور نا ہی کوئی کے ٹو اور راکی پوشی وہاں سر نکالے کھڑیں ہیں، نا کشمیر جیسی وادیاں ہیں، نا نلتر جیسی جھیلیں ہیں، نا تھر جیسا صحرا ہے، نا سوات جیسا حسن ہے، نا کیلاش جیسے لوگ ہیں، نا دیوسائی جیسا میدان ہے، نا ٹھٹھ جیسا قبرستان ہے، نا ناران ہے، نا گلگست بلتستان ہے، نا صدیوں پرانی ہڑپہ اور موہنجو دڑو کی تہذیبیں ہیں۔

Read more

سلطنت شغلیہ اور ماچو مین

  آج سے تقریباً پانچ سال پہلے ایک لاہوری لڑکے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں وہ عوام سے اپیل کر رہا تھا کہ اگر پولیس والے ہمیں ماریں گے تو ہم انقلاب کیسے لائیں گے۔ یہ ایک لڑکے کی بات نہیں۔ یہ ایک طبقے کی بات تھی۔ ایک پڑھا لکھا طبقہ جو اپنے…

Read more

بغیر پرچی کے تقریر مت کرو بھائی!

جارج واشنگٹن اور ابراہم لنکن کے بعد فرینکلن ڈی روزویلٹ امریکہ کے عظیم ترین صدر گردانے جاتے ہیں۔ روز ویلٹ نے جب اقتدار سنبھالا تو معاشی بدحالی کے باعث ملک میں سوگ کا سا سماں تھا۔ ہزاروں لوگ فاقوں سے مر چکے تھے۔ بھوک، پیاس، ننگ اور افلاس کا دور دورہ تھا۔ لیکن جب تیرہ سال بعد روزویلٹ کا اقتدار ختم ہوا تو امریکہ سپر پاور بن چکا تھا۔

روز ویلٹ نے لوگوں میں امید پیدا کی۔ حالات سے لڑنے کا حوصلہ دیا۔ اپنی پہلی تقریر میں ہی کہہ دیا کہ امریکیوں کو اگر کسی چیز سے ڈرنا ہے تو وہ صرف ڈر ہے، باقی کچھ نہیں۔ روز ویلٹ ریڈیو استعمال کرنے والا دنیا کا پہلا سیاست دان ہے۔ رات کے وقت قوم سے ریڈیو پے گفتگو کا ایسا سلسلہ شروع کیا وہ ہر امریکی کی روزمرہ کی اور ذاتی زندگی کا حصہ بن گیا۔ لہجہ ایسا تھا کہ پتھر دل بھی پگھلا دیتا، دلیلیں اتنی مضبوط اور عام فہم تھیں کہ عام آدمی سے لے کر مدبروں کو بھی قائل کر لیتی۔ بے لوث پن تھا، شجاعت تھی، ادراک تھا، دوراندیشی تھی۔ دوسری جنگ عظیم آئی تو اس نے کہا ہم نے نہیں لڑنا، چورانوے فیصد امریکیوں نے سر تسلیم خم کر دیے۔

Read more

فیس بک ہمارے بارے میں کیا کچھ جانتی ہے؟

چار ہفتے پہلے فیس بک کی طرف سے کمیونٹی کے معیارات کے حوالے سے ایک سیمینار میں شرکت کا دعوت نامہ ملا۔ بقول مختار مسعود صاحب، ”جب خواہش قلبی اور فرائض منصبی کی حدیں مل جائیں تو خوش بختی جنم لیتی ہے۔ “ وقت طے تھا، مقام بھی آگیا۔ ہم نے پہنچنے میں عجلت کا…

Read more

الہ آباد اب ہم میں نہیں رہا!

جمنا حجم کی بڑی ہے تو گنگا سبک رفتار۔ گنگا ہندو مذہب کا مقدس ترین دریا ہے۔ ملک بھر کے طو ل وعرض میں گنگا جل کو مذہبی رسومات میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ہر بارہ برس بعد کرہ ارض پر انسانی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع کمبھ کا میلہ آلہ آباد میں ان دو دریاؤں کے سنگم پر ہوتا ہے۔ ہندوستان کے آزاد خیال سیکولر بانی وزیراعظم جواہر لال نہرو کی خواہش تھی کہ ان کی ارتھی کی راکھ اس دریا میں بہائی جائے۔

سن 1583 کی ایک خوشگوار شام بادشاہ اکبر کوہ ہمالیہ سے بچھڑی دو دوشیزاؤں کے سنگم پہ پہنچا تو کشش اتصال نے مزید پہل قدمی سے روک دیا۔ پورے چار مہینے گزارے اور موجودہ شہر کی بنیاد رکھی اور اس کا نام پریاگ سے تبدیل کر کے الہ آباد رکھ دیا۔ اس شہر نے تقسیم ہند کے بعد ملک کو سات وزراء اعظم دیے۔ اسی مناسبت سے اسے سٹی آف پرائم منسٹرز بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بڑا صاحب اثر شہر تھا۔ غلام ہندوستان میں آزادی کی تحاریک کے بنیادی ڈھانچے اور منشور اسی شہر میں تیار ہوئے۔ پاکستانی لوگ اسے خطبہ الہ آباد کی نسبت سے جانتے ہیں جس میں شاعر مشرق نے ہندوستان میں آزاز مسلم ریاست کا تصور پیش کیا۔

Read more

آسیہ بی بی اور مکافات عمل

یہ شہر سحر زدہ ہے صدا کسی کی نہیں یہاں خود اپنے لئے بھی دعا کسی کی نہیں (فراز) اتنی جلدی مکافات عمل۔ وقت کتنی تیز چل رہا ہے۔ انسان بھلے جتنا بھی طاقتور ہو جائے یاداشت کی حدود اور اعمال کے دائروں سے باہر نہیں نکل سکتا۔ نمرود ہو یا فرعون، یزید ہو یا…

Read more

عمران خان اور پنجاب یونیورسٹی کے غنڈے

اگر آپ نے سنا ہے کہ پاکستان کو زیادہ نقصان ان پڑھوں نے نہیں بلکہ پڑھے لکھے لوگوں نے پہنچایا ہے تو اس سے بہتر اس کی کوئی اور مثال کیا ہو گی۔ یہ جان لینا چاہیے کہ ہمارے تعلیمی ادارے اگر اسی طرح چلتے رہے تو یہ ملک بھی اسی طرح چلتا رہے گا۔ تبدیلی کا آغاز تعلیمی اداروں سے ہوگا۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے چند نادان پرندے نہیں بلکہ اس کی جڑیں اکھاڑ پھینکنی ہوں گی۔ وہ جڑیں جو نام نہاد سیاسی پروفیسروں کے حلق سے اتر کر ان کے دل و دماغ میں پیوست ہیں۔

اس وقت ان سے نمٹنے کے لئے عمران خان سے بہتر کوئی بندہ نہیں، کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جو ان سے پھینٹی کھا کر وزیر اعظم بنا ہے۔ ورنہ ہمیشہ پھینٹی لگانے والے ہی وزیر مشیر بنتے رہے ہیں۔ ہارورڈ سکول آف انجینرنگ کے ماہرین کی طرح شاید ابھی ہم رات کی تاریکی میں تو نہ دیکھ پائیں لیکن ہمیں دن کے اجالے میں دیکھنے کے قابل ضرور ہو جانا چاہیے۔

Read more