سرنڈر آرڈر اور آخری سپاہی

پون صدی قبل جنگ عظیم دوم اپنے فیصلہ کن مراحل میں داخل ہو رہی تھی۔ ایشیا کے عسکری و سیاسی افق کا ستارہ جاپان سانحہ پرل ہاربر کے بعد امریکیوں کو نہ دن میں جاگنے دیتا نا رات میں سونے دیتا۔ اسی کشمکش میں امریکی افواج آدھے ایشیا میں پھیلی جاپانی افواج کے خلاف برسرپیکار تھی۔ طویل جدوجہد اور معاشی عسرت نے یقیناً جاپان کو مضمحل کر دیا تھا۔

کئی علاقوں بالخصوص جنوب مشرقی ایشیا میں امریکی مداخلت کا خطرہ بڑھ رہا تھا۔ دسمبر 1944 کے اسی پس منظر میں لیفٹننٹ اونوڈو کو فلپائن کے جزیرے لبونگ میں اتارا گیا۔

Read more

میراثی کا انصاف

بنارس ہندؤں کا مقدس ترین شہر ہے۔ پڑھے لکھے مسلمان اسے بنارس اور عقیدت مند ہندو ’کاشی‘ کے نام سے پکارتے چلے آئے ہیں۔ تقیسم ہند کے بعد سرکار نے اسے ورناسی کا نام دیا۔ یہ ہر دل عزیز شہر ہے۔ پیار سے لوگوں نے کئی نام رکھے اور نفرت میں کئی بدلے۔ الہ آباد کے مقام پر گنگا اور جمنا بغلگیر ہوکر بنارس کی طرف ہو لیتی ہیں، بنارس پہنچ کے گنگا انگڑائی لیتی ہے تو دریا کی ہلالی

Read more

ڈیٹا پرائیویسی کی حدود اور خطرات

شیخوپورہ کے میٹرنٹی ہسپتال میں زچگی کے لمحات کو فلمانا اور پھر متعلقہ خواتین اور ان کے گھر والوں کو بلیک میل کرنے جیسا عمل تمام ذی شعور ہم وطنوں کے لئے دکھ اور افسوس کا باعث بنا۔ زندگی اور موت سے لڑتے انسان کو بھی معافی نہیں ملی تو بچے گا کون۔ یہ اندوہناک احساسات جگانے والا سادہ سا عمل تھا۔ ٹیکنالوجی میں جس رفتار سے جدت آرہی ہے اسی رفتار سے انسان کی پوشیدگی کو لاحق خطرات گہرے

Read more

مصر کا شہید مصر کا غدار

ملک میں پیٹرول کی قلت پیدا کی گئی، خراب معیشت کا تاثر دیا گیا، چھوٹے چھوٹے گروہوں کے ذریعے احتجاج کروایا گیا، عوام میں فوج کی پوزیشن بہتر کرنے کے لئے باقاعدہ کئی مہینے پہلے کوششیں شروع کی گئیں۔ مثلا اگر کہیں کوئی حادثہ ہو جاتا تو قریب ترین فوجی یونٹوں کو ہدایات دی گئیں کہ سول ایڈمنسٹریشن سے بھی پہلے وہاں حاضری لگوائی جائے، تصویر کھنچوائی جائے، ملک کے سرحدی علاقے میں مختلف دھماکے شروع ہو گئے جن کی ذمہ داری انجان قسم کے گرہوں نے لینا شروع کر دی، اپوزیشن کو بیک ڈور تسلیاں دی گئیں، حوصلہ افزائی کی گئی، اٹھارہ جون کو ایک خفیہ خط کے ذریعے کور کمانڈروں کو کسی بھی ایمرجنسی کے لئے تیار رہنے کا کہا گیا، فوجی جوانوں سے وفاداری کا حلف لیا گیا۔ اور تین جولائی کو صدر مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔

Read more

ہوا باز کمپنیوں کا مقابلہ اور مسافروں کی بازی

ریڑھی پے پاپ کارن بیچنے والے فیاض کے ذہن میں ہوائی جہاز بنانے کا دھیان آتا ہے، بغیر کسی جمع تفریق اور کلیے کے وہ ہزار فٹ کی بلندی تک اڑنے والا طیارہ بنا ڈالتا ہے۔ یہ خیال راقم کے ذہن میں بھی کئی دفعہ آیا لیکن پھر سوچا کہ یہ اتنا سادہ کام نہیں فزکس، ریاضی اور کمپیوٹر سمیت کتنے علوم ملتے ہیں تو جہاز اڑتا ہے۔ اور ایسا جہاز بنانے کا فائدہ نہیں جو سو سال پہلے والے

Read more

ڈاکٹر سعید اختر سے مٹھی ہسپتال تک: احتسابی دہشت گردی

راقم جس وقت یہ تحریر لکھ رہا ہے دنیا کی فضا میں چودہ ہزار جہاز اڑ رہے ہیں جن میں لگ بھگ پندرہ لاکھ لوگ سفر کر رہے ہیں۔ ابھے نندن کو اپنے گھر پہنچے تین پہر بیت چکے ہیں۔ بارڈر کے دونوں طرف ٹی وی کی سکرینوں پے بیٹھے توپچی بھی نڈھال ہیں مگر خوش ہیں کہ ہفتہ اچھا لگ گیا ہے۔ کئی ایک تو سوچ رہے ہیں کہ ”رل تے گئے اں پر چس بڑی آئی اے“۔ ہندوستان

Read more

گھریلو مکھیوں سے اک گزارش

گھریلو مکھی کو چائے سے عشق ہے۔ آپ کی شکل کتنی ہی ڈراؤنی کیوں نا ہو، بھلے آنکھوں میں خون اترا ہو، پیشانی پے بل پڑے ہوں، مونچھیں پھڑک رہی ہوں، آپ گرج رہے ہوں، برس رہے ہوں، اگر آپ کے سامنے چائے کا کپ ہے اور اس علاقے میں کسی ایک بھی مکھی کو اس کی مخبری ہو گئی تو آپ کے پاس دو ہی راستے بچتے ہیں۔ یا تو گرما گرم چائے غٹا غٹ پی جائیں یا پھر مکھیاں اڑاتے رہیں۔

نارمل حالات میں انسان مکھی اڑانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ بس پھر انسان چھوٹی سی مخلوق کی حب مفرط سے بے خبر لمحے بھر کے لئے چْوک جاتے ہیں اور چائے کی پیالی میں محبت کی ایک اور داستان ڈوب جاتی ہے۔ لیکن وہ چائے کی ایک پیالی کو اپنا جاتی ہے۔

دوستو اس دنیا میں کچھ انسان بھی ایسے ہیں جو چائے کی پیالی پے مکھی سے بھی زیادہ فدا ہیں۔ چائے نہ ملے تو انہیں سر میں درد ہوتا ہے، متلی آنے لگتی ہے، نقاہت ہونے لگتی ہے، ایک عجیب بے چینی لاحق ہو جاتی ہے۔ ان کی ایک کثیر تعداد مملکت خدا داد کے سرکاری دفاتر میں پائی جاتی ہے۔ بلکہ یہی ہیں وہ عشاق جو چائے کی پیالی میں اوندھے منہ تیرتے ہوئے رقیب کی لاش کو داہنے ہاتھ کی چھوٹی انگشت سے اس طرح نکالتے ہیں کہ بالائی کی تہہ بھی ٹوٹنے نہیں پاتی۔ یہ نابغے اپنی اپنی مسندوں پے حسب صلاحیت سرکاری امور کی بجائے صبح سے شام تک مکھیاں مارتے ہیں تاکہ چائے کی چند پیالیاں بلاشرکت مگس نوش فرمائی جاسکیں۔ گھریلو مکھیوں میں سرکاری انسانوں کی طرح سستی، ڈھٹائی، مکاری، فنکاری اور بے زاری باتم موجود ہیں۔

Read more

حامد خان کا انکشاف

استاد محترم حامد خان کا ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے۔ ٹھیک گیارہ سال پہلے راقم نے پنجاب یونیورسٹی لا کالج کے ایل ایل ایم پروگرام میں داخلہ لیا۔ اس وقت یہ پاکستان کا واحد تعلیمی ادارہ تھا جہاں پر ملک کے مایہ ناز وکلا اور قانون دان پڑھاتے تھے۔ ان ناموں میں حامد خان، خالد رانجھا، انعام الحق، جسٹس محمد عارف، جسٹس اللہ نواز، ابوالحسن نجمی سرفہرست ہیں۔ ان دنوں وکلا تحریک اپنے عروج پر

Read more

ہوائی خوشی اور دکھوں کا سفینہ

انگلینڈ کی جھنڈا بردار برٹش ائر ویز اگلے سال کے وسط میں اسلام آباد سے لندن کے لئے ہفتہ وار تین پروازوں کا آغاز کر رہی ہے۔ ڈریم لائنر بوئنگ 787 کو اس مقصد کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ ابتدائی طور پے ریٹرن ٹکٹ تقریباً 632 ڈالر میں دستیاب ہو گی۔ انگلستان جانے والے احباب کے لئے یہ ایک بہت اچھی خبر ہے۔ دو ملکوں کے درمیان سستی معیاری اور متبادل ڈائریکٹ فلائٹ ممکن ہو سکے گی۔

خواتین و حضرات اس وقت لاہور سے پی آئی اے کی ہفتہ وار تین پروازیں ہیں جو بوئنگ 777 استعمال کرتے ہوئے لندن جاتی ہیں۔ اگر چار مہینے بعد کی ریٹرن ٹکٹ کی قیمت دیکھیں تو 1000 ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔ یہ پی آئی اے کے چند منافع بخش روٹس میں سے ایک ہے۔

Read more

لال بھکاری معیشت کے اصول

عزیز ہم وطنو بوراکئے ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جس کا سائز ڈی ایچ اے کے ایک سیکٹر سے بھی کم ہے اور غیر ملکی سیاحوں کی تعداد بارہ لاکھ سالانہ ہے۔ اس کے برعکس ورلڈ اکانامک فورم کی سیاحت کے بارے میں رپورٹ برائے 2017 کے مطابق تقریباً نو لاکھ مربع کلو میٹر پے پھیلے پاکستان میں ایک سال میں کل ملا کر نو لاکھ پینسٹھ ہزار سیاح آئے۔ بقول برٹش فارن ٹریول ایڈوائزری کے ان میں سے بھی دو لاکھ ستر ہزار برطانوی شہری ہیں جن میں اکثریت ممکنہ طور تارکین وطن کی ہو سکتی ہے۔

آج دوپہر میں ناچیز فلپائن کے محکمہ سیاحت کے منیلا ہیڈکواٹر میں بیٹھا تک رہا تھا کہ چودہ دسمبر 2018 تک فلپائن میں ستر لاکھ کے قریب غیر ملکی سیاح آ چکے ہیں جن میں چار ہزار کے قریب پاکستانی بھی ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی پاکستانی مل جائے تو ضرور پوچھیں۔ نہ ان کی پولیس ہم سے اچھی ہے، نہ سفارت خانے بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ کرپشن وہاں بھی ہے، جرنیل ان کے بھی گوڈوں اور گٹوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اور نا ہی کوئی کے ٹو اور راکی پوشی وہاں سر نکالے کھڑیں ہیں، نا کشمیر جیسی وادیاں ہیں، نا نلتر جیسی جھیلیں ہیں، نا تھر جیسا صحرا ہے، نا سوات جیسا حسن ہے، نا کیلاش جیسے لوگ ہیں، نا دیوسائی جیسا میدان ہے، نا ٹھٹھ جیسا قبرستان ہے، نا ناران ہے، نا گلگست بلتستان ہے، نا صدیوں پرانی ہڑپہ اور موہنجو دڑو کی تہذیبیں ہیں۔

Read more

سلطنت شغلیہ اور ماچو مین

  آج سے تقریباً پانچ سال پہلے ایک لاہوری لڑکے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں وہ عوام سے اپیل کر رہا تھا کہ اگر پولیس والے ہمیں ماریں گے تو ہم انقلاب کیسے لائیں گے۔ یہ ایک لڑکے کی بات نہیں۔ یہ ایک طبقے کی بات تھی۔ ایک پڑھا لکھا طبقہ جو اپنے ملک کو بیرونی دنیا کی طرح ترقی کرتے ہوئے دیکھنا چاہتا تھا۔ جو ایک مثبت تبدیلی کے لئے پاؤں مار رہا تھا۔ بڑا عجیب حادثہ

Read more

بغیر پرچی کے تقریر مت کرو بھائی!

جارج واشنگٹن اور ابراہم لنکن کے بعد فرینکلن ڈی روزویلٹ امریکہ کے عظیم ترین صدر گردانے جاتے ہیں۔ روز ویلٹ نے جب اقتدار سنبھالا تو معاشی بدحالی کے باعث ملک میں سوگ کا سا سماں تھا۔ ہزاروں لوگ فاقوں سے مر چکے تھے۔ بھوک، پیاس، ننگ اور افلاس کا دور دورہ تھا۔ لیکن جب تیرہ سال بعد روزویلٹ کا اقتدار ختم ہوا تو امریکہ سپر پاور بن چکا تھا۔

روز ویلٹ نے لوگوں میں امید پیدا کی۔ حالات سے لڑنے کا حوصلہ دیا۔ اپنی پہلی تقریر میں ہی کہہ دیا کہ امریکیوں کو اگر کسی چیز سے ڈرنا ہے تو وہ صرف ڈر ہے، باقی کچھ نہیں۔ روز ویلٹ ریڈیو استعمال کرنے والا دنیا کا پہلا سیاست دان ہے۔ رات کے وقت قوم سے ریڈیو پے گفتگو کا ایسا سلسلہ شروع کیا وہ ہر امریکی کی روزمرہ کی اور ذاتی زندگی کا حصہ بن گیا۔ لہجہ ایسا تھا کہ پتھر دل بھی پگھلا دیتا، دلیلیں اتنی مضبوط اور عام فہم تھیں کہ عام آدمی سے لے کر مدبروں کو بھی قائل کر لیتی۔ بے لوث پن تھا، شجاعت تھی، ادراک تھا، دوراندیشی تھی۔ دوسری جنگ عظیم آئی تو اس نے کہا ہم نے نہیں لڑنا، چورانوے فیصد امریکیوں نے سر تسلیم خم کر دیے۔

Read more

فیس بک ہمارے بارے میں کیا کچھ جانتی ہے؟

چار ہفتے پہلے فیس بک کی طرف سے کمیونٹی کے معیارات کے حوالے سے ایک سیمینار میں شرکت کا دعوت نامہ ملا۔ بقول مختار مسعود صاحب، ”جب خواہش قلبی اور فرائض منصبی کی حدیں مل جائیں تو خوش بختی جنم لیتی ہے۔ “ وقت طے تھا، مقام بھی آگیا۔ ہم نے پہنچنے میں عجلت کا مظاہرہ کیا۔ جھٹ میں رجسٹریشن کنفرم ہوئی پٹ میں ہم فیس بک کے مرکزی دفتر کی لابی میں تھے۔ ساٹھ ممالک اور اکتیس کمپنیوں سے

Read more

الہ آباد اب ہم میں نہیں رہا!

جمنا حجم کی بڑی ہے تو گنگا سبک رفتار۔ گنگا ہندو مذہب کا مقدس ترین دریا ہے۔ ملک بھر کے طو ل وعرض میں گنگا جل کو مذہبی رسومات میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ہر بارہ برس بعد کرہ ارض پر انسانی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع کمبھ کا میلہ آلہ آباد میں ان دو دریاؤں کے سنگم پر ہوتا ہے۔ ہندوستان کے آزاد خیال سیکولر بانی وزیراعظم جواہر لال نہرو کی خواہش تھی کہ ان کی ارتھی کی راکھ اس دریا میں بہائی جائے۔

سن 1583 کی ایک خوشگوار شام بادشاہ اکبر کوہ ہمالیہ سے بچھڑی دو دوشیزاؤں کے سنگم پہ پہنچا تو کشش اتصال نے مزید پہل قدمی سے روک دیا۔ پورے چار مہینے گزارے اور موجودہ شہر کی بنیاد رکھی اور اس کا نام پریاگ سے تبدیل کر کے الہ آباد رکھ دیا۔ اس شہر نے تقسیم ہند کے بعد ملک کو سات وزراء اعظم دیے۔ اسی مناسبت سے اسے سٹی آف پرائم منسٹرز بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بڑا صاحب اثر شہر تھا۔ غلام ہندوستان میں آزادی کی تحاریک کے بنیادی ڈھانچے اور منشور اسی شہر میں تیار ہوئے۔ پاکستانی لوگ اسے خطبہ الہ آباد کی نسبت سے جانتے ہیں جس میں شاعر مشرق نے ہندوستان میں آزاز مسلم ریاست کا تصور پیش کیا۔

Read more

آسیہ بی بی اور مکافات عمل

یہ شہر سحر زدہ ہے صدا کسی کی نہیں یہاں خود اپنے لئے بھی دعا کسی کی نہیں (فراز) اتنی جلدی مکافات عمل۔ وقت کتنی تیز چل رہا ہے۔ انسان بھلے جتنا بھی طاقتور ہو جائے یاداشت کی حدود اور اعمال کے دائروں سے باہر نہیں نکل سکتا۔ نمرود ہو یا فرعون، یزید ہو یا حجاج بن یوسف سب آج بھی اپنی اپنی کہانی کے قیدی ہیں۔ صدیاں بیت گئیں، زمانے بدل گئے۔ موت بھی ان کے دامن پر لگے

Read more

عمران خان اور پنجاب یونیورسٹی کے غنڈے

اگر آپ نے سنا ہے کہ پاکستان کو زیادہ نقصان ان پڑھوں نے نہیں بلکہ پڑھے لکھے لوگوں نے پہنچایا ہے تو اس سے بہتر اس کی کوئی اور مثال کیا ہو گی۔ یہ جان لینا چاہیے کہ ہمارے تعلیمی ادارے اگر اسی طرح چلتے رہے تو یہ ملک بھی اسی طرح چلتا رہے گا۔ تبدیلی کا آغاز تعلیمی اداروں سے ہوگا۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے چند نادان پرندے نہیں بلکہ اس کی جڑیں اکھاڑ پھینکنی ہوں گی۔ وہ جڑیں جو نام نہاد سیاسی پروفیسروں کے حلق سے اتر کر ان کے دل و دماغ میں پیوست ہیں۔

اس وقت ان سے نمٹنے کے لئے عمران خان سے بہتر کوئی بندہ نہیں، کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جو ان سے پھینٹی کھا کر وزیر اعظم بنا ہے۔ ورنہ ہمیشہ پھینٹی لگانے والے ہی وزیر مشیر بنتے رہے ہیں۔ ہارورڈ سکول آف انجینرنگ کے ماہرین کی طرح شاید ابھی ہم رات کی تاریکی میں تو نہ دیکھ پائیں لیکن ہمیں دن کے اجالے میں دیکھنے کے قابل ضرور ہو جانا چاہیے۔

Read more

پٹواری، یوتھیے اور امریکی

حادثاتی طور پر امریکہ کے صدر بننے والے ہیری ٹرو مین دنیا کی تاریخ کے سب سے بڑے حادثے کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔ اس سے مشکل فیصلہ ابھی تک کسی بنی نوع انسان نے نہیں کیا۔ پلک جھپکتے ہی ڈیڑھ لاکھ لوگ بخارات بن کر ہوا میں گھل گئے۔ چیخ تک نہیں نکلی ، خاک تک نہیں بچی۔ عمارتیں کھنڈر بن گئیں، لوہا پگھل کر بہنے لگا۔ جاپان اپنا دفاع نہ کر سکا۔ جنگ عظیم دوم کے آغاز

Read more

چالیس برس پرانا ایک ہوائی حادثہ اور ہماری ڈنگ ٹپاؤ پالیسیاں

ستائیس مارچ 1977 کو پین امریکن ائرلائن (Pan American) اور کے ایل ایم ائر   (KLM)کے بوئنگ طیارے اپنے اپنے ملکوں سے اڑے ۔ منزل کینری آئی لینڈ تھی۔ لیکن سیکورٹی صورتحال کے باعث دونوں پروازوں کو قریب واقع ٹینی رایف ائر پورٹ پر اترنا پڑا۔ اس چھوٹے سے ائرپورٹ پر ہمارے تربت ائرپورٹ کی طرح کبھی کبھار جہاز اترا کرتے تھے۔ لیکن کینری ائرپورٹ کی بندش کے باعث آج پانچ جمبو طیارے ٹینی رائف ائر فیلڈ کی پارکنگ میں تھے۔ 

Read more

ملائشیا میں پاکستان کا چہرہ دیکھا

خط استوا پر واقع ملائشیا ایک مسلم اکثریتی آبادی کا ملک ہے۔ رقبے میں بلوچستان اور نفوس میں پختونخواہ سے بھی کم ہے لیکن جی ڈی پی پورے پاکستان سے بھی زیادہ ہے۔ مسلمان آبادی کی اسی فیصد عورتیں حجاب کرتی ہیں اور نوے فیصد نوکری، کاروبار یا کھیتی باڑی کرتی ہیں۔ سیاحت ملائشیا کی معشیت کا تیسرا بڑا ستون ہے۔ اس حوالے سے دنیا میں اسکا نواں نمبر ہے۔ یہ ملک اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ

Read more

پنجابی کا انتم سنسکار

اکہتر برس بیت چکے ہیں، لیکن لاہور سکھوں کے دلوں میں کسی محبوب خیال کی طرح تازہ ہے۔ پنجابیوں سے چھین کر انگریز نے اس دھرتی کے دو ٹکڑےکیے، ایک مسلمانوں کی اور دوسرا ہندوں کی جھولی میں ڈال دیا۔ پنجاب مذہبی شدت پسندی کی سرحدوں سے دور آباد ایک ثقافت تھی۔ یہ وارث شاہ کے خیال میں لپٹی تحریر تھی، یہ خواجہ فرید کی سوچ کا نخلستان تھی، یہ سلطان باہو کے لبوں پے آئی کافی تھی، یہ بلھے

Read more

ہوش کے ناخن نہ لیے تو مسئلہ کشمیر ایک برے حل کے قریب ہے

اگر ٹوئٹر میدان جنگ ہے تو کوئی ملک جنگ نہیں ہارنے والا۔ دونوں افواج جنگ جیت جائیں گی۔ ایک سو چالیس حروف میں دنیا کے بہترین میزائل داغے جائیں گے۔ یہ حدود و قیود سے ماورا ہوں گے۔ نہ کوئی خون بہے گا، نہ کوئی طیارہ اڑے گا۔ سہاگ سلامت رہیں گے۔ سرحدوں کے پار مائیں اپنے سینے نہیں پیٹیں گی۔ باپ نڈھال ہو کر لاٹھی کے سہارے سے نہیں چلیں گے۔ یہاں تک بہت اچھا ہے۔ لیکن اگر دو

Read more

کیا خلائی مخلوق کو ہندوستان کی ترقی دیکھ کر کچھ کچھ ہوتا ہے؟

پہلی مرتبہ جب تجسس کے مارے انسان خلا میں گئے اور نیچے دیکھا تو زمین پے ایک ہی علاقے میں پھیلی کئی لکیریں نظر آئیں۔ یوں لگا جیسے قدرت نے سکے والی پنسل سے کچھ بنانا چا ہا تھا۔ یہ دیوار چین کے ٹکڑے تھے۔ یہ آج دنیا کا عجوبہ مانی جاتی ہے۔ اگر انسان اس کے خدوخال کا مطالعہ کرے تو نتائج تعجب کا ایک طویل سلسلہ ہیں۔ آپ حیران ہو جائیں گے کہ آمد مسیح سے سات صدیاں

Read more

منظور پشتین کیوں نامنظور ہے؟

اگر آپ منظور پشتین سے نفرت کرتے ہیں تو یقیناً آپ کو یہ پتہ ہو گا کہ اس کی عمر چوبیس سال سے بھی کم ہے۔ اس نے دو برس پہلے ہی ویٹرنری سائنس میں ڈاکٹری کی ڈگری مکمل کی۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہو گا کہ یہ وزیرستان کے دور افتادہ علاقے میں ایک سکول ماسٹر کے ہاں پیدا ہوا۔ وزیرستان میں پرویز مشرف کے فوجی آپریشن کے نتیجے میں گیارہ سال کا منظور اپنے آئی ڈی پی

Read more

ریاست کا نام و نشان مت مٹائیں

دنیا کی بہترین یونیورسٹیاں انگلینڈ اور امریکہ میں ہیں۔ پچھلے دو سو سال سے دونوں ملکوں نے یکے بعد دیگرے پوری دنیا پر اپنی طاقت اور علم کا سکہ جمایا ہے۔ آپ یقین مانیں یہ یونیورسٹیاں نہیں، عجوبے ہیں۔ امریکہ میں واقع کیلی فورنیا یونیورسٹی ہماری پنجاب یونیورسٹی سے عمر میں صرف چودہ برس بڑی ہے۔ درجن بھر کیمپسز میں اڑھائی لاکھ طلباء پڑھتے ہیں۔ اس سے ملحقہ تحقیقاتی اداروں، لیبارٹریوں، تدریسی ہسپتالوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ اس کا

Read more