مصر کا شہید مصر کا غدار

ملک میں پیٹرول کی قلت پیدا کی گئی، خراب معیشت کا تاثر دیا گیا، چھوٹے چھوٹے گروہوں کے ذریعے احتجاج کروایا گیا، عوام میں فوج کی پوزیشن بہتر کرنے کے لئے باقاعدہ کئی مہینے پہلے کوششیں شروع کی گئیں۔ مثلا اگر کہیں کوئی حادثہ ہو جاتا تو قریب ترین فوجی یونٹوں کو ہدایات دی گئیں کہ سول ایڈمنسٹریشن سے بھی پہلے وہاں حاضری لگوائی جائے، تصویر کھنچوائی جائے، ملک کے سرحدی علاقے میں مختلف دھماکے شروع ہو گئے جن کی ذمہ داری انجان قسم کے گرہوں نے لینا شروع کر دی، اپوزیشن کو بیک ڈور تسلیاں دی گئیں، حوصلہ افزائی کی گئی، اٹھارہ جون کو ایک خفیہ خط کے ذریعے کور کمانڈروں کو کسی بھی ایمرجنسی کے لئے تیار رہنے کا کہا گیا، فوجی جوانوں سے وفاداری کا حلف لیا گیا۔ اور تین جولائی کو صدر مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔

Read more

ہوا باز کمپنیوں کا مقابلہ اور مسافروں کی بازی

ریڑھی پے پاپ کارن بیچنے والے فیاض کے ذہن میں ہوائی جہاز بنانے کا دھیان آتا ہے، بغیر کسی جمع تفریق اور کلیے کے وہ ہزار فٹ کی بلندی تک اڑنے والا طیارہ بنا ڈالتا ہے۔ یہ خیال راقم کے ذہن میں بھی کئی دفعہ آیا لیکن پھر سوچا کہ یہ اتنا سادہ کام نہیں…

Read more

ڈاکٹر سعید اختر سے مٹھی ہسپتال تک: احتسابی دہشت گردی

راقم جس وقت یہ تحریر لکھ رہا ہے دنیا کی فضا میں چودہ ہزار جہاز اڑ رہے ہیں جن میں لگ بھگ پندرہ لاکھ لوگ سفر کر رہے ہیں۔ ابھے نندن کو اپنے گھر پہنچے تین پہر بیت چکے ہیں۔ بارڈر کے دونوں طرف ٹی وی کی سکرینوں پے بیٹھے توپچی بھی نڈھال ہیں مگر…

Read more

گھریلو مکھیوں سے اک گزارش

گھریلو مکھی کو چائے سے عشق ہے۔ آپ کی شکل کتنی ہی ڈراؤنی کیوں نا ہو، بھلے آنکھوں میں خون اترا ہو، پیشانی پے بل پڑے ہوں، مونچھیں پھڑک رہی ہوں، آپ گرج رہے ہوں، برس رہے ہوں، اگر آپ کے سامنے چائے کا کپ ہے اور اس علاقے میں کسی ایک بھی مکھی کو اس کی مخبری ہو گئی تو آپ کے پاس دو ہی راستے بچتے ہیں۔ یا تو گرما گرم چائے غٹا غٹ پی جائیں یا پھر مکھیاں اڑاتے رہیں۔

نارمل حالات میں انسان مکھی اڑانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ بس پھر انسان چھوٹی سی مخلوق کی حب مفرط سے بے خبر لمحے بھر کے لئے چْوک جاتے ہیں اور چائے کی پیالی میں محبت کی ایک اور داستان ڈوب جاتی ہے۔ لیکن وہ چائے کی ایک پیالی کو اپنا جاتی ہے۔

دوستو اس دنیا میں کچھ انسان بھی ایسے ہیں جو چائے کی پیالی پے مکھی سے بھی زیادہ فدا ہیں۔ چائے نہ ملے تو انہیں سر میں درد ہوتا ہے، متلی آنے لگتی ہے، نقاہت ہونے لگتی ہے، ایک عجیب بے چینی لاحق ہو جاتی ہے۔ ان کی ایک کثیر تعداد مملکت خدا داد کے سرکاری دفاتر میں پائی جاتی ہے۔ بلکہ یہی ہیں وہ عشاق جو چائے کی پیالی میں اوندھے منہ تیرتے ہوئے رقیب کی لاش کو داہنے ہاتھ کی چھوٹی انگشت سے اس طرح نکالتے ہیں کہ بالائی کی تہہ بھی ٹوٹنے نہیں پاتی۔ یہ نابغے اپنی اپنی مسندوں پے حسب صلاحیت سرکاری امور کی بجائے صبح سے شام تک مکھیاں مارتے ہیں تاکہ چائے کی چند پیالیاں بلاشرکت مگس نوش فرمائی جاسکیں۔ گھریلو مکھیوں میں سرکاری انسانوں کی طرح سستی، ڈھٹائی، مکاری، فنکاری اور بے زاری باتم موجود ہیں۔

Read more

حامد خان کا انکشاف

استاد محترم حامد خان کا ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے۔ ٹھیک گیارہ سال پہلے راقم نے پنجاب یونیورسٹی لا کالج کے ایل ایل ایم پروگرام میں داخلہ لیا۔ اس وقت یہ پاکستان کا واحد تعلیمی ادارہ تھا جہاں پر ملک کے مایہ ناز وکلا اور قانون دان پڑھاتے تھے۔ ان…

Read more

ہوائی خوشی اور دکھوں کا سفینہ

انگلینڈ کی جھنڈا بردار برٹش ائر ویز اگلے سال کے وسط میں اسلام آباد سے لندن کے لئے ہفتہ وار تین پروازوں کا آغاز کر رہی ہے۔ ڈریم لائنر بوئنگ 787 کو اس مقصد کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ ابتدائی طور پے ریٹرن ٹکٹ تقریباً 632 ڈالر میں دستیاب ہو گی۔ انگلستان جانے والے احباب کے لئے یہ ایک بہت اچھی خبر ہے۔ دو ملکوں کے درمیان سستی معیاری اور متبادل ڈائریکٹ فلائٹ ممکن ہو سکے گی۔

خواتین و حضرات اس وقت لاہور سے پی آئی اے کی ہفتہ وار تین پروازیں ہیں جو بوئنگ 777 استعمال کرتے ہوئے لندن جاتی ہیں۔ اگر چار مہینے بعد کی ریٹرن ٹکٹ کی قیمت دیکھیں تو 1000 ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔ یہ پی آئی اے کے چند منافع بخش روٹس میں سے ایک ہے۔

Read more

لال بھکاری معیشت کے اصول

عزیز ہم وطنو بوراکئے ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جس کا سائز ڈی ایچ اے کے ایک سیکٹر سے بھی کم ہے اور غیر ملکی سیاحوں کی تعداد بارہ لاکھ سالانہ ہے۔ اس کے برعکس ورلڈ اکانامک فورم کی سیاحت کے بارے میں رپورٹ برائے 2017 کے مطابق تقریباً نو لاکھ مربع کلو میٹر پے پھیلے پاکستان میں ایک سال میں کل ملا کر نو لاکھ پینسٹھ ہزار سیاح آئے۔ بقول برٹش فارن ٹریول ایڈوائزری کے ان میں سے بھی دو لاکھ ستر ہزار برطانوی شہری ہیں جن میں اکثریت ممکنہ طور تارکین وطن کی ہو سکتی ہے۔

آج دوپہر میں ناچیز فلپائن کے محکمہ سیاحت کے منیلا ہیڈکواٹر میں بیٹھا تک رہا تھا کہ چودہ دسمبر 2018 تک فلپائن میں ستر لاکھ کے قریب غیر ملکی سیاح آ چکے ہیں جن میں چار ہزار کے قریب پاکستانی بھی ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی پاکستانی مل جائے تو ضرور پوچھیں۔ نہ ان کی پولیس ہم سے اچھی ہے، نہ سفارت خانے بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ کرپشن وہاں بھی ہے، جرنیل ان کے بھی گوڈوں اور گٹوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اور نا ہی کوئی کے ٹو اور راکی پوشی وہاں سر نکالے کھڑیں ہیں، نا کشمیر جیسی وادیاں ہیں، نا نلتر جیسی جھیلیں ہیں، نا تھر جیسا صحرا ہے، نا سوات جیسا حسن ہے، نا کیلاش جیسے لوگ ہیں، نا دیوسائی جیسا میدان ہے، نا ٹھٹھ جیسا قبرستان ہے، نا ناران ہے، نا گلگست بلتستان ہے، نا صدیوں پرانی ہڑپہ اور موہنجو دڑو کی تہذیبیں ہیں۔

Read more

سلطنت شغلیہ اور ماچو مین

  آج سے تقریباً پانچ سال پہلے ایک لاہوری لڑکے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں وہ عوام سے اپیل کر رہا تھا کہ اگر پولیس والے ہمیں ماریں گے تو ہم انقلاب کیسے لائیں گے۔ یہ ایک لڑکے کی بات نہیں۔ یہ ایک طبقے کی بات تھی۔ ایک پڑھا لکھا طبقہ جو اپنے…

Read more

بغیر پرچی کے تقریر مت کرو بھائی!

جارج واشنگٹن اور ابراہم لنکن کے بعد فرینکلن ڈی روزویلٹ امریکہ کے عظیم ترین صدر گردانے جاتے ہیں۔ روز ویلٹ نے جب اقتدار سنبھالا تو معاشی بدحالی کے باعث ملک میں سوگ کا سا سماں تھا۔ ہزاروں لوگ فاقوں سے مر چکے تھے۔ بھوک، پیاس، ننگ اور افلاس کا دور دورہ تھا۔ لیکن جب تیرہ سال بعد روزویلٹ کا اقتدار ختم ہوا تو امریکہ سپر پاور بن چکا تھا۔

روز ویلٹ نے لوگوں میں امید پیدا کی۔ حالات سے لڑنے کا حوصلہ دیا۔ اپنی پہلی تقریر میں ہی کہہ دیا کہ امریکیوں کو اگر کسی چیز سے ڈرنا ہے تو وہ صرف ڈر ہے، باقی کچھ نہیں۔ روز ویلٹ ریڈیو استعمال کرنے والا دنیا کا پہلا سیاست دان ہے۔ رات کے وقت قوم سے ریڈیو پے گفتگو کا ایسا سلسلہ شروع کیا وہ ہر امریکی کی روزمرہ کی اور ذاتی زندگی کا حصہ بن گیا۔ لہجہ ایسا تھا کہ پتھر دل بھی پگھلا دیتا، دلیلیں اتنی مضبوط اور عام فہم تھیں کہ عام آدمی سے لے کر مدبروں کو بھی قائل کر لیتی۔ بے لوث پن تھا، شجاعت تھی، ادراک تھا، دوراندیشی تھی۔ دوسری جنگ عظیم آئی تو اس نے کہا ہم نے نہیں لڑنا، چورانوے فیصد امریکیوں نے سر تسلیم خم کر دیے۔

Read more

فیس بک ہمارے بارے میں کیا کچھ جانتی ہے؟

چار ہفتے پہلے فیس بک کی طرف سے کمیونٹی کے معیارات کے حوالے سے ایک سیمینار میں شرکت کا دعوت نامہ ملا۔ بقول مختار مسعود صاحب، ”جب خواہش قلبی اور فرائض منصبی کی حدیں مل جائیں تو خوش بختی جنم لیتی ہے۔ “ وقت طے تھا، مقام بھی آگیا۔ ہم نے پہنچنے میں عجلت کا…

Read more