گھریلو مکھی کو چائے سے عشق ہے۔ آپ کی شکل کتنی ہی ڈراؤنی کیوں نا ہو، بھلے آنکھوں میں خون اترا ہو، پیشانی پے بل پڑے ہوں، مونچھیں پھڑک رہی ہوں، آپ گرج رہے ہوں، برس رہے ہوں، اگر آپ کے سامنے چائے کا کپ ہے اور اس علاقے میں کسی ایک بھی مکھی کو اس کی مخبری ہو گئی تو آپ کے پاس دو ہی راستے بچتے ہیں۔ یا تو گرما گرم چائے غٹا غٹ پی جائیں یا پھر مکھیاں اڑاتے رہیں۔
نارمل حالات میں انسان مکھی اڑانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ بس پھر انسان چھوٹی سی مخلوق کی حب مفرط سے بے خبر لمحے بھر کے لئے چْوک جاتے ہیں اور چائے کی پیالی میں محبت کی ایک اور داستان ڈوب جاتی ہے۔ لیکن وہ چائے کی ایک پیالی کو اپنا جاتی ہے۔
دوستو اس دنیا میں کچھ انسان بھی ایسے ہیں جو چائے کی پیالی پے مکھی سے بھی زیادہ فدا ہیں۔ چائے نہ ملے تو انہیں سر میں درد ہوتا ہے، متلی آنے لگتی ہے، نقاہت ہونے لگتی ہے، ایک عجیب بے چینی لاحق ہو جاتی ہے۔ ان کی ایک کثیر تعداد مملکت خدا داد کے سرکاری دفاتر میں پائی جاتی ہے۔ بلکہ یہی ہیں وہ عشاق جو چائے کی پیالی میں اوندھے منہ تیرتے ہوئے رقیب کی لاش کو داہنے ہاتھ کی چھوٹی انگشت سے اس طرح نکالتے ہیں کہ بالائی کی تہہ بھی ٹوٹنے نہیں پاتی۔ یہ نابغے اپنی اپنی مسندوں پے حسب صلاحیت سرکاری امور کی بجائے صبح سے شام تک مکھیاں مارتے ہیں تاکہ چائے کی چند پیالیاں بلاشرکت مگس نوش فرمائی جاسکیں۔ گھریلو مکھیوں میں سرکاری انسانوں کی طرح سستی، ڈھٹائی، مکاری، فنکاری اور بے زاری باتم موجود ہیں۔
Read more