پاکستان میں خرد افروزی کے معمار: سید علی عباس جلالپوری


تصنیف و تالیف کا رجحان ان کے ذوق مطالعہ کا مرہون منت تھا۔ دسویں جماعت میں پہلا افسانہ”ہمایوں” میں چھپا جسے ادبی مجلے کا اعزازحاصل تھا۔ 1936ء میں جب وہ گورنمنٹ کالج سے بی اے کرچکے تو ان کے افسانے اور مضامین ” ہمایوں” میں چھپنے لگے، بطور طالب علم کچھ عرصے کے لیے شعرو شاعری کا شوق بھی رہا لیکن ان کے استاد پطرس بخاری نے انہیں عملی کام کرنے کی تلقین کی ۔ ادبی دنیا کے مدیر مولانا صلاح الدین نے انہیں علمی کام کرنے کا مشورہ دیا۔ترقی پسند تحریک کے بانی سجاد ظہیر، رشیدہ جہاں، ڈاکٹر تاثیر، فیض احمد فیض جیسی شخصیات افتخار الدین کے گھر اکٹھی ہوتیں تو جلالپوری بھی ان کی محفلوں میں شرکت کرتے۔ سب کی فرمائش پر انہوں نے مارکسزم پر اپنا ہمدردانہ مقالہ بھی پڑھا۔ تحقیق اور مسلسل اقتباس لکھنے اور تصنیف و تالیف کرنے کا کام زندگی مانگتا ہے جس کی وجہ سے ان کی زندگی میں مجلس کے تکلفات کا خاتمہ ہوگیا۔ ان کے اقتباسات پر مبنی 60 نوٹ بکس موجود ہیں جو سینکڑوں کتابوں کا نچوڑہیں۔ ان نوٹس بکس کے 15000 صفحات ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لیونارڈو ڈاونچی کے نوٹس ” تحریری و تصویری صفحات” بھی اتنے ہی ہیں۔
گوجرانوالہ میں رہائش کے دوران انہوں نے اقبال کو فلسفی کی بجائے متکلم ثابت کیا۔ یہ مضمون ” ادبی دنیا” اور ” فنون”میں شائع ہوئے تو اہل قبہ و جبہ کی مخالفت کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ کفر و زندقہ کے فتوے لگے مگر صاحبزادہ فیض الحسن شاہ نے یہ فتوے واپس کرائے اور جلالپوری کے ایک کزن ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ سید حسنات احمد نے ان کی ٹرانسفر24 اگست 1967ء کو سنٹرل ٹریننگ کالج لاہور کروادی۔ ” اقبال کا علم الکلام” جیسی معرکہ آرا تصنیف لاہور میں شائع ہوئی جس پر ان کا مناظرہ بشیر احمد ڈار سے ہوا مگر عارضہ قلب کی وجہ سے ان کا انتقال ہو گیا۔ یہ مناظرہ کتابی صورت میں ترتیب دیا گیا۔ 1972ء میں وہ ریٹائرڈ ہو گئے۔1973ء میں حسین سید،آصف خان، سید ضیغم الحسن باقری اور جلالپوری نے جامعہ پنجاب لاہور میں پنجابی شعبے کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا۔


1978 میں وہ جلالپور واپس تشریف لے گئے۔1984ء تک کائنات اورانسان، خرد نامہ جلالپوری، رسوم اقوام، میرا بچپن اور لڑکپن، پریم کا پنچھی پنکھ پسارے(ناولٹ)، پنجابی محاورے اور سبد گل چیں جیسی نایاب کتابیں مکمل کیں۔ پریم کا پنچھی پنکھ پسارے دوبارہ ایک نوٹ بک میں صاف کرکے لکھا جو ایک ناولٹ ہے۔ یہ ناولٹ جنوری 2011ء میں اُن کی بیٹی نے شائع کرایا تھا۔14 جون 1984ء میں ان پر فالج کا موذی مرض حملہ آور ہوا۔ جہلم اور راولپنڈی کے ہسپتالوں میں زیر علاج رہے مگر محدود وسائل کی بنا پر اس معیار کا علاج نہ ہو سکا ۔ داہنے ہاتھ میں رعشہ ہو گیا تو تصنیف و تالیف سے ناتا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ٹوٹ کیا۔
1986ء میں پاکستان پنجابی ادبی بورڈ لاہور کی جانب سے انہیں ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ان کی دو کتابیں پنجابی ادبی بورڈ نے شائع کی تھیں "وحدت الوجود تے پنجابی شاعری” اور "ساڈے وڈکیاں دی سوجھ”۔ 1989ء میں انہیں تحریک خرد افروزی کے لیے اعلیٰ پائے کی تصانیف تحریر کرنے پر ایوارڈ سے نوازا کیا۔ یہ ایوارڈ وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے دیا تھا۔ دونوں ایوارڈ وصول کرنے کے لیے ان کے بڑے صاحبزادے پرنسپل ” ریٹائرڈ” سید رضا تشریف لے گئے۔ اس سے قبل لاہور میں جب ” مقامات وارث شاہ” منظر عام پر آئی تو انہیں آدم جی پرائز کے لیے نامزدکیا گیا۔ کئی ادبی شخصیات نے انہیں قائل کرنے کی کوشش کی مگر جلالپوری صاحب نے سرمایہ دار نمائندہ سے انعام وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ اپنے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ دنیا میں ایک چیز ایسی ہے جس کے لیے وہ جان بھی دے سکتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ انہیں کوئی دبا نہیں سکتا۔ نہ نظریئے سے، نہ باتوں میں، نہ کسی قسم کے رعب سے، جب سے ہوش سنبھالا ہے وہ باغی ہیں۔

اب بات کرتے ہیں علی عباس جلالپوری کی کتابوں پر ۔۔اور سوچتے ہیں کہ کیوں ہم فکر عباس سے محروم ہیں ۔ان کی کتاب روح عصر 1969 میں شائع ہوئی۔اب تک اس کے پانچ ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔اس کتاب میں انسانی ذہن کے ارتقا، سائنسی طریقہ تحقیق، تاریخی حالات کا جائزہ، مسلسل بدلتی کائنات اور شعور کی ترقی پر بات کی گئی ہے۔ان کی یہ کتان زہن کے ہزاروں دریچوں کو کھول کر نئی پاکیزہ دنیا سے متارف کراتی ہے۔ 1972 میں انہوں نے ایک تحقیقی کتاب لکھی جس کا نام ہے مقامات وارث شاہ اس تحقیقی تصنیف میں وارث شاہ کی ادبی حیثیت، پنجاب کے رسوم و رواج، سماج میں پھیلی کدورتیں اور استحصال پر تاریخی تناظر میں تحقیقی و علمی گفتگو کی گئی ہے ۔

1969 میں ان کی کتاب روایات فلسفہ شائع ہوئی ۔ اس کتاب میں فلسفے کو عام قاری کے لیے آسان ترین انداز میں پیش کیا۔ وجودیت، جلالی مادیت، نوفلاطونیت، موجودیت، تجربت، مثالیت پسندی، ارتقایت، روایات فلسفہ کے اس کتاب کے اہم موضوعات ہیں۔

1972 میں اقبال کا علم کلام نامی کتاب منظر عام پر آئی۔ "ادبی دنیا” میں چھپنے والے مضامین کو کتابی صورت میں مرتب کیا۔ مسلمان معاشرے کے جمود کی بڑی وجہ شخصیت پرستی کو اہم سبب بیان کیا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے ثابت کیا کہ اقبال خود کو فلسفی کہلوانا پسند نہیں کرتے تھے مگر احباب تھے کہ بزور منوانے پر تلے رہتے تھے۔ جلالپوری نے اقبال کے اشعار، افکار، خطوط، خطبات، احیائے العلوم ( غزالی کی تصنیف،) سے دلائل دے کر ثابت کیا کہ اقبال فلسفی نہیں تھے۔اس پر ان پر کفر کا فتویٰ لگاکر طوفان برپاکیا گیا۔لیکن آج تک اس کتاب کا جواب نہیں دیا جاسکا۔
نومبر 1985 میں ان کی کتان ،عام فکری مغالطے،شائع ہوئی ۔
۔یہ کتاب فکر و ادب میں اپنی نوعیت کی اولین کتاب ہے۔ عام فکری مغالطے میں ان کو مغالطے قرار دیا ہے۔

تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔
بے راہ روی کا نام آزادی ہے۔
ماضی کیسا اچھا زمانہ تھا۔
فلسفہ جاں بلب ہے۔
انسانی فطرت ناقابل تغیر ہے۔
وجدان کو عقل پر برتری حاصل ہے۔
دولت مسرت کا باعث ہوتی ہے۔
تصوف مذہب کا جز ہے۔
عشق ایک مرض ہے۔
اخلاقی قدریں ادبی و ابدی ہیں۔
عورت مرد سے کمتر ہے۔
فن برائے فن کار ہے۔
انسان فطرتاً خود غرض ہے۔
ریاست اور مذہب لازم و ملزوم ہیں۔

1969 میں ان کی کتاب مقالات جلالپوری شائع ہوئی۔ جس میں13 مضامین ہیں۔ تین مقالے مرزا اسد اللہ خان غالب کے فکروفن، جمالیات، کلام منقبت کے حوالے سے تحریر کیے ہیں۔ فرائڈ، ژنگ کے نظریات کے حوالے سے بھی مقالے درج ہیں۔ اس کے علاوہ خواجہ فرید کی عشقیہ شاعری، کافکا اور فن و فلسفہ سے متعلق تحقیقی،ً و منطقی انداز میں جامع مقالہ جات درج ہیں۔

ان کی کتاب تاریخ کا نیا موڑ1984ء میں شائع ہوئی۔ پروفیسر ظفر علی خان کی تعیناتی گورنمنٹ انٹر کالج فار بوائزمیں ہوئی تو وہ جلالپور شریف آپ سے ملاقات کے لیے تشریف لے گئے، اتنے دن تک قیام پزیر رہے، کہتے ہیں کہ "وہ علم کا سمندر ہیں اور میں پیاسا” معلوم ہی نہ ہوا کہ تین دن اور تین راتیں کیسے گزر گئیں۔ سید علی عباس جلالپوری نے انہیں کتابوں کے مسودے دکھائے اور پبلشروں کی زیادتیوں کی شکایت کی۔ پروفیسر ظفر علی خان نے پیسے اکٹھے کیے اور ان مسودوں کو کتب کا روپ دے دیا۔ فالج کے مرض کے دوران "تاریخ کا نیا موڑ” چھپ کر ہاتھ میں آئی تو زرد چہرے پر سرخی دوڑ گئی۔ دیر تک کتاب پر ہاتھ پھیرتے رہے جیسے اولاد کو پیار سے سہلایا جاتا ہے۔ اس تصنیف میں انسان کی ابتدا اور بتدریج ترقی کو جامعیت سے بیان کیا گیا ہے کہ کس طرح انسان حالات و حادثات کا جبر توڑتے ہوئے مختلف ادوار سے گزر کر موجودہ سائنس کے دور میں داخل ہوا ہے۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3