لکشمی اور سرسوتی میں عداوت


اس وقت جوش صاحب کے ساتھ میرے اور ان کے مشترکہ دوست حضرت مجاز نے جوش صاحب سے کہا، کہ اگر آپ اسے بند کرنا ہی چاہتے ہیں، تو یہ رسالہ ان کو (یعنی مجاز صاحب ) کو دے دیں، تا کہ وہ اسے چلائیں۔ مجاز کا یہ مطالبہ سن کر جوش صاحب نے جو جواب دیا، وہ مجھے اب تک یاد ہے۔ آپ نے فرمایا ”مجاز تم ایسے نہیں ہو، کہ رسالہ جاری کر کے روپیہ پیدا کرو۔ تمہیں بھی یہ بند کرنا پڑے گا۔ اچھا اگر تم چاہتے ہو، اسے لے لو“۔ گویا، کہ ایک رسالہ کا جاری رکھنا علم و ادب کی خدمت یعنی سرسوتی ( علم کی دیوی ) کی پوجا ہے، اور اس ذریعہ سے روپیہ پیدا کرنا لکشمی ( دولت کی دیوی ) کی پرستش۔ اور جس صورت میں کہ یہ دونوں ایک دوسری کی دشمن ہیں، مجاز جیسا علم و ادب کا پرستار اس رسالہ سے روپیہ کیونکہ پیدا کر سکتا تھا۔

مرحوم مہاراجہ نابھہ بہت بڑے علم دوست تھے۔ آپ دوسری زبانوں کے علاوہ اردو اور ہندی لٹریچر کے عاشق تھے۔ حضرت اکبر الہ آبادی ہندی کے شعراء کے کلام کو مزہ لے کر پڑھا کرتے۔ آپ جب گدی سے علیحدہ کیے گئے، تو گدی سے علیحدہ کیے جانے کے اسباب پر مختلف آراء تھیں۔ بعض لوگوں کا خیال تھا، کہ چونکہ آپ نے اپنے محل کی تمام چھپکلیاں مردا دی تھیں ( چھپکلیاں ایک معصوم مخلوق ہے، جو اپنا پیٹ مکھیوں اور مچھروں سے بھرتی ہے) ان کے مروانے کا اثر ہوا۔ بعض ایک فقیر کی بددعا کا اثر قرار دیتے تھے، جو آپ کے محل کے قریب مجذوب حالت میں ننگا رہا کرتا، اور جسے وہاں سے چلے جانے کو کہا گیا۔ اور بعض اسے مظلوم لوگوں پرکیے گئے مظالم کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

مگر جب مہا راجہ الور بھی گدی سے الگ کیے گئے، تو باتوں باتوں میں ایک علمی شخصیت نے راقم الحروف سے خوب کہا، مہاراجہ نابھہ اور مہاراجہ الور دونوں کے گدی سے الگ کیے جانے کی وجہ ضرور یہ ہے، کہ یہ دونوں ادب نواز، دونوں علم پرست، دونوں سخن شناس، دونوں عالم اور فاضل اور دونوں سرسوتی ( علم کی دیوی) کے پجاری تھے۔ لکشمی (دولت کی دیوی ) یہ برداشت نہ کر سکی، کہ نابھہ اور الور کے خزانہ کی چابیاں سرسوتی کے ان پجاریوں کے قبضہ میں رہتیں۔

مرحوم خواجہ حسن نظامی نے علم و ادب کے اعتبار سے اردو زبان میں ایک نئی راہ قائم کی، اور آپ مذہبی اور روحانی اعتبار سے تعلیم یافتہ حلقوں میں بھی انہتائی عزت و احترام کی نظروں سے دیکھے جاتے۔ آپ کی یہ بلند پوزیشن اس وقت تک قائم رہی، جب تک کہ آپ کے گھر میں لکشمی (دولت کی دیوی ) نے قدم نہ رکھا۔ آپ صرف سرسوتی ( علم کی دیوی ) ہی کے پرستار تھے۔ مگر جب آپ نے ریاستوں کے دورے کر کے نوابوں اور مہاراجوں کے ہاں جانا شروع کیا، اور نوٹوں کی گڈیوں نے آپ کے درویش خانے میں جگہ حاصل کی، تو آپ کی شہرت کو زوال پہنچنا شروع ہوا، اور مولانا محمد علی کی مخالفت کا جو نتیجہ ہوا، اس کا ذکر نہ ہی کرنا بہتر ہے۔

چنانچہ ایک اہل الرائے کے قول کے مطابق اگر خواجہ حسن نظامی اپنے درویش خانہ میں لکشمی ( دولت کی دیوی ) کو جگہ نہ دیتے، اور والیان ریاست اور انگریز حکام کی کوٹھیوں سے دور رہتے ہوئے اپنی دلچسپیوں کو صرف سرسوتی ( علم کی دیوی ) کی دربار داری تک ہی محدود رکھتے، تو آپ کے مرتبہ کا شاید کوئی مصنف مقابلہ کر سکتا۔

روپیہ اور علم دونوں کی متضاد پوزیش کے متعلق ہندی زبان کے ایک شاعر اودھو نے خوب کہا ہے :۔
اودھو کو من کی گت نیاری
مورکھ مورکھ راج کرت ہیں
پنڈت پھرت بھکاری

اگر حق و صداقت کا اظہار دلوں میں طہارت پیدا کرنے کا باعث ہوا کرتا ہے، تو راقم الحروف اس کا ایمانداری کے ساتھ اقرار کرتا ہے، کہ میری پچھلی تمام زندگی میں اچھے مضامین اور اچھے ایڈیٹوریل صرف اس وقت لکھے گئے، جب جیب میں ایک پیسہ نہ تھا، اور تنگدستی و بدحالی تھی۔ اس وقت لکھنے کو کبھی جی نہ چاہا، جب میز کے خانہ میں روپے ہوتے۔ اور روپیہ کی موجودگی میں جب ذہن کو مجبور کرنے پر بھی طبیعت لکھنے پر آمادہ نہ ہوئی، تو رسول اللہ کا وہ قول یاد آجاتا، جس میں آپ نے خدا سے دعا کی تھی، کہ ”یا اللہ مجھے غریبوں کی صف میں رکھنا، اور مرنے کے بعد بھی مجھے غریبوں میں جگہ دینا“۔

حضرت مسیح کا یہ قول جلی حروف میں لکھ کر اپنے سامنے رکھنا چاہیے، جس میں آپ نے فرمایا ہے، ” سوئی کے ناکہ میں سے اونٹ کا گزرنا ممکن ہے، مگر ایک سرمایہ دار کا بہشت میں داخل ہونا ممکن نہیں“۔ کیونکہ لکشمی نہ صرف سرسوتی کی دشمن ہے، بلکہ یہ انسان کی نجات کے راستہ میں بھی بہت بڑی رکلوٹ کا باعث ہوا کرتی ہے۔ یہ درست ہے کہ فاقہ اور تنگدستی ان میں گراوٹ پیدا کرتی ہے، اور کم لوگ ایسے ہوا کرتے ہیں، جو مالی مشکلات کی صورت میں بھی اپنے کریکٹر اور کردار کو بلند رکھ سکتے ہیں۔ مگر روپیہ، دولت اور سرمایہ داری کا جمع ہونا، تو انسان کو نہ دین کا رکھتا ہے، نہ دنیا کا۔ اس کا وجود انسانیت کی ہلاکت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ سرسوتی کے پجاریوں کے لئے مناسب یہ ہے، کہ وہ لکشمی سے کوئی تعلق نہ رکھتے ہوئے اس سے دور رہیں۔
کتاب سیف و قلم سے اقتباس۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

دیوان سنگھ مفتوں

سردار دیوان سنگھ مفتوں، ایڈیٹر ہفتہ وار ”ریاست“ دہلی۔ کسی زمانے میں راجاؤں، مہاراجوں اور نوابوں کا دشمن، ان کے راز فاش کرنے والا مداری، صحافت میں ایک نئے خام مگر بہت زور دار انداز تحریر کا مالک، دوستوں کا دوست بلکہ خادم اور دشمنوں کا ظالم ترین دشمن۔ سعادت حسن منٹو کے الفاظ۔

dewan-singh-maftoon has 26 posts and counting.See all posts by dewan-singh-maftoon