سکھ دوشیزہ، ٹیوشن والے ماسٹر جی اور عشق کا سبق

چند برس ہوئے نئی دہلی کے سکھ انجنئیر کی لڑکی کو ایک ماسٹر جی گھر پر پڑھاتے تھے۔ ماسٹر جی لڑکی کو ایک الگ کمرے میں سبق دیتے، تاکہ لڑکی کی تعلیم میں کوئی مخل نہ ہو۔ ماسٹر جی جوان تھے، اور لڑکی بہت خوبصورت تھی۔ ماسٹر جی کی اس ٹیوشن کے ساتھ ساتھ عشق کے دیوتا نے بھی اپنا سبق دنیا شروع کر دیا۔ دونوں کے درمیان زندگی ہمیشہ مل کر گزارنے کا عہد ہوا۔ ایک روز صبح لڑکی

Read more

شریف لڑکیاں طوائف کیوں بنتی ہیں؟

آپ کسی بھی طوائف کے پچھلے حالات کی تحقیقات کریں، تو یہ ثابت ہو گا، کہ ایک دو یا تین پشت پہلے یہ اچھے خاندان سے تعلق رکھتی تھی، اور اگر اس نے شادی کر لی، تو دو تین یا چار پشت کے بعد لوگ اس کی طوائفیت کو بھول کیے۔ ان طوائفوں کی انسٹی ٹیوشن یا نسل میں اضافہ ہوتا ہے، تو اس صورت میں، کہ شرفاء کی لڑکیاں بری صحبت کے باعث گھروں سے نکل جاتی ہیں۔ گھروں

Read more

بے نظیر اور نواز شریف کے پیر کاکی تاڑ کون تھے؟

نوشابہ سے ملاقات ہوئے ابھی چند ہی گزرے تھے کہ ایسوسی ایٹڈ پریس ٹیلی ویثرن، امریکہ نے وہ آئیڈیا منظور کر لیا جو میں نے بازار حسن پر ایک دستاویزی فلم بنانے کے سلسلے میں کئی ہفتے پہلے ای میل کیا تھا۔ میں ان دونوں ایسوسی ایٹڈ پریس آف امریکہ، جو دنیا کا ایک بہت معتبر خبررساں ہے، کا پاکستان میں نمائندہ تھا اور میری جیوریسڈکشن پنجاب تھی۔ ایسوسی اینڈ پریس ٹیلی وثیرن اسی امریکی نیوز ایجنسی کا ایک ذیلی

Read more

میجر کے ہاتھوں دھڑن تختہ

پچاسویں دہائی کے وسط کی بات ہے، پاکستان سیٹو کے معاہدے میں شامل ہو گیا تھا۔ سیٹو کی کونسل کے ایک اجلاس میں تمام ممالک کے وزرائے خارجہ شریک تھے جنہیں اپنے ملک کی نمائندگی کرنا تھی۔ اجلاس کراچی میں اسمبلی کے ہال میں ہونا تھا، میزبان ملک کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے حمید الحق چوہدری کو صدارت کرنا تھی۔ پاکستان وفد کے سربراہ وزیر خزانہ سید امجد علی تھے۔ ان کی مدد وزارت خارجہ اور بڑی فوج، اور

Read more

کپتان صاحب کی کیبرے میں نائٹ ٹریننگ

برٹش وِنگ کی دھیمی دھیمی بے آواز سی فضا سے نکلِ کرانڈین وِنگ کی رنگ رنگیلی دنیا میں پہنچا، تو یوں محسوس ہوا جیسے انار کلی میں آنکلا ہوں۔ وہی انار کلی کے رنگ و صَوت اور وہی گہما گہمی، لیکن عجیب بات تھی کہ عین اس وقت کوئی دیسی افسر نظر نہ آر ہا تھا ؛ البتّہ ایک قریب کے خیمے سے قہقہے بلند ہو رہے تھے جو لاریب افسرانہ تھے۔

چِق اٹھا کر داخل ہوا، تو سبھی کو یکجا پایا۔ مخثار ’قاضی، اصغر، بتالیہ، بھا ٹیہ، کیانی، امیر، سوامی، نینے، نادر اور کئی دوسرے جِن سے ابھی تعارف نہیں تھا، ہماری آمد کر حسب ِ معمول ایک ایسے نعرے سے منایا گیا جس کا اثر شائبے کے دیگر خیموں میں ایک ہلکے سے زلزلے کے طور پر محسوس کیا گیا۔ پوچھا کہ فرزندانِ ہند تمبو میں بیٹھے کیا سازش کر رہے ہیں، تو بتایا گیا کہ کونسل آف ایکشن کا جلاس ہے۔

Read more

آتش۔ جوانی اور اللہ کی کہانی

یہ اُس دور کی بات ہے جب آتشؔ یقینا مرچکاتھا مگر آتش جوان تھا۔ جب جسم میں ہر وقت ہلکی ہلکی اینٹھن سی رہتی ہے۔ گالوں میں سرخی ایسے دوڑتی ہے جیسے پیوندکاری کر نے کے بعد لگائے جانے والے ہرپودے پرسرخ اور سفید گلاب، شباب کی مانند نمودارہوتے ہیں۔ ماتھے پر رنگت سے ماورا، نورکی لہریں رقص کرتی ہیں اور نظر نہیں ٹکتی اور غور سے دیکھنے پرآنکھوں کو سکون ملتا ہے، دل سے دُعا نکلتی ہے ”اللہ جوانی کو بے داغ رکھے۔ “ مگر وہ جوانی ہی کیا جس پر داغ نہ ہو۔

Read more

کپتان صاحب اور قربانی کی نانی کا معرکہ

سیالکوٹ کی زندگی میں محاذ جنگ کی تکالیف نہ تھیں لیکن جنگ کے تکلفات تمام تر موجود تھے۔ مثلاً بغیر وردی کے گھر سے بار نہ نکل سکتے تھے۔ کلب جاؤ تو وردی میں اور بازار جاؤ تو وردی۔ سفید شریفانہ کپڑے پہن کر باہر نکلنے کو دل ترس گیا تھا۔ چنانچہ کئی مرتبہ رات کو گھر کی تنہائی میں سوٹ پہنا، آئینے میں دیکھا، دوحسرت کی آہیں بھریں۔ سوٹ اتار کر صندوق میں بند کر دیا اور منہ بسور کر پھر خاکی وردی پہن لی۔ گویا اپنی کپتانی کا اشتہار زیب تن کر لیا۔

زندگی کی بے شمار چھوٹی چھوٹی خوشیاں صرف گمنامی میں ہی میسر آ سکتی ہیں۔ مثلاً چوک میں کھڑے ہو کر سلاجیت بیچنے والے کا لیکچر سننا اور علی الا علان نسخہ بنوانا، بندریا کا ناچ دیکھنا اور کھلکھلا کر ہنسنا، استاد گام کی دکان سے سربازار کباب کھانا اور اپنی آسودگی کی تصدیق ایک برہنہ ڈکار سے کرنا، سکینڈل پوائنٹ پر کھڑے ہو کر ڈنکے کی چوٹ دل کی دھڑکن سنا نا اور اور گالی کھا کر بے مزا نہ ہونا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کوچہء دلدار کے چکر کاٹنا اور شکل و صورت سے یوں دکھائی دینا جیسے خدمت خلق کے لیے مارے پھر رہے ہوں۔

Read more

روٹی تو کس طور ۔ ۔ ۔

” منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید! “ میں وہ بدقسمت انسان ہوں جس کی امید مرنے پر منحصر ہے، اپنے مرنے پر نہیں، دوسروں کے مرنے پر۔ ہر رات سونے سے پہلے دعا مانگتا ہوں۔ یا رب العالمین! فلاں شاعر، محب وطن اب تو کافی بوڑھا ہو گیا، پچھلے دس برس سے قبر میں پاؤں لٹکا ئے بیٹھا ہے، اب تو اسے اٹھا لے، اب تو بیچارے کے نہ ہاتھوں میں جنبش ہے نہ آنکھوں میں دم! اسے جنت میں جگہ دے یا جہنم میں، کم از کم مجھے اس کے نام پر چند ے کا ایک نیا فنڈ کھولنے کا موقع دے میں اس کا بت نصب کروں گا، اس کی یاد میں عظیم الشان لائبریری قائم کرنے کے لیے اپیل کروں گا، اس کی پسماندگان کی امداد کے لیے قوم سے خیرات مانگوں گا، پانچ ہزار۔ دس ہزار۔ پندار ہزار۔ اخر کچھ تو قوم کی جیب سے نکلے گا ہی، اے ذوالجلال۔

کل کے اخبار میں پہلی سر خی جو پڑھوں وہ کسی بڑے لیڈر کی موت سے متعلق ہو۔ خدا وندا! میری مالی مشکلات تجھ سے پوشید ہ نہیں، لڑکے کو ولایت بھیجنا ہے، لڑکی کی شادی نزدیک آ رہی ہے، کم از کم پندار ہزار روپیہ چاہیے۔ اگر اس مہینے تین لیڈروں کو قید حیات سے نجات دلانا تیرے لیے چنداں مشکل نہیں۔ اگر یہ کسی طرح ناممکن ہے تو پھر کوئی قحط، سیلاب یا بھونچال ہی بھیج، بنگال کا قحط تو پرانا ہو چکا۔ اب تو کسی نئی آفت کی ضرورت ہے۔ کوئی وبا، کوئی طوفان، پلیگ، ہیضہ، نڈی دل، کوئی مصیبت جس کے نام پر سنگدل سے سنگدل انسان چندہ دینے پر مجبور ہو جائے۔

Read more

مہک کی مہک

میں اس کو خوابوں کی دنیا سے واپس نہیں لانا چاہتاتھا۔ مگراس کے اصرار پر مجھے کہنا پڑا۔ ”زندگی میں کبھی موقع نہیں ملا اس سب کا۔ اور ہوسکتاہے، بے شمار دفعہ کبھی بس سٹاپ پر، کبھی گاڑی میں، گزرتے ہوئے، کئی لوگوں کو دیکھا ہو، مگرکچھ یاد نہیں۔ ٹھیک سے۔ کیونکہ زندگی کے جھمیلوں میں اُلجھ کر، اِدھر اُدھر دیکھنے کا اور سوچنے کا کبھی موقع ہی نہیں ملا۔

وہ تُنک کربولی ”میں دیکھنے کی بات نہیں کررہی۔ محسوس کرنے کی بات کر رہی ہوں۔ بارش میں بھیگی لڑکی، اس کا جسم اور جسم کی خوشبو سے مہکنے والاسماں ! دیکھنے کو توہم روزانہ بہت سے لوگوں کو دیکھتے ہیں، مگردراصل ان ہزاروں میں سے، چند ایک ہماری یادداشت میں کندہ ہوجاتے ہیں۔ ثبت ہوجاتے ہیں۔ زندہ رہ جاتے ہیں۔ ہمیشہ کے لیے۔ ان کی آنکھیں، ناک نقشہ، کوئی بات، کوئی تکرار، سوال یا کوئی جواب، کوئی خوشبو اورجسم کی خاص مہک، ہمیشہ ہمیشہ تک، باقی رہ جاتی ہے، مستقل ! “

Read more

رضیہ نے فلم انڈسٹری میں قدم کیسے جمائے

گول مٹول چہرے، بھرے بھرے جسم، پانچ فٹ دو انچ قد، تیکھے نین نقش، گوری رنگت اور سنہرے بالوں والی رضیہ مجھے ایورنیو سٹوڈیو میں ملی۔ وہ میانوالی سے ادکارہ بننے کے لئے لاہور آئی تھی اور اس شہر خرافات میں اسے قیام پذیر ہوئے اڑھائی ماہ گزر چکے تھے وہ کئی فلم سازوں اور پروڈیو سروں کو ٹیسٹ دے چکی تھی اور سب نے ہی اس کی پرفارمنس کی تعریف کی تھی لیکن ابھی تک اسے کسی فلم میں صف اول کی اداکارہ کے ساتھ ( جیسا کہ اس کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا ) اچھا رول نہیں ملا تھا۔

ماضی کی کامیاب فلموں کی ایک اداکارہ انجمن دوبارہ فلموں میں ان ہو رہی تھی اور رضیہ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے پر تول رہی تھی کیونکہ متعدد پنجابی فلموں کے ایک پروڈیوسر نے اسے اتنہائی قربت کے لمحات میں یقین دلایا تھا کہ وہ کسی طور پر انجمن سے کم نہیں ہے۔ ”جب تمہاری فلم ریلیز ہو گی تو لوگ انجمن کو بھول جائیں گے۔ “ ایک فلم ساز نے اسے کہا۔ لیکن ابھی تک اسے کسی فلم میں سائن نہیں کیا گیا تھا۔ ایک فلم ساز نے ڈرامے میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لئے اسے کیمرے کے سامنے کھڑا کر کے کچھ مناظر فلمائے تھے اور رضیہ کو کہا گیا تھا کہ اب متعلقہ لوگ مل بیٹھ کر فیصلہ کریں گے۔

Read more

تبادلہ آبادی اور جنونیت کا رقص

مہاراجہ نے جب یہ سنا، تو آپ نے اپنے ایک مخبر کو اصل حالات معلوم کرنے کے لئے اس سابق وزیر کے مکان پر بھیجا۔ اس مخبر نے دیکھا، کہ اس مکان میں ہون ہو رہا ہے، اور اسی برس کے ضعیف اور کمزور سابق وزیر اسی ہون کے پاس بیٹھے چنڈی دیوی کا پاٹھ کر رہے ہیں۔ مخبر نے تمام واقعہ مہاراجہ کو بتایا، تو مہاراجہ نے حکم دیا، کہ اس سابق وزیر کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا جائے۔ چنانچہ سپرنٹنڈنٹ پولیس چند پولیس کا نسٹبلوں کے ساتھ رات کو بارہ بجے اس سابق وزیر کے مکان پر گئے، اور وزیر کو گرفتار کر کے بحکم حضور مہاراجہ صاحب جیل کے اندر چھوڑ گئے۔

کیونکہ اس زمانہ میں ریاستوں میں والی ریاست کا حکم ہی قانون ہوا کرتا تھا۔ یہ واقعہ رات کو بارہ بجے ہوا۔ میں صبح جاگا، تو آٹھ بجے کے قریب ایک دوست ملنے آئے، اور انہوں نے بتایا، کہ سابق وزیر صاحب رات بارہ بجے مہاراجہ کو چنڈی کے پاٹھ کے ذریعے مسخر کرنے کے جرم میں جیل بھیج دیے گئے ہیں۔ اس واقعہ کو سن کر میں نے فیصلہ کیا، کہ مجھے اس ریاست میں ملازمت نہ کرنی چاہیے دوپہر کو میں نے مہاراجہ کو ایک خط لکھا، کہ میں یہاں اب ملازمت نہیں کرنا چاہتا، میرا استعفیٰ منظور کر لیا جائے۔

میرے اس خط کے جواب میں مہاراجہ نے اپنا آدمی بھیج کر مجھے سے دریافت کیا، میں کیوں مستعفی ہونا چاہتا ہوں اس آدمی کو میں نے جواب دیا، کہ جس ریاست میں یہ یقین نہ ہو، کہ رات کو سونے کے بعد اگلی صبح کے سورج کے شعاعیں یہ اپنے گھر میں دیکھ سکتا ہے، اور یہ شعاعیں شاید اسے جیل کی دیواروں کے اندر ہی دیکھنی ہوں گی، میں ایسی ریاست میں ملازمت نہیں کر سکتا۔ مجھے اس ریاست اور اس ریاست کے حکمران کی خدمت سے سبکدوش کر دیا جائے۔

Read more

عورت میں بچے کی قدرتی خواہش

ہندو متھیالوجی کے مطابق اس شخص کی نجات ممکن ہی نہیں، جس کے ہاں اولاد نہ ہو۔ یعنی ایک ہندو کی نجات تب ہی ممکن ہے، اگر اس کے مرنے کے بعد اس کی اولاد اس کی روح کو ثواب پہنچانے کے لئے خیرات کرے، جسے شرادھ کہا جاتا ہے۔ اور ہندوؤں کے علاوہ دوسری اقوام میں اولاد کو بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔ کیونکہ عام طور پر یہ یقین کیا جاتا ہے، کہ اولاد جوان ہونے پر اپنے والدین کے لئے ایک آسرا ثابت ہو گی۔

جن عورتوں کے بطن سے اولاد پیدا ہو، وہ بہت مطمئن رہتی ہے، اور جن کے ہاں کوئی اولاد نہ ہو، یعنی یہ بانجھ ہوں، ان کی زندگی کا خوشگوار بسر ہونا ممکن ہی نہیں۔ اولاد سے محروم ہونا ان کے لئے قدم قدم پر تکلیف کا باعث ہوتا ہے۔ کیونکہ اولاد سے محروم عورت نہ صرف خود ہمیشہ مغموم رہتی ہے، بلکہ یہ سوسائٹی میں بھی قابل و قعت قرار نہیں دی جاتی۔ اور عزیز و اقارب کو چھوڑ کر اگر شادی کے بعد دو تین برس عورت کے بطن سے کوئی بچہ پیدا نہ ہو، تو اس عورت کی ساس اپنی بہو کے متعلق تشویش محسوس کرتے ہوئے اس خیال میں مصروف ہو جاتی ہے، اس کے بیٹے کی دوسری شادی ہو، اور اکثر حالتوں میں دوسری شادی کر دی جاتی ہے، جو پہلی بیوی کے لئے ناقابل برداشت مصائب و مشکلات کا باعث ہوتی ہے۔

Read more

دیسی حکیم کے ہاتھ چڑھا ولایتی گاہک

ایک مرتبہ مجھے لندن سے آئے ہوئے میرے ایک دوست جیسر برق اور اس کی بیوی کیتھرین کو شہر کی سیر کرانے کا اتفاق ہوا۔ دونوں مختلف علاقوں میں گھومتے رہے۔ وہ اردو نہیں پڑھ سکتے اس لئے ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز کے بارے میں تفصیلاً سوال کر رہے تھے۔ جب کبھی کسی دیوار پر کوئی اشتہار لکھا ہوا نظر آتا وہ پوچھتا کہ یہ کیا لکھا ہے؟ میں ہر مرتبہ پریشان سے دو چار ہو جاتا کیونکہ اپنے شہر میں رہتے ہوئے جس بات پر میں نے غور نہیں کیا تھا وہ چیز مجھے آج نظر آ رہی تھی۔

سارے شہر میں جگہ جگہ مردانہ و زنانہ امراض میں مبتلا افراد کے لئے دیواروں پر خوشنجر ی پر مبنی اشتہارات لکھے ہوئے تھے۔ ایک ہی دن میں ہم نے سو ڈیڑھ سو ایسے اشتہارات پڑھ ڈالے۔ اس کو بری عادت تھی کہ وہ اردو اخبارات میں شائع اشتہارات کے بارے میں بھی پوچھا کرتا تھا۔ اتفاق سے مردانہ امراض کے علاج اور ”ہر قسم کے عاملوں سے مایوس“ افراد کے لئے کسی نئے عامل کا اشتہار موجود تھا۔ وہ بولا پاکستان میں کالا جادو کرنے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے میں خاموش رہا۔

Read more

حاصل لاحاصل : وہ لمحہ !

ہرانسان اپنی دوزخ ساتھ لے کر پیدا ہوتاہے۔ زندگی گزارنے کے لیے پوری عمر کی ضرورت کبھی بھی نہیں ہوتی۔ ایک لمحہ میں پوری زندگی جینا اور کئی دہائیوں زندہ رہ کر بھی زندگی آشنا نہ ہونا مقدر کی بات ہے۔ بعض اوقات ایک لمحے کی ملاقات عمر بھر کے ساتھ میں بدل جاتی ہے اورعمر بھر کا ساتھ لمحہ بھر کی ملاقات میں گزر جاتاہے۔ عمر بھر کا حاصل کیا ہے؟ صرف ایک لمحہ۔ ! تمھارا، میرا، سب کا ایک لمحہ!

وہ لمحہ جب تم میرے سامنے درمیانی کرسی پر بائیں جانب ہلکا سا جھک کر بیٹھ گئی تھیں، سنہری بال، سنہری آنکھیں، سنہری رنگ، سنہری انگ اور سنہری تم۔ ! مجھے ایسا لگا جیسے گندم کے کھیت میں جوان ہوتی گندم کی بالیاں ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں کے ساتھ لہرا رہی ہوں اور میں چاچے علی احمد کے کھیت کے باہر کھڑا، محبت، لالچ، حرص اور خوف کے ساتھ ان کوایسے دیکھ رہاہوں جیسے اگر چاچے نے میری للچائی ہوئی آنکھوں کو اپنی جوان، خوبصورت فصل کی طرف اٹھتے ہوئے بھی دیکھ لیاتو وہ اُس کوچھونے اور توڑنے کے ارادے سے پہلے ہی میری آنکھیں نکال کر میری ہتھیلی پر اور ہاتھ پاؤں توڑ کر حویلی کے ساتھ پڑے کتے کے آگے ڈال دے گا۔ یہ سوچ کر میں جھرجھری لے کر رہ گیا۔

Read more

دیسی نعرہ تکبیر پر مصری شاہ فاروق کے عربی قہقہے

فلوس۔ بخشیش۔ مافیش۔ وہ مکی کے بھٹبے بیچنے والوں کی صدا : ”رفیق چھلی۔ “ جو وہ لوگ ہمارے پنجابی سپاہیوں کی کشش کے لیے لگاتے اور ہمارے سپاہیوں کی اخو تِ اسلامی کا وہ منظر کہ اپنے مِصری دکانداروں کی ہزاروں ”چھلیاں“ سِربازار بھون کر اپنا پیٹ اور ان کی جیبیں بھر دیتے۔ ہمارے سپاہیوں کی اِس فالتو اخوت کا ایک مظاہرہ کبھی نہ بھولے گا۔

جیسا کہ ایک جگہ پہلے کہا جا چکا ہے، ہندوستانی مسلمان ( یا اب کہنا چاہیے پاکِستانی مسلمان) بہت سادہ ہے۔عرب ملکوں اور وہاں کے لوگوں سے اِسے والہا نہ عشِق ہے اور ہر عرب کے متعلق یہی سمجھتا ہے کہ بعد از نبی بزرگ توئی قِصہ مختصر۔ اسے یہ خوش فہمی بھی ہے کہ عرب بھی ہمیں چچازاد ہی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اکثر عربوں کو اِن رشتہ داروں کے وجود کا ہی علم نہیں ان دِنوں قاہر ہ میں میلا دالبنیؐ کا تہوار بڑی شان سے منایا جاتا تھا۔ خود شاہ ِفاروق تقریبات میں حِصہ لیتے۔ اس سال یوم میلادہیں ہمارے کیمپ کے مسلمان جوانوں نے بھی شرکت کرنا چاہی۔

چونکہ ہمارے سپاہیوں کا مصریوں کے ساتھ اختلاط کا معاملہ تھا، کرنل صاحب نے مجھے خود ساتھ جانے کو کہا کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہونے پائے ؛ چنانچہ میں صوبیدار صاحب اور کوئی پچاس جوان صاف ستھری وردیاں پہنے فوجی لاریوں میں بیٹھ کر جلسہ گاہ میں پہنچے۔ شاہ فاروق کے آنے میں ابھی کچھ وقت تھا کہ صوبیدار صاحب نے میرے کان میں کہا :

” اگراجازت دیں تو شاہ فاروق کے آنے پر ہم نعرہء تکبیر بلند کریں؟ “
میں نے کہا: ”آپ کو کیا تکلیف ہو رہی ہے جو آپ ایسی حرکت کرنا چاہتے ہیں؟ “

بولے : ”خلیفہء اسلام ہے اور ہمارا دل چاہتا ہے کہ اپنے مسلمان بادشاہ کے لیے نعرہ لگائیں۔ “

Read more

بلیک مارکیٹ کے روشن پہلو

1942 ء میں جب مہاتما گاندھی اور کانگرسی لیڈر گرفتار ہوئے، تو اس سے پہلے نہ تو ہندوستان میں زیادہ گرانی تھی، اور نہ بلیک مارکیٹ۔ کانگرسی لیڈروں کے گرفتار ہوتے ہی بازار میں ہر شے کی قیمتیں چڑھ گئیں، اور بلیک مارکیٹ کا زور ہو گیا۔ میں بھی کانگرسی اصحاب کے ساتھ گرفتار ہوا تھا۔ حالانکہ میں نہ کبھی کا نگرسی تھا، اور نہ اب کانگرسی ہوں۔ صرف ایک بار مرحوم مولانا عارف ہسوی مجھ سے چار آنہ کانگرس کی۔ ممبری کے چندہ نام پر لے گئے تھے۔

میں اگست 1942 ء میں گرفتار ہوا، اور 1943 ء کے آخر میں نظر بندی سے رہا کیا گیا۔ اس رہائی کے بعد میں نے دیکھا، کہ دہلی کا نقشہ ہی بدلا ہوا ہے۔ ہر شے بلیک مارکیٹ میں فروخت ہو رہی ہے، اور کوئی مکان بھی بغیر ”پگڑی“ ( یعنی مکان کرایہ پر لو، تو کرایہ کے علاوہ چند سو یا ہزار روپیہ بغیر لکھت پڑھت کے بطور رشوت دو ) نہیں مل سکتا۔ اس زمانہ کے حالات کو دیکھتے ہوئے ملا واحدی صاحب ایڈیٹر ”نظام المشائخ“ نے ایک واقعہ لکھا :۔

Read more

دبئی میں چند روز

گذشتہ 10 برس کے دوران متحدہ عرب امارات میں جس قدر ہوئی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ شاید ہی کوئی ایسا بزنس مین ہو جو بذریعہ دبئی امپورٹ ایکسپورٹ نہ کرتا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دبئی فری پورٹ ہے۔ وہاں کوئی بھی چیز مخصوص فیس ادا کر کے منگوائی یا بھجوائی جا سکتی ہے۔ دنیا کے تمام ممالک نے وہاں اپنے دفاتر کھول رکھے ہیں۔ روپے پیسے کی فراوانی کے باعث وہاں عیاشی کے مراکز بڑی تعداد میں کھل چکے ہیں۔ جسم فروشی وہاں کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ درہم کمانے کا سب سے آسان ذریعہ ہے۔

کئی پاکستانی ادکارائیں اور گلوکارائیں وہاں سکونت پذیر ہیں اور سال میں کئی مرتبہ پاکستان میں نئے چہروں کی تلاش کے لئے آتی ہیں۔ وہاں دنیا کی حسین سے حسین عورت موجود ہے۔ نائٹ کلب میں داخل ہونے کے بعد انسان مبہوت ہو کر رہ جاتا ہے۔ لگتا ہے کہ جیسے کسی ماہر سنگتراش نے نہایت شاندار مجسّمے تراش کر سجا دیے ہوں۔ عورت کس قدر خوبصورت ہو سکتی ہے اس کا اندازہ دبئی جا کر ہوا۔ میرا وہاں قیام 3 دن کے لئے تھا اور بطور صحافی ایک وفد میں شامل تھا۔

Read more

کپتان صاحب کی بکتر بند گاڑی کو کمپاس کی غلطی کیبرے لے گئی

ہوا یہ تھا کہ ایک انگریز میجر بنام مِڈوے نے کیپٹن اجندر سنگھ بتالیہ کے خلاف ایک کیس کھڑا کر دیا تھا یا بزبان ِ فوج انہیں چارج پر رکھ دیا تھا۔ فردِ جرم میں مذکور تھا کہ ملزم کو کیبرے دیکھنے کے لیے شائبہ سے بصرہ جانا تھا۔ کوئی اور سواری نہ ملیِ، تو آرمرڈ کار یعنی بکتر بند گاڑی لے کر ہی تماشا دیکھنے چلا گیا۔ وغیرہ۔ اَب ایوان کے سامنے سوال یہ تھا کہ بتالیہ کیا صفائی پیش کرے۔ مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔

Read more

بازار حسن کا انسائیکلو پیڈیا حکیم الدین غوری اس چکر میں کیسے پڑا؟

ایک دفعہ میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جس کی عمر 46 سال تھی شاید ہی کوئی طوائف ایسی ہو جو اس کی صورت یا اس کے نام سے واقف نہ ہو۔ وہ بازار حسن کا انسائیکلو پیڈیا تھا اور میرے قابو بڑی مشکل سے آیا۔ پہلے تو اس نے کئی چکر دیے لیکن بہت اصرار پر اس نے وعدہ لیا کہ میں اس کا اصل نام ظاہر نہ کروں گا تو وہ مجھے اپنی کہا نی سنا دے گا ہم اس کا نام حکیم الدین غوری رکھ لیتے ہیں جو اس کے نام سے کچھ ملتا ہے۔ حکیم الدین غوری پیشے کے اعتبار سے ایک ورکشاپ کا مالک ہے اور شاید ہی لاہور میں کوئی ایسا کوٹھی خانہ ہو جہاں اس قدم نہ رکھا ہو۔

” حکیم صاحب! اب تک کتنی لڑکیاں آپ کی زندگی میں آ چکی ہیں؟ “ میں نے پوچھا۔ “لڑکیوں سے آپ کی کیا مراد ہے؟ آپ کہیں طوائف کے بارے میں تو بات نہیں کر رہے؟ “ میرا اشارہ طوائف ہی کی طرف تھا؟ “
” میں سینکڑوں عورتوں کو اپنے تجربے سے مستفید کر چکا ہوں۔ “اس نے فخر سے سینہ تا ن کر کہا۔

” کیا مطلب، آپ نے عورتوں کو اپنے تجربے سے مستفید کیا یا عورتوں کے پاس جائے کی وجہ سے آپ کے تجربات میں اضافہ ہوا؟ “
” میرے معاملے میں یہ صورت حال الٹ ہے۔ “

” پہلی عورت زندگی میں کب آئی “
” عورت نہیں لڑکی کہیں۔ وہ میری کزن تھی اور شادی شدہ تھی۔ پہلا تجربہ اس سے حاصل کیا۔

Read more

مذہب قاضی الحاجات

عربی زبان میں روپیہ اور دولت کو قاضی الحاجات، ضروریات پوری کرنے والا ( کیونکہ روپیہ دے کر اس سے ہر شے خریدی جا سکتی ہے) قرار دیا گیا ہے۔ مگر جہاں تک مذہبی کتابوں میں سے اپنے مطلب کی بات حاصل کرنے کا تعلق ہے، مذہب کو بھی قاضی الحاجات قرار دیا جانا چاہیے۔ کیونکہ ہر مذہبی مجاور اپنی ضروریات کے مطابق اپنے حق میں مذہبی قول پیش دیتا ہے۔ اس سلسلہ کے دو دلچسپ واقعات پیش کرتا ہوں۔

Read more

سویڈن کا جنرل گلگت کی سرد رات برداشت نہ کر پایا

سویڈن کی رائل ایئر فورس کے کمانڈر انچیف ایک مرتبہ پاکستان ایئر فورس کے مہمان تھے۔ موسم سردیوں کا تھا۔ جنرل کو دوسرے مقامات کے علاوہ گلگت بھی جانا تھا اور مجھے اور میری بیوی کو ان کے ساتھ جانا تھا۔ گلگت میں ہم پولیٹیکل ایجنٹ کے مہمان تھے، ایک رات وہاں ٹھہرنا بھی تھا۔ پو لیٹیکل ایجنٹ کے گھر شام بڑی اچھی گزری اور کھانا بھی اچھا تھا، اس کے بعد ہم نے انہیں شب بخیر کہا اور اپنے کمرے میں چلے آئے۔ گلگت میں بعض اوقات اس قدر سردی ہو جاتی ہے کہ درجہ حرارت نقط انجماد سے بھی نیچے آ جاتا ہے۔

Read more

بچوں سے جنسی زیادتی کا رجحان

دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی بچے مردوں کے جبر سے محفوظ نہیں۔ بچوں کی بڑی تعداد کم سنی کے ایام میں نوجوان اور اوباش قسم کے مرد حضرات کی ہوس کا نشانہ بن جاتی ہے بچوں سے جنسی جبر کی تاریخ بھی انسانی تاریح کی طرح پرانی ہے۔ شاید ہی کوئی دور ہو جب بچے اس ظلم سے محفوظ رہے ہوں۔ جس طرح نیکی اور گناہ کا چولی دامن کا ساتھ ہے اس طرح بچے بھی بڑوں کے گناہوں کا فی زمانہ شکار رہے ہیں۔ عموماً فیکٹریوں میں کام کرنے والے بچوں کو ان کے سنیئر جنسی تشدد کا نشانہ بناتے ہیں جب کہ گلی محلوں میں گھروں سے باہر کھیل کود میں مصروف بچے اکثر اوقات اس ظلم کا شکار ہو جاتے ہیں۔

پہلے کوئی انہیں لالچ دے کر اپنی ہوس کا نشانہ بناتا ہے اور پھر بچے آہستہ آہستہ اس کے عادی ہو جاتے ہیں اور یہ شوق انہیں جوانی میں بدنام کرانے کا موجب بنتا ہے۔ ریسرچ کے دوران میری درجنوں بچوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ جب کہ نوجوان اور بوڑھے افراد سے ان کے بچپن کے بارے میں پوچھا تو 15 فیصد سے زائد افراد نے اقرار کیا کہ جب وہ بچے تھے تو انہیں محلے کے فلاں دکاندار، فلاں پتنگ باز وغیرہ نے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا تھا۔

Read more

شوقیہ جسم فروش

روز مرہ کی اشیا ء خریدنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد عورتوں کی ہوتی ہے۔ کپڑے کی مارکیٹ ہو یا الیکٹرونکس کی دکان، جنرل سٹور ہو یا کوئی بوتیک آپ کو خریداری کرنے والوں میں خواتین نمایاں نظر آئیں گی۔ اچھے اور برے کی سب سے زیادہ پہچان وکیل، صحافی اور پولیس والے کے بعد دکاندار اور رکشہ یا ٹیکسی چلانے والے کو ہوتی ہے۔ یہ دکاندار شریف گھرانے کی خواتین کو کسی اور طرح اور ذراکھلی ڈھلی قسم

Read more

جب نیوی کا لیفٹننٹ ائیر مارشل اصغر خان کو گولی مارنے لگا تھا

ہم آگے بڑھتے گئے۔ ابھی دو سو گز دور گئے تھے اور قبرستان سے کچھ فاصلے پر تھے کہ نیوی کا ایک اور دستہ ایک اور مجسٹریٹ کے ساتھ آ گیا اور ہمارا راستہ روک لیا۔ اب کے نیوی کا لیفٹننٹ پہلے والے سے مختلف قسم کا تھا۔ اس نے چیختی آواز میں جوانوں کو آگے بڑھنے اور دو صفوں میں کھڑے ہونے کا حکم دیا، پھر اگلی صف کو گھنٹوں کے بل کھڑے ہونے کو کہا۔ پھر زیادہ کرخت آواز میں حکم دیا کہ رائفلوں میں گولیاں بھر لیں۔ یہ تیاری کرنے کے بعد وہ چند قدم آگے بڑھا، مجھے سلیوٹ کیا۔ اس کی آنکھیں باہر ابلی ہو ئی تھیں، بڑے جوش میں مجھے سے ہاتھ ملایا اور کہنے لگا۔ ”سر، اگر آپ آگے بڑھے تو پھر مجھے آپ پر گولی چلانے کا حکم ہے۔ “

وہ میرے اس قدر قریب تھا کہ میں اس کے چہرے پر تھرکتے ہوئے پٹھے دیکھ سکتا تھا۔ پہلے نیوی والوں کی رکاوٹ کے مقابلے میں یہ رکاوٹ بھی مختلف تھی اور موڈ بھی بہت مختلف تھا۔ میں جان گیا تھا کہ لیفٹینٹٹ نے کچھ کہا ہے وہ کر بھی گزرے گا اور مجھے خیال ہے کہ یہ عجب بات ہو گی کہ میں جس نے پچّیس برس ایئر فورس میں ملازمت کی اور زندہ رہا، نیوی کے ایک لیفٹینٹٹ کی گولی سے لیاقت آباد کی سڑک پر مارا گیا۔

Read more

گناہگاروں کی بے گناہیاں

اس زمانہ پنجاب کی منڈیوں میں دو بڑی یورپین فرموں کے دفاتر ہوتے تھے، ایک سنڈے پیٹرک کمپنی اور دوسری ریلی برادرز۔

ان دونوں کمپنیوں کا کام یہ تھا، کہ یہ ان منڈیوں سے اناج خرید کر یورپ بھیجتیں، اور ان دونوں فرموں کے ذریعے پنجاب کا کروڑ ہا من غلہ ہر سال یورپ جاتا۔ حافظ آباد کی اس منڈی کے بالکل قریب ایک بہت بڑا احاطہ تھا۔ منڈی کا جو دکاندار ان کمپنیوں کے پاس اپنا غلہ فرخت کرتا، غلہ فروخت کرنے سے پہلے اس احاطہ کو استعمال کرتا۔ جس کی صورت یہ تھی، کہ جتنا غلہ فروخت کرنا ہوتا، وہ اس احاطہ میں ایک طرف جمع کر دیا جاتا، اور دوسری طرف مٹی کا بہت بڑا ڈھیر لگا دیا جاتا۔ یہ مٹی چھلنی میں چھنی ہوئی بہت باریک ہوتی، اور چکنی ( یعنی جس مٹی میں چپکنے کی صفت ہو ) ہوا کرتی۔ سب سے پہلے احاطہ میں چند انچ اونچائی میں غلہ بچھا دیا جاتا، پھر اس پر چکنی مٹی کا پاؤڈر ڈالا جاتا۔

چکنی مٹی کے پاؤڈر کو غلہ پر ڈالنے سے پہلے غلہ پر مشکوں کے ذریعے پانی کا چھڑکاؤ کیا جاتا، اور پھر مزدور اس غلہ، پانی اور مٹی کے مکچر کو پاؤں کے ساتھ چند منٹ ہلاتے، تاکہ گیلی مٹی غلہ کے ساتھ چپک جائے۔ اس کے بعد پھر نیا غلہ چند انچ تک اونچائی میں بچھایا جاتا، پھر چھڑکاؤ ہوتا، اور پھر مٹی ڈال کر مزدوروں سے پاؤں کے ذریعے ملایا جاتا، اور اس طرح غلہ کا یہ ڈھیر دس دس پندرہ اور بیس بیس فٹ بلند چلا جاتا، اور پھر اس کو بوریوں میں بھرا جاتا۔

Read more

نشہ، پولیس اور اقبالِ جرم

دہلی کے ڈاک خانہ میں سے ایک بیمہ چوری ہو گیا، جو غالباً بیس ہزار روپیہ کا تھا، اور یہ بیمہ بنک نے اپنی دہلی برانچ کو بھیجا تھا۔ بیمہ کے گم ہونے پر ڈاک خانہ کے پوسٹ ماسٹر نے پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس تحقیقات کے لئے آئی، اور ڈاک خانہ کا ایک کلرک اس سلسلہ میں گرفتار کیا گیا، جو شراب پینے کا عادی تھا۔ اس کلرک کو گرفتار کر کے حوالات بھیج دیا گیا۔ اس مقدمہ کی تحقیقات پر ایک سکھ انسپکٹر پولیس مقر ر ہوا، جس کا نام غالباً سردار جسونت سنگھ تھا۔

ان سردار جسونت سنگھ نے تحقیقات کے سلسلہ میں بہت کوشش کی، کہ بیمہ کا پتہ چل سکے، اور آپ نے وہ کچھ بھی کیا، جو پولیس عام طور پر مشتبہ ملزموں کے ساتھ کرتی ہے، مگر کلرک جرم سے انکار ہی کرتا رہا۔ یہ تحقیقات ایک ہفتہ تک جاری رہی۔ سردار جسونت سنگھ ہر روز ہی اس کلرک سے ”انٹیرو گیشن“ کرتے رہے اور ”تھری ڈگری“ طریقے بھی استعمال ہوئے، مگر کلرک نے جرم کا اقرار نہ کیا۔

Read more

مغرب کی نجی زندگی، فحش فلمیں اور پاکستانی طلاقیں

بھری بس یا ٹرین میں یا کسی پبلک پارک میں جہاں دوسرے افراد کی کمی نہ ہو جو نہی کسی جوڑے کا جی چاہا وہ اظہار محبت کرنا شروع کر دیتا ہے اور کیا مجال ہے کہ کوئی ان کو ڈسٹرب کرنے کا تصور بھی کر سکے۔ لندن کی سڑک کے کنارے سرشام ایک گاڑی کھڑی تھی اور اس گاڑی کے اند ر ایک نوجوان لڑکا اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ جنسی فعل کر رہا تھا۔ دونوں محبت کے ان حسین لمحات میں دنیا جہاں کے غموں سے بے نیاز زندگی کو انجوائے کر رہے تھے کہ وہاں سے گزرنے والی ایک گاڑی میں سوار کسی شخص نے کیمرے کا استعمال کر ڈالا۔

کیمرے کی فلیش کی چکا چوند روشنی نے جو نہی مذکورہ جوڑے کی گاڑی کو اپنے حصار میں لیا‘ لڑکے اور لڑکی نے اس بات کی پرواہ کیے بغیر کہ ان کے جسم پر کپڑ ے موجود ہیں یا نہیں، سڑک پر کھڑے ہو کر بنانے والے شخص کو گالیاں دینا شروع کر دیں اور ساتھ ہی انہوں نے اپنے موبائل فون سے پولیس کو اطلاح کر دی کہ فلاں رنگ اور ماڈل کی گاڑی میں سوار نامعلوم شخص نے ان کی نجی زندگی میں مداخلت کی ہے۔

وہ جوڑا کسی اسلامی ملک میں اس فعل کا ارتکاب کر رہا ہوتا تو اسے سو سو کوڑے مارے جاتے اور قرآنی احکامات کے مطابق ایسا کرتے رحم سے کام نہ لیا جاتا۔ لیکن اس معاشرے کے خوبی یا خامی دیکھیں کہ وہاں جرم مرد اور عورت کا نہ سمجھا گیا بلکہ جس نے تصویر بنانے کی کوشش کی اس کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔ مقدمہ چلا تو اس شخص نے حلفاً کہا کہ میرے کیمرے میں فلم موجود نہ تھی میں نے تو شرارتاً فلیش گن استعمال کی تھی۔ مگر عدالت نے اسے سزا سنا دی۔

Read more

جنرل ضیا نے محمد خان جونیجو کو وزیر اعظم کیوں بنایا

جنرل ضیا پوری فوجی شا ن و شوکت کے ساتھ اندر آئے : تمغے، پٹی وغیرہ۔ ان کے پیچھے دو نوجوان معاونین تھے۔ وہ ہمارے سامنے ڈائس پر بیٹھے۔ قرآن پاک کی تلاوت کے فوراً بعد ایئرمارشل نور خان کھڑے ہوئے اور جنرل ضیا کو مخاطب کر کے بولے۔ ”وقت آگیا ہے کہ آپ مارشل لاء اٹھا لیں۔ “ نور خاں کا لہجہ نرم نہیں تھا۔

” جناب، یقین رکھیں، میں ختم کردوں گا۔ لیکن پارلیمنٹ کو ٹھیک طرح سے اپنی راہ پر چلنے کی مہلت دے دیں۔ اور اب، معزز اراکین، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ وزیراعظم پاکستان کے لیے میرے نامزد کردہ شخص کی تائید کریں۔ محتاط غور و فکر کے بعد میں نے محمد خان جونیجو کا فیصلہ کیا ہے جو بہت عمدہ شخص ہیں اور سندھی ہونے کے باوجود اتنے اچھے آدمی ہیں کہ انہوں نے صرف ایک شادی کی۔ “

Read more

جنسی کمزوری کا بوٹ پالش سے علاج

جنسی احساس کمتری کے سلسلہ کا ایک واقعہ بیان کرتا ہوں، جو دلچسپ اور افسو سناک بھی ہے۔ جرنلزم کا پیشہ اختیار کرنے سے پہلے میں میڈیکل پریکٹس کرتا تھا۔ اور طبی دنیا کی نئی ایحادات سے مجھے دلچسپی تھی، جو اب بھی قائم ہے۔ میں نئی ایجاد ہونے والی ادویات کی فہرسیتں اور لٹریچر منگاتا رہتا ہوں، اور اگر کوئی اچھا ڈاکٹر ملنے کے لئے آجائے، تو بعض بیماریوں کے متعلق اس سے بھی دیر تک بحث ہوا کرتی ہے۔ میں ناگپور جیل میں تھا، تو اس جیل کا سٹاف مجھ سے بہت اچھی طرح پیش آتا، کیونکہ یہ لوگ اخبارات کے اثرات سے واقف تھے۔

جیل کے سپرنٹنڈنٹ کرنل موڈی تو دوسرے تیسرے روز میرے پاس آیا کرتے، اور میری ضروریات دریافت کرتے۔ مگر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ ہر روز صبح میرے پاس آتے، اور اس کے بعد شام کو قیدیوں کی گنتی کرنے اور بارکیں بند کرنے کے بعد میرے پاس آ جاتے۔ وہاں ہی چائے پیتے، کیونکہ میرے پاس بسکٹ، انڈے اور پھل وغیرہ کافی مقدار میں موجود رہتے، اور ایک آدھ گھنٹہ باتیں کرتے۔ ایک روز باتوں باتو ں میں ری جووی نیشن ( اعادہ شباب ) کے مسئلہ پر ذکر شروع ہو گیا، تو میں نے اپنی معلومات کے مطابق ان کو بتایا، کہ بڑھاپا کیوں آتا ہے اور شاب اور قوت کو قائم رکھنے کے لئے کیا کرنا چاہیے؟ یہ باتیں ایک گھنٹہ کے قریب ہوتی رہیں۔

Read more

انگریز کی خفیہ پولیس اور ایک انقلابی کی کایا پلٹ

پچھلی نصف صدی میں دنیا میں جن لوگوں کو سیاسی اعتبار سے بہت بڑی بین الاقوامی شہرت نصیب ہوئی، ان میں مرحوم مسٹرایم۔ این رائے ایک اہم شخصیت تھے۔ آپ امپر یلزم کے بہت سخت دشمن اور کٹر کلاس کے کمیونسٹ تھے۔ چنانچہ موجودہ نوجوان حلقہ ابھی پیدا بھی نہ ہوا تھا، کہ آپ ہندوستان سے روس چلے گئے، وہاں مشہور انقلاب پسند مسٹر لینن کے ساتھیوں میں شامل ہو گئے۔

مسٹر رائے نے لینن کے ساتھیوں میں شامل ہونے کے بعد درجنوں بار دنیا کے مختلف ممالک کا سفر کیا، مگر غلط نام سے اور جعلی پاسپورٹوں اور ویزوں کے ساتھ، آپ ہندوستان میں جب 1930 ء میں گرفتار ہوئے، تو اس وقت بھی آپ کے پاس ایک غلط نام کا جعلی پاسپورٹ تھا۔ اور اس موقعہ پر جس ڈرامائی انداز میں آپ گرفتاری ہوئی، وہ بہت ہی دلچسپ اور برٹش گورنمنٹ کے جاسوسی کے وسیع ذریعہ کا ثبوت ہے۔ مسٹر رائے تاج محل ہوٹل بمبئی میں مقیم تھے۔ آپ اگلے روز جہاز کے ذریعہ انگلستان جانے والے تھے۔ آپ کی سیٹ اس جہاز میں ریزرو ہو چکی تھی، کہ علی الصبح چار بجے پولیس نے آپ کو تاج محل ہوٹل کے کمرہ سے گرفتار کر لیا۔

Read more

ایڈیٹروں کی قلابازیاں

اردو جرنلزم کی پچھلی نصف صدی میں کیا حالت تھی، اس سلسلہ کے چند واقعات دلچسپی سے خالی نہ ہوں گے۔ صحافتی کورٹ فیس ”ریاست“ کے عروج کے زمانہ میں راقم الحروف دوستوں سے ملنے کے لئے مہینہ میں ایک آدھ بار دہلی سے لاہور ضرور جایا کرتا، اور یہ سفر صرف ایک دن کا ہوتا، کیونکہ مصروفیت کے باعث اس سے زیادہ وقت نہ دیا جا سکتا تھا۔ یعنی رات کو فرنٹیر میل میں دہلی سے سوار ہوتا، اگلی

Read more

مہارانیوں اور بیگمات کی بیچارگیاں

یہ مسئلہ بہت دلچسپ، بہت دقیق اور مردوں کے لئے بہت ہی غور طلب ہے، کہ عورت کیا چاہتی ہے؟ یعنی شادی کے بعد عورت کیونکر اپنے شوہر کے ساتھ خوشگوار، مطمئن اور پرکیف زندگی بسر کر سکتی ہے۔ کیونکہ اگر تحقیقات کی جائے، تو نوے فیصدی عورتیں شادی کے بعد ایک غلامانہ زندگی بسر کرتے ہوئے ذہنی اور قلبی عذاب میں مبتلا ہیں۔ گو یہ بے زبان ہونے کے باعث کسی سے بھی اپنی پر عذاب زندگی کا اظہار

Read more

ایڈز میں مبتلا ایک پاکستانی اداکارہ کی کہانی

1997ء میں نارتھ کراچی کے ایک ہسپتال میں ایک اداکارہ کا انتہائی راز داری سے علاج ہو رہا تھا۔ یہ اداکارہ ایڈز جیسے موذی مرض میں مبتلا تھی۔ مجھے کسی نے اس کے بارے میں بتایا تو میرا تجّس بڑھا اور ایک دن میں کراچی کے لئے روانہ ہو گیا۔ کراچی میں قیام کے دوران میرا زیادہ وقت شہر کے ایسے علاقوں میں گزرا جہاں میرے کام کی عورتیں موجود ہیں۔ لیکن سب سے پہلے میں نے نارتھ کراچی کے

Read more

سیاسی اور مذہبی راہنماؤں کو طوائفوں کے ذریعے کیسے پھنساتے ہیں

جسم فروشی جیسے حساس موضوع پر تحقیق کے سلسلے میں جب میں پشاور گیا تو وہاں میرے ایک صحافی دوست نے میری ملاقات ایک خاتون سے کرائی جو وہاں سماج حلقوں میں خاصی مقبول تھی۔ لیکن حقیقت میں وہ ایک نائیکہ تھی۔ میں اس عورت جسے اس کی شناخت ظاہر نہ کرنے کے لئے گل بانو کا نام دیا گیا ہے جب پوچھا کہ ایک عورت ہوتے ہوئے دوسری عورت سے جسم فروشی کرانے پر کیا آپ کے ضمیر نے کبھی ملامت نہیں؟ تو وہ بولی: ” آپ نے یہ ذکر چھیڑ ہی دیا ہے تو بتائیں کہ خریدار کون ہے؟ “

میں گل بانو کے اس حملے کے لئے بالکل تیار تھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ جس انداز میں سوال کیا جائے گا اسی انداز میں جواب بھی آئے گا۔ میں نے فوراً کہا کہ عورت کے خریدار کو اسلامی قوانین کے مطابق کوڑے مارے جانا چاہیں۔ گل بانو نے میری طرف غور سے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں غصے کے آثار نمایاں تھے۔ لیکن وہ دھیرے سے بولی: ” جب اسلام اپنی اصل شکل میں نافذ ہو جائے تو ایسی بات کرنا۔ ابھی ایسی باتیں زیب نہیں دیتیں۔ “

Read more

چھوٹے صوبے والے کچھ نہیں پنجاب پاکستان ہے، ضیا حکومت کا نظریہ

صوبائی کونسل کے ایک اجلاس کے دوران خان عبدالولی خان بھی لاہور آئے ہوئے تھے اور حسب معمول ہمارے ہاں ٹھہرے تھے۔ ہر جگہ پران کا تعاقت کرنے کے لیے پولیس کی ایک جیپ ہمارے گیٹ کے باہر کھڑی رہتی۔ صوبائی کونسل کی کارروائی کے لیے تھی۔ اجلاس کے دوسرے روز، جبکہ ولی خان شہر میں ہی موجود تھے، فخر اجلاس اختیا م پذیر ہونے سے پہلے ہی اسلام آباد گئے۔ جب ہم باہر آ رہے تھے تو میں ایک کولیگ کے ساتھ بات چیت کر رہی تھی۔ اتنے میں گورنر مارشلِ لاء ایڈمنسٹر یٹر کے ملٹر ی سیکرٹری میرے پاس آئے اور کہا کہ گورنر اپنے چیمبر میں بیٹھے میرا انتظار کر رہے ہیں۔ جب میں اندر داخل ہوئی تو سابق ہوئی وزیر اعلیٰ کمیٹی روم میں گورنر لمبی سی میز کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ ان کے ساتھ ان کے سیکرٹری ( ایک سول سرونٹ ) بھی تھے۔

”آہ بیگم عابدہ، آئیے تشریف رکھیے۔ میں عجیب و غریب صورت حال کے اس معاملے کو آپ کی لاہور والی رہائش گاہ سے باہر رکھنا چاہتا ہوں۔ میں نے وہاں پولیس کی دو جیپیں لگا رکھی ہیں، ایک آپ کے شوہر وزیر کی گاڑی کے ساتھ چلنے کے لیے اور دوسری ایک اپوزیشن راہنما ولی خان کے تعاقب کے لیے جو مجھے یقین ہے کہ آپ کے گھر رہائش پذیر ہے۔ وہ بیگم عابدہ کے لیے نہیں ہے، بالکل نہیں۔ “

Read more

مہارانی چرکھاری پر برے ستاروں کے اثرات

بعض بچوں کی پیدائش ایسے برے ستاروں کے زیر اثر ہوتی ہے، کہ وہ زندگی بھر مصائب و مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ ا ن بے چار وں کو سکھ اور آرام کا ایک دن بھی نصیب نہیں ہوتا۔ ایسے لوگوں میں سے ہی مرحوم مہاراجہ چرکھاری کی پہلی بیو ی تھیں۔ مہاراجہ چرکھاری کی یہ بیوی مہاراجہ با نسواڑہ کی بیٹی تھیں۔ ابھی بچپن کا زمانہ تھا، کہ ان کی والدہ نے انتقال کیا، اور یہ سوتیلی والدہ کے

Read more

قصہ ایک سخت وزیر دفاع کی فضائیہ ہیڈکوارٹر میں لگی تصویر کا

1958ء میں تختہ الٹنے اور جنرل ایوب خان کے اقتدار میں آنے سے تھوڑا عرصہ پہلے فیروز خان نون کی کابینہ میں محمد ایوب کھوڑ و وزیر دفاع تھے۔ وزیر بنے تو پہلی بار ایئر ہیڈ کوارٹر کا معاینہ کرنے آئے۔ ایئر فورس کی طرف سے گارڈ آف آنر اور ایئر فورس کی کار کردگی اور کردار کے بارے میں جانکاری دینے کا فیصلہ ہوا۔ وزیر دفاع مقررہ وقت پر ایئر ہیڈ کوارٹر پہنچ گئے ان کے ساتھ ایک بچہ

Read more

ظفر علی شاہ کو ڈر تھا کہ اسمبلی میں عورت کے ساتھ بیٹھنے پر ان کے سندھی کولیگ مذاق اڑائیں گے

جب ہم قومی اسمبلی کی طرف جا رہے تھے، جو ابھی تک سٹیٹ بینک کی عمارت میں میں تھی جبکہ نیا پارلیمنٹ ہاؤس تیار کیا جا ر ہا تھا، تو میں نے فخر سے پوچھا کہ انہیں کیا سیٹ نمبر الاٹ ہوا ہے، اور فوراً سمجھ آگئی کہ (کیونکہ ہمیں حلف برداری کے بعد خوتین کی مخصوص نشستوں پر اراکین کو منتخب کرنا تھا ) اسمبلی سیکرٹریٹ نے اپنی دانش کے مطابق مجھے کوٹہ والی خواتین کے ساتھ بٹھانے کا

Read more

شرنارتھیوں کا دھرنا باز روحانی بزرگ، پنڈت نہرو اور انوکھی سودے بازی

دو برس کی بات ہے، سبزی منڈی کے گھنٹہ گھر کے باہر بہاولپور کے ایک شرنار تھی مسٹر رائے (ان کے نام کے ساتھ رائے تھا۔ مثلاً جسونت رائے، کلونت رائے یا دلباغ رائے۔ مجھے ان کا پورا نام تو یاد نہیں۔ میں ان کو مسٹر رائے کے نام سے ہی مخاطب کیا کرتا) سبزی فروخت کرتے، اور سبزی کے کاروبار میں ایک دو روپیہ روزانہ پیدا کر لیتے۔ ہاں کوئی بال بچہ نہ تھا۔ گھر میں صرف ایک بیوی

Read more

مہاراجہ کپورتھلہ کو تخت کیسے ملا؟

ایک فرانسیسی کہاوت ہے کہ مرد کی ایک ہر ایک سر گرمی کے پیچھے کسی نہ کسی شکل میں عورت ضرور ہوتی ہے۔ خواہ کوئی تجارت سے متعلق اہم معاملہ ہو یا جنگ ہو، محبت ہو یا سیاست ہو یا پھر کسی بھی قسم کی کوئی اہم واردات ہو، اس کی بنیاد میں کہیں نہ کہیں کوئی عورت ضرور ہوتی ہے مجھے اس فرانسیسی کہاوت کے متعلق میرے ایک فرانسیسی دوست آندرے دی فو کیرنے بتایا تھا۔ آندرے عمر بھر

Read more

لاہور کی ٹبی گلی سے شہر میں منتقل ہونے والے چکلے

ایک مرتبہ لاہور کے ایک صحافی نے کسی مخصوص کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ مجھے اس کا عورت کو اس طرح ذلیل کرنا اچھا لگا۔ میں نے کہا : ” راشد بڑے افسوس کی بات ہے۔ “ وہ بولا ”میں نے ایک طوائف کو گالی دی کسی عورت کو نہیں۔ “ میں نے کہا : عورت اور طوائف میں کیا فرق ہے؟ “ وہ بولا : انتا ہی جتنا بھینس اور عورت میں فرق ہے۔ “ مجھے یہ

Read more

میری بدنامی کے دو قصے

ہندوستان میں تو ایک کہاوت مشہور ہے ” بد سے بدنام برا“۔ یعنی پبلک کی نگاہوں میں کوئی برے سے برا شخص بھی اتنا قابل تعزیر قرار نہیں دیا جاتا، جتنا کہ بری شہرت رکھنے والا۔ یعنی بدنام، اور انگریزی کے ایک مصنف اور ایل الرائے نے کہا ہے، کہ:۔ ” مجھے ان لوگوں کے ساتھ ہمدردی ہے، جو نے نقاب ہو گئے“۔ یعنی پبلک کی نگاہوں میں صرف وہی لوگ مجرم قرار دیے جاتے ہیں، جو بے نقاب ہو

Read more

پولیس اور مجسٹریٹوں کی جنگ اور ریل پر ڈاکہ

یورپ اور امریکہ کی پولیس تو جرائم کا سراغ سائنٹفک طریقوں سے لگاتی ہے، اور شاید ہی کوئی ایسا مقدمہ ہو گا، جس میں ان کو سائنٹفک طریقوں کو اختیا ر کرتے ہوئے کامیابی نہ ہو۔ چنانچہ مقدمہ میں شیشوں پر لگے ہوئے انگلیوں اور ہاتھوں کے نشانات، پستول اور بندوق میں سے نکلی ہوئی گولی اور نالی کے اندر کے فوٹو، السیشن کتوں کے ذریعے کپڑوں اور خون کی بو، موٹروں کے ٹائروں کے گھسے ہوئے حصہ کے نشان،

Read more

شاہ ایران نے پاکستانی طریقے سے مرغابی ماری

ایک اور موقع پر زیریں سندھ کی ایک جھیل پر شکار کھیلا گیا، شاہ ایران بھی آئے ہوئے تھے ساتھ ملکہ تھیں۔ شاہ کے ساتھ ان کے شکار کا داروغہ بھی تھا جس نے رسمی شکاری لباس بھی پہن رکھا تھا۔ اونچے بوٹ، پیٹیاں اور اس میں کوئی ایک درجن میخیں۔ اعلیٰ میزبانی کا مظاہرہ کیا گیا، یعنی جعلی انداز میں شاہ کے سامنے سے مرغابیاں اڑائی گئیں، پھر جھیل کے کنارے کھانے کا انتظام کیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو میں ظاہر ہوا کہ شاہ ایران نے زندگی بھر اس قسم کا شکار نہیں کھیلا تھا۔ شاہ ایک نالی والی پانچ کارتوس والی گن استعمال کر رہے تھے اور توقع تھی کہ اچھی خاصی تعداد میں مرغابیاں گرا لیں گے۔ اہتمام یہ کیا گیا تھا کہ جھیل کے اندر کوئی نصف درجن شکاریوں کو کشتیوں میں بٹھا کر اصل یا تیار کیے گئے بٹ میں پہنچا دیا گیا جو شاہ ایران کی جگہ کے آس پاس ہی تھے۔ شکاریوں کے ایسے پلیٹ فارم اچھا نشانہ لینے میں مددگار ہوتے ہیں۔

شاہ ایران کوئی تین چار گھنٹے اپنی کمین گاہ میں رہے، کوئی ڈیڑھ سو فائر کیے جن سے تیس چالیس پرندوں کا شکار کی بجا طور پر توقع ہوسکتی تھی۔ میرا بٹ یا کمین گاہ شاہ کے قریب ہی تھی، میں نے دیکھا کہ شاہ کا نشانہ لگ نہیں رہا، پرندہ کم ہی گرتا ہے۔ شکار ختم ہوا، لوگ واپس اکٹھے ہوئے۔ دوپہر کا کھانا لگایا گیا۔ صدر اور شاہ کھانا کھا چکے تو صدر کا ملٹری سیکرٹری جو خود بھی بہت اچھا شکاری او ر نشانہ باز تھا ہر شکاری کے شکار کیے پرندوں کے تھیلے لے آیا۔ شاہ صدر شامیانے سے باہر آئے، ملٹری سیکرٹری شاہ کے پاس گیا اور بڑی سنجیدگی سے اعلان کیا ” عزت ماب آپ نے 35 مرغابیاں شکار کیں۔ “ شاہ نے حیرت سے کہا؟ ”کیا؟ میں نے تو ایک مرغابی بھی نہیں گرائی۔ “

Read more

ہندوستان کا جنسی دھرم تانترا مت کیا ہے؟

ریاست پٹیالہ کے حکمران ہزیائی نیس مہاراجا سربھوپندر سنگھ بہادر کے بنائے ہوئے نئے تانترا مت یا نئے جنسی دھرم کی کہانی کے آغاز سے پہلے ضروری ہے کہ اصل تانترا دھرم کے بار ے میں قارئین کو معلومات فراہم کی جائیں۔ صرف اسی صورت میں قارئین کو تانتری رسوم اہمت سمجھ میں آئے گی اور وہ یہ سمجھ سکیں گے کہ نئے دھرم کا آغاز کیسے ہوا اور مہاراجا نے اپنی شہوت اور ہوس کی تسکین کے لیے اسے کیسے اختیار کیا۔

حقیقت میں مہاراجا کا شروع کیا ہوا تانترا دھرم ہندومت کی حقیقی اور خالص تانتر ی صورت سے بالکل مختلف تھا۔ اس کا مقصد محض مہاراجا کی جنسی خواہشات کی تسکین تھا۔ وہ دھرم کے لبادے میں بے شمار عورتوں سے جنسی لذت حاصل کرتا۔ یوں اس کا وقار بھی برقرار رہتا کیونکہ یہ عمل دھرم کی روح کے مطابق وہاں اکٹھا ہو جانے والی عورتوں کی نگاہوں میں ان کے مذہبی اعتقادات کے مطابق تھا۔ یہ دھرم صرف ان لوگوں تک محدود تھا، جنہیں اس کو اپنانے کی اجازت دی جاتی تھی۔ اس دھرم کو اپنانے والوں سے رازداری کا حلف لیا جاتا تھا۔

ضرور وہ شخص بڑا دلیر! ہو گا، جس نے آج سے آدھی صدی پہلے یہ کہا تھا کہ بھگوان کو تا

Read more

طاقتور جنرل ایوب خان ڈھیٹ بکری سے ہار گئے

ایک صبح میں بھی صدر ایوب خان کی معیت میں کراچی سے شکار کے لئے روانہ ہوا۔ راستے میں وہ اپنی نافذ کردہ اصلاحات کے بارے میں باتیں کرتے رہے۔ بعض اصلاحات کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ ملکی معیشت پر بڑا خوشگوار اثر ڈالیں گی۔ کہنے لگے ایک تو یہ اصلاح ہے کہ بکری کو ختم کرو۔ انہوں نے ایک حکم صادر کیا تھا جس کے تحت بکریاں پالنے کی ممانعت کر دی گئی تھی۔

کہنے لگے کہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں بکریوں اور اونٹوں نے سر سبز علاقوں کو ریگستانون میں تبدیل کر دیا ہے بکری جس جھاڑی یا درخت پر منہ مارتی ہے اس کے لعاب کے ذریعے زہر سا درخت میں سرائیت کرتا ہے جو اسے خشک کر دیتا ہے۔ مجھے بھی یاد آیا کہ جب میں سپین گیا تھا تو مجھے لوگوں نے بتایا کہ عربوں کے حملے سے پہلے سپین ایسا سر سبز و شاداب علاقہ تھا کہ یورپ کے روئسا یہاں شکار کرنے آیا کرتے تھے۔ اپنے آٹھ سو سالہ دور میں عرب یہاں اونٹ اور بکریاں لے کر آئے جنہوں نے سر سبز و شاداب سپین کو تباہ کر کے رکھ دیا۔

Read more

مہاراجا پٹیالہ کی کرکٹ ٹیم نے بہترین انگریز ٹیم سے میچ کیسے جیتا؟

پٹیالہ جم خانہ کلب میں ایک انٹرنیشنل کرکٹ میچ کھیلا گیا۔ یہ میچ ریاستی ٹیم اور انگریز ٹیم کے مابین کھیلا گیا تھا۔ مہاراجا بھو پندر سنگھ آف پٹیالہ ریاستی ٹیم کا کپتان تھا جبکہ مشہور ٹیسٹ پلیئر مسٹر جارڈین انگر یز ٹیم کی کپتانی کر رہا تھا۔ مہاراجا کی کپتانی میں کھیلنے والی ریاستی ٹیم سے کمزور تھی، خاص طور پر اس صورت میں کہ انگریز ٹیم میں فاسٹ باؤلر اور بہترین بلے باز شامل تھے۔

مہاراجا کا مشیر آسٹریلین باؤلر فرینک ٹیرنٹ، وزیرا عظم سر لیاقت حیات خان، سیکرٹری جنوبی پنجاب کرکٹ ایسوسی ایشن دیوان ولایتی رام اور سردار بوٹا رام بے تاب تھے کہ مہاراجا کی ٹیم کو ہر قیمت پر جیتنا چاہیے۔ انہوں نے مہاراجا سے درخواست کی کہ محل میں استقبالیہ اور شراب ورقص و سرود کی محفل منعقد کی جائے جن میں انگریز ٹیم کے ارکان، ریاستی ٹیم کے ارکان، اہم وزرا ء اور حکومتی افسران کو مدعو کیا جائے۔ یہ تقریب کرکٹ میچ سے ایک دن پہلے شام کے وقت کے برپا ہوئی۔

Read more

مہاراجا بھوپندر سنگھ آف پٹیالہ کا تاش کا کھیل

پٹیالہ کا مہاراجا بھو پندر سنگھ ہندوستانی انداز کے تاش کے کھیل پوکر کا بہت شوقین تھا۔ انگریزی اور امریکی انداز کا پوکر پانچ پتوں سے کھیلا جاتا ہے جبکہ ہندوستانی انداز کا پوکر تین پتوں کے ساتھ کھیلا جاتا ہے۔ تین پتوں والے پوکر میں تین یکے ّ سب سے بڑے پتے ہوتے ہیں جنہیں کوئی پتا مات نہیں دے سکتا۔ مہاراجا اپنی پوکر پارٹیوں میں صرف ایک دو قابل اعتماد وزیروں اور تین چار پسندیدہ مہارانیوں کے علاوہ

Read more

جنرل صاحب کا چھرا ہمیشہ چکور کی بائیں آنکھ میں لگتا تھا

صدر ایوب خان کو پرندوں کے شکار کا شوق بھی تھا، مواقع بھی بہت ملے۔ اس لئے ماہر شکاری ہوچکے تھے۔ ایک بار بلوچستان میں فورٹ سنڈیمن کے آس پاس خوب مارے، آفیسر ز میس میں بیٹھے مشروب سے شغل فرماتے ہوئے اپنے شکار کے، معر کے بیان کر رہے تھے۔ کہنے لگے میں چکور کا شکار کرتے وقت اس کا سر کا نشانہ لیتا ہوں۔ سننے والوں نے سنا اور انہیں حیرت ہوئی کہ اتنے چھوٹے سے پرندے کے

Read more

طوائف اور آرٹسٹ میں فرق

مجھے یقین تھاکہ نوشابہ آج ضرور فون کرے گی۔ وہی ہوا، ابھی مجھے گھر پہنچے بمشکل 15منٹ ہی ہوئے تھے کہ فون کی گھنٹی بجی۔ میرے ہیلو کہنے پر کسی نے صرف اتنا کہا: ” آج قلعہ اس کی اسی جگہ پر پانچ بجے ضرور ملنا۔ “ اس پہلے کہ میں کوئی بات کرتا، فون ڈسکنیکٹ ہو چکا تھا۔ گھر والوں نے یہی سمجھا ہو گا کہ شاید ” خاموش فون“ تھا۔ خاموش فون ہم اسے کہتے ہیں جس کے

Read more

مہاراجا پٹیالہ کے محل میں برف کی سلوں پر تیرتی حسینائیں

” لِیلا بَھوَن“ کو پٹیالہ کے مہاراجا بھو پندر سنگھ نے اپنی نو جوانی میں پٹیالہ شہر میں بھو پندر نگر کو جانے والی سڑک پر بارہ دری باغات کے نزدیک تعمیر کروایا تھا۔ اس ایک ہی داخلی راستہ تھا، جس پر بہت بڑا آہنی پھاٹک نصب تھا۔ باغ کو جانے والا یہ راستہ بل دار تھا، اس لیے راہگیر محل کے اندر چند گز سے زیادہ آگے نہیں دیکھ سکتے تھے۔ اس محل کی فصیل تیس فٹ اونچی تھی

Read more

پاکستانی وزیرخارجہ نے نیم عریاں لڑکی سے ناک کیسے رگڑی

سیٹو کی کونسل کا ایک اور اجلاس نیوزی لینڈ میں ہوا، اوک لینڈ میں وزیراعظم نے ڈنر دیا سارے سفارتی نمائندے آئے تھے، کھانے کے بعد تقریر کرتے ہوئے انہوں نے سیٹو کے سات ممالک کے وزرائے خارجہ کو باری باری متعارف کرانا شروع کیا۔ انہیں ہر وزیر خارجہ کو متعارف کرانے کے لئے مناسب لفظ مل گئے مگر جب پاکستان کی باری آئی تو لمحے بھر کے لئے ٹھٹک گئے کہ کن الفاظ سے تعارف کرایا جائے۔ چنانچہ کہنے

Read more

مہاراجا: شیمپین سے ناشتہ، وِسکی سے ڈنر

کرنل ہِز ہائی نیس فرزنِد دل بند، راسخ الاعتقاد دولتِ انگلشیہ، راجائے راجگان، مہاراجا سر ر نبیر سنگھ راجندر بہادر جی۔ سی۔ آئی۔ ای۔ کے۔ سی۔ ایس۔ آئی وغیرہ وغیرہ بہرا تھا۔ اس نے 75 سال عمر پائی۔ اس نے اپنے راج کی گولڈن جوبلی تزک و احتشام سے منائی اور اپنی ریاست اور ہندوستان کے عوام کی نہیں بلکہ ہزامپیریل میجسٹی اور برطانوی سلطنت کی خدمات سر انجام دینے پر ہزمیجسٹی شاہِ برطانیہ شہنشاہِ ہندوستان سے اعلیٰ اعزازات حاصل

Read more

کیا یہی وہ آزادی ہے جس کا دفاع کرنے کی کوشش ہم کر رہے ہیں؟

بین الا قوامی کانفرنسوں میں انسانی عظمت، وقار، آزادی اور قومی اور انفرادی حقوق کے بارے میں ایسی ایسی لفاظی اور بے معنی تقریروں کو سننے کا موقع ملتا ہے جن کا حقیقت سے کم ہی کوئی واسطہ ہوتا ہے۔ مقررین یہ لفظ اور جملے کچھ اتنے یقین اور تسلسل سے بولتے ہیں کہ انہیں خود بھی واقعی سچ سمجھنے لگتے ہیں اور یہ بھی مانتے ہیں کہ ان معاملات میں ان کے ملک کا موقف بھی بالکل سچا ہے۔

Read more

الیکشن سے پہلے ووٹر داماد، الیکشن کے بعد امیدوار

راقم الحروف کے ایک سکھ دوست ذاتی اعتبار سے بہت دلچسپ اور لطیفہ گو ہیں۔ آپ لدھیانہ میں رہتے ہیں، اور پنجاب اسمبلی کے ممبر رہے ہیں۔ آپ جب بطور امیدوار کھڑے ہوئے تو اپنے حلقہ میں گئے۔ الیکشن میں صرف تین روز باقی تھے، اور آپ پروپیگنڈہ اور اپنا اثر رسوخ استعمال کرنے کے لئے بے حد مصروف تھے۔ کوئی اپنے ووٹ کی قیمت دس روپیہ اور کوئی ایک سو روپیہ طلب کرتا۔ کوئی شراب کی ایک بوتل پر مطمئن تھا، اور کوئی چاہتا تھا، کہ ووٹ کی قیمت کے طور پر امیدوار اس کے مقدمہ میں تحصیلدار یا مجسٹریٹ سے سفارش کرے۔ ایک ووٹر نے مطالبہ کیا، کہ اگر امیدوار گانے کی محفل منعقد کرے، اس محفل میں گانے کے لئے کسی طوائف کو منگایا جائے اور شراب کا دور ہو، تو اس ووٹر کے زیر اثر پچاس کے قریب ووٹر آپ کے حق میں ووٹ دیں گے۔

چنانچہ ” قہر ووٹر برجان امیدوار“ اسی روز آپ نے اپنا ایک نمائندہ فیروزپور بھیج کر وہاں سے مجرا کرنے والی ایک طوائف ساٹھ روپے نقد اور ریلوے کا کرایہ دے کر منگائی۔ شراب کی ایک درجن بوتلیں آئیں اور ووٹر صاحبان کی دعوت ہوئی۔ یہ امیدوار بہت دلچسپ اور لطیفہ گو ہیں۔ آپ نے جب یہ حالات دیکھے، تو اپنے ایک دوست سے کہا، ” یہ کمبخت ووٹران آئندہ تین روز میں جو بھی مطالبہ کریں گئے میں پورا کروں گا۔ کیونکہ یہ ووٹ دینے کے وقت تک اپنے آپ کو میرا داماد سمجھتے ہیں اور ناجائز مطالبات پیش کیے جا رہے ہیں۔ مگر میں آئندہ پانچ برس تک ان کا داماد بنا رہوں گا، اور ان کے ووٹ کے طفیل زیادہ سے زیادہ ذاتی مفاد حاصل کروں گا۔ چنانچہ روپیہ اور دوسرے ناجائز ذرائع استعمال کرنے کے بعد یہ سردار جی ممبر اسمبلی منتخب ہوئے، اور انہوں نے ڈنکے کی چوٹ سے لیڈری کا لطف اٹھایا۔

Read more

سرکاری افسر اور وزیر: خر سواری و خر برداری

بہت برس ہوئے، انگریزوں کے زمانہ میں انڈین سول سروس کے ایک ممبر سر جیمس فٹز پیٹرک پولٹیکل ڈیپارٹمنٹ سے ملحق تھے۔ یہ پہلے سنٹرل انڈیا کی ریاستوں میں پولٹیکل ایجنٹ رہے۔ ان کے مرحوم خان بہادر قاضی سر عزیز الدین احمد وزیر اعظم دیتا کے ساتھ گہرے دوستانہ تعلقات تھے۔ اس زمانہ میں ریاست بہاولپور اور گورنمنٹ ہند کے درمیان ایک معاہدہ تھا، جس کے مطابق گورنمنٹ آف انڈیا اپنے افسروں میں سے تین نام پیش کرتی، اور ان

Read more

ہندوستانی راجے اور حاکم کی اگاڑی

ہندوستان میں یہ کہاوت بہت مشہور ہے ” حاکم کی اگاڑی اور گھوڑے کی پچھاڑی سے ہمیشہ بچنا چاہیے“ اس کہاوت کا مطلب یہ ہے، کہ حاکم کے سامنے کبھی نہ جاؤ، کیونکہ نہ معلوم سامنے جانے والے پر حاکم کا عتاب ہی نازل ہو جائے۔ اور گھوڑے کی پچھاڑی، یعنی اس کے پیچھے کی قریب نہ جانا چاہیے۔ شاید یہ دولتی ہی مار دے۔ کیونکہ گھوڑا جب کسی پر حملہ کرتا ہے، تو اپنی پچھلی دونوں ٹانگوں سے زور

Read more

جب پاکستانی سفیر نے امریکی وزیر خارجہ کی خوب توہین کی لیکن۔۔۔۔

سفیر اپنے ملک کے مفادات کے حوالے سے ایک سے اہم رول ادا کرتا ہے۔ آج کی دنیا جب مواصلات میں ایک طرح سے انقلاب آیا ہوا ہے اور ڈپلومیسی بھی ہوا کے دوش پر سوار ہو گئی ہے اب بھی سفیر اپنے ملک کے مفادات اور صورت نمائی میں بہت بڑا وسیلہ اور ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔ مگر بہت سے نو آزاد ممالک میں جہاں انداز حکمرانی آمرانہ ہے سفیروں کے انتخاب میں قومی نہیں ذاتی ترجیحات کام کرتی

Read more

تھائی لینڈ میں پاکستانی سفیر اور رام سنگھ پہلوان کی کشتی

ایک مرتبہ میں تھائی لینڈ گیا، دیکھا کہ ہمارے سفیر بڑے دل گرفتہ اور پریشان تھے۔ میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے بڑا خوفنا ک واقعہ ہوا اس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ مجھے جو قصہ سنایا گیا وہ سچا بھی تھا اور مزیدار بھی۔ اس واقعہ سے تھوڑا عرصہ پہلے ہی تھائی لینڈ کے شاہ اور ملکہ نے پاکستان کا سرکاری دورہ کیا تھا۔ مقامی اخباروں میں اس دورے کا بڑا چرچا ہوا۔ سفیر نے بتایا

Read more

وکیل صاحب نے ساتھی لڑکی کو پیسے کی بجائے ناقابل بیان خوشی بخشی

ہندوستان نے انگلیوں پر گنے جانے والے چوٹی کے سب سے بڑے قانون دان پیدا کیے، ان میں مرحوم مسٹر نارٹن بہت اہم شخصیت تھے۔ آپ کی پریکٹس ہندوستان کے تمام صوبہ جات تک وسیع تھی۔ آپ کی آمدنی کا اندازہ پچاس ہزار روپیہ ماہوار کے قریب تھا۔ آپ یورپین ہوتے ہوئے بھی انتہائی پرو انڈین تھے۔ اور یہ واقعہ بے حد دلچسپ اور ہندوستان کی تاریخ میں بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے، کہ آپ نے اپنے زمانہ کے ہر

Read more

حسن اور شباب کی تباہ کاریاں

ہندی زبان کے مشہور شاعر بہاری نے اپنی زندگی میں صرف سات سو دوہے ( اشعار) کہے ہیں۔ اور ان سات سو دوہوں میں سے ہر دوہے کو ہندی کے دوسرے شعراء نے امرت ( آب حیات ) سے تشبیہ دی ہے۔ بہاری کا ایک دوہا ہے، جس کے معنی ہیں، کہ دنیا میں شباب اور سیلاب کو کوئی روکنے والا پیدا نہ ہوا۔ بہاری کے اس دوہے کے مطابق حسن و شباب کی فی الحقیقت پوزیشن یہ ہے، کہ

Read more

لکشمی اور سرسوتی میں عداوت

ہندو دیو مالا کے مطابق لکشمی (دولت کی دیوی) اور سرسوتی ( علم کی دیوی) دونوں بہنیں ہیں، اور ان دونوں میں پیدائشی عداوت ہے۔ نہ تو دونوں ایک جگہ جمع ہو سکتی ہیں، اور نہ ایک دوسرے کو برداشت کر سکتی ہیں۔ یعنی جہاں لکشمی ( دولت کی دیوی) ہو گی، وہاں سرسوتی ( علم کی دیوی ) نہ جائے گی، اور جہاں سرسوتی قدم رکھے گی، وہاں سے لکشمی چلی جائے گی۔ علم اور دولت کا اتحاد نہیں

Read more

بٹھنڈہ کے مسلمان ماسٹر کو بھگانے والی ستی ساوتری ہندو لڑکی

عورت اور لاٹھی ایک کہاوت ہے کہ ” عورت اور لاٹھی اس کی جس کے قبضہ میں ہو“۔ یعنی عورت جس کے قبضہ میں ہو، وہ اس کے زیر اثر ہوا کرتی ہے۔ اور لاٹھی جس کے ہا تھوں میں ہو، اسے وہ جیسے چاہے، استعمال کرے۔ عورت کے زیر اثر ہونے کے سلسلہ میں چند و اقعات سنئے:۔ تبادلہ آبادی سے پہلے کی بات ہے، بٹھنڈہ میں ایک مسلمان سکول ماسٹر وہاں ملازم تھے۔ اس سکول ماسٹر کے بالکل

Read more

ایک لیڈر کے لئے جھوٹ بولنا اور غلط وعدے کرنا لازمی ہے

سیاسی لیڈروں کی دروغ بیانیاں تبادلہ آبادی سے پہلے کا واقعہ ہے، کہ راولپنڈی جیل میں ایک بہت ہی شریف اور دیانتدار اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ سردار جاگیر سنگھ تھے، جو رشوت نہ لینے کے اعتبار سے اپنے تمام محکمہ میں شہرت رکھتے تھے، اور آج کل غالباً حصار میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ہیں۔ میں جب دہلی جیل میں تھا، تو یہ اس وقت دہلی جیل میں تھے۔ اور بعد میں جب میں لاہور گیا، تو یہ اس وقت لاہو ر جیل میں

Read more