فلوس۔ بخشیش۔ مافیش۔ وہ مکی کے بھٹبے بیچنے والوں کی صدا : ”رفیق چھلی۔ “ جو وہ لوگ ہمارے پنجابی سپاہیوں کی کشش کے لیے لگاتے اور ہمارے سپاہیوں کی اخو تِ اسلامی کا وہ منظر کہ اپنے مِصری دکانداروں کی ہزاروں ”چھلیاں“ سِربازار بھون کر اپنا پیٹ اور ان کی جیبیں بھر دیتے۔ ہمارے سپاہیوں کی اِس فالتو اخوت کا ایک مظاہرہ کبھی نہ بھولے گا۔
جیسا کہ ایک جگہ پہلے کہا جا چکا ہے، ہندوستانی مسلمان ( یا اب کہنا چاہیے پاکِستانی مسلمان) بہت سادہ ہے۔عرب ملکوں اور وہاں کے لوگوں سے اِسے والہا نہ عشِق ہے اور ہر عرب کے متعلق یہی سمجھتا ہے کہ بعد از نبی بزرگ توئی قِصہ مختصر۔ اسے یہ خوش فہمی بھی ہے کہ عرب بھی ہمیں چچازاد ہی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اکثر عربوں کو اِن رشتہ داروں کے وجود کا ہی علم نہیں ان دِنوں قاہر ہ میں میلا دالبنیؐ کا تہوار بڑی شان سے منایا جاتا تھا۔ خود شاہ ِفاروق تقریبات میں حِصہ لیتے۔ اس سال یوم میلادہیں ہمارے کیمپ کے مسلمان جوانوں نے بھی شرکت کرنا چاہی۔
چونکہ ہمارے سپاہیوں کا مصریوں کے ساتھ اختلاط کا معاملہ تھا، کرنل صاحب نے مجھے خود ساتھ جانے کو کہا کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہونے پائے ؛ چنانچہ میں صوبیدار صاحب اور کوئی پچاس جوان صاف ستھری وردیاں پہنے فوجی لاریوں میں بیٹھ کر جلسہ گاہ میں پہنچے۔ شاہ فاروق کے آنے میں ابھی کچھ وقت تھا کہ صوبیدار صاحب نے میرے کان میں کہا :
” اگراجازت دیں تو شاہ فاروق کے آنے پر ہم نعرہء تکبیر بلند کریں؟ “
میں نے کہا: ”آپ کو کیا تکلیف ہو رہی ہے جو آپ ایسی حرکت کرنا چاہتے ہیں؟ “
بولے : ”خلیفہء اسلام ہے اور ہمارا دل چاہتا ہے کہ اپنے مسلمان بادشاہ کے لیے نعرہ لگائیں۔ “
Read more