مہاراجہ نے جب یہ سنا، تو آپ نے اپنے ایک مخبر کو اصل حالات معلوم کرنے کے لئے اس سابق وزیر کے مکان پر بھیجا۔ اس مخبر نے دیکھا، کہ اس مکان میں ہون ہو رہا ہے، اور اسی برس کے ضعیف اور کمزور سابق وزیر اسی ہون کے پاس بیٹھے چنڈی دیوی کا پاٹھ کر رہے ہیں۔ مخبر نے تمام واقعہ مہاراجہ کو بتایا، تو مہاراجہ نے حکم دیا، کہ اس سابق وزیر کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا جائے۔ چنانچہ سپرنٹنڈنٹ پولیس چند پولیس کا نسٹبلوں کے ساتھ رات کو بارہ بجے اس سابق وزیر کے مکان پر گئے، اور وزیر کو گرفتار کر کے بحکم حضور مہاراجہ صاحب جیل کے اندر چھوڑ گئے۔
کیونکہ اس زمانہ میں ریاستوں میں والی ریاست کا حکم ہی قانون ہوا کرتا تھا۔ یہ واقعہ رات کو بارہ بجے ہوا۔ میں صبح جاگا، تو آٹھ بجے کے قریب ایک دوست ملنے آئے، اور انہوں نے بتایا، کہ سابق وزیر صاحب رات بارہ بجے مہاراجہ کو چنڈی کے پاٹھ کے ذریعے مسخر کرنے کے جرم میں جیل بھیج دیے گئے ہیں۔ اس واقعہ کو سن کر میں نے فیصلہ کیا، کہ مجھے اس ریاست میں ملازمت نہ کرنی چاہیے دوپہر کو میں نے مہاراجہ کو ایک خط لکھا، کہ میں یہاں اب ملازمت نہیں کرنا چاہتا، میرا استعفیٰ منظور کر لیا جائے۔
میرے اس خط کے جواب میں مہاراجہ نے اپنا آدمی بھیج کر مجھے سے دریافت کیا، میں کیوں مستعفی ہونا چاہتا ہوں اس آدمی کو میں نے جواب دیا، کہ جس ریاست میں یہ یقین نہ ہو، کہ رات کو سونے کے بعد اگلی صبح کے سورج کے شعاعیں یہ اپنے گھر میں دیکھ سکتا ہے، اور یہ شعاعیں شاید اسے جیل کی دیواروں کے اندر ہی دیکھنی ہوں گی، میں ایسی ریاست میں ملازمت نہیں کر سکتا۔ مجھے اس ریاست اور اس ریاست کے حکمران کی خدمت سے سبکدوش کر دیا جائے۔
Read more