سکھ دوشیزہ، ٹیوشن والے ماسٹر جی اور عشق کا سبق

چند برس ہوئے نئی دہلی کے سکھ انجنئیر کی لڑکی کو ایک ماسٹر جی گھر پر پڑھاتے تھے۔ ماسٹر جی لڑکی کو ایک الگ کمرے میں سبق دیتے، تاکہ لڑکی کی تعلیم میں کوئی مخل نہ ہو۔ ماسٹر جی جوان تھے، اور لڑکی بہت خوبصورت تھی۔ ماسٹر جی کی اس ٹیوشن کے ساتھ ساتھ عشق کے دیوتا نے بھی اپنا سبق دنیا شروع کر دیا۔ دونوں کے درمیان زندگی ہمیشہ مل کر گزارنے کا عہد ہوا۔ ایک روز صبح لڑکی

Read more

شریف لڑکیاں طوائف کیوں بنتی ہیں؟

آپ کسی بھی طوائف کے پچھلے حالات کی تحقیقات کریں، تو یہ ثابت ہو گا، کہ ایک دو یا تین پشت پہلے یہ اچھے خاندان سے تعلق رکھتی تھی، اور اگر اس نے شادی کر لی، تو دو تین یا چار پشت کے بعد لوگ اس کی طوائفیت کو بھول کیے۔ ان طوائفوں کی انسٹی ٹیوشن یا نسل میں اضافہ ہوتا ہے، تو اس صورت میں، کہ شرفاء کی لڑکیاں بری صحبت کے باعث گھروں سے نکل جاتی ہیں۔ گھروں

Read more

تبادلہ آبادی اور جنونیت کا رقص

مہاراجہ نے جب یہ سنا، تو آپ نے اپنے ایک مخبر کو اصل حالات معلوم کرنے کے لئے اس سابق وزیر کے مکان پر بھیجا۔ اس مخبر نے دیکھا، کہ اس مکان میں ہون ہو رہا ہے، اور اسی برس کے ضعیف اور کمزور سابق وزیر اسی ہون کے پاس بیٹھے چنڈی دیوی کا پاٹھ کر رہے ہیں۔ مخبر نے تمام واقعہ مہاراجہ کو بتایا، تو مہاراجہ نے حکم دیا، کہ اس سابق وزیر کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا جائے۔ چنانچہ سپرنٹنڈنٹ پولیس چند پولیس کا نسٹبلوں کے ساتھ رات کو بارہ بجے اس سابق وزیر کے مکان پر گئے، اور وزیر کو گرفتار کر کے بحکم حضور مہاراجہ صاحب جیل کے اندر چھوڑ گئے۔

کیونکہ اس زمانہ میں ریاستوں میں والی ریاست کا حکم ہی قانون ہوا کرتا تھا۔ یہ واقعہ رات کو بارہ بجے ہوا۔ میں صبح جاگا، تو آٹھ بجے کے قریب ایک دوست ملنے آئے، اور انہوں نے بتایا، کہ سابق وزیر صاحب رات بارہ بجے مہاراجہ کو چنڈی کے پاٹھ کے ذریعے مسخر کرنے کے جرم میں جیل بھیج دیے گئے ہیں۔ اس واقعہ کو سن کر میں نے فیصلہ کیا، کہ مجھے اس ریاست میں ملازمت نہ کرنی چاہیے دوپہر کو میں نے مہاراجہ کو ایک خط لکھا، کہ میں یہاں اب ملازمت نہیں کرنا چاہتا، میرا استعفیٰ منظور کر لیا جائے۔

میرے اس خط کے جواب میں مہاراجہ نے اپنا آدمی بھیج کر مجھے سے دریافت کیا، میں کیوں مستعفی ہونا چاہتا ہوں اس آدمی کو میں نے جواب دیا، کہ جس ریاست میں یہ یقین نہ ہو، کہ رات کو سونے کے بعد اگلی صبح کے سورج کے شعاعیں یہ اپنے گھر میں دیکھ سکتا ہے، اور یہ شعاعیں شاید اسے جیل کی دیواروں کے اندر ہی دیکھنی ہوں گی، میں ایسی ریاست میں ملازمت نہیں کر سکتا۔ مجھے اس ریاست اور اس ریاست کے حکمران کی خدمت سے سبکدوش کر دیا جائے۔

Read more

عورت میں بچے کی قدرتی خواہش

ہندو متھیالوجی کے مطابق اس شخص کی نجات ممکن ہی نہیں، جس کے ہاں اولاد نہ ہو۔ یعنی ایک ہندو کی نجات تب ہی ممکن ہے، اگر اس کے مرنے کے بعد اس کی اولاد اس کی روح کو ثواب پہنچانے کے لئے خیرات کرے، جسے شرادھ کہا جاتا ہے۔ اور ہندوؤں کے علاوہ دوسری اقوام میں اولاد کو بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔ کیونکہ عام طور پر یہ یقین کیا جاتا ہے، کہ اولاد جوان ہونے پر اپنے والدین کے لئے ایک آسرا ثابت ہو گی۔

جن عورتوں کے بطن سے اولاد پیدا ہو، وہ بہت مطمئن رہتی ہے، اور جن کے ہاں کوئی اولاد نہ ہو، یعنی یہ بانجھ ہوں، ان کی زندگی کا خوشگوار بسر ہونا ممکن ہی نہیں۔ اولاد سے محروم ہونا ان کے لئے قدم قدم پر تکلیف کا باعث ہوتا ہے۔ کیونکہ اولاد سے محروم عورت نہ صرف خود ہمیشہ مغموم رہتی ہے، بلکہ یہ سوسائٹی میں بھی قابل و قعت قرار نہیں دی جاتی۔ اور عزیز و اقارب کو چھوڑ کر اگر شادی کے بعد دو تین برس عورت کے بطن سے کوئی بچہ پیدا نہ ہو، تو اس عورت کی ساس اپنی بہو کے متعلق تشویش محسوس کرتے ہوئے اس خیال میں مصروف ہو جاتی ہے، اس کے بیٹے کی دوسری شادی ہو، اور اکثر حالتوں میں دوسری شادی کر دی جاتی ہے، جو پہلی بیوی کے لئے ناقابل برداشت مصائب و مشکلات کا باعث ہوتی ہے۔

Read more

بلیک مارکیٹ کے روشن پہلو

1942 ء میں جب مہاتما گاندھی اور کانگرسی لیڈر گرفتار ہوئے، تو اس سے پہلے نہ تو ہندوستان میں زیادہ گرانی تھی، اور نہ بلیک مارکیٹ۔ کانگرسی لیڈروں کے گرفتار ہوتے ہی بازار میں ہر شے کی قیمتیں چڑھ گئیں، اور بلیک مارکیٹ کا زور ہو گیا۔ میں بھی کانگرسی اصحاب کے ساتھ گرفتار ہوا تھا۔ حالانکہ میں نہ کبھی کا نگرسی تھا، اور نہ اب کانگرسی ہوں۔ صرف ایک بار مرحوم مولانا عارف ہسوی مجھ سے چار آنہ کانگرس کی۔ ممبری کے چندہ نام پر لے گئے تھے۔

میں اگست 1942 ء میں گرفتار ہوا، اور 1943 ء کے آخر میں نظر بندی سے رہا کیا گیا۔ اس رہائی کے بعد میں نے دیکھا، کہ دہلی کا نقشہ ہی بدلا ہوا ہے۔ ہر شے بلیک مارکیٹ میں فروخت ہو رہی ہے، اور کوئی مکان بھی بغیر ”پگڑی“ ( یعنی مکان کرایہ پر لو، تو کرایہ کے علاوہ چند سو یا ہزار روپیہ بغیر لکھت پڑھت کے بطور رشوت دو ) نہیں مل سکتا۔ اس زمانہ کے حالات کو دیکھتے ہوئے ملا واحدی صاحب ایڈیٹر ”نظام المشائخ“ نے ایک واقعہ لکھا :۔

Read more

مذہب قاضی الحاجات

عربی زبان میں روپیہ اور دولت کو قاضی الحاجات، ضروریات پوری کرنے والا ( کیونکہ روپیہ دے کر اس سے ہر شے خریدی جا سکتی ہے) قرار دیا گیا ہے۔ مگر جہاں تک مذہبی کتابوں میں سے اپنے مطلب کی بات حاصل کرنے کا تعلق ہے، مذہب کو بھی قاضی الحاجات قرار دیا جانا چاہیے۔ کیونکہ ہر مذہبی مجاور اپنی ضروریات کے مطابق اپنے حق میں مذہبی قول پیش دیتا ہے۔ اس سلسلہ کے دو دلچسپ واقعات پیش کرتا ہوں۔

Read more

گناہگاروں کی بے گناہیاں

اس زمانہ پنجاب کی منڈیوں میں دو بڑی یورپین فرموں کے دفاتر ہوتے تھے، ایک سنڈے پیٹرک کمپنی اور دوسری ریلی برادرز۔

ان دونوں کمپنیوں کا کام یہ تھا، کہ یہ ان منڈیوں سے اناج خرید کر یورپ بھیجتیں، اور ان دونوں فرموں کے ذریعے پنجاب کا کروڑ ہا من غلہ ہر سال یورپ جاتا۔ حافظ آباد کی اس منڈی کے بالکل قریب ایک بہت بڑا احاطہ تھا۔ منڈی کا جو دکاندار ان کمپنیوں کے پاس اپنا غلہ فرخت کرتا، غلہ فروخت کرنے سے پہلے اس احاطہ کو استعمال کرتا۔ جس کی صورت یہ تھی، کہ جتنا غلہ فروخت کرنا ہوتا، وہ اس احاطہ میں ایک طرف جمع کر دیا جاتا، اور دوسری طرف مٹی کا بہت بڑا ڈھیر لگا دیا جاتا۔ یہ مٹی چھلنی میں چھنی ہوئی بہت باریک ہوتی، اور چکنی ( یعنی جس مٹی میں چپکنے کی صفت ہو ) ہوا کرتی۔ سب سے پہلے احاطہ میں چند انچ اونچائی میں غلہ بچھا دیا جاتا، پھر اس پر چکنی مٹی کا پاؤڈر ڈالا جاتا۔

چکنی مٹی کے پاؤڈر کو غلہ پر ڈالنے سے پہلے غلہ پر مشکوں کے ذریعے پانی کا چھڑکاؤ کیا جاتا، اور پھر مزدور اس غلہ، پانی اور مٹی کے مکچر کو پاؤں کے ساتھ چند منٹ ہلاتے، تاکہ گیلی مٹی غلہ کے ساتھ چپک جائے۔ اس کے بعد پھر نیا غلہ چند انچ تک اونچائی میں بچھایا جاتا، پھر چھڑکاؤ ہوتا، اور پھر مٹی ڈال کر مزدوروں سے پاؤں کے ذریعے ملایا جاتا، اور اس طرح غلہ کا یہ ڈھیر دس دس پندرہ اور بیس بیس فٹ بلند چلا جاتا، اور پھر اس کو بوریوں میں بھرا جاتا۔

Read more

نشہ، پولیس اور اقبالِ جرم

دہلی کے ڈاک خانہ میں سے ایک بیمہ چوری ہو گیا، جو غالباً بیس ہزار روپیہ کا تھا، اور یہ بیمہ بنک نے اپنی دہلی برانچ کو بھیجا تھا۔ بیمہ کے گم ہونے پر ڈاک خانہ کے پوسٹ ماسٹر نے پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس تحقیقات کے لئے آئی، اور ڈاک خانہ کا ایک کلرک اس سلسلہ میں گرفتار کیا گیا، جو شراب پینے کا عادی تھا۔ اس کلرک کو گرفتار کر کے حوالات بھیج دیا گیا۔ اس مقدمہ کی تحقیقات پر ایک سکھ انسپکٹر پولیس مقر ر ہوا، جس کا نام غالباً سردار جسونت سنگھ تھا۔

ان سردار جسونت سنگھ نے تحقیقات کے سلسلہ میں بہت کوشش کی، کہ بیمہ کا پتہ چل سکے، اور آپ نے وہ کچھ بھی کیا، جو پولیس عام طور پر مشتبہ ملزموں کے ساتھ کرتی ہے، مگر کلرک جرم سے انکار ہی کرتا رہا۔ یہ تحقیقات ایک ہفتہ تک جاری رہی۔ سردار جسونت سنگھ ہر روز ہی اس کلرک سے ”انٹیرو گیشن“ کرتے رہے اور ”تھری ڈگری“ طریقے بھی استعمال ہوئے، مگر کلرک نے جرم کا اقرار نہ کیا۔

Read more

جنسی کمزوری کا بوٹ پالش سے علاج

جنسی احساس کمتری کے سلسلہ کا ایک واقعہ بیان کرتا ہوں، جو دلچسپ اور افسو سناک بھی ہے۔ جرنلزم کا پیشہ اختیار کرنے سے پہلے میں میڈیکل پریکٹس کرتا تھا۔ اور طبی دنیا کی نئی ایحادات سے مجھے دلچسپی تھی، جو اب بھی قائم ہے۔ میں نئی ایجاد ہونے والی ادویات کی فہرسیتں اور لٹریچر منگاتا رہتا ہوں، اور اگر کوئی اچھا ڈاکٹر ملنے کے لئے آجائے، تو بعض بیماریوں کے متعلق اس سے بھی دیر تک بحث ہوا کرتی ہے۔ میں ناگپور جیل میں تھا، تو اس جیل کا سٹاف مجھ سے بہت اچھی طرح پیش آتا، کیونکہ یہ لوگ اخبارات کے اثرات سے واقف تھے۔

جیل کے سپرنٹنڈنٹ کرنل موڈی تو دوسرے تیسرے روز میرے پاس آیا کرتے، اور میری ضروریات دریافت کرتے۔ مگر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ ہر روز صبح میرے پاس آتے، اور اس کے بعد شام کو قیدیوں کی گنتی کرنے اور بارکیں بند کرنے کے بعد میرے پاس آ جاتے۔ وہاں ہی چائے پیتے، کیونکہ میرے پاس بسکٹ، انڈے اور پھل وغیرہ کافی مقدار میں موجود رہتے، اور ایک آدھ گھنٹہ باتیں کرتے۔ ایک روز باتوں باتو ں میں ری جووی نیشن ( اعادہ شباب ) کے مسئلہ پر ذکر شروع ہو گیا، تو میں نے اپنی معلومات کے مطابق ان کو بتایا، کہ بڑھاپا کیوں آتا ہے اور شاب اور قوت کو قائم رکھنے کے لئے کیا کرنا چاہیے؟ یہ باتیں ایک گھنٹہ کے قریب ہوتی رہیں۔

Read more

انگریز کی خفیہ پولیس اور ایک انقلابی کی کایا پلٹ

پچھلی نصف صدی میں دنیا میں جن لوگوں کو سیاسی اعتبار سے بہت بڑی بین الاقوامی شہرت نصیب ہوئی، ان میں مرحوم مسٹرایم۔ این رائے ایک اہم شخصیت تھے۔ آپ امپر یلزم کے بہت سخت دشمن اور کٹر کلاس کے کمیونسٹ تھے۔ چنانچہ موجودہ نوجوان حلقہ ابھی پیدا بھی نہ ہوا تھا، کہ آپ ہندوستان سے روس چلے گئے، وہاں مشہور انقلاب پسند مسٹر لینن کے ساتھیوں میں شامل ہو گئے۔

مسٹر رائے نے لینن کے ساتھیوں میں شامل ہونے کے بعد درجنوں بار دنیا کے مختلف ممالک کا سفر کیا، مگر غلط نام سے اور جعلی پاسپورٹوں اور ویزوں کے ساتھ، آپ ہندوستان میں جب 1930 ء میں گرفتار ہوئے، تو اس وقت بھی آپ کے پاس ایک غلط نام کا جعلی پاسپورٹ تھا۔ اور اس موقعہ پر جس ڈرامائی انداز میں آپ گرفتاری ہوئی، وہ بہت ہی دلچسپ اور برٹش گورنمنٹ کے جاسوسی کے وسیع ذریعہ کا ثبوت ہے۔ مسٹر رائے تاج محل ہوٹل بمبئی میں مقیم تھے۔ آپ اگلے روز جہاز کے ذریعہ انگلستان جانے والے تھے۔ آپ کی سیٹ اس جہاز میں ریزرو ہو چکی تھی، کہ علی الصبح چار بجے پولیس نے آپ کو تاج محل ہوٹل کے کمرہ سے گرفتار کر لیا۔

Read more

ایڈیٹروں کی قلابازیاں

اردو جرنلزم کی پچھلی نصف صدی میں کیا حالت تھی، اس سلسلہ کے چند واقعات دلچسپی سے خالی نہ ہوں گے۔ صحافتی کورٹ فیس ”ریاست“ کے عروج کے زمانہ میں راقم الحروف دوستوں سے ملنے کے لئے مہینہ میں ایک آدھ بار دہلی سے لاہور ضرور جایا کرتا، اور یہ سفر صرف ایک دن کا ہوتا، کیونکہ مصروفیت کے باعث اس سے زیادہ وقت نہ دیا جا سکتا تھا۔ یعنی رات کو فرنٹیر میل میں دہلی سے سوار ہوتا، اگلی

Read more

مہارانیوں اور بیگمات کی بیچارگیاں

یہ مسئلہ بہت دلچسپ، بہت دقیق اور مردوں کے لئے بہت ہی غور طلب ہے، کہ عورت کیا چاہتی ہے؟ یعنی شادی کے بعد عورت کیونکر اپنے شوہر کے ساتھ خوشگوار، مطمئن اور پرکیف زندگی بسر کر سکتی ہے۔ کیونکہ اگر تحقیقات کی جائے، تو نوے فیصدی عورتیں شادی کے بعد ایک غلامانہ زندگی بسر کرتے ہوئے ذہنی اور قلبی عذاب میں مبتلا ہیں۔ گو یہ بے زبان ہونے کے باعث کسی سے بھی اپنی پر عذاب زندگی کا اظہار

Read more

مہارانی چرکھاری پر برے ستاروں کے اثرات

بعض بچوں کی پیدائش ایسے برے ستاروں کے زیر اثر ہوتی ہے، کہ وہ زندگی بھر مصائب و مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ ا ن بے چار وں کو سکھ اور آرام کا ایک دن بھی نصیب نہیں ہوتا۔ ایسے لوگوں میں سے ہی مرحوم مہاراجہ چرکھاری کی پہلی بیو ی تھیں۔ مہاراجہ چرکھاری کی یہ بیوی مہاراجہ با نسواڑہ کی بیٹی تھیں۔ ابھی بچپن کا زمانہ تھا، کہ ان کی والدہ نے انتقال کیا، اور یہ سوتیلی والدہ کے

Read more

شرنارتھیوں کا دھرنا باز روحانی بزرگ، پنڈت نہرو اور انوکھی سودے بازی

دو برس کی بات ہے، سبزی منڈی کے گھنٹہ گھر کے باہر بہاولپور کے ایک شرنار تھی مسٹر رائے (ان کے نام کے ساتھ رائے تھا۔ مثلاً جسونت رائے، کلونت رائے یا دلباغ رائے۔ مجھے ان کا پورا نام تو یاد نہیں۔ میں ان کو مسٹر رائے کے نام سے ہی مخاطب کیا کرتا) سبزی فروخت کرتے، اور سبزی کے کاروبار میں ایک دو روپیہ روزانہ پیدا کر لیتے۔ ہاں کوئی بال بچہ نہ تھا۔ گھر میں صرف ایک بیوی

Read more

میری بدنامی کے دو قصے

ہندوستان میں تو ایک کہاوت مشہور ہے ” بد سے بدنام برا“۔ یعنی پبلک کی نگاہوں میں کوئی برے سے برا شخص بھی اتنا قابل تعزیر قرار نہیں دیا جاتا، جتنا کہ بری شہرت رکھنے والا۔ یعنی بدنام، اور انگریزی کے ایک مصنف اور ایل الرائے نے کہا ہے، کہ:۔ ” مجھے ان لوگوں کے ساتھ ہمدردی ہے، جو نے نقاب ہو گئے“۔ یعنی پبلک کی نگاہوں میں صرف وہی لوگ مجرم قرار دیے جاتے ہیں، جو بے نقاب ہو

Read more

پولیس اور مجسٹریٹوں کی جنگ اور ریل پر ڈاکہ

یورپ اور امریکہ کی پولیس تو جرائم کا سراغ سائنٹفک طریقوں سے لگاتی ہے، اور شاید ہی کوئی ایسا مقدمہ ہو گا، جس میں ان کو سائنٹفک طریقوں کو اختیا ر کرتے ہوئے کامیابی نہ ہو۔ چنانچہ مقدمہ میں شیشوں پر لگے ہوئے انگلیوں اور ہاتھوں کے نشانات، پستول اور بندوق میں سے نکلی ہوئی گولی اور نالی کے اندر کے فوٹو، السیشن کتوں کے ذریعے کپڑوں اور خون کی بو، موٹروں کے ٹائروں کے گھسے ہوئے حصہ کے نشان،

Read more

الیکشن سے پہلے ووٹر داماد، الیکشن کے بعد امیدوار

راقم الحروف کے ایک سکھ دوست ذاتی اعتبار سے بہت دلچسپ اور لطیفہ گو ہیں۔ آپ لدھیانہ میں رہتے ہیں، اور پنجاب اسمبلی کے ممبر رہے ہیں۔ آپ جب بطور امیدوار کھڑے ہوئے تو اپنے حلقہ میں گئے۔ الیکشن میں صرف تین روز باقی تھے، اور آپ پروپیگنڈہ اور اپنا اثر رسوخ استعمال کرنے کے لئے بے حد مصروف تھے۔ کوئی اپنے ووٹ کی قیمت دس روپیہ اور کوئی ایک سو روپیہ طلب کرتا۔ کوئی شراب کی ایک بوتل پر مطمئن تھا، اور کوئی چاہتا تھا، کہ ووٹ کی قیمت کے طور پر امیدوار اس کے مقدمہ میں تحصیلدار یا مجسٹریٹ سے سفارش کرے۔ ایک ووٹر نے مطالبہ کیا، کہ اگر امیدوار گانے کی محفل منعقد کرے، اس محفل میں گانے کے لئے کسی طوائف کو منگایا جائے اور شراب کا دور ہو، تو اس ووٹر کے زیر اثر پچاس کے قریب ووٹر آپ کے حق میں ووٹ دیں گے۔

چنانچہ ” قہر ووٹر برجان امیدوار“ اسی روز آپ نے اپنا ایک نمائندہ فیروزپور بھیج کر وہاں سے مجرا کرنے والی ایک طوائف ساٹھ روپے نقد اور ریلوے کا کرایہ دے کر منگائی۔ شراب کی ایک درجن بوتلیں آئیں اور ووٹر صاحبان کی دعوت ہوئی۔ یہ امیدوار بہت دلچسپ اور لطیفہ گو ہیں۔ آپ نے جب یہ حالات دیکھے، تو اپنے ایک دوست سے کہا، ” یہ کمبخت ووٹران آئندہ تین روز میں جو بھی مطالبہ کریں گئے میں پورا کروں گا۔ کیونکہ یہ ووٹ دینے کے وقت تک اپنے آپ کو میرا داماد سمجھتے ہیں اور ناجائز مطالبات پیش کیے جا رہے ہیں۔ مگر میں آئندہ پانچ برس تک ان کا داماد بنا رہوں گا، اور ان کے ووٹ کے طفیل زیادہ سے زیادہ ذاتی مفاد حاصل کروں گا۔ چنانچہ روپیہ اور دوسرے ناجائز ذرائع استعمال کرنے کے بعد یہ سردار جی ممبر اسمبلی منتخب ہوئے، اور انہوں نے ڈنکے کی چوٹ سے لیڈری کا لطف اٹھایا۔

Read more

سرکاری افسر اور وزیر: خر سواری و خر برداری

بہت برس ہوئے، انگریزوں کے زمانہ میں انڈین سول سروس کے ایک ممبر سر جیمس فٹز پیٹرک پولٹیکل ڈیپارٹمنٹ سے ملحق تھے۔ یہ پہلے سنٹرل انڈیا کی ریاستوں میں پولٹیکل ایجنٹ رہے۔ ان کے مرحوم خان بہادر قاضی سر عزیز الدین احمد وزیر اعظم دیتا کے ساتھ گہرے دوستانہ تعلقات تھے۔ اس زمانہ میں ریاست بہاولپور اور گورنمنٹ ہند کے درمیان ایک معاہدہ تھا، جس کے مطابق گورنمنٹ آف انڈیا اپنے افسروں میں سے تین نام پیش کرتی، اور ان

Read more

ہندوستانی راجے اور حاکم کی اگاڑی

ہندوستان میں یہ کہاوت بہت مشہور ہے ” حاکم کی اگاڑی اور گھوڑے کی پچھاڑی سے ہمیشہ بچنا چاہیے“ اس کہاوت کا مطلب یہ ہے، کہ حاکم کے سامنے کبھی نہ جاؤ، کیونکہ نہ معلوم سامنے جانے والے پر حاکم کا عتاب ہی نازل ہو جائے۔ اور گھوڑے کی پچھاڑی، یعنی اس کے پیچھے کی قریب نہ جانا چاہیے۔ شاید یہ دولتی ہی مار دے۔ کیونکہ گھوڑا جب کسی پر حملہ کرتا ہے، تو اپنی پچھلی دونوں ٹانگوں سے زور

Read more

وکیل صاحب نے ساتھی لڑکی کو پیسے کی بجائے ناقابل بیان خوشی بخشی

ہندوستان نے انگلیوں پر گنے جانے والے چوٹی کے سب سے بڑے قانون دان پیدا کیے، ان میں مرحوم مسٹر نارٹن بہت اہم شخصیت تھے۔ آپ کی پریکٹس ہندوستان کے تمام صوبہ جات تک وسیع تھی۔ آپ کی آمدنی کا اندازہ پچاس ہزار روپیہ ماہوار کے قریب تھا۔ آپ یورپین ہوتے ہوئے بھی انتہائی پرو انڈین تھے۔ اور یہ واقعہ بے حد دلچسپ اور ہندوستان کی تاریخ میں بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے، کہ آپ نے اپنے زمانہ کے ہر

Read more

حسن اور شباب کی تباہ کاریاں

ہندی زبان کے مشہور شاعر بہاری نے اپنی زندگی میں صرف سات سو دوہے ( اشعار) کہے ہیں۔ اور ان سات سو دوہوں میں سے ہر دوہے کو ہندی کے دوسرے شعراء نے امرت ( آب حیات ) سے تشبیہ دی ہے۔ بہاری کا ایک دوہا ہے، جس کے معنی ہیں، کہ دنیا میں شباب اور سیلاب کو کوئی روکنے والا پیدا نہ ہوا۔ بہاری کے اس دوہے کے مطابق حسن و شباب کی فی الحقیقت پوزیشن یہ ہے، کہ

Read more

لکشمی اور سرسوتی میں عداوت

ہندو دیو مالا کے مطابق لکشمی (دولت کی دیوی) اور سرسوتی ( علم کی دیوی) دونوں بہنیں ہیں، اور ان دونوں میں پیدائشی عداوت ہے۔ نہ تو دونوں ایک جگہ جمع ہو سکتی ہیں، اور نہ ایک دوسرے کو برداشت کر سکتی ہیں۔ یعنی جہاں لکشمی ( دولت کی دیوی) ہو گی، وہاں سرسوتی ( علم کی دیوی ) نہ جائے گی، اور جہاں سرسوتی قدم رکھے گی، وہاں سے لکشمی چلی جائے گی۔ علم اور دولت کا اتحاد نہیں

Read more

بٹھنڈہ کے مسلمان ماسٹر کو بھگانے والی ستی ساوتری ہندو لڑکی

عورت اور لاٹھی ایک کہاوت ہے کہ ” عورت اور لاٹھی اس کی جس کے قبضہ میں ہو“۔ یعنی عورت جس کے قبضہ میں ہو، وہ اس کے زیر اثر ہوا کرتی ہے۔ اور لاٹھی جس کے ہا تھوں میں ہو، اسے وہ جیسے چاہے، استعمال کرے۔ عورت کے زیر اثر ہونے کے سلسلہ میں چند و اقعات سنئے:۔ تبادلہ آبادی سے پہلے کی بات ہے، بٹھنڈہ میں ایک مسلمان سکول ماسٹر وہاں ملازم تھے۔ اس سکول ماسٹر کے بالکل

Read more