کپتان کی سیاسی وراثت اور غیر ملکی سفارت کاروں کی پریشانی


کپتان کی پومپیو سے ون ٹو ون ملاقات ہوئی تھی؟ یہ سوال اچانک ہی چل پڑا تھا وٹس ایپ پر۔ پتہ وتہ کر کے معلوم ہوا کہ نہیں ہوئی تھی۔ نہ کسی نے ایسی خواہش ظاہر کی نہ ہماری طرف سے کوئی بے تابی تھی۔ پی ٹی آئی والوں کا کہنا تھا کہ اگر وہ ملنا چاہتے تو ملاقات ہو جاتی۔

امریکیوں کا کہنا تھا ہم نے ایسی کوئی خواہش ہی ظاہر نہیں کی تھی۔ پھر یہ سوال کیسے چل پڑا۔ سفارتی حلقوں میں یہ سوال گرم جلیبی کی طرح چل رہا تھا۔ بے وثوق سے پتہ کیا تو اس نے بتایا کہ امریکی سیکیورٹی ایڈوائزر نے کہیں کھڑے کھڑے بلاوجہ ہی چھوڑی ہے کہ پومپیو کی کپتان سے کوئی ملاقات ہوئی ہی نہیں۔

جب اس سے اک صحافی نے اس سے پوچھا کہ ”اس کا مطلب؟“ تو آگے سے اس بزرگ نے کندھے اوپر نیچے کر کے دکھا دیے۔ سفارتکار ویلے ہوتے ہیں انہیں ٹیوے لگانے کو اک ایشو مل گیا تو وہ شروع ہو گئے۔

حاصل وصول اتنا ہے کہ پومپیو دورے کے بعد کسی کا اس جانب دھیان ہی نہیں گیا تھا کہ جو سٹیٹ منٹ امریکیوں نے جاری کی ہے اس میں ہر بات کے لیے حوالہ باجوہ صاحب سے بات چیت کا ہی دیا گیا ہے۔ حتی کہ جمہوریت کی لمبی عمر کی دعائیں اور بلائیں بھی اسی ملاقات کا حوالہ دے کر بتائی گئی ہیں۔ یعنی پومپیو باجوہ ملاقات ہی کو حاصل دورہ سمجھا اور بتایا گیا ہے۔

قریشی صاحب نے ترلے کر کر کے فرانس کے صدر سے کپتان کو فون کرا کر ہی بس کی۔ اس کے لیے انہوں نے پہلے خود فرنچ وزیرخارجہ کو ٹیلی فون کیا۔ صورتحال سنبھالی کوئی وضاحت بھی دی ہو گی۔ بہرحال یہ کام وہ کر ہی گزرے۔

سفارتی محاذ پر نئی حکومت ابھی معاملات سنبھالتی پھر رہی ہے۔ ایک اہم اور طاقتور ملک نے ہمارے منتخب وزیراعظم اور صدر کو مبارکباد کا پیغام دینے کی زحمت ہی نہیں کی۔ ان کے سفارتخانے کا جواب بڑا دلچسپ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنی حکومت کو ایسا کوئی مشورہ دیا ہی نہیں۔ ہم کچھ کہتے تو وہ آگے سے کوئی ہاں ناں کرتے۔

کئی عرب ملک بھی نہایت غیر متعلق ہیں صورتحال سے۔ نارتھ افریقہ کے عرب ممالک میں بھی کسی قسم کا جوش نہیں پایا جاتا۔ وہ بھی سکون سے بیٹھے ہیں۔ گرم جوشی میں یہ کمی حکومت کے حوالے سے ہی دکھائی دے رہی ہیں۔

نوازشریف جب پیرول پر رہا ہو کر جاتی عمرا پہنچے تو سب سے پہلے ان کے پاس تعزیت کے لیے پہنچنے والے سعودی سفیر تھے۔ امیر قطر نے ہماری نئی حکومت کو مبارکباد کا پیغام بھجوایا تھا۔ نوازشریف کے پاس تعزیت کے لیے امیر قطر نے اپنے بھائی کو بھجوایا۔ بہت سے ایسے سفیر بھی جاتی عمرا پہنچ گئے، جنہوں نے ابھی نئی حکومت کو مبارک باد تک نہیں دی۔

اک یورپی سفارتکار کا یہ ماننا ہے کہ اب ان کا فوکس پنڈی کی طرف رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور ادارے بظاہر اک مک ہیں۔ پر یہ سب ہی جانتے ہیں کہ اس حکومت کو طاقت کہاں سے مل رہی ہے۔ یا طاقت کا اصل مرکز کون سا ہے۔

نئی حکومت نے آتے ہی سی پیک کے حوالے سے اچانک کئی سارے بیان دیے۔ پھر ہم نے دیکھا کہ چینی سفیر ہمارے آرمی چیف سے ملنے پنڈی پہنچتے ہیں۔ اب اچانک جنرل باجوہ تین روزہ دورے پر بیجنگ چلے گئے ہیں۔ شاید یہ نئی حکومت کی ناتجربہ کاری ہی ہے جس کی وجہ سے انہیں سفارتی حوالے سے بھی سرگرم ہونا پڑ رہا ہے۔

خبریں آ رہی ہیں کہ وہ کپتان کے ساتھ اس کے پہلے دورے پر سعودیہ کے لیے بھی ہمراہ ہوں گے۔

سفارتی حلقوں میں مستقل منڈلاتے رہنے والے ہمارے بے وثوق کا تبصرہ دلچسپ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیاسی قیادت شفٹ ہو رہی ہے۔ ساری ہی پاکستانی پارٹیوں میں نئی قیادت سامنے آتی دکھائی دے رہی ہے۔ سارے اہم دارالحکومت نئی ابھرنے والی پاکستانی قیادت سے رابطے بڑھا رہے ہیں۔

یہ اک روٹین سا بیان تھا، اس لیے اسے جمائیاں لیتے ہی سنا۔ اصل بم اس بیان کے بعد پھوڑا ہمارے بے وثوق نے۔ اس کا کہنا تھا کہ سب ہی سمجھتے ہیں کہ نوجوانوں کی جماعت پی ٹی آئی کی قیادت بھی بوڑھی ہوئی پڑی ہے۔ اس کا مستقبل غیر یقینی ہے۔

گو کہ جمائمہ نے بیان وغیرہ دیا کہ اس کے بچے پاکستان آنا چاہ رہے تھے۔ کپتان نے اجازت نہیں دی۔ کپتان بہت ٹھیک سمجھتا ہے کہ ابھی تک یہودی کنیکشن کے الزامات سہہ رہا ہے۔ بچوں پر تو یہ الزام مزید براہ راست بھی لگیں گے اور اثر انگیز بھی ہوں گے۔

اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کپتان اپنی بیگم کی بیٹی کو آگے لانے کا بھی سوچتے رہے۔ پاکستانی ماحول میں یہ بھی کوئی چلنے والا آپشن نہیں ہے۔

پاکستانی سیاست کو قریب سے دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی مزید مضبوط ہو گی۔ اس کے لیے کپتان بہت ٹھیک روٹ لے رہا ہے۔ مقامی حکومتوں کے نئے نظام اور الیکشن کے ذریعے وہ اپنی جماعت کو گلی محلے کی سطح تک منظم کر لے گا۔ پی ٹی آئی بھی ویسی ہی تنظیمی مشین میں ڈھل جائے گی جیسی مسلم لیگ نون رہی ہے۔

اصل سوال پھر بھی برقرار ہے۔ کپتان کی سیاسی وراثت کدھر کو جائے گی۔ یہ سوال ہم پاکستانی نہیں سوچ رہے۔ نہ ہمارے لیے اہم ہے۔ یہ سوال وہ سوچ رہے ہیں جن کے لیے پاکستان اس کی سیاست اہم ہے۔ وہی یہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں سیاست سیاسی عصبیت کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ یہ عصبیت وراثت کی طرح ٹرانسفر ہوتی ہے پاکستان میں۔

ایسا سمجھنے والے ہمارے بیرونی دوست اور شریک کپتان کی سیاست کو کم عمر مانتے ہوئے ان سے رابطے رکھنے پر مجبور ہیں جن کے سیاسی وارث سامنے موجود ہیں۔
یہ کپتان کا نواں پاکستان ہے۔ کیا کپتان ہمیں ہماری سیاست کو اتنا بدل سکے گا کہ یہ سب کچھ بے معنی ہو کر رہ جائے۔


وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 407 posts and counting.See all posts by wisi