وزیراعظم ہاوس کی بھینسوں نے مزید کیا سوچا ہے


تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید نے انکشاف کیا ہے کہ ” بھینسیں سوچ رہی ہیں کہ عوام کے پیسے سے انہیں خریدا گیا ہے- پہلے کبھی بھینسیں نہیں رکھیں- اب سوچ رہا ہوں- بھینسیں بھی خوش ہیں کہ انہیں آزادی ملے گی”-
جب یہ خبر مالکان الیکٹرونک میڈیا تک پہنچی، تو نئے پاکستان کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے والے ٹی وی چینل کے ارباب اختیار نے اپنی خاتون اینکر کو وزیراعظم ہائوس کا دورہ کرنے پر آمادہ کیا اور خصوصی طور پر بھینسوں کی فوٹیج و کوریج عوام تک پہنچانے کی ہدایت کی-

خاتون اینکر وزیراعظم ہائوس کی کوریج کے دوران حسب معمول انتہائی پرجوش پائی گئیں- اینکر صاحبہ پرانے پاکستان کے وزیراعظم ہائوس کے ہر گوشے کا معائنہ کرنے اور جائزہ لینے کے بعد اس مقام پر جا پہنچیں، جہاں وزیراعظم ہائوس کی 102 موٹر گاڑیاں نیلامی کے لیے تیار کھڑی ہیں- اینکر صاحبہ نے ہر گاڑی کے پاس پہنچ کر یہ جاننے کی کوشش کی، کہ گاڑیاں تو کچھ نہیں سوچ رہیں لیکن جب ان کو اندازہ ہوگیا، گاڑیاں ایک عرصے سے بے جان ہیں اور ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفقود ہوگئی ہے، تو انہوں نے بھینسوں کے باڑے کی طرف رخ کیا-

کچھ بھینسیں کھانے پینے میں مصروف تھیں، اور کچھ جگالی میں مصروف- اینکر صاحبہ جو کہ خود عالمہ و فاضلہ ہیں- وقت کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے، جگالی کرتی ہوئی بھینس کے قریب جا کھڑی ہوئیں اور بھینس سے گویا ہوئیں کہ: ہمارے علم میں آیا ہے کہ آپ سوچتی بھی ہیں، اس لیے میرا آپ سے پہلا سوال یہی ہے، جب آپ سب کو بیچنے کا فیصلہ وفاقی کابینہ کر چکی ہے، تو اس فیصلے پر آپ کا کیا موقف ہے؟
بھینس نے اینکر صاحبہ کا سوال سن کر سر جھکا لیا اور چند لمحے سوچنے کے بعد انتہائی مدبرانہ انداز میں سر اٹھا کر اینکر صاحبہ کی نگاہ کی اور گفتگو کو آف دی ریکارڈ رکھنے کے وعدے پر کہا: ” ایک عرصہ ہوگیا وزیراعظم ہائوس میں رہتے ہوئے، لیکن کسی نے ہماری طرف توجہ نہیں کی، سب کو ہمارے دودھ سے مطلب تھا- یہ تو ہماری خوش نصیبی ہے، کہ نیا پاکستان بنا اور انتہائی قابل احترام سینیٹر فیصل جاوید کی نگاہ ہم پر پڑی- محترم سینیٹر جہاں خوب صورت و سیرت ہیں، وہیں صاحب بصیرت بھی ہیں- اس طرح کے بچوں سے بچپن میں جب بھی پوچھا جاتا تھا، کہ بتاو ‘عقل بڑی کہ بھینس’؟ تو ہمیشہ بھینس کو عقل پر فوقیت دیتے تھے”-

یہ سب کچھ بتانے کے بعد بھینس نے ایک بار پھر سر جھکا لیا اور تھوڑی دیر جگالی کرنے اور سوچنے کے بعد گویا ہوئی: ” ہمیں اپنے اس طرح بیچے جانے کا دکھ ہے، کیوں کہ ہم بھی بچپن سے سنتے آرہے ہیں، ‘جس کی لاٹھی اس کی بھینس ‘ جب سینیٹر صاحب کے علم میں یہ بات آ چکی تھی، کہ ہم میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہے، تو ان کو وفاقی کابینہ تک یہ پیغام پہنچا دینا چاہیے تھا، کہ بھینسیں بھی کچھ سوچ رہی ہیں، بھینسوں کے مستقبل سے متعلق کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل بہتر ہے، کہ بھینسوں سے ان کی رائے معلوم کر لی جائے، اور رائے معلوم کرنے کے لیے اپنی خدمات وفاقی کابینہ کو پیش کرتے- لیکن ہمارے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت ہماری سوچ، سمجھ و بوجھ کو نظر انداز کر دیا گیا اور لاٹھی کسی اور کو سونپ دینے کا فیصلہ کرلیا گیا "-

اینکر صاحبہ بھینس کی گفتگو سن آب دیدہ ہو گئیں، اور انتہائی دکھ بھرے لہجے میں پوچھا : ” آپ لوگوں نے ویسے اپنے مستقبل کے بارے میں کیا سوچا تھا "؟

بھینس کی آنکھیں بھی اپنے مستقبل کے حوالے آب دیدہ تھیں- اسی دل گرفتگی کے عالم میں بھینس ایک بار پھر گویا ہوئی : ہم نے تو اپنے مستقبل کے بارے میں بڑے سہانے خواب دیکھ اور بن رکھے تھے- نئے پاکستان کی تشکیل کے بعد ہمارا خیال تھا، کہ ہم کو آزادی دی جائے گی- اور ہم اپنا دودھ خود بیچ کر ملک و قوم کی خدمت کریں گے- دودھ کی ترسیل کے لیے ایک ہیلی کاپٹر خریدیں گے- تاکہ ٹرانسپورٹ کا خرچا کم ہو- دودھ کی فروخت سے حاصل شدہ رقم اور ٹرانسپورٹ کے خرچے میں بچت کرکے بچت شدہ رقم میں سے ایک حصہ امور مملکت چلانے کے لیے اور ایک حصہ ڈیم فنڈ میں دیں گے- ڈیم کی تعمیر کے بعد ڈیم میں ڈبکیاں بھی لگائیں گے اور ڈیم کی چوکیداری کے فرائض بھی ادا کریں گے- لیکن وفاقی کابینہ کے فیصلے نے ہمارے ارمانوں پر اوس ڈال دی ہے اور ملک و قوم کی خدمت کا جو جذبہ ہم میں نئے پاکستان کی تشکیل کے بعد پیدا ہوا تھا، وہ بھی سرد ہوتا جا رہا ہے- بی بی کہاں تک سنو گی، کہاں تک سنائیں- دل بڑا دکھا ہوا ہے، بہتر تو یہی ہے، کہ اب آپ تشریف لے جائیں ” –

اینکر صاحبہ خود بھی بھینسوں کے خیالات اور ملی جذبات کا جان کر دل گرفتہ تھیں- بہرحال بھینسوں نے جو سوچا تھا، اس کو آف دی ریکارڈ رکھتے ہوئے، بھینس کا انٹرویو تو چینل پر نشر نہیں کیا- چند قریبی افراد کو ضرور بتایا کہ بھینسوں نے ملک و قوم کی خدمت کے بارے میں کیا سوچ رکھا تھا- وزیراعظم سے واپسی پر اینکر صاحبہ سوچنے لگیں کہ واقعی وطن عزیز میں سوچنے سمجھنے والوں کی کوئی قدر نہیں-

Facebook Comments HS