ہم نے کشمیر کیسے گنوایا؟ اور دوسرے تاریخی معاملات پر اصغر خان کے خیالات

ریٹائرڈ ایئر مارشل اصغر خان 17 جنوری 1921 کو کشمیر ( جموں ) کے ایک فوجی گھرانے میں پیدا ہوئے اور گزشتہ سال 5 جنوری کو انتقال کر گئے۔ اصغر خان نے ابتدائی تعلیم بہترین تعلیمی اداروں سے حاصل کی اور 1939 میں میٹریکولیشن کرنے کے بعد انڈین ملٹری ایکیڈمی سے 1940 میں فوج میں…

Read more

تیزابی ٹوٹے اور انقلابی سیاسی تجزیے

وطن عزیز کے معروف کالم نگار اور مدیر اعلی ’ہم سب‘ محترم وجاہت مسعود صاحب کا کالم ’صبح کے خوش نصیب اور کٹا ہوا ڈبہ‘ پڑھا۔ کالم پڑھ کر محترم وجاہت مسعود صاحب کی طبیعت کی خرابی کا علم ہوا، جس سے یقیناً تشویش لاحق ہوئی ہے۔ دعا ہے کہ محترم وجاہت مسعود جلد از…

Read more

مولوی صاحب، وزیر تعلیم سندھ اور انیل کپور

گزشتہ جمعے جامع مسجد بطحی ( سخی حسن، کراچی ) کے مولوی صاحب ناموں کے ذاتی زندگی پر اثرات کے حوالے سے تقریر فرما رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک دفعہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا کہ ان کا بیٹا اکثر بیمار رہتا ہے۔ مولوی صاحب نے بیماری کی نوعیت پوچھنے سے قبل بچے کا نام پوچھا۔ پریشان باپ نے کہا کہ انیل نام ہے۔ مولوی صاحب نے پھر پوچھا کہ کس کے مشورے سے نام رکھا؟ تو بچے کا باپ بولا کہ ایک خاتون نے کہا تھا، انیلا لڑکیوں کا نام ہوتا ہے، تمہارے لڑکا ہوا ہے تو انیل نام رکھ لو۔ مولوی صاحب کا کہنا تھا کہ بچے کا نام چونکہ ہندوانہ ہے، اسی لیے بچہ بیماریوں میں گھرا ہوا ہے۔

فتوِی آن لائن کے مفتی شبیر قادری کے مطابق انیل نام کسی مذہب کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اور انہوں نے نام کے معنی ”پہنچنے والا“ بتایا۔ دیگر ذرائع سے بھی پتا چلا کہ انیل بہترین نام ہے اور اس کے معنی تخلیق، توجہ، مرکوز، جدید، سخاوت، مزاج اور حاصل کرنا ہے۔ انیل نام کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے بعد اندازہ ہوا کہ مولوی صاحب نے بلا تحقیق انیل نام کے متعلق تقریر جھاڑ دی۔

Read more

نئے پاکستان میں مردہ زندہ ہو کر سرکاری افسر لگ گیا

بد قسمتی سے قیام پاکستان کا منظر تو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا۔ مطالعہ پاکستان میں تحریک و قیام پاکستان کی نا قابل یقین ہوش ربا داستانیں اور تلخ تاریخ ضرور پڑھی ہیں۔ ہاں پاکستان کو دو ٹکڑے ہوتے ضرور دیکھا اور اِس حوالے سے نصابی کتب میں یہی پڑھا کہ بنگالیوں نے شیخ مجیب الرحمن کی قیادت میں وطن عزیز سے غداری کی۔ خوش قسمتی سے رواں سال نیا پاکستان بنتے دیکھا ہے۔ اور ہر روز ملکی معیشیت و ذاتی معاش کو حکومتی معاشی تجاویز کی روشنی میں بڑھاوا دینے کا منصوبہ بناتے ہیں لیکن وزیراعظم کے اس طرح کے اعلان کے بعد کہ اب کبھی مرغی اور انڈے کی بات نہیں کروں گا، سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔

Read more

سابقہ و موجودہ حکومت کی آبی پالیسی، پانی کا ضیاع اور چوری

پانی کے ضیاع کے بعد دوسرا اہم مسئلہ پانی کی چوری کا ہے۔ گاؤں دیہات میں کسی کی زرعی زمین کا پانی چوری ہو جائے تو نوبت قتل و غارت گری تک پہنچ جاتی ہے، شہروں میں معاملہ مختلف ہے۔ شہری روزانہ اپنی نظروں کے سامنے عوام کو پانی بہم پہنچانے والی لائنوں سے چوری شدہ پانی کو ٹینکروں میں بھر کر لے جاتا دیکھتے ہیں اور سوائے افسوس کے کچھ نہیں کرسکتے، کیوں کہ پانی کی یہ چوری انتظامیہ اور با اثر افراد کی ملی بھگت سے ہورہی ہے اور شہری بے بس ہیں۔

ہماری رہائشی کالونی کی دیوار کے ساتھ درجنوں ٹینکر صبح و شام بھر بھر کے جا رہے ہوتے ہیں۔ ایک محلے دار نے بتایا کہ جس جگہ سے ٹینکر پانی بھر رہے ہیں، وہاں واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے ہائڈرینٹ کا نمایاں بورڈ لگا ہے۔ ضمنی انتخاب سے قبل موجودہ رکن سندھ اسمبلی ساجد جوکھیو جو سابقہ دور حکومت میں صوبائی وزیر ہونے کے ساتھ چیئرمین کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ بھی رہے، سے علاقہ مکینوں نے پوچھا کہ کیا یہ واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کا ہائڈرینٹ ہے؟

تو انہوں نے لا علمی کا اظہار کیا۔ علاقہ مکینوں نے جناب ساجد جوکھیو سے یہ شکایت بھی کی کہ رات بھر ٹینکروں کی آمد و رفت جاری رہتی ہے، جس کی وجہ سے دھول مٹی اڑتی ہے، پانی گرنے سے سڑک کا ستیاناس ہوگیا ہے، وہیں اہل علاقہ کی نیند میں بھی خلل پڑتا ہے۔ ضمنی انتخاب میں کامیابی کے بعد جناب ساجد جوکھیو نے اس مسئلے کے حل کا یقین دلایا تھا، لیکن مسئلہ ہنوز برقرار ہے۔

Read more

حکومت کی اہم کامیابی پر حکومت اور مسلم لیگ ( ن ) ایک پیج پر

جب سے وطن عزیز میں مثبت خبروں کا دور دورہ ہوا ہے اور اسی تناظر میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے رواں ماہ راول پنڈی پریس کلب میں صحافیوں سے مثبت پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج، عدلیہ، حکومت اور اپوزیشن کو ایک پیج پر ہونا چاہیے، یہ سن کر دسمبر…

Read more

ہم فیل تم پاس، آپ ہی جواب دو

جو افسران اعلی عہدوں پر فائز ہو گئے۔ ان کو اپنے سے نچلے درجے کے افسران پر رعب جمانے کا خوب موقع ملا۔ روز صبح میٹنگ ہوتی، جس میں شفٹ انچارج بھی موجود ہوتا، جس سے رات بھر کی کارکردگی پوچھی جاتی اور افسران سے کچھ ایسے اچھوتے ٹیکنکل سوال پوچھے جاتے کہ جن کی کوئی تک نہ ہوتی۔ ان سوالات کے پوچھنے کا مقصد صرف افسران پر اپنی بڑائی جتانا ہوتا۔ ایسا ہی ایک سوال جب میٹنگ میں پوچھا گیا تو شفٹ انچارچ صاحب بے ساختہ بولے، ”ہم فیل تم پاس، آپ ہی جواب دو“۔ شفٹ انچارج صاحب نے مزید فرمایا کہ سمجھ میں ہی نہیں آرہا کہ نوکری کیسے کی جائے۔ آپ کبھی سر سے پکڑنے کو کہتے ہو، جب پکڑ لو تو کہتے ہو نہیں پیر سے پکڑنا تھا۔ جب پیر سے پکڑو تو کہتے ہو، نہیں سر سے پکڑو۔ ہم کو تو اس افسری کا کوئی سر پیر ہی نظر نہیں آرہا اور نہ پکڑ میں آرہا ہے۔

Read more

وزیر اعظم کا نفرت آمیز رویہ، غیرمحتاط زبان اور آمریت پسندی

چھٹی کا دن تھا- گھر والوں کی اجازت سے چچا زاد بھائی سید حسن محمود کے ساتھ نیشنل اسٹیڈیم ٹیسٹ میچ دیکھنے پہنچے- میچ کے دوران ایک بچہ فرط مسرت سے بے حال ہو کر کھیل کے میدان میں بھاگتا ہوا، عمران خان سے ملنے پہنچا تو عمران خان نے اس کو لات مار دی-…

Read more

ککڑی، انڈے اور کٹے پر ایک کہنہ مشق سیاسی کارکن کا اظہار خیال

ہفتے کے اختتام پر کبھی کبھار دوستوں کی محفل جم جاتی ہے تو جہاں ایک دوسرے کے حال احوال جاننے سننے کا موقع ملتا ہے، وہیں وطن عزیز کی سیاسی فضا کے اور حکومتی کارکردگی کے حوالے سے بھی شرکائے محفل اپنی اپنی آراء اور تجزیے سے ایک دوسرے کو نوازتے ہیں۔ جب سے وزیر…

Read more

خلا اور سیاسی خلا میں کوڑا کرکٹ کس کس نے پھیلایا ہے

تجاوزات اور کوڑا کرکٹ ہر ذمے دار اور با شعور شہری نا پسند کرتا ہے۔ تجاوزات قائم کرنے والے اور کوڑا کرکٹ پھیلانے والے افراد معاشرے میں قابل نفریں قرار پاتے ہیں۔ شہر کراچی جو ہر لحاظ سے وطن عزیز کا سب سے بڑا شہر ہے، اس میں ایک عرصے سے تجاوزات کے قیام کا سلسلہ جاری ہے۔ عدالت عظمی کی ہدایت پر گزشتہ چند روز سے شہری انتظامیہ ایک عرصے سے قائم شدہ تجاوزات ڈھا رہی ہے۔ تجاوزات کے ڈھانے کے عمل کو ایک طبقہ لائق تحسین گردان رہا ہے، تو ایک طبقہ تجاوزات قائم کرنے والے کاروباری افراد کے کاروبار اور روزگار کے خاتمے کے حوالے سے پریشانی کا اظہار کر رہا ہے۔

تجازات کے قیام کی وجہ کوڑا کرکٹ کا پھیلنا بھی یقینی ہوتا ہے، کیوں کہ کے کاروبار کے لیے تجاوزات عموما لب سڑک ہی قائم کی جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے کوڑا کرکٹ لب سڑک ہی پایا جاتا ہے اور اکثر کاروباری حضرات اور انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے جگہ جگہ کوڑے کرکٹ کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کی اکثریت اور شہری و غیر شہری انتظامیہ کوڑے کرکٹ کے ان ڈھیروں کو ٹھکانے لگانے میں عموما دلچسپی لیتی کم ہی نظر آتی ہے۔ کراچی کی شہری انتظامیہ تو کوڑا کرکٹ کے ڈھیر اٹھانے کے حوالے سے بآسانی یہ عذر کر کے بری الزمہ ہوتی رہی ہے کہ کوڑا کرکٹ اٹھانے والی گاڑیوں میں ڈیزل ڈالنے تک کی رقم انتظامہ کے پلے نہیں ہے۔

Read more