پانی کے ضیاع کے بعد دوسرا اہم مسئلہ پانی کی چوری کا ہے۔ گاؤں دیہات میں کسی کی زرعی زمین کا پانی چوری ہو جائے تو نوبت قتل و غارت گری تک پہنچ جاتی ہے، شہروں میں معاملہ مختلف ہے۔ شہری روزانہ اپنی نظروں کے سامنے عوام کو پانی بہم پہنچانے والی لائنوں سے چوری شدہ پانی کو ٹینکروں میں بھر کر لے جاتا دیکھتے ہیں اور سوائے افسوس کے کچھ نہیں کرسکتے، کیوں کہ پانی کی یہ چوری انتظامیہ اور با اثر افراد کی ملی بھگت سے ہورہی ہے اور شہری بے بس ہیں۔
ہماری رہائشی کالونی کی دیوار کے ساتھ درجنوں ٹینکر صبح و شام بھر بھر کے جا رہے ہوتے ہیں۔ ایک محلے دار نے بتایا کہ جس جگہ سے ٹینکر پانی بھر رہے ہیں، وہاں واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے ہائڈرینٹ کا نمایاں بورڈ لگا ہے۔ ضمنی انتخاب سے قبل موجودہ رکن سندھ اسمبلی ساجد جوکھیو جو سابقہ دور حکومت میں صوبائی وزیر ہونے کے ساتھ چیئرمین کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ بھی رہے، سے علاقہ مکینوں نے پوچھا کہ کیا یہ واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کا ہائڈرینٹ ہے؟
تو انہوں نے لا علمی کا اظہار کیا۔ علاقہ مکینوں نے جناب ساجد جوکھیو سے یہ شکایت بھی کی کہ رات بھر ٹینکروں کی آمد و رفت جاری رہتی ہے، جس کی وجہ سے دھول مٹی اڑتی ہے، پانی گرنے سے سڑک کا ستیاناس ہوگیا ہے، وہیں اہل علاقہ کی نیند میں بھی خلل پڑتا ہے۔ ضمنی انتخاب میں کامیابی کے بعد جناب ساجد جوکھیو نے اس مسئلے کے حل کا یقین دلایا تھا، لیکن مسئلہ ہنوز برقرار ہے۔
Read more