پاگل میں یا وہ
آج تو دودھ والے چاچا سونل نے دماغ کی دہی بنا دی۔ ایک عرصے سے اس کو سمجھاتا آیا ہوں کہ پاکستانیت کی بات کرو، یہ کیا پرانی باتیں کرتے رہتے ہو، مگر وہی سڑیل سوچ، سندھی اخبار پڑھ کے بیٹھا تبصرے کرتا رہے گا۔
جب عمران خان نے ملک کے کرپٹ حکمرانوں کو گھیراؤ کیا تھا، دھرنا دے کر بیٹھے تھے، تب بھی یہ کہتا تھا سائیں یہ کسی اور کی گیم ہے۔ جب 2018 کے شفاف ترین عام انتخابات میں ملک کے کرپٹ حکمرانوں سے جان چھوٹی تب بھی یہی روگ کہ یہ کسی اور کی گیم ہے۔ وفاقی کابینہ نے حلف اٹھایا تو بھی متھا کھا گیا کہ دیکھو، یہ مشرف کا بندہ، یہ بھی، یہ بھی۔ ارے بھئی یہ بھی کوئی بات ہے، جن لوگوں نے اس سے جان چھڑائی، اپنا قبلہ درست کیا، کیا نئے پاکستان میں ان کے لئے جگہ نہیں بنتی؟
اور تو اورایم کیو ایم کو 6 نشستوں پر 2 وزارتیں کیا ملیں، اپنے میلے دانت ایسے نکال رہا تھا جیسے کوئی بڑی چوری پکڑی گئی ہو۔ خان صاحب نے خصوصی جہاز کے بجائے عام فلائیٹ کی بزنس کلاس میں سفر کرنے کا اعلان کیا، وزیراعظم ہاؤس میں ملٹری سیکریٹری کے دو کمروں تک محدود ہوگئے، 102 گاڑیاں نیلام کرنے کا اعلان کیا تب بھی اس کو کوئی بات سمجھ میں نہیں آئی، مانتا ہی نہیں کہ ملک میں ایک بہت بڑی تبدیلی آگئی ہے۔
ابھی ڈیم کی ہی بات لے لیں، یہ بھی اس کو کسی اور کی گیم لگتی ہے۔ جب بھی اس کو چندہ دینے کی اپیل کرتے ہوئے یہ سمجھایا کہ بابا ملک میں پانی ختم ہو رہا ہے، ڈیم نہ بنا تو سب پیاسے مر جائیں گے۔ ہنستے ہوئے بولا جب پانی نہیں ہوگا تو ڈیم کیا کپڑے سکھانے کے لئے بنا رہے ہو؟
اس وقت ایسے ہنستا ہے، دل کرتا ہے کہ ایسا مکا جڑوں کہ بتیسی باہر آجائے، مگر مجبوری یہ ہے کہ ایک تو گھر کے قریب دودھ کی اور کوئی دکان نہیں، دوسرا یہ کہ یہاں ادھار بھی چلتا ہے۔ بس اپنے آپ پر ضبط کرکے واپس آجاتا ہوں۔
سونل چاچا کو بہت سمجھایا کہ سیلاب آتے ہیں تو پانی سمندر میں ضایع ہوجاتا ہے، ایک تو وہ بضد ہے کہ سمندر میں پانی چھوڑنا لازمی ہے، کیونکہ وہاں پر مچھلیاں ہیں، مینگرووز کے جنگلات ہیں، جو پانی نہ ملنے سے ختم ہو رہے ہیں اور سمندر آگے بڑھتا ہوا ٹھٹہ، سجاول اور بدین اضلاع کی زمین کھاتا جارہا ہے۔ اب یہ بھی کوئی دلیل ہے؟ کہتا ہے کہ سیلابی پانی جمع کرنا ہے تو رحیم یارخان یا ڈیرہ غازیخان میں ڈیم کیوں نہیں بناتے؟ اب اس جاہل کو کون سمجھائے کہ وہاں کی زمین کتنی قیمتی ہے؟
میں نے سمجھایا کہ کوئٹہ میں پانی ختم ہو رہا ہے، ڈیم نہیں بنا تو شہر اجڑ جائے گا۔ ہنس کے کہتا ہے کہ، ڈیم کا پانی کیا جہاز میں کوئٹہ پنہچاؤ گے؟ چیف صاحب نے ڈیم کی مخالفت کرنے والے غداروں پر آرٹیکل 6 لگانے کی بات کی تو جیسے جل بھن گیا، کہتا ہے، یہ شق تو آئین توڑنے والوں پر لگتی ہے، اور آئین تو وہ توڑ رہے ہیں جوآزادی اظہار پہ قدغن لگا رہے ہیں۔
بڑا آیا آئین کا ماہر۔
اسی رات ہی چیف صاحب نے صرف اتنا کہہ دیا کہ بھئی قوم میں اتفاق رہا تو کالا باغ ڈیم بھی بنائیں گے۔ یہ تو دماغ ہے چٹ کر گیا، کہتا ہے میں نا کہتا تھا کہ یہ کسی اور کی گیم ہے۔ لاکھ سمجھایا کہ ان پڑھ لوگو، وہ تو چیف صاحب نے مفروضے پر بات کی مگر کہتا ہے دیکھ لینا ایک دفعہ یہ چندہ کٹھا ہو جائے، بنائیں گے کالاباغ ڈیم۔ کہتا ہوں کہ ہمارے وزیراعظم دادو کے جلسے میں وعدہ کر گئے تھے کہ کالا باغ ڈیم نہیں بنے گا۔ کہتا ہے اس کی تو عادت ہے یو ٹرن لینے کی۔ پھر سمجھایا تھ چیف صاحب بھی ایسا ہونے نہیں دینگے۔ ہنس کر کہتا ہے کہ تیرا چیف تب تک رٹائر نہیں ہوجائے گا؟
اب ہمارے صادق و امین وزیراعظم نے کیا غلط کہا کہ افغانستان اور بنگلادیش چھوڑ کر سالوں سے پاکستان میں قیام پذیر لوگوں کو شہریت دینگے، بھئی اتنے سالوں سے رہتے ہیں، اب کہاں جائیں گے؟
کہتا ہے کس ملک میں ایسا ہوتا ہے کہ جو ایک عرصہ قیام کرے اس کو شہریت دو۔ پھر کہتا ہے کہ اس کے لئے باقاعدہ پارلیامنٹ سے دو تہائی اکثریت سے آئین میں ترمیم کرنی پڑے گی۔ یعنی یہ لوگ چاہتے ہیں کہ آئین میں ترمیم کی ایسی بات چھیڑ دیں کہ کام ہی نا ہو، اب بتاؤ، خان صاحب کے اعلان پر افغانستان میں جشن منایا گیا یا نہیں؟ افغان بھائی خوش ہوں گے تو ملک کو فائدہ ہوگا نا۔
ہمارے محسن عرب لوگوں سے اس کو خدا واسطے کی بیر ہے، کہتا ہے کسی برادراسلامی ملک کی مثال دو جس نے اس طرح کسی ملک کے باشندے کو شہریت دی ہو، میں نے قطر کی مثال دی تو ہنستے ہوئے بولا کیا آپ واقعی پاگل ہو؟
لو بھلا پاگل میں یا وہ؟


