یوں تو تجاوزات کے خلاف آپریشن ملک کے مختلف حصوں میں ہونا تھا مگر ان کارروائیوں کی شدت پنجاب اور سندھ کے بڑے شہر کراچی میں کچھ زیادہ نظر آرہی ہیں۔ کراچی کی تاریخی عمارات کے ارد گرد تجاوزات ہٹانے کے عمل کے عمل کو نہ صرف سراہا گیا بلکہ ناقابل یقین بات یہ ہوئی کہ کوئی خاص مزاحمت بھی نظر نہیں آئی۔ ایمپریس مارکیٹ کے آس پاس ڈیڑہ سو کے لگ بھگ دکانیں گرائی گئیں اور کوئی ردعمل نظر نہیں آیا، جبکہ اس شہر کے ماضی پر نظر ڈالیں تو اس میں کئی جانیں جاسکتی تھیں۔
شہر کے کاروباری مرکز صدر کے آس پاس کی گلیوں سے تجاوزات ہٹانے کے لئے بلڈوزرس نکلے تو ناجائز قرار دی گئے دکانوں کے مالکان نے خود ہی سامان نکال کر گویا آپریشن پر رضامندی ظاہر کردی۔ آپریشن کے بعد کراچی کے میئر نے علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد جس فاتحانہ انداز میں آپریشن کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی اس سے بھی کئی سوالات جنم لے رہے تھے، کیونکہ اس بات کو بھی کوئی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ کراچی میں پاکستان کوارٹرز خالی کرانے کی کوشش پر سخت مزاحمت نظر آئی اور میئر کراچی کی جماعت متحدہ پاکستان کے رہنماؤں نے علاقہ مکینوں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئی کاررائیاں بند کرنے کا مطالبہ کیا اور متنبہ کیا کہ آئندہ ایسی کوشش ہوئی تو سخت مزاحمت کی جائے گی۔
Read more