ایران میں نوجوان لڑکے لڑکیوں نے بغیر شادی کئے ایک ساتھ رہنا شروع کر دیا: مڈل ایسٹ آئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

مہران اور ترانہ معاشرتی دباؤ کے باعث اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتے

 مشرق وسطیٰ کے امور پر گہری تحقیق کے لئے جانی جانے والی ویب سائٹ ’مڈل ایسٹ آئی‘ کی ایک تہلکہ خیز رپورٹ میں دعوٰی کیا گیا ہے کہ ایران میں نوجوان مردوں اور عورتوں میں شادی کئے بغیر ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کا رجحان روز بروز پڑھ رہا ہے۔

ویب سائٹ نے اپنی خصوصی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایران میں شادی ایک پیچیدہ اور مہنگا کام ہو گیا ہے لہٰذا کچھ نوجوان جوڑے ایک عرصے تک شادی کے بغیر اکٹھے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ باوجود اس کے کہ معاشرے میں اس رجحان کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ معاشی و سماجی مشکلات اس رجحان میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔

ایک ایسا ہی جوڑا 35 سالہ مہران اور 32 سالہ ترانا ہیں جو دارالحکومت تہران کے ایک فلیٹ میں شادی کے بغیر اکٹھے رہ رہے ہیں۔ ان کی ملاقات ایک سال قبل ہوئی تھی۔ ترانا ایک ٹریول ایجنسی میں کام کرتی ہیں جبکہ مہران ایک کیفے میں ملازم ہیں۔ یہ جوڑا اور ان جیسے کئی اور نوجوان جوڑے اس بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہیں جس میں نوجوان شادی کئے بغیر ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں اور مقامی طور پر اسے ’سفید شادی‘ کہا جاتا ہے۔

مہران نے مڈل ایسٹ آئی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ”ہمارے والدین کو ہمارے اس رشتے کے بارے میں علم ہے لیکن دیگر رشتہ داروں کو ہم نے اس کی خبر نہیں ہونے دی کیونکہ ہمارے معاشرے میں عمومی طور پر اسے پسند نہیں کیا جاتا۔ وہ اس بات کو قبول نہیں کریں گے کہ شادی کے بغیر بھی کوئی لڑکی اور لڑکا اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ ہم سماجی تقریبات میں بھی اکٹھے شامل نہیں ہوتے بلکہ علیحدہ علیحدہ جاتے ہیں۔ ہمارے دوستوں کو البتہ اس کے متعلق معلوم ہے اور ان کے خیال میں اس میں کوئی حرج نہیں۔

ہمارے جاننے والے بعض اوقات ہمیں یہ تلقین ضرور کرتے ہیں کہ اس نوعیت کا تعلق پائیدار نہیں ہوسکتا اور ہمیں جلد از جلد شادی کا فیصلہ کرنا چاہیے۔“ رپورٹ کے مطابق شادی کے بغیر اکٹھے رہنے والے نوجوان جوڑوں میں سے اکثریت مالی مشکلات کو اپنے اس فیصلے کی بنیادی وجہ قرار دیتی ہے۔ یہ نوجوان کہتے ہیں کہ شادی اب لاکھوں کا کھیل بن چکا ہے جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ ایک عام سی شادی کے اخراجات 15 سے 20 لاکھ ریال تک پہنچ جاتے ہیں جبکہ رہائش کا انتظام کرنا اور زندگی کے دوسرے اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔ ان بھاری اخراجات اور ملک کے بگڑتے ہوئے معاشی حالات کا نتیجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ایسے نوجوان جوڑوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جو شادی کئے بغیر میاں بیوی کے طور پر اکٹھے رہنے لگے ہیں۔

 https://www.middleeasteye.net/news/iran-white-wedding-cohabiting-love-tehran-couples-dont-want-to-marry-262178403

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •