خوشگوار جھونکا

گفتگو کا آغاز کر دیا جائے اور یہ عزم بھی موجود ہو کہ گفتگو نتیجہ خیز ہو تو بہرحال مثبت نتیجہ برآمد ہو ہی جاتا ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے مابین جاری حالیہ بات چیت کو اسی امید کے ساتھ پرکھنا چاہیے۔ عراق میں عرب ملکوں، فرانس اور دو عجمی ملکوں کی گزشتہ ہفتے ایک علاقائی کانفرنس کا انعقاد ہوا کہ جس کے منعقد کرنے میں عراقی حکومت پیش پیش تھی تاکہ اس کا ایک غیر جانبدار سہولت کار کے طور پر کردار سامنے آئے اور عرب دنیا کی سیاست میں اس کی اہمیت بحال ہو۔

اس کانفرنس کے انعقاد میں فرانس شریک میزبان کے طور پر متحرک تھا فرانسیسی صدر میکرون، مصری صدر عبدالفتاح السیسی، اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ، جبکہ امیر قطر شیخ تمیم نے اس اہم کانفرنس میں شرکت کیں۔ ترکی سعودی عرب ایران، کویت اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ بھی وہاں پر موجود تھے۔ اس کانفرنس میں دو عجمی ممالک ایران اور ترکی تو شامل ہوئے لیکن وطن عزیز کو کسی نے دعوت نہ دی جو ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے کیونکہ ہم مشرق وسطیٰ اور عرب دنیا کی سیاست سے لاتعلق نہیں رہ سکتے ہے بہرحال علاقائی سلامتی کے حوالے سے اتنی بھاری بھرکم شرکت اس کانفرنس کی اہمیت کو اجاگر کر رہی ہے اس کانفرنس میں ترک صدر طیب اردگان نے شرکت نہ کر کے غلطی کی ہے کیوں کہ ان کی وہاں پر موجودگی مزید اہمیت کی حامل ہوتی بہرحال ان کے وزیر خارجہ وہاں پر موجود تھے۔

اس کانفرنس کی اہمیت اس لئے بہت بڑھ جاتی ہے کہ مشرق وسطی گزشتہ کئی عشروں سے پہ در پہ سیاسی بے چینی کا شکار چلا آتا رہا ہے اور اب یمن کی خانہ جنگی اور لبنان کے بگڑتے ہوئے سیاسی حالات ایک مستقل چیلنج کی صورت میں سامنے کھڑے ہیں۔ اس کے علاوہ جو قہر سامانیاں داعش نے ڈھائی تھی اس کا خطرہ بھی تاہنوز پوری شد و مد کے ساتھ موجود ہے۔ اور اس امر میں کوئی کلام ممکن ہی نہیں کہ یہ مسئلہ صرف وقتی طور پر دبا ہوا ہے اور جیسے ہی اس کو موقع ملا تو دوبارہ سے پوری طاقت سے سر اٹھا لے گا۔

اور اب تو افغانستان کے تازہ ترین حالات میں بھی اس کا بہت امکان بڑھ گیا ہے کہ اگر افغانستان میں بدامنی اور بے چینی پھیلتی ہے تو اس کا بھرپور فائدہ اٹھا کر داعش افغانستان کی سرزمین کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کریں گے۔ اور عرب دنیا میں تمام تنازعات اختلافات کئی ماہ سعودی عرب اور یمن کے مابین کھینچا تانی اور رسہ کشی کی کیفیت ہے۔ جس کے مضر اثرات تمام عالم اسلام پر غیر معمولی حد تک پڑ رہے ہیں۔ ابتدا میں گفتگو کا آغاز اس سے کیا تھا کہ خوش آئند امر یہ ہے کہ سعودی عرب اور ایران کی قیادت کسی نہ کسی سطح پر باہمی تعلقات کے منفی اثرات کو محسوس کر رہے ہیں اسی لیے عراقی اعلیٰ حکام نے اس کانفرنس کے موقع پر بھی اس خبر کی تصدیق کی کہ ان کی سرزمین پر سعودی عرب اور ایران کے مذاکرات جاری ہیں اور ان مذاکرات کی ابتدا اس کانفرنس کے انعقاد سے نہیں ہوئی بلکہ اس سال کے آغاز سے کچھ بعد دونوں ممالک کے حکام عراقی سرزمین پر باہمی گفت و شنید میں مصروف ہیں۔

اس کانفرنس میں ان دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ بھی شریک تھے لیکن دونوں کی کسی بالمشافہ ملاقات کی خبر نہ آ سکی مگر اس کے باوجود اس بات کی مکمل طور پر تصدیق ہوتی رہی کہ دونوں ممالک باہمی گفتگو میں مصروف ہے جو ایک خوش آئند اقدام ہے۔ ویسے تو بظاہر اس کانفرنس کا بنیادی نکتہ عراق تھا مگر یمن اور لبنان کے علاوہ پانی کے بحران اور اس کے تنازعات کو بھی زیر بحث لایا گیا۔ اس کے علاوہ اس بات کی بھی بہت اہمیت موجود رہی کہ صدر بائیڈن کے اعلان کے کیا نتائج برآمد ہو سکتے ہیں کہ سال کے آخر تک تمام امریکی فوجی عراق میں آپریشن اختتام کو پہنچا دے گی۔

صرف تربیت اور اس سے متعلقہ فوجی عراق میں ٹھہریں گے جب کہ فوجی کارروائیاں ختم کر دی جائے گی۔ ویسے تو اس وقت امریکہ کے صرف ڈھائی ہزار فوجی وہاں پر موجود ہے۔ لیکن امریکی موجودگی اور ان کا فوجی کارروائیوں میں حصہ لینا بہت مطلب رکھتا ہے جو ختم ہو جائے گا۔ مگر اس موقع پر فرانسیسی صدر میکرون نے امریکہ سے مختلف رائے کا اظہار کیا ہے اور انہوں نے واضح کیا ہے کہ امریکی جو چاہے فیصلہ اپنے لئے منتخب کرے لیکن فرانس عراق میں اپنی فوجی موجودگی کو برقرار رکھے گا۔

دہشت گردی اور داعش کے حوالے سے عراق کے شانہ بشانہ موجود رہے گا۔ یہ اس کی نشاندہی کرتا ہے کہ فرانس مشرق وسطی کے حالات کو امریکی آنکھ سے نہیں دیکھ رہا ہے بلکہ وہ محسوس کرتا ہے کہ یہاں پر کوئی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تو اس کے منفی اثرات فرانس کے مفادات پر بھی پوری طرح آ موجود ہوں گے ۔ جو فرانس کو گوارا نہیں ہے بحر حال اگر ایران اور سعودی عرب کے مذاکرات نتیجہ خیز ہو گئے تو ایسی صورت میں مشرق وسطی کی سیاست میں بہت بہتری وقوع پذیر ہو جائے گی اور داعش کے خطرے سے بھی یہ دونوں مل کر باآسانی نبٹ سکتے ہیں کسی اور کی ضرورت ہی نہیں رہے گی بشرطیکہ اب بیل منڈھے چڑھ جائے۔

آخر میں اپنی مادر علمی پنجاب یونیورسٹی میں اعزازی ڈگری کلچر پر اظہار افسوس کروں گا کہ یہ ایک بزنس مین کو دے دی گئی کہ ان کی قابلیت بظاہر صرف یہ ہے کہ ان کے چانسلر صاحب سے دیرینہ تعلقات ہیں۔ اس ادارے کو مذاق نہ بنائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words