دو کشتیوں میں سوار


Nighthawks_by_Edward_Hopper_1942

وہ ایک دن گھر آیا تو میں سوٹ کیس بند کر رہی تھی۔

’یہ کیا ہو رہا ہے؟‘ پرویز نے حیرانی سے پوچھا تھا۔

’ مجھے ایک اچھا سا دو بیڈ روم کا اپارٹمنٹ مل گیا ہے۔ شہر کے مشرقی حصے میں۔ یہاں سے بیس میل دور۔ قریب ہی شبانہ کے لیے اسکول بھی ہے۔ یہاں سے سب وے میں آدھ گھنٹے کا راستہ ہے۔‘

’لیکن میرا کیا ہوگا؟‘۔۔۔اس کے چہرے پر بیچارگی برس رہی تھی۔

’مجھے کیا معلوم۔۔۔ تم معذور تو ہو نہیں۔ اپنا خیال خود رکھنا۔ اور مجھے وہان ایک سٹور میں ملازمت بھی مل گئی ہے۔‘

پرویز جیسے شاک میں چلا گیا تھا۔ میری چند سہیلیوں نے میری مدد کی تھی۔ کچھ قرض بھی دیا تھا اور ملازمت بھی دلوائی تھی۔

میں بھی آخر پنجابن ہوں۔ اگر اپنے پائوں پر کھڑا ہو کر نہ دکھایا تو میرا نام فوزیہ نہیں۔ میں نے دل ہی دل میں قسم کھائی تھی۔

وہی پرویز جو پھنے خان بنا رہتا تھا مہینوں گھر میں بیٹھا بسکتا رہا۔ نہ کھاتا نہ پیتا۔ شبانہ کو لینے آتا تو اداس و غمزدہ۔۔۔۔اس کا خیال تھا کہ مجھے ترس آ جائے گا۔ لیکن میں بھی کچے دل کی نہیں تھی۔ جب انسان زندگی میں کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اسے توڑ نبھاتا ہے۔

پچھلے چند مہینے تو قرض اتارنے اور گھر کو سجانے میں لگے۔

میں نے شاور کھولا تو پانی ٹھنڈا تھا۔ گرم پانی کا نلکہ موڑا تو بھاپ نکلنے لگی اور میں اپنے جسم کو صابن سے زور زور سے ملنے لگی۔ رابرٹ کے ساتھ شاور لینے میں کتنا مزا آتا ہے۔ اس خیال سے ہی میرے سراپا میں ایک لذت کی لہر دوڑ گئی۔

میں نے بالوں میں شیمپو لگایا کل ہی Head and Shoulder خریدا تھا کیونکہ یہی اسے پسند تھا۔

جس ڈیپارٹمنٹ میں میں کام کرتی تھی اس میں اشوک سپر وائزر تھا۔۔۔ ہندوستان کا رہنے والا تھا لیکن مجھےاس سے کیا وہ کہیں کا بھی ہو۔ خوبصورت اور ذہین تھا۔ مجھ سے اچھے طریقے سے ملتا تھا۔ کئی دفعہ چائے پی‘ پھر شام کا کھانا اکٹھے کھایا۔ مجھے اس پر اعتبار آنے لگا تھا۔ میں زندگی میں اپنے خاوند کے علاوہ کسی اور کے ساتھ نہیں سوئی تھی۔ایک اجنبی کے ساتھ سونا کیسا لگتا ہے۔ میرے دل میں گدگدی ہوتی۔

آخر ایک شام میں اسے گھر لے آئی۔ رات کے دس بج رہے تھے۔ شبانہ سو رہی تھی۔ میں نے بے بی سٹر کو گھر بھیج دیا۔ ہم دونوں نے تھوڑی دیر میوزک سنا اور پھر میں اسے اپنی خواب گاہ میں لے گئی۔

میرے جسم کے انگ انگ میں برقی لہریں دوڑ گئیں۔۔۔اس کے ہونٹ موٹے لیکن لذیذ تھے۔

اگلی صبح میں نے تعارف کروایا ’یہ ہے میری بیٹی شبانہ اور یہ ہیں انکل اشوک‘۔۔۔ شبانہ بھاگی بھاگی اپنے کمرے میں چلی گئی اور رونے لگی۔ اشوک بھی جلد ہی اٹھ کر چلا گیا اور پھر کبھی لوٹ کر نہ آیا۔ شاید میری بیٹی کو دیکھ کر گھبرا گیا تھا۔ شبانہ دن بھر الٹیاں کرتی رہی۔

چند ہفتے اور بیت گئے۔ مجھے کسی اور سٹور میں بہتر ملازمت مل گئی۔ میں نے بعد میں سنا کہ اشوک نے کئی ہندوستانیوں کو بتایا کہ وہ میرے ساتھ رات گزار چکا ہے۔مجھے بہت دکھ ہوا اور غصہ بھی آیا لیکن میں خاموش رہی۔

دوسرے سٹور کا مالک ایک امریکی تھا۔ اس کی مجھ پر نطرِ کرم تھی۔ میرے لیے پھول اور تحائف بھی خریدتا۔ میں فقط مسکرا دیتی لیکن زیادہ لفٹ نہ کرواتی۔ آخر میں نے سوچا کہ میں اب آزاد ہوں۔ آدمی معقول لگتا ہے اور میں آج تک کسی سفید جلد والے آدمی کے ساتھ سوئی بھی نہیں۔ اس میں حرج ہی کیا ہے۔۔۔ چناچہ میں نے والٹر میں دلچسپی ظاہر کرنی شروع کر دی اور پھر ایک شام وہ بھی میرے گھر مہمان رہا۔ شام کی چائے کی دعوت تھی وہ صبح کا ناشتہ کر کے گیا۔ اس دن بھی میں نے اس کا اپنی بیٹی سے تعارف کروایا’یہ میری بیٹی شبانہ ہے اور یہ ہیں انکل والٹر ‘۔۔۔ اس دفعہ نہ تو وہ اپنے کمرے کی طرف بھاگی اور نہ ہی روئی لیکن خاموش رہی۔

بعد میں میں نے ذکر چھیڑا تو بہت غصے میں تھی۔

’امی آپ انہیں انکل کیوں کہتی ہیں۔ وہ نہ تو میرے ماموں ہیں نہ چچا‘

’بیٹی وہ میرے ساتھ کام کرتے ہیں‘

’لیکن وہ یہاں رات کیوں رہے؟‘

’بیٹی وہ میرے دوست ہیں جیسے تمہاری سہیلیاں یہاں ویکنڈ گزارنے آتی ہیں‘۔

شبانہ ناراض ہو کر باورچی خانے میں چلی گئی اور اس دوپہر کو بھی اسے الٹیاں آئی تھیں۔

ان دنوں میری بے بی سٹر ایک غریب پاکستانی عورت تھی۔ بیچاری کا کوئی نہ تھا۔ اس لیے اس پر رحم کھا کر ملازمت دی تھی لیکن اس نمک حرام نے بیسیوں لوگوں کو میرے گھر کی باتیں بتانی شروع کر دیں اور میرے گھر والٹر کا آنا بھی مشہور کر دیا۔ میں نے اسے ملازمت سے ہی نکال دیا۔

والٹر سے بھی دوستی زیادہ دیر نہ چلی۔ مجھے معلوم ہوا کہ وہ ہمارے ڈیپارٹمنٹ میں اور بھی بہت سی عورتوں کے ساتھ جنسی طورپر ملوث ہے۔ میں نے اسے خدا حافظ کہا تو اس نے کوئی تردد نہ کیا۔ مجھے اس بات پر غصہ تو بہت آیا کہ وہ مجھے اپنے شکار کی لسٹ میں شامل کر چکا ہے لیکن میں کر بھی کیا سکتی تھی۔ کم از کم وہ اشوک سے بہتر تھا کہ اس نے مجھے کمیونٹی میں بدنام کرنے کی کوشش نہ کی تھی۔

میرے اندر اپنی کمیونٹی کے خلاف لاوا ابھر رہا تھا۔ کسی حالت میں عورت کو خوش نہیں دیکھ سکتے تھے۔ ہر موڑ پر اس کی تضحیک کرتے تھے۔

باقی افسانہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail