دو کشتیوں میں سوار


پھر ایک شام میں ایک شادی میں شریک ہوئی جس میں پاکستان اور ہندوستان کے بہت سے معززین ِ شہر شامل تھے۔ میں ایک کونے میں وائن کا گلاس لیے کھڑی تھی کہ مجھے کھسر پھسر کی آواز آئی ۔۔۔ کچھ عورتیں میرے بارے میں باتیں کر رہی تھیں

’ فوزیہ کو دیکھو شراب پیتی ہے‘

’ اس کے تو چلن بھی خراب ہیں‘

’بیچارے پرویز کو چھوڑ کر بھاگ گئی ہے‘

’نہ جانے کس کس کے ساتھ سوتی ہے‘

’اشوک بھی اس سے لطف اٹھا چکا ہے‘

’اپنے دفتر سے بھی گوروں کو لے آتی ہے‘

’ وہ تو زانی ہے‘

مجھ سے نہ رہا گیا ۔۔۔ میں خود ہی ان میں کود گئی۔

’میرے پیٹھ پیچھے کیا باتیں کرتی ہو۔ مجھ سے پوچھو جو پوچھنا ہے۔ میں آزاد عورت ہوں جو چاہے کروں۔ جو کرتی ہوں اپنی مرضی سے کرتی ہوں۔ جب میری شادی پرویز سے ہوئی تھی تو میں نے اسے دیکھا تک نہ تھا۔ نہ ہی کسی نے مجھ سے مشورہ کیا تھا۔ اس وقت تو کسی نے کچھ نہ کہا۔ وہ اجنبی تھا۔ میرے لیے کسی اجنبی کے ساتھ سونا زنا ہے۔ اپنی مرضی سے کسی کے ساتھ سونا زنا نہیں ہے۔‘

سب کو سانپ سونگھ گیا تھا۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ میں ان کو اس طرح چیلنج کروں گی۔

اتفاق سے اسی وقت اشوک کا بھی ادھر سے گزر ہوا۔

اشوک ادھر آئو‘ ۔۔۔ میں نے اسے سب کے سامنے بلایا۔ وہ ڈرا ڈرا ہمارے قریب آ گیا۔ ’ تم میں کچھ غیرت بھی ہے یا نہیں۔ میں نے تمہاری عزت کی تمہیں مخلص انسان سمجھا اور تمہیں اپنے گھر لائی۔ میں ہر کسی کو اپنے گھر نہیں لاتی۔ اپنی بیٹی سے ملوایا اور تم بے غیرت مجھے ذلیل کرتے رہے۔ تمہیں ایک انیس سالہ سادہ لوح کی ضرورت تھی۔ تمہیں ایک تیس سال کی ماں ملی تو تم گھبرا گئے۔ کیا یہی مردانگی ہے؟‘

اشوک کی گھگھی بندھ گئی، ’فوزیہ مجھے معاف کردو۔ مجھ سے غلطی ہوئی‘۔

’اس دفعہ تو معاف کر دیا لیکن آئندہ کسی عورت سے ایسا سلوک نہ کرنا۔ تم مرد لوگ عورتوں کی عزت کرنا کب سیکھو گے؟‘

سب عورتیں حیران تھیں۔ مجھے خود اپنی دلیری پر حیرت ہوئی تھی۔

میں نے شیمپو دھویا اور بالوں میں کنڈیشنر لگایا۔ رابرٹ اپنی انگلیوں سے میرے بالوں میں کنگھی کرتا تو مجھے بہت لطف آتا۔

اس واقعہ کے بعد میں نے پاکستانی ہندوستانی لوگوں سے ملنا جلنا کم کر دیا تھا۔ میری امریکی سہیلیاں میرا زیادہ ساتھ دیتی تھیں۔ خاص کر باربرا جو میرے ہی فٹنس کلب کی ممبر تھی۔ وہ بھی سنگل تھی۔ ۔۔۔ اس نے مجھے بتایا کہ ’ اکثر مرد صرف جنسی تعلقات چاہتے ہیں۔ اگر تمہیں کسی اچھے مرد کی تلاش ہے تو تم انتظار کرو‘۔ پھر اس نے میرا تعارف رابرٹ سے کروایا تھا جسے وہ اچھی طرح جانتی تھی۔

’رابرٹ میرا دوست ہے۔ ایک مخلص انسان ہے۔ وہ میرا کزن بھی ہے۔ اگر وہ میرا فرسٹ کزن نہ ہوتا تو میں خود اس سے ڈیٹنگ کرتی‘

’لیکن میرا ایک اور مسئلہ ہے‘

’وہ کیا؟‘

’میری بیٹی‘

’میری بھی ایک بیٹی ہے اس کا نام سینڈرا ہے۔ پہلے وہ بھی بہت پریشان ہوتی تھی۔ اسے دست لگ جاتے تھے۔ لیکن اب وہ عادی ہو گئی ہے۔‘

پھر ایک دن میری پرویز سے بات ہوئی۔ وہ غصے میں تھا۔ اسے شبانہ نے بتایا تھا کہ اس کی ملاقات رابرٹ سے ہوئی تھی۔

یہ انکل رابرٹ کون ہے ؟‘ اس نے طنزیہ انداز سے پوچھا۔

تمہیں اس سے کیا مطلب؟‘ میں اب تمہاری بیوی نہیں ہوں۔ آزاد پنچھی ہوں۔ میری ملازمت‘میرا گھر‘ میرے دوست اب میرے ہیں‘

لیکن مجھے شبانہ کی فکر ہے‘

 مجھے بھی اتنی ہی فکر ہے جتنی تمہیں ہے۔ میں اس کا اتنا خیال رکھتی ہوں جتنا رکھ سکتی ہوں۔ بچوں کے لیے والدین کی جدائی مشکل ہوتی ہے، قبول کرتے دیر لگتی ہے۔ ایک دفعہ عادی ہو گئی تو پھر تمہارے ساتھ کسی آنٹی کو اور میرے ساتھ کسی انکل کو دیکھ کر نہیں گھبرائے گی‘۔

پرویز خاموش ہو گیا تھا۔ وہ بھی میری ہمت سے پریشان ہوا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ میں بھیگی بلی بن کر صفائیاں پیش کروں گی۔

میں نہا کر نکلی تو باربرا اور سینڈرا آ چکی تھیں۔

شبانہ بہت اداس و ملول بیٹھی تھی۔ وہ اس وقت تک ایک الٹی کر آئی تھی۔

میں کپڑے پہننے گئی تو باربرا نے آ کر کہا ’ آج تمہارا ٹیسٹ ہے۔ اگر تم نے آج ڈیٹ کینسل کر دی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آج کے بعد تمہاری بیٹی تمہاری زندگی کے فیصلے کرے گی۔‘

میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اشوک اور پرویز کو کھری کھری باتیں سنانا آسان تھا لیکن اپنی بیٹی کے آگے گھٹنے نہ ٹیکنا مشکل۔

میں نے شبانہ کو اپنے پاس بٹھایا ۔ اس کا منہ تولیے سے صاف کیا اور پھر رابرٹ کو اس کے سامے فون کیا۔

’ہیلو رابرٹ ! دیکھو میری بیٹی کی طبیعت قدرے خراب ہے۔ اس لیے مجھے سات بجے پک اپ کرنے کی بجائے تم سیدھے رسٹورانٹ چلے جائو۔ میں تمہیں وہاں ساڑھے سات بجے ملوں گی۔ ٹھیک ہے او کے بائے‘

شبانہ کا چہرہ سنجیدہ تھا۔ باربرا دل ہی دل میں مسکرا رہی تھی۔

میں تھوڑی دیر شبانہ اور سینڈرا کے ساتھ کھیلتی رہی۔ دونوں کے لیے اورنج جوس بنایا اور باربرا کو رم اینڈ کوک دیا۔

شبانہ کی طبیعت جلد ہی بحال ہو گئی اور وہ سینڈرا کے ساتھ کھیلنے لگی۔ آدھ گھنٹے کے بعد میں نے باربرا کو آنکھ ماری اور گھر سے نکل گئی۔ کار میں میں نے آئینہ دیکھا۔ میرے ہونٹ سرخ تھے۔

’جب میں تمہارے ہونٹ چھوتا ہوں تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں تمہارے نپل چھو رہا ہوں‘

مجھے رابرٹ کی سرگوشی یاد آئی۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail