آئیں سکول بنائیں
کوشش کریں کہ سکول کی عمارت کا پینٹ بچوں کے مجوزہ یونیفارم سے ہم رنگ ہو۔ واضح رہے کہ یونیفارم کسی عام رنگ کا نہیں ہونا چاہیے۔ آج کل اچھوتے ڈیزائن اور نت نئے رنگ مارکیٹ میں موجود ہیں۔ کسی بھی یونیفارم کی دکان والے سے پہلے ہی ڈیل کر لیں۔ رنگ اور ڈیزائین ایسا ہونا چاہیے کہ پورے شہر میں اور کسی دکان سے ڈھونڈے سے بھی نا مل سکے۔ یونیفارم میں اپنا شئیر پہلے ہی طے کر لیں۔ یہ شئیر صرف پہلے سال کے لیے ہو گا۔ اس کو ہر سال بڑھاتے جانا ہے۔ یہاں تک کہ یونیفارم سنٹر والا آپ کو اپنی دکان بیچنے پر مجبور ہو جائے۔ یہ سکول کے ساتھ مستقبل میں بننے والا آپ کا پہلا سائیڈ بزنس ہوگا۔ چند ”سالوں“ میں آپ اپنے چند ”سالوں“ کو ایسے ہی سائیڈ پراجیکٹس میں ایڈجسٹ کرنے کے قابل ہوں گے۔ خاندانی اور سسرالی حسد سے بچاؤ کا آسان ترین طریقہ اپنے اعزہ و اقارب کو اپنی ترقی میں حصہ دار بنانا ہے۔
سکول یونیفارم میں شرٹ کا رنگ سفید یا آسمانی تو بالکل نا ہو، اسی طرح پتلون بھی گرے یا خاکی نا ہو تو بہتر ہے۔ یہ رنگ ہر جگہ دستیاب ہوتے ہیں۔ پیرٹ گرین شرٹس اور ڈارک براؤن ٹراؤزر میں آپ کے سکول کے بچے سب سے منفرد دکھائی دیں گے۔ اور یہی رنگ دیواروں پر بھی بہت اٹھے گا۔ باقی آپ اپنی اہلیہ سے بھی مشاورت کر سکتے ہیں۔ آخر کو انہی کے وجود سے تصویر کائنات میں رنگ ہے۔ وہ آپ کو بھلا کیا کیا نا تجویز پیش کریں گی۔ بس یہ دھیان رہے کہ لڑکوں کو شاکنگ پنک اور لڑکیوں کو میجنٹا جیسے رنگ تجویز نا کر دیں۔ یوں تو اس میں کوئی خاص قباحت نہیں۔ لیکن آخر کو معاشرتی اقدار کی اپنی اہمیت ہے۔ سکول بنانے والوں سے ان کی پاسداری کا بدرجہ اتم تقاضا ہوتا ہے۔ اور آپ نے خود پر وضعداری کا ایک ایسا خول چڑھانا ہے کہ تمام اپنے پرائے آپ کو اخلاقیات کا گھنٹہ گھر سمجھنے لگیں۔
آپ کی یہ شناخت آئیندہ زندگی میں بہت مددگار ثابت ہو گی۔ بندہ بشر ہے، کسی خوش شکل خاتون ٹیچر سے ہنس کر بات کر ہی لیتا ہے۔ می ٹو والوں کا مگر کوئی پتا نہیں، کب کس کو یاد آ جائے کہ آپ نے ضرورت سے زیادہ فرینک ہونے کی کوشش کی تھی۔ اپنے نام پر ہیش ٹیگ بنوانے سے پہلے ہی حفظ ما تقدم کے طور پر پارسائی کی چادر اوڑھ لینا بہتر
کا تبادلہ اوڑھ لینا بہتر ہے۔
تو بات ہو رہی تھی یونیفارم کی۔ شرٹ اور ٹراؤزر تو سائز میں تبدیلی کی وجہ سے ہر سال ہی نیا لینا پڑتا ہے۔ البتہ والدین ایک ٹائی کو سالہا سال چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس ضمن میں ایک انتہائی منافع بخش آئیڈیا یہ ہے کہ ہر کلاس کی ٹائی کا رنگ مختلف ہو۔ اور اس پر سکول کا مونوگرام بنا ہو۔ تھوڑی مزید محنت سے مانیٹر، پریفیکٹ یا ہیڈ بوائے کے لیے مزید اختراعات کی جا سکتی ہیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اپنی تعلیمی قابلیت سے قطع نظر سال بھر میں ہر طالب علم کسی نا کسی عہدے کے لیے کم از کم ایک مرتبہ ضرور چنا جا چکا ہو۔ اس سے والدین بھی زیادہ چون چرا نہیں کرتے۔ اور خاندان میں ان کے بچے کا نام بھی روشن رہتا ہے۔ جو حتمی شکل میں آپ کے سکول کی چلتی پھرتی اشتہاری مہم کا حصہ ہوتا ہے۔
نت نئے ٹائٹل دیے جا سکتے ہیں۔ اگر آپ کا ذخیرہ الفاظ محدود ہے تو فیس بک سے آئی ڈیز کو ہلکی پھلکی ترمیم کے بعد استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً سکول پرنس، کلاس ڈول، میڈم کی لاڈلی، کیپٹن پلانیٹ، ہائجین مونسٹر وغیرہ وغیرہ۔
اب آپ نے ٹیچرز کی بھرتی کرنی یے۔ یہاں بھی اخراجات میں عدم توازن سے گریز کیا جائے۔ کسی دانشور کا قول ہے کہ اچھی شکل ایک چلتی پھرتی ”سی وی“ ہوتی ہے۔ آپ اگر زندہ دل ہیں تو ”سی وی“ کی بنیاد پر ہی سٹاف اپوائنٹ کریں۔ بچوں نے کون سا ٹیچر کی ڈگریاں چیک کرنی ہیں۔ البتہ ان کے والد کی جیب ایسے سکول میں آسانی سے ڈھیلی کی جا سکتی ہے جہاں صوتی اور بصری دلکشی موجود ہو۔ ٹیچرز کو انگریزی میں بات کرنا آنی چاہیے۔ اگر غلط بھی بولیں تو گزارا چل جائے گا۔ اب تو میڈیا پر اردو میں بھی کتابچہ چل رہا ہے۔
سلیبس کے انتخاب میں وہی یونیفارم والے کلیہ کو لاگو کرنا ہے۔ یعنی نایاب کتب، جو صرف ایک ہی بک سٹور سے دستیاب ہوں اور آپ کا مارجن کم از کم ہر کتاب کی نصف قیمت ہو۔
دھیرے دھیرے آپ خود پبلشنگ کے کام کو سمجھ جائیں گے۔
نسلوں کی تقدیر بدلنے کو تیار ہے۔ سکول کا کوئی انتہائی انوکھا نام سوچئے۔ گوگل ٹرانسلیٹ سے اطالوی یا فرنچ میں بھی نام تلاش کیا جا سکتا ہے۔ ایک بھرپور اشتہاری مہم کے بعد شہر کی کسی سیاسی، سماجی یا کاروباری شخصیت کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیجئے۔ اور ایک رنگ برنگی تقریب میں اپنے سکول کا افتتاح کر دیجئے۔ لیکن یاد رکھیں بابا جی کا سایہ دور دور تک نظر نا آئے۔ ورنہ سکول کھلے نا کھلے، آپ پر ان سے غداری کا نکتہ نمبر چھ پہلے لگ جائے گا۔

