تجاویز مانگی ہیں، افغان اور بنگالی مہاجرین کو شہرت دینے کا فیصلہ نہیں کیا: عمران خان
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم نے ابھی افغان اور بنگالی مہاجرین کو شہریت دینے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا بلکہ تجاویز مانگی ہیں، میں نے یہ بات اس لئے کی ہے کہ اس پر بحث کی جائے، فیصلہ سب کی مشاورت سے کریں گے لیکن یہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ یہ بھی انسان ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ یہ درست ہے کہ ہمارا مینگل صاحب کی پارٹی سے یہ معاہدہ ہو اہے کہ افغان مہاجرین کو واپس بھیجا جا ئے گا لیکن قانون یہ کہتا ہے کہ جو بچے یہاں پید ا ہوئے ہیں ان کا شہر یت کا حق بنتا ہے۔ امریکا سمیت دوسرے کئی ملکوں میں یہ قانون ہے کہ پیدا ہونے والے بچوں کو شہر یت دی جا تی ہے، مہاجرین کیلئے الگ قانون ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ 45 سال سے رہ رہے ہیں ان کے بچوں کے بچے ہوگئے ہیں۔ ان کی تیسری نسل اب رہ رہی ہے جن کا استحصال ہو رہا ہے، انہیں شہریت نہیں ملی، یہ لوگ نہ واپس جا سکتے ہیں اور نہ ہی وہ ہمارے شہری ہیں، انہیں 30 ہزار کی ملازمت کے 15 ہزار روپے ملتے ہیں۔
میں انسا نیت کے تقاضے سے یہ کہہ رہا ہوں، ہم آج کچھ نہیں کریں گے تو کب کریں گے۔ بین الاقومی کنونشن کے تحت مہاجرین کو بھی زبردستی واپس نہیں بھیجا جا سکتا۔ اقوام متحدہ کے ذریعے رضا کارانہ طور پر انہیں وا پس بھیجا جا ر ہا ہے۔ یہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ اس پر پالیسی بنانا پڑے گی۔ خصو صاً کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں یہی لوگ ملوث ہیں، انہیں نوکری نہیں ملتی، یہ مسئلہ حل نہ کیا تو شدید مسائل پیدا ہوں گے۔ قبل ازیں سردار اختر مینگل نے کہا کہ وزیر اعظم نے کراچی میں ایک بیان دیا ہے کہ افغان مہاجرین اور بنگا لیوں کو شناختی کارڈ اور شہریت دی جا ئے گی۔ جب وزیر اعظم اعلان کرتا ہے تو اسے ریاست کی پالیسی تصور کیا جا تا ہے۔ یہ بلوچستان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے۔ ہمارے ساتھ حکومت نے 6 نکاتی معاہدہ کیا تھا۔ ایک نکتہ یہ تھا کہ افغان مہاجرین کو وطن واپس بھیجا جائے گا، اگر پہلے ہی دن ایک نکتہ کی خلاف ورزی ہو ر ہی ہے تو ہم یہاں بیٹھ کر کیا کریں گے۔ اختر مینگل نے دوبارہ بات کرنا چاہی تو اسپیکر نے کہا کہ آپ توجہ دلائو نوٹس لے آئیں۔ اس پر اختر مینگل ناراض ہوگئے اور ایوان سے واک آئوٹ کر گئے۔ نفیسہ شاہ اور یوسف تالپور نے بھی اس پر بات کرنا چاہی اور تنقید کی مگر اسپیکر نے اجازت نہیں دی۔


