ریاست مدینہ (جدید) اور تبدیلی (نسخہ اسطخودوس)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خلیفہ عمر رضی اللہ نے ریاست مدینہ کے مسلمانوں سے کہا میری بات سنو ، مجمع سے ایک آدمی اٹھا اور کہا میں تمہاری بات نہیں سنوں گا، مال غنمیت میں جو چادریں آئی ہیں ان سے میرا کرتا نہیں بنتا تو آپ تو مجھ سے لمبے ہیں آپ نے کیسے مال غنیمت کی چادر کا کرتا پہنا ہے، آپ نے امانت میں خیانت کی ہے۔ میں کیسے آپ کی بات سنوں۔ اس پر خلیفہ نے بیٹے عبداللہ بن عمر کو کہا جواب دو۔بیٹے نے سوالی سے کہا آپ ٹھیک کہتے ہیں مگر میں نے اپنے حصے کی چادر ابا جان کو دی ہے تب جا کر یہ کرتا بنا ہے۔ سوالی مطمئن ہوا اور کہا خلیفہ اب میں آپ کی بات سنوں اور مانوں گا۔

آج کل کے دور میں شائد دوستوں کو یہ مثال عجیب لگے گی کہ کہاں وہ دور کہاں آج کا۔ مگر چونکہ ملک کو نئے حاکم مدینہ کی ریاست بنانا چاھتے ہیں لہذا یہ تو جاننا بنتا ہے کہ ریاست مدینہ کیا تھی- سیاستدانوں کا معاملہ پاکستان میں شروع دن سے ہی عجیب رہا ہے، کوئی شریعت لے آنے کے نام پر کویئ نظریہ ضرورت کے نام پر ہماری قوم کو پاگل بناتا رہا ہے۔ جدید ریاست مدینہ کو بنے ابھی کچھ ہی دن ہوئے ہیں، خلیفہ نظام حکومت بدلنا چاہتے ہیں ۔ لیکن دکھتا کچھ ایسا ہے یہ تبدیلی بنکاری نظام جیسی ہے۔ جیسے اسلامی بنکاری اور سودی بنکاری بس نام کا فرق ہی ہوتا ہے اندر سے ایک۔

ابھی ابھی ریاست مدینہ جونئیر نے منی بجٹ پیش کر دیا ہے۔ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بڑھا دیا ہے، اور ٹیکس نہ دینے والوں پر لگی خرید و فروخت کی پابندی ہٹا دی ہے۔ گیس کی قیمتوں میں بیحد اضافہ کر دیا ہے۔ ریاست مدینہ میں یار دوست مشیر ہیں اور سوالی سوال بھی نہیں کر سکتا کہ خلیفہ تم اپنے قول فعل کے تضاد کا جواب دو۔

جتنا زور زمینں اور ملکیتی اشیا بیچنے پر ہے اگر اتنا ہی تعمیر اور اصلاح پر ہو جائے تو کیا بات ہے۔ گورنر ہاؤس اور چڑیا گھر میں فرق صرف شاید ٹکٹ کی قیمت کا رہ گیا ہے۔ خلیل جبران نے کچھ کہا تھا جو کم وبیش گورنر ھاوس سیر کرنے والے پاکستانیوں پر صادق آتا ہے ۔ لب لباب کچھ یہ ہے کہ جیسی روح ویسے فرشتے۔ پاکستانی امرود لوٹ کر ، گندگی پھیلا کر جدید ریاست مدینہ کو رونق بخشتے نظر آتے ہیں۔پھر ایک گنجے فرشتے جیسے صحافی کو وزیراعظم ہاوس میں وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھے دکھے۔ خلافت میں خلیفہ کی جگہ کوئی نہیں بیٹھ سکتا تھا ، خلیفہ کا منبر مذاق کی جگہ نہیں تھا۔ مگر آج کل سب فیشن میں ہے۔

ایک تبدیلی آنی ہے افسر شاہی کے نظام میں۔ اسے آزادی دلانی ہے یا کچھ ریفارم کرنی ہے ایسا ہی کچھ ارادہ ہے۔ضروری بھی ہے، جتنا افسر شاہی سیاسی مقاصد کے واسطے استعمال ہویی ہے اور کوئی کم ہی ہوا ہے۔ لہذا ان کو تو ٹھیک کرنا ہی ہے۔ مگر برق گرتی ہے تو بچارے مسلمانوں پر۔ افسر شاہی میں تبدیلی کا سارا زور سترہ، اٹھارہ اور انیس گریڈ کے افسران پر ہے۔ ان کے اوپر ورلڈ بنک کے مرتب کردہ ریسرچ پیپرز کے مطابق ڈایریکٹ مارکیٹ سے بندے لا کر بٹھانے ہیں۔ ورلڈ بنک میں اپنے ذاتی تجربے کے باعث میں جانتی ہوں کہ ہیڈ کوارٹر کے لمبے لمبے پیپر پالیسیوں کا زمینی حقائق سے تعلق واجبی سا ہی ہوتا ہے۔ ٹاسک فورس کے ایک جیالے آئی ایم ایف سے معاشیات کا تجربہ لے آئے ہیں اور زبردستی اسے گورننس ریفارم میں انڈیل رہے۔ تبدیلی ٹاسک فورس والے باقی کافی بابے سابق یا موجودہ بیوروکریٹ ہیں ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا جو مرضی ہوتا پھرے۔ جو ملغوبہ تبدیلی آنی ھے اس کے ہم منتطر ہیں۔ سوالی سوال البتہ نہیں کر سکتا۔

مختصرا خلافت کا نظام ختم کر کے کربلا کے بعد جو حکومت میں آئے تھے کہتے وہ بھی خود کو خلیفہ تھے۔ ریاست وہ بھی مدینہ جیسی ہی کہتے تھے۔ عقل عیار ہے کئی بھیس بدل لیتی ہے۔ تاریخ ظالم ہے حساب رکھتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قرۃ العین فاطمہ

قرۃ العین فاطمہ آکسفورڈ سے پبلک پالیسی میں گریجویٹ، سابق ایئر فورس افسراور سول سرونٹ ہیں۔

quratulain-fatima has 16 posts and counting.See all posts by quratulain-fatima