اطالوی مصور جو امام حسین سے ملاقات کی آرزو رکھتا تھا

فاسٹو زونارو پچھلی صدی کا ایک اٹالین مصور تھا۔ اس کے ابا راج مستری تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ بیٹا بھی ایسے ہی کچھ کر لے مگر بیٹا تھوڑا ہٹ کے اپنے جوہر دکھانا چاہتا تھا۔ باپ نے اس کی بنائی تصویریں دیکھیں تو سمجھ گیا کہ بچہ اسی لائن میں بہتر ہے۔ فاسٹو آرٹ سکول میں داخل ہو گیا۔ پڑھ لکھ کے اس نے وینس میں اپنا ایک آرٹ سکول کھول لیا اور بچوں بڑوں کو رنگوں کی دنیا میں گھمانے لگا۔

وہ آئل پینٹنگز بناتا تھا یا پھر واٹر کلر کا استعمال کرتا تھا۔ تیس سال کا ہوا تو اس کی شہرت آرٹ کی دنیا میں ایک جانے پہچانے مصور کی تھی۔ آرٹ کرٹیکس اسے اچھے الفاظ میں یاد کرتے تھے اور اس کی تصویروں کی نمائشیں اٹلی میں ہر اہم جگہ پہ چل رہی ہوتی تھیں۔ پھر اس کا بھی ٹائم آ گیا۔ اسے ایک لڑکی سے عشق ہو چکا تھا۔ وہ لڑکی وینس والے سکول میں اس کی شاگرد رہ چکی تھی۔ دونوں ایک جیسے سرپھرے تھے۔ وہ اپنے زمانے کے ایک سفرنامے سے بہت متاثر ہوئے۔ اس میں لکھاری سیاح ترکی گیا تھا اور سلطنت عثمانیہ کی روداد بیان کی تھی۔ انہوں نے پروگرام بنایا کہ ہم بھی ترکی جائیں گے، ادھر ہی تھوڑا گھومیں پھریں گے اور وہیں جا کے شادی کریں گے۔

زونارو نے 1892 میں اس لڑکی سے شادی کر لی۔ اب وہ دونوں ترکی میں رہنے لگے۔ استنبول میں سب اعلی خاندان ان دونوں میاں بیوی کو جانتے تھے اور زونارو کی مصوری وہاں مقبول ہونا شروع ہو چکی تھی۔ اسے دربار کی اہم شخصیات اپنے یہاں بلاتیں، درباری مصوروں سے بھی اس کی ملاقات رہتی، پھر ایک دن وہ اس مصور سے بھی ملا جو پاشا کی بیگم کا استاد تھا اور یوں اس کی رسائی ڈائریکٹ شاہی جوڑے تک ہو گئی۔ 1896 میں اسے شاہی مصور کا رتبہ مل چکا تھا۔

اب وہ رسامِ حضرت شہریاری کہلاتا تھا۔ سلطان عبدالحمید دوم اس کی تصویروں کے خاص قدردان تھے۔ وہ سلطنت عثمانیہ کے دربار سے وابستہ ہونے والا آخری سرکاری مصور تھا۔ چودہ سال وہ دربار سے وابستہ رہا اور جب سلطان عبدالحمید کو تخت سے اتارا گیا تو زونارو واپس اپنے ملک چلا گیا۔ وہ غالباً واحد مصور تھا جس نے سلطان کے پورٹریٹ بنائے تھے اور ایک بھی نہیں تین تین بنائے تھے۔ سلطان اپنی تصویر بنوانا پسند نہیں کرتے تھے۔ زونارو نے جیسے تیسے انہیں منا لیا۔ ایک تصویر اس نے انہیں نذر کی اور باقی دو واپس جاتے ہوئے وہ ساتھ لے گیا۔

اگلے سال اس نے سلطنت کی جنگی فتوحات پہ چند تصویریں بنائیں۔ ان میں سے ایک پینٹنگ جو یونانیوں سے جنگ کے فرضی ٹائپ منظر پہ بنی تھی، سلطان کو اتنی پسند آئی کہ زونارو کو انعام و اکرام کے ساتھ ساتھ استنبول کا سب سے بڑا گھر بھی انعام میں بخش دیا۔ اس گھر کا رقبہ پچیس سو مربع میٹر تھا۔

کچھ وقت بعد سلطان نے زونارو سے فرمائش کی کہ سلطنت عثمانیہ کی ایک تصویری تاریخ مرتب کرے۔ جیسا اس زمانے میں ترکی نظر آتا تھا، جو وہاں کے رسوم رواج تھے، کلچر تھا، سلطان نے کہا کہ وہ سب کچھ اپنی تصویروں میں اتار ڈالے۔ زونارو نے کام شروع دیا۔ اس نے اپنی ڈیوٹی پہ رہتے ہوئے بہت سی تصویریں بنائیں لیکن اپنا ایک تجربہ وہ کبھی بھول نہیں پایا۔

وہاں رہتے ہوئے اسے کافی چیزوں کا اندازہ تو ہو گیا تھا لیکن بعض رسوم و رواج اس کے لیے نئے بھی تھے۔ پہلے جب محرم آیا کرتا تھا تو زونارو دور سے جلسہ جلوس دیکھ کر اپنی راہ لیتا تھا۔ اب اسے ان تمام ایونٹس کو بھی دیکھنا تھا اور اپنی مصوری میں ڈھالنا تھا، یہ سب چیزیں بھی ترک ثقافت کا حصہ تھیں۔

دس محرم کی رات ہے، تقریباً گیارہ سے بارہ بجے کا وقت ہے۔ مشعلوں کی روشنی ہے اور بہت سارے لوگ دور سے افق پر طلوع ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ کچھ دیر بعد وہ قریب آ جاتے ہیں۔ ان سب کے چہروں پہ ایک خودفراموشی ہے۔ وہ سب کسی انجانے جذبے کے تحت بے خود ہیں۔ ان سب کے ہاتھوں میں لمبی لمبی تلواریں ہیں اور ایک خاص مقام پہ آ کر وہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان کے درمیان وہ مولانا موجود ہیں جنہوں نے ان سب کو رکنے کا حکم دیا ہے۔

جلوس میں جو لوگ سینے پہ ماتم کر رہے ہیں ان کی آنکھیں بند ہیں، قمیصیں اتری ہوئی ہیں اور ایک ردھم پہ ان کے ہاتھ چلے جا رہے ہیں۔ اتنے بہت سے لوگوں کا چلنا اور رکنا اور پھر چلنا بہت ساری مٹی کو فضا میں اڑا چکا ہے۔ مشعلوں کی روشنی، ان کا دھواں اور یہ مٹی سارے ماحول کو ایک اداس اور پرہیبت زرد رنگ میں رنگ چکی ہے۔ مولانا کے ہاتھ میں ایک کتاب ہے۔

اس کتاب سے دیکھ کر ہی انہوں نے کچھ پڑھا ہے اور پھر جب وہ پڑھنا ختم کیا ہے تو لوگ اس قدر غم میں ہیں کہ اپنے ساتھ لائی تلواریں اپنے سروں پہ مار رہیں۔ ان سب کی آنکھیں بند ہیں، ہاتھ اور جسم خون میں لت پت ہیں اور ان کے چہروں سے ان کی وارفتگی، فدایانہ عقیدت اور غم چھلکتے دکھائی دیتے ہیں۔ مولانا پڑھائی ختم کر کے جلوس میں سے نکل رہے ہیں (وہ خود تلواروں کا ماتم کرنے میں دلچسپی لیتے نہیں نظر آتے)۔

جب زونارو نے یہ سارا منظر دیکھا تو اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ اس نے فوراً ہی وہ تصویر بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ اسی دوران زونارو کے منہ سے نکلنے والے الفاظ تاریخ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گئے؛

“After witnessing the horripilation procession (of Tatbir) I wish I were able to meet this man they mourn for”

“تطبیر (سر میں تلوار مارنے کا ماتم) کے اس رونگٹے کھڑے کر دینے والے جلوس کو دیکھنے کے بعد میں چاہتا ہوں کہ کاش میں اس انسان کو ملنے کی سعادت حاصل کر سکتا جس کا غم یہ سب لوگ ایسی شدت اور عقیدت سے مناتے ہیں۔ ”

وہ اٹالین مصور تھا تو بڑے آرام سے متاثر ہوا، تصویر بنائی اور اپنی خواہش کا معصومانہ اظہار کر کے فوت ہو گیا۔ اگر اسے جدید سوچ عطا ہوئی ہوتی تو وہ اطمینان سے تمام لوگوں کے خلاف کوئی فتویٰ لگواتا، ان کے اجتماعی عمل کو حرام اور خلاف عقل و شریعت قرار دیتا، ان کی بخشش اور ثواب و عذاب کے بارے میں تحقیق کرتا، انہیں کسی دائرے کے اندر لاتا اور کسی دائرے سے باہر نکالتا، یہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی اسے آرام نہ ملتا۔ بالاخر وہ ان سب کو ٹھیک راستے پہ لانے کی آرزو کرتے کرتے بوڑھا ہوتا اور انجام کار خدا کو پیارا ہو جاتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words