جون ایلیا، نوجوانوں کا نیا کیوپڈ

انسان ساری زندگی محنت کر کے اپنا ایک بت تراشتا ہے، اس شکل کا جیسا وہ خود کو دیکھنا چاہتا ہے۔ واحسرتا کہ خود اپنی باقی زندگی وہ اسی بت کو ٹکڑوں کی صورت میں گرتا دیکھتا ہے۔ کچھ کے ٹکڑے لوگ بھی دیکھ لیتے ہیں، جون ایلیا ایک ایسے ہی بت تھے جنہیں پاش پاش ہوتا خود وہ تو دیکھتے ہی رہے، ان کے سب ہم عصروں نے بھی دل بھر کے دیکھا۔ وہ اوائل عمری ہی میں ’دی

Read more

عورت اور مرد بالکل الگ مخلوق ہیں

یہ مرد آخر چاہتے کیا ہیں؟ ان کے دماغ میں کیا بھرا ہوا ہے؟ یہ ایسے کیوں ہیں؟ عورت آخر چاہتی کیا ہے، اس کی نفسیات کیا ہے؟ یہ ایسا کیوں سوچتی ہے؟ ہماری زمین پر انسانوں کی کھوج اگر لگائی جائے تو لاکھوں سال پہلے تک کے سراغ نکلتے ہیں لیکن اتنے زیادہ عرصے کے باوجود آج تک جو بندہ جوان ہو گیا، یہ دو سوال اس کے بعد مرتے دم تک اس کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ کتابیں بھری

Read more

مظہر علی سر سید کے پڑپوتے نہیں تھے

عروسہ میں انتہائی منفی اور چبا چبا کر جملے ادا کرنے والے خوش شکل اداکار مظہر علی کی سناؤنی آج چلتے ٹی وی نے دی۔ وہی ٹی وی جس پہ وہ چھائے رہتے تھے ایک طویل عرصے اس پر سے گم بھی رہے۔ گمشدگی اپنی جگہ لیکن دلوں پر ان کی حکومت ایسی تھی کہ ایک لحظے کو محسوس ہوا جیسے وقت واپس اس زمانے میں پہنچ گیا ہے جب ہم لوگ رات آٹھ بجے اپنے دوسرے کرش کے انتظار

Read more

ابے مرد بن مرد! شیر بن!

مرد ہونے کے لیے جتنی چیزیں ضروری ہیں اس میں سوائے جسم کے، باقی سب کا سب حالات پہ ڈیپنڈ کرتا ہے۔ مطلب دنیا میں تو آنا تھا، یا مرد یا عورت یا کوئی درمیانی شکل، تو آپ آ گئے۔ اب آپ ایک عدد مرد ہیں، اوکے فائن، لیکن باقی سب کچھ جو مارکیٹ میں مردانہ پن کہلاتا ہے اگر وہ سب آپ کے اندر نہیں ہو گا تو آپ مرد کیسے کہلائیں گے؟ جیسے مرد جو ہے اس کا

Read more

روشن دان ہمارے ہیرو ہیں، اے سی تباہی

گاڑیوں میں جیسے سن روف ہوتی ہے نا، ویسے کمروں میں روشن دان ہوا کرتے تھے۔ کلائمیٹ چینج کی اِس صدی میں جو چیز مجھے سب سے زیادہ یاد آتی ہے وہ بس روشن دان ہیں۔ روشن دانوں کا راستہ ہمارے اے سیوں نے بند کر دیا اور کھڑکی جتنی مرضی بڑی ہو جائے اُس کا وہ والا فائدہ ہی نہیں ہوتا۔ تب اے سی بس بڑے سرکاری دفتروں میں ہوتے تھے یا ہسپتالوں میں، اور ان عمارتوں میں روشن

Read more

بیٹی کی شادی کا بوجھ زیادہ ہو گا یا لاش کا؟

بیٹی کی شادی زبردستی کر دی اور ڈیڑھ ماہ بعد لاش گھر پہنچی لیکن اس بار یہ آسٹریلیا میں ہوا ہے۔ اپنی بیٹی کی زبردستی شادی کرنے پہ ایک پناہ گزین خاتون کو پچھلے ہفتے آسٹریلیا میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی۔ جج نے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ لڑکی ناقابل برداشت دباؤ میں تھی جس کی وجہ سے وہ شادی کرنے پہ مجبور ہوئی۔ یہ اس بچی کی دوسری شادی تھی، پہلی شادی بھی 15 سال

Read more

وجاہت مسعود کو غصہ کیوں آتا ہے؟

وہ اس وقت کالم لکھ رہے ہوں گے؟ ابو بہانہ کا فون جب وجاہت بھائی نہ اٹھا سکے تو یہ سوال اس بندے سے کیا گیا جس نے ان کی جگہ فون اٹھایا۔ ہاں بھئی ایسا ہی ہے، آپ بہتر سمجھتے ہیں، یہ وقت ان کے لکھنے کا ہے۔ جب آگے سے ہمم کی ایک لمبی آواز آئے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ ریسیور کی دوسری طرف موجود آدمی یا تو کچھ سوچ رہا ہے یا جو پیغام

Read more

سنہ 1925 میں ایک ملتانی عراق جا کر عشرہ محرم کا احوال دیتا ہے

میرا نام حسنین جمال ہے۔ زیر نظر واقعات میرے دادا یٰسین صدیقی کی سوانح سے لیے گئے ہیں جو انہوں نے 1944 تک تحریر کی تھی۔ ان قصوں میں بہت کم قلم لگانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ جہاں ضرورت پڑی اور نام یا مقام ادارت کی زد میں آیا، وہاں اطلاع کر دوں گا۔ 1944 کے بعد حالات ہم تک روزنامچوں کی صورت پہنچتے ہیں جو چھوٹی ڈائریوں پر انتہائی باریک خط میں رقم ہیں اور فارسی میں ہیں۔ یٰسین صدیقی

Read more

مذہبی روادری کیسے کیسے نبھائی گئی

گرو تیغ بہادر سکھوں کے نویں گرو تھے۔ اورنگ زیب کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ ان کے حالات کے بارے میں ان کے بیٹے گرو گوبند سنگھ کا بیان سکھوں کی مذہبی مجالس میں پڑھا جاتا ہے کہ اورنگزیب عالم گیر بادشاہ وقت تھے۔ کشمیر کے ہندو پنڈتوں کو مذہبی تعصب کا نشانہ بنایا گیا۔ گرو صاحب اپنے وقت بااثر شخصیت تھے۔ پنڈت غریب مسئلہ لے کر ان کے پاس پہنچ گئے۔ گرو کہنے لگے بادشاہ سے کہہ دو ہم گرو

Read more

کربلا کی داستان کا ایک کردار زعفر جن

’میں دریا کے سفر پہ تھا اور طوفان کے آثار تھے۔ ایک دم شدید اندھیرا چھا گیا اور پھر بس اتنا پتہ لگا کہ بڑی سی ایک لہر آئی ہے جو میری کشتی سے ٹکرا گئی۔ ’میری آنکھ کسی کے رونے کی آواز سے کھلی۔ شاید بے ہوشی میں کسی تختے پہ پڑے ہوئے میں تیرتا رہا اور آخر اس جزیرے تک پہنچا۔ تھوڑی طاقت آئی تو رینگتے ہوئے اٹھنے کی کوشش کی، وہ آواز دور سے آ رہی تھی۔

Read more

انقلاب کا کپا لڑھک چکا!

ایک دن ہم ایڈیٹر صاحب کے یہاں بیٹھے تھے کہ ان کے ایک دوست تشریف لائے۔ وہ کچھ دیر بیٹھے ہوں گے کہ ایڈیٹر صاحب نے ان سے فرمائش کر دی، قبلہ فلاں موضوع پر کچھ لکھ دیا جائے۔ قبلہ نے بھی حامی بھر دی۔ کچھ دیر سوچتے رہے، پھر کاغذ قلم منگوایا اور تیز تیز لکھنا شروع کر دیا۔ جب لکھ چکے تو جو لکھا گیا تھا اس کا طے شدہ موضوع سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں

Read more

اطالوی مصور جو امام حسین سے ملاقات کی آرزو رکھتا تھا

فاسٹو زونارو پچھلی صدی کا ایک اٹالین مصور تھا۔ اس کے ابا راج مستری تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ بیٹا بھی ایسے ہی کچھ کر لے مگر بیٹا تھوڑا ہٹ کے اپنے جوہر دکھانا چاہتا تھا۔ باپ نے اس کی بنائی تصویریں دیکھیں تو سمجھ گیا کہ بچہ اسی لائن میں بہتر ہے۔ فاسٹو آرٹ سکول میں داخل ہو گیا۔ پڑھ لکھ کے اس نے وینس میں اپنا ایک آرٹ سکول کھول لیا اور بچوں بڑوں کو رنگوں کی دنیا

Read more

ایک باپ جو بیٹی کو سالگرہ پہ خط لکھتے ہوئے پریشان ہے

آئلہ زینب، میں تمہاری ہر سالگرہ پہ ایک خط لکھتا تھا جس کا عنوان تمہیں یاد ہو گا، بیٹی کی تیرہویں سالگرہ پہ ایک خط۔ اس قسم کا ہوتا تھا۔ ابھی چونکہ تم ایک عقلمند لڑکی ہو اس لیے آئندہ کسی خط میں تمہاری سالگرہ کو مینشن نہیں کروں گا۔ تمہاری مرضی اپنی عمر جسے جو بتاؤ، کم از کم میں خود کیوں اپنی بیٹی کی عمر کا اشتہار لگاؤں؟ یہ تو ایسے ہی ہو گا جیسے تم میری تنخواہ

Read more

میرے بچپن کا محرم ایسا ہوتا تھا

چھوٹی باجی کی امی الٹی چارپائی پہ بیٹھی سروتے سے چھالیہ کتر رہی ہیں، کالے کپڑے انہوں نے پہن رکھے ہیں۔

دوسرا منظر انہی کے گھر مجلس کا ہے، میں بیٹھا ہوں امی کے ساتھ، عورتیں رو رہی ہیں، امی بھی روتی ہیں، مجلس جیسے ہی ختم ہوتی ہے دو منٹ کے اندر سب چپ ہو جاتے ہیں۔ یہ بات مجھے حیران کن لگتی ہے۔

پھر پابندی ہے کم از کم ایک ماہ گانوں پر، ٹی وی پر، کھیل کود پر، ہنسی مذاق پر، کچھ نیا خریدنے پر، کچھ نیا پہننے پر اور اس دوران یوم عاشور جب آئے تو ہاتھ ملانے یا گلے ملنے پر، گھر میں کچھ پکانے پر اور کنگھی کرنے یا نہانے پر۔ ابا پیدل جائیں گے النگ (ملتان والڈ سٹی) ، جلوس کے بعد جو دال ملے گی وہ گھر لائیں گے، ساتھ روٹیاں ہو گی، وہ کھائی جائیں گی۔ عید پہ شیر خرما بنے یا نہ بنے محرم کے دسویں دن اس دال کے علاوہ کبھی گھر میں دوپہر کو اور کچھ نہیں کھایا گیا۔ ابا سے پہلے دادا جایا کرتے تھے۔

Read more

میر انیس کے مرثیوں میں ہندوستانی ماحول کیوں ہوتا تھا؟

میر انیس پہ جو اعتراض اٹھائے جاتے ہیں ان میں سب سے عام یہ ہیں کہ اول تو کربلا والوں کے رسم و رواج وہ نہ تھے جو ادھر ہم لوگوں کے ہیں، پھر یہ کہ بھلا وہ ہماری طرح رو کیسے سکتے تھے، ان کی خواتین ہماری گھریلو عورتوں والی زبان کیسے بول سکتی تھیں؟ ان کے یہاں مہندی کی وہ رسم کیسے ہوئی جو خالصتاً ہندوستانی شادیوں کا فنکشن ہے، ان کا لباس، اٹھنا بیٹھنا، سب کچھ میر انیس نے خالص ہندوستانی ماحول میں کر دیا جب کہ وہ سب تو عرب تھے۔

ایک مزید قصہ یہ اٹھایا جاتا ہے کہ میر صاحب نے بعض مقامات پہ غلو (جھوٹ بولنے ) کی حد کر دی۔ گھوڑے کی بات ہو رہی ہے تو اس کی صفتیں آسمانی ہیں، تلوار ہے تو اس کا مقابل کوئی نہیں، موسم کی شدت کا بیان ہے تو اس میں سوا نیزے والا معاملہ ہے اور جو بند گریے کے ہیں ان میں بھی ایسی کیفیت پیدا کر دی کہ جیسے میر انیس خود وہاں موجود تھے۔

Read more

محرم تو سب کا ہوتا تھا!

ہندو تعزیہ داروں میں ایک عجیب قسم کی رسم رائج تھی۔ کچھ لوگ دسویں محرم کی رات کو "پیک” بنتے تھے۔ انہیں کچھ لوگ "ناتک” بھی کہتے تھے۔ ان کا حلیہ بہت عجیب سا ہوتا تھا۔ سر پر بہت بڑی سی پگڑی ہوتی تھی۔ بالکل ویسی کہ اگر آپ کپڑے کے تھان کو سر کے گرد لپیٹتے جائیں اور آخر میں ایک کونا طرے کی طرح باہر نکال لیں۔ کمر میں ایک چوڑا سا پٹہ بندھا ہوتا تھا جس میں

Read more

کچھ تصویریں کیمرا نہیں بنا سکتا

گدھا گاڑی سڑک پہ جا رہی ہے، کچھ سامان لدا ہوا ہے، اس پہ بہت سے بچے بیٹھے ہیں۔

ان کے امی ابو بھی ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں (ایک عورت اور مرد اگر بچوں کے ساتھ ہیں تو وہ اور کیا لگیں گے؟ ) بچوں نے جو کپڑے پہنے ہیں وہ نیلے پیلے لال پتہ نہیں کتنے رنگوں کے ہیں۔ گدھا گاڑی کے ساتھ ایک کتا، دو تین بھیڑیں اور کچھ بکریاں بھی تیز تیز قدم اٹھاتے چل رہے ہیں۔ جو بھی جانور ادھر ادھر ہوتا ہے کتا اسے ہشکاتے ہوئے سیدھی راہ پہ لگا دیتا ہے۔ یہ لوگ شاید خانہ بدوش ہیں۔

Read more

اتنا سوچ کے کرنا کیا ہے؟

کھانے کی دعوت کا سات آٹھ ہزار بل دیتے ہوئے کبھی آپ نے سوچا نہیں ہو گا کہ اس میں چالیس پچاس بندوں کا لنگر ہو سکتا ہے۔ کسی امیر آدمی نے ڈیڑھ کروڑ کی گاڑی لیتے ہوئے ایک لمحے کو بھی خیال نہیں کیا ہو گا کہ ان پیسوں میں ڈیڑھ سو نوجوان موٹر سائیکل لے سکتے ہیں۔ تیس چالیس کروڑ کا گھر خریدنے والے ظاہری بات ہے ان لوگوں کے لیے کیوں ہلکان ہوں جن کی چھت ہی کوئی نہیں۔

Read more

مہرو میری جان

گھر میں سب سے پہلی گاڑی ایف ایکس آئی تھی۔ ہما کے مقدر تھے۔ چھوٹی بہن، وہ پیدا ہوئی تو بس چھ آٹھ ماہ کے اندر ابو نے گاڑی لے لی۔ اس وقت میں، سب سے بڑا بھائی بارہ سال کا تھا۔ سوزوکی ایف ایکس کی سیٹیں ایسی تھیں جیسے آپ جھلنگا سی ادھ کسی چارپائی پہ بیٹھے ہوئے ہیں، باقی زندہ باد گاڑی تھی۔ بڑے عرصے رہی، آل پاکستان ٹور بھی کرایا اسی پہ ابو نے ہم سب کو

Read more

زندگی کی روٹین بوریت توڑنی ہے؟ آؤ بیٹے ساتھ

تم نے کبھی پھلوں کا جوس بنایا ہے؟ زندگی کے سارے فلسفے اسی میں ہیں۔ چھیل کر، باریک ٹکڑے کر کے، بیچ پرے پھینک کے، جوسر مشین میں پھل جب ڈالا جاتا ہے اور مکمل ستیاناس ہونے کے بعد جو رس نکلتا ہے وہ جوس کہلاتا ہے۔ وہ نہیں نکالنا تھا۔

جوس بنانے اور نکالنے میں بہت فرق ہے۔ جوس بنانے کے لیے تم بلینڈر کا استعمال کرو گے بیٹا۔ وہ مشین جس میں اماں یا بیگم جب ملک شیک بناتے ہیں تو آواز سنتے ہی پورے گھر کے منہ میں پانی آ جاتا ہے، تو اس میں، کیا بنانا ہے؟ جوس!

Read more

نقل کرنا طالب علم بے چارے کا حق ہے

اگر وہ پورا سال کورس کے رٹے لگا رہا ہے، گھوٹ گھوٹ کے مطالعہ پاکستان پی رہا ہے، اے پلس بی ہول سکوئر برابر اے سکوئر پلس ٹو اے بی پلس بی سکوئر جیسا خشک فارمولہ یاد کرتا ہے تو کیا وہ پاس نہیں ہونا چاہتا؟

جسے آپ نالائق کہتے ہیں، نکما سمجھتے ہیں، نقل خور کہتے ہیں، کیا وہ سکول میں چھولے بیچنے آتا ہے؟ اسے نہیں پسند کہ ماں باپ کی آنکھوں میں اس کے رزلٹ پر بھی ویسے ہی چراغ جلیں جیسے ’لائق‘ بچوں کے فرسٹ آنے پہ روشن ہوتے ہیں؟

Read more

جب ایک لڑکی کا فون ابو نے اٹھا لیا

بیٹا تمہارے لیے کسی مایا کا فون آیا ہے۔
آٹھویں نویں میں تھا، سردیوں کے دن تھے، فون کے دو کنکشن ہوا کرتے تھے۔ ایک بیٹھک اور دوسرا اس کمرے میں جو پہلے دادی کا ہوا کرتا تھا۔ ان کے بعد بچوں کے حصے میں آ گیا۔

تو میں وہیں تخت پہ کمبل کے اندر لپٹا بڑے سکون سے ٹی وی دیکھ رہا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی۔ میری جانے بلا کس کا فون ہے۔ اس زمانے میں ٹیلیفون سننے کا مطلب یہ ہوا کرتا تھا کہ جس سے فون کرنے والے نے بات کرنی ہے، جا کے اسے بلا کر بھی لاؤ، اپن جہان کے سست، کان لپیٹے وہیں کے وہیں، بجتی رہیں گھنٹیاں۔

Read more

صوفی بننے یونیورسٹی جائیں گے؟ ہو آئیں

اقبال کا شاہین ایک سائیڈ پہ کھڑا ہے دوسری طرف بلھے شاہ کہتے ہیں کنجری بنیاں میری عزت نہ گھٹدی (کنجری بن کر میری عزت نہیں گھٹتی) ۔ قصہ دونوں کا یار منانے پہ ختم ہوتا ہے۔ یار مان گیا تو بندہ مطمئن ہو گیا۔

ہم انسان ہیں۔ مہاتما بدھ بھی جب ریاضت میں تھے، جنگلوں میں، کسی درخت کے نیچے، سب اپنوں سے دور، تو بہرحال انہیں احساس تھا کہ وہ اپنا آپ مار رہے ہیں۔ یہ جو احساس ہے خود سے جنگ کرنے کا، خواہشات مارنے کا، بے غرض ہونے کا، عبادت کا، یار منانے کا، کسی بھی ایسی چیز کا جو انسان کی فطرت میں شامل نہیں، اسے نفس سے لڑنا کہا جاتا ہے۔

Read more

تم مجھے صاف کچن دو، میں تمہیں تمیز دار قوم دوں گا

ہاتھوں میں لہسن کی مہک ہے، جسم مکمل پسینے میں، برتن سارے دھو لیے، سنک سے چپکنے کے بعد اب پیٹ پر سے قمیص گیلی ہے، پھر کیا ہوا؟ کچن تو صاف ہو گیا نا؟

اب نہائیں گے آرام سے، پھر واپس آ کے دیکھیں گے بھائی جو دال روٹی کرنی ہے، ابھی تو بس یہ میلے گیلے کپڑے بدلیں، صاف ستھرے ہوں، اس کے بعد کچن کا منہ دیکھیں گے۔

Read more

جالی تھامے یہ دو گمنام ہاتھ عید پہ یاد رکھیں

پرندے درختوں کی چھاؤں سے نکلتے ہوئے کترا رہے ہیں، جی ٹی روڈ پہ سڑک کی جگہ پگھلی ہوئی تارکول بچھی ہے، پرآسائش گاڑیوں اور بسوں میں لوگوں نے اے سی فل سپیڈ پہ چلایا ہوا ہے، عید آنے والی ہے۔

کوئی اپنے باپ کے ساتھ عید نماز پڑھنے کا پروگرام بنا رہا ہے، کسی نے ماں کے پیر چومنے ہیں، کوئی بیوی بچوں کے ساتھ عید منانے کی فکر میں ہے، خود میں اسی سڑک پہ ہوں اور دماغ میں بہت سی چیزوں کے ساتھ گاڑی بس میرے ہاتھوں میں آٹو میٹک چل رہی ہے۔

Read more

زندگی میں سکون چاہیے یا ڈبل بیڈ؟

آپ ڈبل بیڈ پہ کیوں سوتے ہیں؟ سٹیٹس سمبل ہے، عام بات ہے یا پھر اس سے ہٹ کے سوچا ہی نہیں جا سکتا؟
بے شک کنوارے بندے کا خواب ہو سکتا ہے ایک ڈبل بیڈ جس کے ساتھ تمام لوازمات بھی شامل ہوں لیکن، سوال یہ کہ ڈبل ہی بیڈ کیوں؟

ابھی پچاس ساٹھ برس پہلے تک تو نہیں ہوتا تھا یہ گھروں میں۔ تب کوئی جوڑا کیسے سوتا تھا؟ چارپائیاں ملا کر یا بہت ماڈرن ہیں تو سنگل بیڈ کو جوڑ لیتے تھے۔ اس میں دو تین انچ کا فاصلہ ضرور ہوتا تھا۔

Read more

پاک ٹی ہاؤس اور زاہد ڈار

”یار کئی لوگ ایسے لگتے ہیں جیسے انہیں میں نے کہیں دیکھا ہو، اب اسی برس کی عمر میں پتہ نہیں کتنے ہی لوگوں کو دیکھا ہو گا۔ وہ دیکھو وہ جو سامنے بندہ ہے، اب وہ کبھی نہ کبھی کہیں دیکھا ہے، پر کہاں، یہ اگر یاد آ جائے تو پھر کیا بات ہے۔ بہت سے لوگ مجھے دیکھتے ہیں اور حیران ہو جاتے ہیں کہ تم ابھی تک زندہ ہو ہم سے تو جو بھی ٹی ہاؤس والے

Read more

کتابوں اور یادوں میں گھرا ایک بوڑھا آدمی

کبھی ایسے انسان کا تصور کیجیے جسے زندگی میں کوئی کام نہ ہو، نہ اسے نوکری کرنی ہو، نہ اسے کاروبار کرنا ہو، نہ اس نے شادی کی ہو نہ کرنی ہو، بس ایک کام ہو اور وہ کرتا جائے، کرتا جائے کرتا جائے یہاں تک کہ وہ اسی برس کا ہو جائے۔ اور وہ کام کتاب پڑھنا ہو۔ جب کبھی کتابوں سے جی بھر جائے تو جا کر دوستوں میں جا بیٹھے اور جو وہاں سے اکتائے تو واپس

Read more

منٹو اور عصمت چغتائی کی فحاشی: لاہور کی عدالت میں

عصمت چغتائی اپنی کتاب “کاغذی ہے پیراہن” میں دو افسانوں پہ چلنے والے مقدموں کی عدالتی کارروائی بتا رہی تھیں۔ کتاب کا پرانا ایڈیشن تھا۔ صفحے سکین کرنے سے بات نہیں بننی تھی۔ تو وہ سارے مکالمے ٹائپ کر دئیے اور ادھر آپ کی عدالت میں حاضر کر دئیے۔ فحاشی کی تعریف کا تعین کرنے میں شاید یہ بحث کچھ مددگار ثابت ہو۔ اقتباسات حاضر خدمت ہیں؛ بو کی پیشی: پیشی کے دن ہم کورٹ حاضر ہوئے اور وہ گواہ

Read more

آٹھ محرم الحرام اور بسم اللہ خان شہنائی والے

بسم اللہ خان ایک کٹر مذہبی انسان تھے۔ دین کے تمام فرائض پورے کرتے تھے۔ فجر کی نماز پڑھے بغیر ان کا دن شروع نہیں ہوتا تھا۔ جو کماتے تھے، اپنے بچوں اور ضرورت مندوں کو دے دلا کر ہاتھ کے ہاتھ فارغ ہو جاتے تھے۔ کنجوسی کرتے تو نواب ہوتے، توکل کرتے تھے، حال مست رہتے تھے۔ ایک سادہ سا گھر تھا، دروازوں اور دیواروں پر کہیں رنگ ہوتا تھا، کہیں نہ بھی ہوتا، ان کی بلا جانے۔ سونے

Read more

کینسر کے مریض اداکار عرفان خان کا خط

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ تمہاری آنکھ اس جھٹکے سے کھلتی ہے جو زندگی تمہیں جگانے کے دیتی ہے، تم ہڑبڑا کے اٹھ جاتے ہو۔ پچھلے پندرہ دنوں سے میری زندگی ایک سسپنس والی کہانی بنی ہوئی ہے۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ انوکھی کہانیوں کا پیچھا کرتے کرتے میں خود ایک انوکھی بیماری کے پنجوں میں پھنس جاؤں گا۔ ابھی تھوڑے دنوں پہلے ہی مجھے اپنے نیورو اینڈوکرائن (آنتوں سے متعلق) کینسر کے بارے میں پتا چلا۔ مجھے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس کے مریض پوری دنیا میں بہت ہی کم ہیں، نہ ہونے کے برابر۔ مریض نہیں ہیں تو اس پہ تحقیق بھی ویسے نہیں ہوئی جیسے ہونی چاہئے تھی۔ نتیجہ کیا ہو گا؟ ڈاکٹروں کے پاس دوسری بیماریوں کی نسبت اس کے بارے میں کم معلومات ہیں، علاج کامیاب ہو گا یا نہیں، یہ بھی سب ہوا میں ہے، اور میں… میں بس دواؤں اور تجربوں کے کھیل کا ایک حصہ ہوں۔

Read more

سنجے دت کا اصلی خط: نرگس کے نام

سنجے کسی انٹرویو میں یہ نہیں کہتے کہ وہ ماں کی موت کے بعد نشے میں پڑے۔ زیادہ سے زیادہ حالات کو اس کا ذمہ دار قرار دے کر وہ جان چھڑا لیتے ہیں۔ ایک حالیہ انٹرویو میں پوچھا گیا کہ کیا نرگس دت کی موت کے بعد انہوں نے شراب اور دیگر نشہ آور چیزوں کا استعمال شروع کیا تو ان کا یہ جواب تھا؛ "یار ایسا نہیں ہے کہ میں نے ماں کی وجہ سے یہ سب شروع

Read more

احسان اللہ احسان کی باتیں

سترہ اپریل کو خبر ملی کہ احسان اللہ احسان نے خود کو سیکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا ہے۔ یہ بہت بڑی اور اہم خبر آپریشن ردالفساد کی ایک نمایاں پیشرفت سمجھی گئی۔ پھر اقبالی بیان سامنے آ گیا۔ اس میں ایک فریش چہرے کے ساتھ کیمرے کے روبرو گفتگو ہوئی۔ ٹیکنیکلی وہ بیان اپنی اہمیت سے زیادہ ہائپ پیدا کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ وہ ایک زیرحراست مجرم کا اقبالی بیان تھا، دوران سماعت عدالت کے سامنے بھی اگر

Read more

پاکستان میں نیوڈ مصوری

انسانی جسم کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے عام طور پر ہمارا رویہ ایسا ہوتا ہے جیسے ہم کوئی غلط کام کر رہے ہیں، معذرت خواہ ہیں، یا کچھ شرمندہ ہیں۔ شاعری میں کسی حد تک معافی ہے لیکن وہ بس یہی ہے جسے اردو میں رعایت شعری اور انگریزی میں پوئٹیک لائسنس کہتے ہیں، یا عربی والے شاعر کو تلامیذ الرحمن کہہ کر گویا چشم پوشی کر لیتے ہیں۔ افسانوں کو دیکھیں تو منٹو، واجدہ تبسم، عصمت چغتائی آج

Read more

کیا خود کشی کرنے والے ڈرپوک ہوتے ہیں؟

جس وقت ہمیں ٹھیک ٹھیک علم ہوتا ہے کہ موت کیا ہے‘ تب سے مرنا ہمیں فرار کا ایک راستہ نظر آتا ہے۔ ہر مشکل مرحلے پہ‘ ناقابل برداشت دکھ میں‘ کہیں شدید الجھن میں پھنسنے پر‘ کسی جذباتی لمحے کے عروج پر، کبھی جب شدید دھچکا لگے، جہاں ذرا چوٹ گہری ہو جائے یا کوئی بھی ایسامسئلہ ہو کہ جس میں الجھ کر ثابت سلامت باہر نکلنا ممکن نظر نہ آ رہا ہو‘ ہم لوگ موت کی آرزو کرتے

Read more

چرس کی تیاری، فضائل اور ڈاکٹری رائے

مجھ جیسا ایک شہری پہلی مرتبہ گاؤں گیا تو اس نے سامنے نظر آنے والے دیہاتی سے پوچھا کہ یہ جو تمہاری گائے ہے، اس کے سینگ کیوں نہیں ہیں؟ جواب آیا بعض کے لڑائی میں ٹوٹ جاتے ہیں، بعض کے ہم نکال دیتے ہیں، کچھ کے تو قدرتی طور پہ ہی نہیں ہوتے لیکن جس کی طرف آپ اشارہ کر رہے ہیں وہ بہرحال ایک گدھا ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ چرس پینے والے ہر دس میں سے ایک

Read more

آزاد میڈیا سازش نہیں ہوا کرتا

عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ جب ہم کسی فلم ساز، اداکار، شاعر، سیاست دان، لکھاری یا کسی بھی ایسے شخص کی وہ بات سنتے ہیں جو ہمارے دماغ کے خانے میں فٹ نہیں آتی تو ہم اس کے پیچھے فنڈنگ ڈھونڈنا شروع کر دیتے ہیں، ہمیں ایجنڈے کی خوشبوئیں آنا شروع ہو جاتی ہیں، ہم سازشوں کا راگ الاپتے ہیں، ہم تھڑوں پر بیٹھ کر جتنا ممکن ہو سکتا ہے انہیں گالیاں دیتے ہیں، ہمارا بلڈ پریشر ہائی

Read more

امام بارگاہ غفران مآب لکھنو کی مجلس کا احوال: ہندو افسر کی زبانی

امام بارگاہ غفران مآب، یکم محرم، چودہ مئی، 1964 غفران مآب روڈ سے وکٹوریہ روڈ کی طرف آئیں تو لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد تیزی سے امام باڑے کی طرف جاتی نظر آتی ہے۔ ان میں سے اکثر معقول لباس میں ہیں۔ بہت کم ایسے ہوں گے جو غریب طبقے میں شمار ہوں۔ غفران مآب امام باڑے کی مجلس عموماً مشہور علماء اور ذاکر پڑھتے ہیں اس لیے پڑھا لکھا طبقہ بہت زیادہ کھنچا چلا آتا ہے۔ ذرا آگے

Read more

روحانیات کی سائنس اور جنات کی توانائی

آپ کو پتہ ہے غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان کی سب سے زیادہ بکنے والی کتاب کون سی ہے؟ ’موت کا منظر عرف مرنے کے بعد کیا ہو گا؟‘ جتنے ایڈیشن اس کتاب کے آج تک آ چکے ہیں اتنا چھپ جانا وطن عزیز میں کسی کتاب کو نصیب نہیں ہوا۔ عین اسی طرح کا معاملہ روحانیات اور سائنس کا ہے۔ آپ کہیں کھڑے تقریر کر رہے ہیں، ایک آدھا قصہ فزکس اور میٹا فزکس کو پیس

Read more

تیسری جنس، کج روی اور بھٹو جونئیر

وہ عام بچوں جیسا نہیں تھا۔ اس کا بڑا بھائی گاڑیوں، ٹرک اور ٹرین قسم کے کھلونوں سے کھیلتا تھا لیکن اسے ان سب میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ زیادہ وقت کچھ نہ کچھ آڑھی ترچھی لکیریں کھینچتا رہتا یا بہت ہوا تو ماں کی ڈریسنگ ٹیبل پر بیٹھ جاتا اور ان کی جیولری سے کھیلنا شروع کر دیتا۔ وہ سوچتی تھی شاید میرا بیٹا کچھ الگ قسم کا لڑکا ہے۔ وہ تھوڑا بڑا ہوا تو بجائے لڑکوں میں کھیلنے کے وہ لڑکیوں کی کمپنی پسند کرنے لگا۔ وہ ان کی گڑیوں کے ساتھ کھیلتا تھا اور جو بھی کھیل وہ کھیلتیں اسے ان سب میں دلچسپی ہوتی۔ اب اس کی ماں کو تھوڑی پریشانی ہوئی۔ انہوں نے مختلف جگہ سے ٹرانس جینڈر بچوں کے بارے میں معلوم کرنا شروع کیا اور جلد وہ اس نتیجے پر پہنچ گئیں کہ ان کا بچہ اپنی جنس سے مطمئن نہیں ہے۔ چند ڈاکٹروں سے رابطے کے بعد معاملہ صاف تھا۔ یہ خالصتاً ایک طبی مسئلہ تھا اسے جینڈر ڈسفوریا تھا، وہ ایک ٹرانس جینڈر (مخنث) تھا۔

Read more

ویلنٹائن ڈے…. دل کی اپنی مجبوری

اچھا ہوا ویلنٹائن ڈے پر پابندی لگ گئی۔ ابنائے وطن کی تیموری حمیت جاگ اٹھی اور رزم حق و باطل میں فتح یاب ٹھہری۔ یہ کار خیر پہلے کیوں نہ ہوا، خیر، ڈبویا ان کے ہونے نے، نہ ہوتے یہ تو کیا ہوتا۔ جب بھی ہوا، ہو گیا، روئیے زار زار کیا، کیجیے ہائے ہائے کیوں، یہ نہ اچھا ہوا برا جو ہوا۔ بلکہ یوں کہیے کہ کتاب عمر کا اک اور باب ختم ہوا، شباب ختم ہوا اک عذاب

Read more

پروفیسر موری کے ساتھ منگل کی صبحیں

ہفتے میں دو تین مرتبہ ریڈنگز جانا ہوتا تھا۔ وہاں اندر کیفے جو ہے وہ سکون والی جگہ ہے۔ ایک وقت تھا کہ وہاں سارے کریکٹرز آیا کرتے تھے۔ بلکہ یوں کہا جا سکتا ہے کہ تب ان تمام پیارے لوگوں کا وہاں کیفے میں آنا جانا ایک مخصوص ٹائم کے آس پاس ہو جاتا تھا ’عین اس وقت جب فقیر بھی اتفاق سے ادھر ہی ہوتا تھا۔ لوگ اب بھی آتے ہوں گے، شاید وقت تھوڑا اوپر نیچے ہو

Read more

اے دھوپ تیری خیر ہو!

اے دھوپ، میری پیاری دھوپ، اب میری جان میں جان آئی ہے جب میں تیرے آسرے باہر نکل کر آن بیٹھا ہوں۔ میں رات سے اکڑا ہوا تھا۔ شیشے کی بڑی والی کھڑکی فیشن کے حساب سے تو بہت اچھی ہوتی ہے لیکن گرمی، سردی رول کے رک دیتی ہے اور یہ تجھے معلوم ہے۔ ساری گرمیاں آندھی اور بارش سے بچنے کے لیے اس کے شیشے بند رکھے اور ساری گرمیاں مٹی اور پانی کہیں نہ کہیں سے چھن کے اور رس کے اور آنکھ بچا کے اندر آتا رہا۔ ساری سردیاں وہ شیشے ٹھنڈی ہوا کے خوف سے بند رہے اور سرد برفیلی ہوا صبح تین بجے کے بعد پورا کمرہ برف خانے میں بدلتی رہی اور تیرا عاشق زار پلسیٹے مارتا رہا، کروٹوں پہ کروٹیں بدلتا رہا۔

تو جب کمرہ اتنا ناقابل بیان اذیت ناک بن جاتا ہے تو اس وقت میں تیرا ہی تصور کرتا ہوں۔ میں سوچتا ہوں کہ اس کالے اور منحوس ٹھنڈے اندھیرے سے کب نجات ملے گی۔ میں ایک ایک منٹ کا حساب لگاتا ہوں۔ سوچتا ہوں کہ تیری پہلی جھلک کب دکھائی دے گی اور پھر دھند ہو یا نارمل موسم، جب تیری پہلی کرن دکھائی دیتی ہے تو یہ دل خوشی سے جھوم جھوم اٹھتا ہے۔ اس وقت میں سورج مکھی کا پھول بن کے نئے سرے سے پیدا ہونا چاہتا ہوں۔

Read more

نئے لطیفے آنا بند ہو گئے کیا؟

خاور اچھا بھلا لکھ رہا تھا۔ دس پندرہ بلاگز بڑے زبردست اس نے لکھے، لوگوں کو پسند بھی آئے۔ وہ بڑے مزے سے کوئی بھی قصہ سنا سکتا ہے۔ اس کے پاس واقعے میں ہنسی مذاق پیدا کرنے والی حس بہت خاص ہے ۔ وہ فلائٹ سٹیورڈ ہے اور اپنے فضائی سفروں کی کہانیاں لکھتا رہتا تھا۔ پھر اس نے سارا خلائی بزنس لپیٹ کے ایک طرف رکھ دیا۔ مطلب لکھنا شکھنا چھوڑ چھاڑ کر سکون سے نوکری پوری کرنے

Read more

جاوید صدیقی کا لنگر خانہ

کسی شخص کے بارے میں کچھ لکھا جائے تو وہ خاکہ کہلاتا ہے۔ خاکہ کھینچا بھی گیا، خاکہ اڑایا بھی گیا، اب تک بس یہی تین کام ہوئے۔ جاوید صاحب کے خاکے "روشن دان” کی صورت آئے تو معلوم ہوا کہ خاکہ بنایا بھی جاتا ہے، الفاظ سے باقاعدہ خاکہ پینٹ کیا جا سکتا ہے۔ اس کتاب کے تمام خاکے یادگار تھے اور وہ موگرے کی بالیوں والی تو خیر شاہ کار تھا۔ "یار تم نے لنگر خانہ پڑھی ہے۔

Read more

اندھے فقیر کو نیا سال مبارک ہو!

میں دفتر جاتے ہوئے راستے پہ ایک اندھے فقیر کو دیکھتا ہوں۔ شدید گرمیوں کی دوپہر میں بھی اسے روز وہیں کھڑے دیکھ کے گزرتا ہوں۔ سخت سردیوں کی صبح بھی وہ اسی جگہ پایا جاتا ہے۔ اس کی آنکھوں کی پتلیاں ضائع ہو چکی ہیں۔ اس کا رنگ وہ ہے جسے ادب والوں کی زبان میں آبنوسی کہا جا سکتا ہے۔ چمکتا ہوا گہرا سانولا رنگ۔ اس کی داڑھی اور سر کے بال سفید ہیں۔ بالکل سفید، اتنے سفید

Read more

سردیوں کی رات اور ٹرین کی سیٹی

آج صبح سے انٹرنیٹ نہیں ہے ۔ رات ہمیشہ کی طرح بے چین تھی، آنکھ زیادہ جلدی کھل گئی۔ بہت وقت بعد وہ ساری چیزیں کام کرنا شروع ہوئیں جو وائی فائی سے پہلے کے انسان میں ہوا کرتی تھیں۔ مثلاً کانوں میں وہ والے سناٹے کی آواز سنائی دی جس طرح سیٹیاں خود بخود دماغ کے اندر بج رہی ہوں۔ بچپن میں اس آواز سے بہت چڑ تھی، آج کافی عرصے بعد ملاقات ہوئی۔ گھڑی اب بھی ٹک ٹک

Read more

سگریٹ بری چیز ہے تو چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟

کل گاڑی خراب تھی۔ شعیب کے پاس بیٹھا تھا۔ اس کا موڈ نہیں تھا گاڑی ٹھیک کرنے کا۔ دھوپ اچھی نکلی ہوئی تھی، اکٹھے بیٹھے کیلے اور امرود کھا رہے تھے۔ گاڑی کے لیے مجھے بعد کا ایک دن دے دیا گیا تھا۔ شعیب کے پاس گاڑیوں کا علم ہونے کے ساتھ ساتھ فوک وزڈم بھی بہت اچھی ہے۔ مجھے سر میں ایک سائیڈ پہ دانہ سا نکلا ہوا ہے۔ وہ اسے دکھایا اور پوچھا کہ یار بتاؤ کیا کروں۔

Read more

کیا معروف مصور گل جی پہلے ڈیم بنانا چاہتے تھے؟

جب گل جی کے بارے میں لکھنے بیٹھا تو اچانک ایک عجیب سا خیال آیا، میں نے یہ سوچنا شروع کیا کہ زندگی میں گل جی سے میرا پہلا تعارف کیا تھا؟ اور جو کچھ یاد آیا وہ حیرت انگیز تھا۔ ایم ایم شریف (معروف خطاط)، گل جی، زریں پنا (کلاسیکل رقاصہ)، مہاراج کتھک، صادقین، منصور ملنگی، فصیح الرحمن، عدنان سمیع خان، افشاں، آغا طالش، صبیحہ، سنتوش، محمد علی، زیبا اور کئی دوسرے ایسے آرٹسٹ تھے جن کا ذکر پہلی

Read more

گزارہ ہی کرنا پڑے گا!

اگر میں اپنا موبائل نمبر بدل لوں تو کیا ہو گا؟ یہ بالکل ایسے ہو گا جیسے میں نے اس دنیا میں ایک نیا جنم لیا ہے۔ پھر یہ لوگ مجھے کبھی بتا نہیں سکیں گے کہ اس دسمبر میں جوتے خریدنے کے لیے ہواؤں کو آپ کس طرح شکست دے سکتے ہیں۔ ستر پرسنٹ آف والی سیل سے فائدہ اٹھانے کے لیے مجھے کس علاقے میں کھلی جوتوں کی دکان پہ جانا ہو گا یا پھر یہ کہ حاتم

Read more

احمد پرویز؛ مرنے کے 6 ماہ بعد جنہیں حکومت نے جاپان جانے کی دعوت دی!‎

بہت ہی گڑبڑ ہوگئی، کوئی سرا ہاتھ نہیں آ رہا۔ احمد پرویز کی مصوری اور احمد پرویز کی ذاتی زندگی آپس میں ایسے جڑے ہوئے ہیں کہ انہیں الگ کرنا کسی طریقے سے ممکن نہیں۔ عام طور پر جب کسی شاعر کی شاعری یا ادیب کے ناول افسانے پر گفتگو ہوتی ہے تو اس میں لکھنے والے کی ذات کو ایک طرف رکھ دیا جاتا ہے۔ بہت کم ایسے کردار دکھائی دیں گے کہ جن کی زندگی اور جن کے

Read more

رات کا رومانس اور ناصر کاظمی

ناصر کاظمی آپ کو تب تک نہیں پسند آتا جب تک آپ رات کو پسند نہ کرتے ہوں، بقول شخصے آپ اے حمید کی طرح کھمبے کو دیکھ کر رومینٹک نہ ہو جاتے ہوں، آپ کا چاند سے کچھ خاص لگاؤ نہ ہو، آپ رت جگا کرنے والے نہ ہوں، اندھیرے میں آپ کو پیدل چلنا فیسینیٹ نہ کرتا ہو، پکے موالی نہ ہوں، کوئی نہ کوئی علت نہ پال رکھی ہو، کوئی نہ کوئی کل ٹیڑھی نہ ہو۔ کوئی

Read more

غلط لہجے میں اردو بولنے والوں کا احسان!

کیا کسی مخصوص علاقے میں پیدا ہونے کے بعد آپ خود کو بادشاہ کہلوا سکتے ہیں؟ کیا آپ کے پاس چوائس ہوتی ہے کہ آپ نے کون سی زبان بولنے والے ماں باپ کے یہاں پیدا ہونا ہے؟ کیا پیدائش سے پہلے آپ اس بات کا حساب رکھ سکتے ہیں کہ پیدا ہونے کے بعد آپ کا لہجہ کیا ہو گا؟ اپنے ماں باپ کی زبان کے علاوہ باقی کوئی بھی زبان اگر آپ بولتے ہیں تو کیا اس میں

Read more

مزار‘ ملنگ‘ کبوتر ‘ہپی اور تصوف

میرے تین استاد تھے‘ مزے کی بات یہ ہے کہ تینوں کا تصوف سے یا رومی کی شاعری وغیرہ سے کوئی تعلق نہ تھا۔ میرا پہلا ٹیچر ایک چور تھا۔ ایک بار میں راستہ بھول گیا اور بہت دیر سے گھر آیا۔ میرے گھر کی چابیاں ہمیشہ ساتھ والوں کے یہاں ہوتی تھیں۔ اس رات اتنی دیر ہو چکی تھی کہ میری ہمت نہیں ہوئی انہیں ڈسٹرب کرنے کی. میں کھڑا سوچ ہی رہا تھا کہ دروازہ کیسے کھولوں‘ اتنے

Read more

کیا انسان واقعی دل سے سوچتا ہے؟

سات مہینے کا بچہ‘ ماں باپ کی پہلی اولاد‘ دل کے مسلز شدید کمزور‘ ایسی بیماری جو دس برس کی عمر تک بھی نہیں جانے دے گی‘ ڈاکٹروں کے ہاتھ کھڑے ہیں‘ حل کیا ہو؟ کارٹر کے ماں باپ کو ڈاکٹروں کا فائنل جواب یہ ہے کہ اس کا دل بدلا جائے گا۔ اس بچے کا ٹرانسپلانٹ ہو گا اور کوئی صحت مند دل سینے کے اندر رکھا جائے گا۔ سات ماہ کے بچے کو جو دل لگ سکتا ہے

Read more

عورت کی آزادی…. مائی فٹ!

عورت کو آزادی دینے کی باتیں کرنے والو، کان کھول کر سن لو، آج تم آزادی دو گے، کل یہی عورتیں تمہارے سر پر چڑھ کر ناچیں گی اور تمہارے سینے پر مونگ دلیں گی۔ ارے غضب خدا کا، ہمارے اماں باوا کے دور میں تو یہ آزادی وزادی کی بات کسی کو نہ سوجھی۔ آئے روز خبریں دیکھتے تھے، کسی کے گھر چولہا پھٹ گیا، دلہن جھلس گئی، کہیں دلہن چھت سے گر کر جاں بحق ہو گئی، کبھی

Read more

دیوالی کا تیوہار اور اردو شاعری

دیوالی خوشی کا تہوار ہے، محبت، بھائی چارے اور امن کا تہوار ہے۔ اس سے پہلے کہ اس کی تفصیل میں جائیں، آل احمد سرور کا ایک شعر دیکھتے ہیں۔ یہ بام و در یہ چراغاں یہ قمقموں کی قطار سپاہ نور سیاہی سے برسرِ پیکار دیوالی بنیادی طور پر ہر برائی سے اچھائی کی جیت کا تہوار سمجھا جاتا ہے۔ رامائن کے مطابق رام چندر جی کے چودہ سالہ بن باس کے بعد ان کی واپسی اس تہوار کی

Read more

خالد اقبال، جنرل ایوب اور پنکچر گاڑی

’وہ شاکر علی کا بڑا گہرا دوست تھا۔ میں ہنستا تھا کہ یار نہ تم بولتے ہو، نہ وہ بولتا ہے تو پھر تم لوگ دوست کیسے ہو؟ کیا باتیں کرتے ہو؟ شاکر مسکرا دیتا تھا۔ ان دنوں پاک ٹی ہاؤس میں بڑی رونقیں ہوتی تھیں۔ میں جب بھی وہاں بیٹھے بیٹھے کچھ لکھتا تو اس کے نیچے ایسے ہی قلم سے کوئی خاکہ بنا دیا کرتا تھا۔ ایک دن شاکر علی نے میری ڈرائنگ دیکھی تو کہنے لگا کہ

Read more

اپنے لیے، قوم کے لیے

اس کی پونی ٹیل دیکھ کر میں اسے ایک چھوٹی سی بچی سمجھتا تھا‘ جسے اماں ابا نے جمناسٹک سکھا دی ہو۔ ایک دن ایویں کسی کام سے انٹرنیٹ پہ گیا تو اس کی پوری ویب سائٹ نظر آ گئی۔ آرات حسینی اس کا نام ہے اور وہ پانچ سال کی عمر کا ایک بچہ ہے۔ اٌتم پیارا بچہ، ایسا بچہ جسے دیکھ کر خواہ مخواہ پیار آتا ہے۔ آرات کے ابا ایک باڈی بلڈر ہیں۔ جب آرات تین ماہ

Read more

خواجہ سرا اور ان کے حج عمرے

نوکری کرتے کرتے ایک وقت ایسا آیا کہ حاجی کیمپ کے اندر ایک کیمپ لگانے کا فیصلہ کیا۔ صبح صبح وہ کیمپ کھول دیا جاتا عین اس طرح جیسے دکان کھلتی ہے۔ جا کر سب سے پہلے کاؤنٹر باہر نکالنے ہوتے، پھر کسی صفائی کرنے والے بھائی کو بلا کر جھاڑو دلوایا جاتا، پھر کرسیاں ترتیب سے رکھی جاتیں، پیڈسٹل فین چلایا جاتا اور یوں دکان جم جاتی۔ جب تک دھوپ صرف سامنے سے آتی، تب تک مختلف بینر لٹکا

Read more

چٹا انکار ایک بہترین راستہ ہے!

  امی ابو ہمیشہ آپ کو اچھا بچہ بنا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔ جب آپ خود والدین کی سیٹ پہ بیٹھتے ہیں تو آپ کی خواہش بھی یہی ہوتی ہے کہ بچہ ایک پرفیکٹ نیک پاک بلکہ ولی ٹائپ کا آدمی بنے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ سب سے پہلی وجہ تو شاید معاشرے کا خوف ہے۔ اگر آپ کی اولاد روایتی سٹینڈرڈز کے حساب سے کوئی کام نہیں کرتی تو پہلے آپ کے کھنے سینکے جائیں گے، بچوں کی

Read more

خوش رہیے بھلے تھوڑی دیر کے لیے سہی!

ایم ایس بھارت کی مشہور کلاسیکل سنگر تھیں۔ تامل ناڈو سے تعلق تھا۔ وہ پہلی موسیقار تھیں جنہیں بھارت رتن ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ایسا نہیں ہے کہ فقیر کوئی بہت بڑا کن رس ہے اور ایم ایس کو پچھلے دس سال سے سن رہا ہے ، نہ! بالکل نہیں۔ کتابوں کی ایک دکان میں بیٹھے بیٹھے مختلف کتابیں سونگھی جا رہی تھیں کہ اس پہ نظر پڑی۔ اصل میں اس کا ٹائٹل کچھ چونکا دینے والا تھا۔ ایم ایس

Read more

صادقین اپنی تصویریں مہنگی کیوں بیچنا چاہتے تھے؟

فنکار اگر اپنے حلیے سے فنکار نہ لگے تو اس کی ساری فنکاری آدھی رہ جاتی ہے۔ وہ سوپر ٹیلینٹڈ ہو، وہ اپنے فن میں مہان ہو، جب تک اس میں کچھ ادا، کچھ خاص ٹیڑھ یا ایسا کہہ لیں کہ تھوڑا اسٹائل نہیں آتا، وہ قبولِ عام کی سرحد سے ایک یا 2 فٹ پیچھے رہتا ہے۔ لمبی چوڑی مثالیں گنوانے کے بجائے سیدھے صادقین پر لینڈ کرتے ہیں۔ وہ لیجنڈری فنکار تھے۔ مست ملنگ حلیہ تھا اور دنیا

Read more

بیوقوف لڑکیاں کیوں مر جاتی ہیں؟

وہ 29 جنوری کی رات تھی اور 1889ء کا پہلا مہینہ‘ جب تاج و تخت کے وارث شہزادے روڈولف نے میری وٹسیرا کے ساتھ خود کشی کر لی۔ آسٹریا کے تیس سالہ اکلوتے شہزادے نے پہلے اپنی گرل فرینڈ کو گولی ماری اور پھر اپنے سر پہ بندوق رکھ کے فائر کر دیا۔ وہ دونوں اس وقت مئیرلنگ کے ایک دوردراز شاہی محل میں موجود تھے‘ جس کے باہر کھلا جنگل تھا۔ یہ جگہ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کے مضافات

Read more

سافٹ بچے پیدا ہونا بند کیوں ہوئے؟

ہمیں بچپن سے یہ بات سکھائی جاتی ہے کہ کس چیز سے امپریس ہونا ہے۔ ہمیں جنگجوؤں کی زندگی کے حالات پڑھائے جاتے ہیں، یہ پہلا درجہ ہوتا ہے ۔ اس کے بعد ہماری سکول کی کتابوں کے ہیرو عام طور پہ سائنسدان ہوتے ہیں، کوئی مشہور کیمسٹ ہو گا، کوئی فزکس کا ماہر ہو گا، کسی نے الجبرا ایجاد کیا ہو گا، کوئی پینسلین کو پہلی مرتبہ مارکیٹ میں لایا ہو گا، کسی نے راکٹ بنایا کسی نے ایٹم

Read more

استاد اللہ بخش نے کرشن جی کی تصویریں کیوں بنائیں؟

منی ایچر کے بعد دوسری روایت ہمارے پاس یورپ سے امپورٹ شدہ ریئلزم والی تصویروں کی رہی ہے۔ راجہ روی ورما (Raja Ravi Varma) برِصغیر میں ریئلزم والی تصویروں کے بانی کہلائے جاسکتے ہیں۔ آئیے اسے ہم سادہ زبان میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب سے 15 سے 20 سال پہلے تک وہ جو سنیما کے بڑے بڑے پوسٹروں پر جو تصویریں ہوتی تھیں، جو رنگ ہوتے تھے اور جس طرح کی خوبصورت شکلیں اور منظر پینٹ کیے جاتے تھے،

Read more

کالی بلی، نظر کا ٹیکا اور بے چارے گدھ

کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کی جڑیں ہمارے اندر بہت دور تک پھیل جاتی ہیں۔ ہمیں خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اندر خانے کیا کہانی چل رہی ہے لیکن وہ بہت پیچھے کہیں نہ کہیں فل سپیڈ میں دوڑ رہی ہوتی ہیں۔ انہی میں سے ایک چیز ہمارے وہم ہیں۔ ہم جتنا مرضی پڑھ لکھ جائیں لیکن کالی بلی دیکھ کے ایک دم ٹھٹک جائیں گے۔ کبھی آزما کے دیکھ لیں، پیدل چلتے ہوئے، سائیکل، موٹر سائیکل یا

Read more

جب ایک کانٹا فلسفی بنا دیتا ہے

انسان کو الٹے سیدھے کام کرنے کا شوق ہو تو بعض اوقات وہ مہنگے بھی پڑ جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک سین کوئی تین چار مہینے پہلے ہوا۔ کیکٹس یا کوئی بھی اور کانٹے دار پودے رکھنے والے ایک چیز کا بہت زیادہ خیال رکھتے ہیں کہ بڑے یا چھوٹے، کسی بھی پودے کو جب ڈیل کیا جائے تو ہاتھوں میں چمڑے کے دستانے پہن لیے جائیں۔ بعض پودوں کے بالکل چھوٹے اور بے ضرر کانٹے ہوتے ہیں، کچھ میں

Read more

پاکستانی مصوری کی تاریخ، منی ایچر آرٹ اور حاجی محمد شریف

ہمارے ہاں تصویر بنانا ایک طویل عرصے تک اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا، تاہم مغل دور میں اگر ہم دیکھیں تو مصوری باقی دیگر تمام فنون کے ساتھ ساتھ جیسے تیسے چلتی رہی اور اپنے آپ کو منواتی بھی رہی۔ ویسے تو اگر ہم پاکستانی مصوری کی جڑیں تلاش کرنے جائیں گے تو ہمیں اجنتا اور ایلورا کے غاروں سے بھی گزرنا پڑے گا، موہن جو دڑو کی ڈانسنگ گرل سے بھی ملاقات کرنی پڑے گی اور ٹیکسلا میں پائے

Read more

پہلا رنگ کون بھرے گا؟

پسند ناپسند اپنی اپنی ہوتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ ہم رنگوں سے الرجک کیوں ہیں؟ ذرا ایویں آس پاس والوں سے پوچھ کے دیکھیں کہ یار آپ کا فیورٹ رنگ کون سا ہے۔ اسی فیصد جواب ملے گا، بلیک۔ باقی زیادہ تر سفید کے حق میں ووٹ ڈالیں گے، مشکل سے پانچ فی صد لوگ دوسرے رنگوں کی طرف آئیں گے۔ مردوں میں آ کے تو معاملہ اور بھی لیٹ جاتا ہے۔ حرام ہے جو کوئی ایک آدمی

Read more

کیا آپ سوشل میڈیا کے نشے کا شکار ہیں؟

کیا واقعی آپ سوشل میڈیا سے دور ہونا چاہتے ہیں؟ مسئلے کی نوعیت ایسی ہے کہ پہلے فیصلہ کرنا بہت ضروری ہے۔ آپ جن مسائل کا شکار ہیں اگر آپ کے خیال میں وہ سوشل میڈیا کا استعمال ختم کرنے سے دور ہو سکتے ہیں تب تو ٹھیک ہے لیکن اگر آپ کی پرابلمز آپ کے خیال میں اس وجہ سے نہیں ہیں تب بھی آپ کو دوبارہ سوچنے کی ضرورت ہے۔ نوے فیصد امید یہی ہے کہ مسئلے کی

Read more

ہم اپنے گھر کیا سوچ کے بناتے ہیں؟

ادھر سڑک کنارے ایک نیا گھر بن رہا ہے۔ بنیادیں کھودی جا چکی ہیں۔ دیواریں ڈل گئی ہیں۔ باہر سے دیکھنے پہ سارا مکان لال سرخ اینٹوں کی شکل میں نظر آتا ہے؛ چونکہ چھت نہیں پڑی ‘اس لیے دن کی روشنی میں اندر ذرا سا جھانکنے پر سارا نقشہ سمجھ میں آ جاتا ہے۔ یہ بھی ویسا ہی مکان ہو گا‘ جیسے شہر میں نیلی ٹینکیوں والے اور لاکھوں مکان موجود ہیں۔ تین چار کمرے ہوں گے‘ ایک بڑا

Read more

بیٹی کی تیرہویں سالگرہ پہ اس کے نام خط

آئلہ زینب یہ تمہاری تیرہویں سالگرہ ہے۔ رائٹر کی بیٹی ہونے کا سب سے بڑا نقصان یہی ہے کہ سالڈ گفٹ کم ملتے ہیں بول بچن زیادہ ہوتا ہے، برداشت کرو۔ اصل میں نصیحتیں کرنے کی چٌل ہوتی ہی بڑی عجیب و غریب ہے۔ جو کچھ نہیں کر سکا ہوتا وہ نصیحت ضرور کرتا ہے۔ ویسے بھی جو دیسی باپ سالگرہ پہ زبردستی اولاد کو اچھی تربیت دینے کے لیے لیکچر نہ پلائے اسے آپ کیسے ایک اچھا انسان کہہ

Read more

ماضی کی ہر مقبول شخصیت کے چہرے کی خاصیت داڑھی پھر سے فیشن میں

داڑھی اور مرد کا ساتھ زمانہِ قدیم سے قائم ہے۔ انسانوں کے سویلائزڈ ہونے سے پہلے پتھر کے دور میں تو ہر ایک مرد ہوتا ہی داڑھی والا تھا۔ وقت گزرا اور جب پتھر یا دھات کو اتنا تیز کرنا سیکھ لیا گیا کہ وہ چہرے کے بال اتار سکے تو شیو والی کہانی شروع ہو گئی۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب دنیا کے پہلے آدمی نے شیو (داڑھی منڈوائی) کی ہو گی تو وہ کیسا لگا ہو

Read more

خالد اقبال، کیکٹس اور پرانا مکان۔۔۔ کون دیکھتا ہے؟

لاہور ایک اچھا شہر ہے۔ یہاں اگر کہیں سے تبادلہ کروا کے آیا جائے، تو انسان اپنے آپ کو دریافت کر سکتا ہے، مواقع ہیں، گنجائش ہے، وسعت ہے۔ بارہ تیرہ برس قبل جب روزی روٹی کے چکر میں لاہور ٹھکانہ بنا تو دفتر ماڈل ٹاؤن میں تھا۔ شروع کے دو مہینے رہائش بھی وہیں اوپر کے حصے میں تھی۔ ایک عدد گاڑی نئی نئی عطا ہوئی تھی، جو خود پرانی تھی مگر چلانے والے کے لیے نئی تھی۔ تو

Read more

عمر بھر ایک ملاقات چلی جاتی ہے

اسی طرح کا موسم تھا۔ کبھی بارش ہو جاتی کبھی حبس ہوتا اور کبھی کچھ نہیں بھی ہوتا تھا۔ ہاں جو چیز وافر تھی وہ تھی  گرمی، شدید گرمی، چبھنے والی گرمی، اور پھر رات ہو جاتی تھی۔ وہ ان دنوں ایک امتحان کی تیاری کر رہا تھا۔ دن بھر نوکری ہوتی، ساری رات لیپ ٹاپ اور کتابوں میں سر دئیے رکھتا۔ بیوی بچے بے چارے بھی اگنور ہوتے لیکن اس کے سر پہ یہی دھن سوار تھی کہ بس

Read more

عمران خان ڈی چوک میں حلف نہ اٹھائیں

سارے سیٹ اپ (یا اپ سیٹ) میں سوائے عمران خان کے ہر اہم لیڈر بے دست و پا ہے۔ ان کی نااہلی کا وہ کیس ،جو سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے دائر کیا تھا، اب اس کے لیے ہائی کورٹ کا ڈویژنل بینچ تبدیل کیا گیا ہے اور جسٹس شوکت صدیقی اس سے علیحدہ کر دئیے گئے ہیں۔ کیس کچھ اس طرح سے تھا کہ عمران خان نے اپنی بیٹی ٹیریان خان کی ولدیت کے متعلق جھوٹ بولا

Read more

میں عمران خان کو مبارک نہیں دے رہا

وہ گیم دیکھی ہے آپ نے وہ جو بچوں کے پلے لینڈز میں اکثر موجود ہوتی ہے۔ جس میں ایک چھوٹی سی میز کے اندر دس گول خانے بنے ہوتے ہیں، ہر خانے میں سے ایک کارٹون سر نکالتا ہے اور اسے فوراً نرم سا فوم کا ہتھوڑا مار کے واپس اندر بھیجنا ہوتا ہے؟ اسے جاپان میں ”موگورا تائجی،، کہتے ہیں۔ 1976ء میں اسے ایجاد کرنے والے کا خیال تھا کہ بس دوسری آرکیڈ گیمز کی طرح یہ بھی

Read more

کپڑے پہننے کی سائنس

روزمرہ زندگی میں آپ جب کسی سے ملتے ہیں تو سب سے پہلے جو چیز آپ کا امپریشن ڈالتی ہے وہ آپ کا لباس ہے۔ آپ بہت عالم فاضل ہیں، اچھے کھلاڑی ہیں، اچھے ٹیچر ہیں، اچھے بینکر ہیں، اچھے سیلز مین ہیں، اچھے مارکیٹنگ پرسانل ہیں، بالکل فارغ ہیں کچھ بھی نہیں کرتے یا بہت زیادہ مصروف رہتے ہیں، اچھا لباس کم از کم باہر سے آپ کو پرفیکٹ دکھا سکتا ہے اور آپ خود اعتمادی کی پہلی ڈوز

Read more

نواز شریف! انصاف ہو گا، ضرور ہو گا!

کچھ اور لکھ رہا تھا اچانک خبریں دیکھنے لگا تو پرانے واقعات کی فلم دماغ میں چلنے لگی۔ پچھلے سال ان دنوں میں ابا ایک لمبے ٹور کا پروگرام بنا رہے تھے۔ جس دن فلائٹ لینا تھی اس سے ایک روز پہلے انہیں ہارٹ اٹیک ہو گیا۔ ملتان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں داخل کروایا گیا، شام تک میں بھی ملتان پہنچ چکا تھا۔ اگلے دو تین روز تو بہت ہی زیادہ پریشانی میں گزرے کہ پہلے بہتر گھنٹے بہرحال دل

Read more

عمران خان اگلے وزیر اعظم ہیں!

اپنے کالم میں اپنا ہی شعر لکھ دینا یا کسی پرانے کالم کا حوالہ دینا اور اپنے آپ کو نجومی ثابت کرنا یقیناً تھوڑا عجیب سا لگتا ہے لیکن اپنی ناکامیوں کا اعتراف کر لینے میں شاید کوئی حرج نہیں۔ دو ڈھائی سال پہلے جب امریکی الیکشنوں کی دھوم چاروں طرف مچتی تھی تو اس وقت فقیر بیٹھا لوگوں کے تبصرے سنتا تھا اور حیران ہوتا تھا کہ ٹرمپ جیسا آدمی بھی کبھی صدارتی امیدوار ہو سکتا ہے؟ مطلب اس

Read more

کیا آپ پچھتاوے کا شکار ہیں؟

گرمی ٹائٹ تھی، حبس وہ والا کہ سگریٹ پینے کو دل نہیں چاہتا تھا، سڑکوں پہ رش ایسا تھا کہ تیسرا گیئر مشکل سے لگے، فل ٹائم واہیات دوپہر تھی اور کم از کم ایک سو بیس کلومیٹر کی ڈرائیو شہر میں ہو چکی تھی۔ گھر کا راستہ ابھی کافی تھا۔ شدید تھکن تھی، سارا جسم جیسے تھک ہار کے ریٹائر ہونے والے موڈ میں تھا۔ سب سے مشکل مرحلہ ابھی باقی تھا۔ وہ سڑک جو ان دنوں بن رہی

Read more

خواب دیکھو مگر دیوانے مت بنو!

وہ اچھا بھلا دلبر قسم کا آدمی تھا۔ ہر وقت ہنسی مذاق، موج مستی، ہر کسی سے چھیڑ چھاڑ، انتہائی سنجیدہ باتوں کے درمیان بھی ہنسنے کا ایک نہ ایک پہلو تلاش کر لینے والا۔ وہ دوسروں پہ ہنستا تھا تو اپنی ہنسی اڑوانے کا حوصلہ بھی اس میں تھا۔ گاؤں سے شہر آیا، اچھا بیک گراؤنڈ تھا، محنتی بچہ تھا، پڑھائی میں خوب محنت کی، شہر کے سب سے اچھے کالج میں داخلہ ملا، امتیازی نمبروں سے پاس ہوا،

Read more

رنگین تصویریں اور سوشل میڈیا

یہ بڑی عجیب سی بات ہے، ہم لوگ کہیں بھی گئے، کچھ بھی کھایا، کسی سے بھی ملے، جو بھی کام کیا بس ساتھ ساتھ تصویریں کھینچ لیں۔ ہمیں خود بھی آئیڈیا نہیں ہوتا لیکن ہم اپنی پوری زندگی کا ایک ریکارڈ بنا رہے ہوتے ہیں۔ پرانے زمانے میں لوگ ڈائریاں لکھتے تھے۔ روز کے سارے قصے جب دل چاہا تفصیل سے لکھ دئیے۔ جب موڈ ہوا مختصر نوٹس لے لیے مگر وہ چیز بڑی یادگار ہوتی تھی۔ جیسے دادا

Read more

عمران خان کو نواز شریف کی یاد آ ہی گئی

عمران خان اپنی بائیس برس کی سیاسی زندگی میں پہلی دفعہ بہت زیادہ پرامید ہیں۔ پانچ جولائی کو ایک اچھے انگریزی اخبار میں یہ انٹرویو چھپا، پڑھ کے مزا آ گیا۔ چند باتوں کے علاوہ کہیں لگ ہی نہیں رہا تھا کہ وہی اپنے پرانے والے عمران خان ہیں۔ مثلاً یہی آخری جملہ دیکھیں، “میں نہیں جانتا کیا ہو گا لیکن اپنی بائیس سالہ سیاسی زندگی میں کبھی اس سے زیادہ پرامید میں نہیں ہوا” یعنی عمران خان کو اپنی

Read more

سنجے دت، نرگس، مادھوری اور ایک پرانا خط

بچپن میں سب لوگ ہیرو بننا چاہتے ہیں مجھے ولن بننا پسند تھا۔ تھوڑا بڑا ہوا تو اتنا کمپرومائز کیا کہ چلو موقع ملا تو کیریکٹر ایکٹر بن جاؤں گا، ہیرو ۔۔۔ بات نہیں بنتی۔ کلین شیو پپو بچہ جو دنیا کے سارے اچھے کام کرتا پھرے، ویسا کیسے بنا جا سکتا ہے؟ انہی دنوں سنجے دت کی خبریں اخباروں اور فلمی رسالوں میں بہت زیادہ آیا کرتی تھیں۔ وہ ڈرگز لیتا تھا، ممنوع اسلحہ رکھتا تھا، ہر دوسری ہیروئین

Read more

ستر برس کو ٹچ کرتے لیڈر اور ہماری جمہوریت

ایک لمحے کے لیے سوچیں کہ آپ نواز شریف ہیں۔ وہ انسان جو اپنی ہر حکومت میں کسی نہ کسی کھینچا تانی کا شکار رہتا ہے۔ جو ایک کاروباری گھرانے کا فرد تھا، کھاتا پیتا آدمی تھا‘ لیکن وہی خوبی الٹا اس کی خامی بن جاتی ہے۔ جو ہر دفعہ حکومت میں آتے ساتھ تین چار چیزیں سوچ کے آتا ہے‘ اور ان میں سے ایک نہ ایک چیز واپسی کا دروازہ کھول دیتی ہے۔ خارجہ پالیسی، اداروں کی حدود

Read more

سو برس بعد کیا آپ موجود ہوں گے؟

صرف 110 سال۔ اوپر کے بیس سال اس لیے ڈالے کہ بعض لوگ نوے کراس کر جاتے ہیں ورنہ تو یار پچھتر کی عمر بھی بہت کافی ہے۔ تو آج سے ٹھیک 110 سال بعد اس دنیا میں موجود سارے کے سارے انسان بدل چکے ہوں گے۔ یعنی اس وقت میں ہوں گا، نہ آپ ہوں گے، نہ ہمارے بچے ہوں گے، نہ پاس پڑوس والے، نہ رشتہ دار، نہ دوست یار، مطلب پورے کا پورا سیٹ ہی بدل چکا

Read more

ریحام خان کی کتاب کیوں لیک ہوئی؟

کیا آپ نے کبھی بلیک میلنگ کا سامنا کیا ہے‘ ایسی بلیک میلنگ جس کا نتیجہ آپ کی ذاتی رسوائی ہو؟ اس سے بچنے کے لیے عام طور پہ دو کام کیے جا سکتے ہیں۔ پہلا کام یہ کہ بندہ دنیا چھوڑ کے دوردراز علاقوں میں چلا جائے‘ کہیں جنگلوں میں بسیرا کر لے یا پہاڑوں میں ٹھکانہ کرے۔ دوسرا کام یہ ہو سکتا ہے کہ خود کشی کر لی جائے ”نہ ڈھولا ہوسی نہ رولا پوسی‘‘‘۔ ایک تیسرا کام

Read more

امجد صابری – میں تو لہو رنگ، محبوب الٰہی!

نجام الدین اولیا جگ اجیارو! کوک اسٹوڈیو میں صابری جھوم جھوم کر گا رہا ہے۔ اب کیا جگ اجیارا جائے گا، جگ تو اجڑ گیا ہے۔ امجد صابری کو مارا گیا میں نے ایک لفظ نہیں لکھا۔ اس لیے نہیں لکھا کہ جب درد حد سے گزرتا ہے تو اسے لکھنا نہیں بس اندر ہی اندر دبا کر رکھنا ہوتا ہے اور جب اس کی آنچ تھوڑی مدہم ہو جائے تو لکھنے یا اس پر بات کرنے کا سوچا جاتا

Read more

جب الٹے درخت کی شکایت دیوتائوں تک پہنچی!

جب اس درخت نے اپنے باپ سے پوچھا کہ دیوتاؤں نے ہمیں دنیا میں الٹا کیوں کھڑا کر دیا‘ تو اس کے باپ نے اسے یہ قصہ سنایا: ”تیری نسل کا وہ جو دوسرا بالکل چھوٹا سا پودے نما درخت تھا‘ وہ ایسی جگہ اگ آیا تھا کہ جہاں زمین تھوڑی بیٹھی نظر آتی تھی‘ پھر جس دن آسمانوں سے بہت زیادہ پانی برسنے لگا‘ تو اس چھوٹے سے درخت کے اطراف بے تحاشا پانی جمع ہو گیا۔ اس رکے

Read more

کیا آپ ڈپریشن کے مریض ہیں؟

اس دن ایک دوست بہت اداس بیٹھا ہوا تھا۔ ٹھیک ٹھاک ٹینشن چل رہی تھی۔ وہ کسی گھریلو معاملے پہ ڈپریشن میں تھا۔ ساری بات ختم کر کے جاتے جاتے اچانک منہ سے نکل گیا، ”او کوئی نئیں یار، غم نہ کر، جے او دن نئیں رئے تے جان آلے ایہہ وی نئیں۔ (کوئی بات نہیں یار، غم نہ کر، اگر وہ دن نہیں رہے تو جانے والے یہ بھی نہیں)۔ واللہ وہ بندہ کھلکھلا کے ہنس پڑا۔ اس کے

Read more

ایک کہانی جسے بھول جانا بہتر ہے!

مجھے ان غاروں میں جانے کا بہت شوق ہے‘ جہاں عام لوگ جانے سے گھبراتے ہیں۔ غار ہوتا ہی کیا ہے ؛ پہاڑوں میں قدرتی طور پہ بنی ہوئی کوئی ایسی جگہ ‘جہاں انسان چھپ سکتا ہو‘ پناہ لے سکتا ہو۔ عام طور پہ لوگ ان غاروں میں جانا پسند کرتے ہیں‘ جہاں وہ ٹارچ کی روشنی ماریں تو سامنے غار کی دیواریں ہوں۔ وہ جگہ جہاں روشنی ڈالنے پر بھی دور تک اندھیرے ہوں،‘کوئی انت‘کوئی رکاوٹ‘ کوئی دیوار کچھ

Read more

پاکستانی فیمینزم اور انڈے سے نکلا ہوا چوزہ

کبھی کبھی قسمت ہوا کے ایک ایسے تیز بگولے کی طرح تمارے پیچھے بھاگ رہی ہوتی ہے جو ہر دو گھڑی بعد اپنی ڈائریکشن بدل سکتا ہے۔ تم کسی اور سمت میں جانا چاہو، ہوا کا بگولہ وہاں تمہارے پیچھے بھاگتا ہے، تم دوبارہ مڑ جاؤ، کسی اور طرف بھاگنا چاہو، بگولہ بھی وہیں مڑ جاتا ہے۔ تم بار بار اس گھمن گھیری سے نکلنے کی کوشش کرو، وہ ہر بار تمہیں اپنے اندر پھنسا کر گھومنے پہ مجبور کر

Read more

بابو گوپی ناتھ کی کمر میں دم نہیں رہا

ہم لوگ سب شرمندہ سے کیوں پھرتے ہوئے نظر آتے ہیں؟ احساس کمتری ہے اور شدید ہے۔ کسی سے بھی پوچھ کر دیکھ لیجیے کہ یار فلاں دن کیا ہوا تھا، طبیعت کیوں خراب تھی؟ پورے مرض کی تفصیل بتانے کے بعد ایک جملہ دل کی گہرائیوں سے نکلے گا، ”کیا کریں یار، خوراکیں ہی وہ نہیں رہ گئیں‘‘۔ یہ ہمارا ایسا شدید دکھ ہے کہ بس آنسو نہیں نکلتے ورنہ ہر کسر پوری ہے۔ ”وہ خوراکیں‘‘ تھیں کون سی؟

Read more

مظہر کلیم؛ او کیپٹن مائے کیپٹن!

ٹارزن ایک لیجنڈ ہے، لافانی کردار ہے۔ عمرو عیار ہم لوگوں کے بچپن کا یادگار کیریکٹر ہے۔ شیخ چلی کا نام طنز و مزاح سے جڑا ہوا ہے، رابن ہڈ اور حاتم طائی کی سخاوت پر بے شمار کہانیاں پڑھی جا سکتی ہیں۔ اسی طرح کئی اور مشہور افسانوی کردار ہیں جو اپنی جگہ امر ہو چکے ہیں۔ ان پر لکھنے کے لیے کوئی یہ نہیں ڈھونڈتا پھرتا کہ یار اصل میں سب سے پہلے ان پر کس نے لکھا

Read more

میں نے امی کے بارے میں کیوں نہیں لکھا؟

کافی عرصہ لکھتے ہوئے گزر گیا، پہلی تحریر سے آج تک ایک موضوع ادھار ہے۔ میں اس ٹاپک پہ لکھتے ہوئے بار بار بدک جاتا ہوں۔ میں اپنی ماں سے ڈرتا ہوں۔ وہ میری ایک ایک رگ سے واقف ہے۔ جہاں میں شروع ہوتا ہوں وہاں سے تین سو کلومیٹر دور کھڑی ہوئی وہ جان جاتی ہے کہ انجام کیا ہو گا۔ وہ کوئی ولی اللہ نہیں، بہت زیادہ عبادت گزار اور بزرگ ٹائپ کی خاتون بھی نہیں‘ لیکن اپنے

Read more