تیسری جنس، کج روی اور بھٹو جونئیر

وہ عام بچوں جیسا نہیں تھا۔ اس کا بڑا بھائی گاڑیوں، ٹرک اور ٹرین قسم کے کھلونوں سے کھیلتا تھا لیکن اسے ان سب میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ زیادہ وقت کچھ نہ کچھ آڑھی ترچھی لکیریں کھینچتا رہتا یا بہت ہوا تو ماں کی ڈریسنگ ٹیبل پر بیٹھ جاتا اور ان کی جیولری سے کھیلنا شروع کر دیتا۔ وہ سوچتی تھی شاید میرا بیٹا کچھ الگ قسم کا لڑکا ہے۔ وہ تھوڑا بڑا ہوا تو بجائے لڑکوں میں کھیلنے کے وہ لڑکیوں کی کمپنی پسند کرنے لگا۔ وہ ان کی گڑیوں کے ساتھ کھیلتا تھا اور جو بھی کھیل وہ کھیلتیں اسے ان سب میں دلچسپی ہوتی۔ اب اس کی ماں کو تھوڑی پریشانی ہوئی۔ انہوں نے مختلف جگہ سے ٹرانس جینڈر بچوں کے بارے میں معلوم کرنا شروع کیا اور جلد وہ اس نتیجے پر پہنچ گئیں کہ ان کا بچہ اپنی جنس سے مطمئن نہیں ہے۔ چند ڈاکٹروں سے رابطے کے بعد معاملہ صاف تھا۔ یہ خالصتاً ایک طبی مسئلہ تھا اسے جینڈر ڈسفوریا تھا، وہ ایک ٹرانس جینڈر (مخنث) تھا۔

Read more

ویلنٹائن ڈے…. دل کی اپنی مجبوری

اچھا ہوا ویلنٹائن ڈے پر پابندی لگ گئی۔ ابنائے وطن کی تیموری حمیت جاگ اٹھی اور رزم حق و باطل میں فتح یاب ٹھہری۔ یہ کار خیر پہلے کیوں نہ ہوا، خیر، ڈبویا ان کے ہونے نے، نہ ہوتے یہ تو کیا ہوتا۔ جب بھی ہوا، ہو گیا، روئیے زار زار کیا، کیجیے ہائے ہائے…

Read more

پروفیسر موری کے ساتھ منگل کی صبحیں

ہفتے میں دو تین مرتبہ ریڈنگز جانا ہوتا تھا۔ وہاں اندر کیفے جو ہے وہ سکون والی جگہ ہے۔ ایک وقت تھا کہ وہاں سارے کریکٹرز آیا کرتے تھے۔ بلکہ یوں کہا جا سکتا ہے کہ تب ان تمام پیارے لوگوں کا وہاں کیفے میں آنا جانا ایک مخصوص ٹائم کے آس پاس ہو جاتا…

Read more

اے دھوپ تیری خیر ہو!

اے دھوپ، میری پیاری دھوپ، اب میری جان میں جان آئی ہے جب میں تیرے آسرے باہر نکل کر آن بیٹھا ہوں۔ میں رات سے اکڑا ہوا تھا۔ شیشے کی بڑی والی کھڑکی فیشن کے حساب سے تو بہت اچھی ہوتی ہے لیکن گرمی، سردی رول کے رک دیتی ہے اور یہ تجھے معلوم ہے۔ ساری گرمیاں آندھی اور بارش سے بچنے کے لیے اس کے شیشے بند رکھے اور ساری گرمیاں مٹی اور پانی کہیں نہ کہیں سے چھن کے اور رس کے اور آنکھ بچا کے اندر آتا رہا۔ ساری سردیاں وہ شیشے ٹھنڈی ہوا کے خوف سے بند رہے اور سرد برفیلی ہوا صبح تین بجے کے بعد پورا کمرہ برف خانے میں بدلتی رہی اور تیرا عاشق زار پلسیٹے مارتا رہا، کروٹوں پہ کروٹیں بدلتا رہا۔

تو جب کمرہ اتنا ناقابل بیان اذیت ناک بن جاتا ہے تو اس وقت میں تیرا ہی تصور کرتا ہوں۔ میں سوچتا ہوں کہ اس کالے اور منحوس ٹھنڈے اندھیرے سے کب نجات ملے گی۔ میں ایک ایک منٹ کا حساب لگاتا ہوں۔ سوچتا ہوں کہ تیری پہلی جھلک کب دکھائی دے گی اور پھر دھند ہو یا نارمل موسم، جب تیری پہلی کرن دکھائی دیتی ہے تو یہ دل خوشی سے جھوم جھوم اٹھتا ہے۔ اس وقت میں سورج مکھی کا پھول بن کے نئے سرے سے پیدا ہونا چاہتا ہوں۔

Read more

نئے لطیفے آنا بند ہو گئے کیا؟

خاور اچھا بھلا لکھ رہا تھا۔ دس پندرہ بلاگز بڑے زبردست اس نے لکھے، لوگوں کو پسند بھی آئے۔ وہ بڑے مزے سے کوئی بھی قصہ سنا سکتا ہے۔ اس کے پاس واقعے میں ہنسی مذاق پیدا کرنے والی حس بہت خاص ہے ۔ وہ فلائٹ سٹیورڈ ہے اور اپنے فضائی سفروں کی کہانیاں لکھتا…

Read more

جاوید صدیقی کا لنگر خانہ

کسی شخص کے بارے میں کچھ لکھا جائے تو وہ خاکہ کہلاتا ہے۔ خاکہ کھینچا بھی گیا، خاکہ اڑایا بھی گیا، اب تک بس یہی تین کام ہوئے۔ جاوید صاحب کے خاکے "روشن دان" کی صورت آئے تو معلوم ہوا کہ خاکہ بنایا بھی جاتا ہے، الفاظ سے باقاعدہ خاکہ پینٹ کیا جا سکتا ہے۔…

Read more

اندھے فقیر کو نیا سال مبارک ہو!

میں دفتر جاتے ہوئے راستے پہ ایک اندھے فقیر کو دیکھتا ہوں۔ شدید گرمیوں کی دوپہر میں بھی اسے روز وہیں کھڑے دیکھ کے گزرتا ہوں۔ سخت سردیوں کی صبح بھی وہ اسی جگہ پایا جاتا ہے۔ اس کی آنکھوں کی پتلیاں ضائع ہو چکی ہیں۔ اس کا رنگ وہ ہے جسے ادب والوں کی…

Read more

سردیوں کی رات اور ٹرین کی سیٹی

آج صبح سے انٹرنیٹ نہیں ہے ۔ رات ہمیشہ کی طرح بے چین تھی، آنکھ زیادہ جلدی کھل گئی۔ بہت وقت بعد وہ ساری چیزیں کام کرنا شروع ہوئیں جو وائی فائی سے پہلے کے انسان میں ہوا کرتی تھیں۔ مثلاً کانوں میں وہ والے سناٹے کی آواز سنائی دی جس طرح سیٹیاں خود بخود…

Read more

سگریٹ بری چیز ہے تو چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟

کل گاڑی خراب تھی۔ شعیب کے پاس بیٹھا تھا۔ اس کا موڈ نہیں تھا گاڑی ٹھیک کرنے کا۔ دھوپ اچھی نکلی ہوئی تھی، اکٹھے بیٹھے کیلے اور امرود کھا رہے تھے۔ گاڑی کے لیے مجھے بعد کا ایک دن دے دیا گیا تھا۔ شعیب کے پاس گاڑیوں کا علم ہونے کے ساتھ ساتھ فوک وزڈم…

Read more

کیا معروف مصور گل جی پہلے ڈیم بنانا چاہتے تھے؟

جب گل جی کے بارے میں لکھنے بیٹھا تو اچانک ایک عجیب سا خیال آیا، میں نے یہ سوچنا شروع کیا کہ زندگی میں گل جی سے میرا پہلا تعارف کیا تھا؟ اور جو کچھ یاد آیا وہ حیرت انگیز تھا۔ ایم ایم شریف (معروف خطاط)، گل جی، زریں پنا (کلاسیکل رقاصہ)، مہاراج کتھک، صادقین،…

Read more