ہم نریندرا مُودی کی مدد کیوں کر رہے ہیں؟


جب بھارت کے ساڑھے چار برس مکمل کر لینے والے وزیراعظم نریندرا مودی ہمارے نئے چنے گئے وزیراعظم عمران خان کے مذاکرات کے لئے لکھے گئے خفیہ خط کو مسترد کرتے ہوئے وزرائے خارجہ کی ملاقات کے لئے بھی تیار نہیں نظر آ رہے تو دراصل وہ بنیادی طور پر سترہویں لوک سبھا میں واضح اکثریت کے خواب دیکھتے ہوئے اپنی انتخابی مہم کی بنیاد رکھ رہے ہیں، وہ خواہش مند ہیں کہ 543 نشستوں میں سے 272 سے بھی کافی زیادہ بی جے پی کے پلیٹ فارم سے حاصل کریں، اس وقت ان کی جماعت کے پاس 273 نشستیں ہیں تاہم ان کی حکومت اپنے اتحاد نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کی وجہ سے مضبوط ہے جو انہیں لوک سبھا میں 313 ارکان کی حمایت دلاتا ہے۔ ہمیں اس وقت ٹائمز آف انڈیا سمیت بہت سارے ایسے سرویز مل جاتے ہیں جو اگلے اپریل اور مئی میں ہونے والے انتخابات میں نریندرا مودی کی کامیابی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ انڈیا کے تاجر اور صنعتکار یہ سمجھتے ہیں کہ مودی سرکار نے معیشت کی بحالی کے لئے اہم اقدامات کئے ہیں مگر دوسری طرف سوا ارب سے زائد کی آبادی میں غربت ابھی تک عروج پر ہے اور ایسے عام آدمی بھی بہت ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ جن اچھے دنوں کے خواب دکھائے گئے تھے وہ کم از کم ان ساڑھے چار برسوں میں تو نہیں آ سکے۔

نریندر مودی کے سامنے کانگریس سمیت بہت سارے خطرات ہیں، بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ 2004 میں بھی کانگریس کی کامیابی کی پیش گوئی نہیں کی جا رہی تھی مگر وہ کامیاب ہو گئی تھی مگر یہ کہنے والے بہت زیادہ نہیں ہیں کیونکہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کی سیاست میں خلائی مخلوق کا کردار اہمیت نہیں رکھتا، وہاں اپ سیٹ ہو سکتا ہے مگر اس کی بنیاد بھی ووٹروں کا فیصلہ ہی ہو گا، آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ چھ ، سات ماہ پہلے اس قسم کی پیش گوئی قبل از وقت ہے کیونکہ سیاست میں کسی وقت بھی کسی کا دھڑن تختہ ہو سکتا ہے مگر دوسری طرف آپ انڈیا کے نقشے میں ریاستوں کی حکومتوں کو دیکھئے، آپ کو زرد رنگ چھایا ہوانظر آئے گا، یہ زرد رنگ بی جے پی اوراس کے اتحادیوں کی حکومتوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ ابھی حال ہی میں تین ریاستوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں بھی بی جے پی نے ہی کامیابی حاصل کی ہے اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ چھ ماہ بعد بھی انہی ووٹروں نے حق رائے دہی کو استعمال کرنا ہے جنہوں نے اپنی ریاستوں میں حکومتیں بنائی ہیں۔ لو ک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات کے شیڈول میں فرق وفاق اور صوبوں میں ایک دوسرے کی مدد بھی کرتا ہے اور یہ فرق بی جے پی کو فائدہ پہنچاتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

یہ ’’کے سی آر‘‘ کون ہیں، یہ آندھرا پردیش سے الگ ہو کے بننے والی نئی ریاست تلیگانہ کے پہلے وزیراعلیٰ ہیں اور ان کا مکمل نام کالوا کونتلاچندرا شیکھر راو ہے جو نریندرا مودی کی جگہ نئے وزیراعظم کے طور بھی لیا جا رہا ہے مگر بہت سارے لوگ اس سے بھی اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ کے سی آر بہت متحرک ہوں گے مگر ابھی تو انہیں پورا انڈیا بھی نہیں جانتا۔ انہوں نے اپنی سیاست کا آغاز سنجے گاندھی کی قیادت میں کانگریس پارٹی سے کیا تھا مگر اس کی بری حالت کے بعد انہوں نے ریجنل پالیٹیکس کی طرف رجوع کر لیا۔ اب وہ انڈیا میں امریکا کی ریاستوں جیسے نظام کا نعرہ لگا کے مقبولیت حاصل کر رہے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ اگر وہ اس مرتبہ وزیراعظم نہ بنے تو اس کے بعد انتخابات 2024 میں ہوں گے جب وہ ستر برس کے ہو چکے ہوں گے۔

بی جے پی کی کامیابی یہی ہے کہ اس کے مخالفین تقسیم رہیں اوراس میں اسے اتر پردیش میں مشکلات کا سامنا ہے جہاں اس کے تمام مخالف اکٹھے ہو چکے ہیں مگر اس کے باوجود نریندر مودی کے پاس ایسے پتے موجود ہیں جو وہ کھیل سکتے ہیں۔ بھارت کی سیاست سے ہندو مذہب اور پاکستان دشمنی کو باہر نہیں نکالا جا سکتا اور نریندر مودی نے مذہب اور معیشت جیسے کارگر ہتھیاروں کو ایک ساتھ کامیابی سے استعمال کرتے ہوئے مقبولیت حاصل کی۔ ہم پاکستانی سمجھتے ہیں کہ وہ گجرات کا قصائی ہے مگر ہندوستان میں وہ ہندوتوا کی احیا کے لئے اپنے آپ کو ایک مسیحا کے طور پر پیش کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کس وقت کن طریقوں سے اپنے عوام کا دل جیتا جا سکتا ہے لہذا وہ اپنی پارلیمانی مدت کے وسط میں ملک کی اقتصادی ترقی اور عوام کی معاشی بحالی کے نام پر پاکستان اور چین کے ساتھ امن اور دوستی کانعرہ بھی لگاتا ہے مگر وہ جانتا ہے کہ انتخابات کے نزدیک محبت سے زیادہ نفرت کو کام میں لایا جا سکتا ہے اور یہ کہ نفرت محبت سے کہیں زیادہ طاقتور جذبہ ہے۔

مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ مودی سرکار نے عمران خان کی نفسیات سے فائدہ اٹھایا ہے، وہ نفسیات جو جلد بازی اور اپنے ساتھ تعاون نہ کرنے والوں کے لئے فوری اور سخت ردعمل کے اظہار کی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے عوام کے درمیان ایک فرق ہے، پاکستان کا پڑھا لکھا، انگریزی بولنے اورسمجھنے والا طبقہ جنگ نہیں چاہتا مگر بھارت میں ایسا نہیں ہے، وہاں پاکستان کے لئے نفرت کو کامیابی سے اپنی حمایت میں استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی نسبت بھارت میں امن اور دوستی کی مالا جپنے والے بہت کم نظر آتے ہیں۔ نریندر مودی نے عمران خان کی طرف سے لکھے ہوئے خط کو مسترد اور وزرائے خارجہ کی ملاقات سے انکار کر کے عمران خان کو مجبور کر دیا کہ وہ ایک ایسا ٹوئیٹ کریں جوسفارتی آداب کے منافی ہو۔ وہ بھول گئے کہ وہ محض پی ٹی آئی کے چیف نہیں کہ جس حیثیت میں وہ جسے چاہے اوئے کہہ کے بلا لیتے تھے، اب وہ ایک حساس ملک کے چیف ایگزیکٹو ہیں اور ان کی بجائے کسی بھی سفارتی اہلکار کا ردعمل ایک موقع دے سکتا ہے کہ ریاست سے ریاست کا رابطہ بحال رہے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ دونوں ممالک اس وقت ایک دوسرے پر فوج کشی کے متحمل نہیں ہو سکتے مگر سوال یہ ہے کہ پھر بڑے عہدوں پر چھوٹے آدمیوں کے بیٹھنے جیسے ٹوئیٹ کر کے کس کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ بھارتی فوج کے سربراہ کے غیر مناسب بیان کا حوالہ دیں گے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی حکومت کو جنگی جنون پیدا کر کے مودی کی کامیابی کو سو فیصد یقینی بنانے میں کردارادا کرنا چاہئے، ہم اپنے داخلی مسائل سے توجہ ہٹاتے ہوئے اپنی توانائیاں ایک ڈرامے کے ذریعے نریندر مودی کی انتخابی حیثیت کو مزید مضبوط بنانے پر کیوں خرچ کر رہے ہیں؟

Facebook Comments HS