ڈائینو سار کیسے ختم ہوئے؟


زمین پر زندگی ہمیشہ سے ایسی نہیں رہی جیسی ہمیں آج نظر آتی ہے۔ جانداروں کی بے شمار انواع اور پرجاتیاں نظام شمسی کے اس تیسرے سیارے پر ظہور پزیر ہوئیں، یہاں کے کٹھن موسمیاتی و ارضیاتی حالات کا مقابلہ کرکے کامیاب ہوئیں اور بالا آخر کچھ ہی عرصے میں صفہ ہستی سے مٹ گئیں۔ قدرت کا یہ کھیل پچھلے 60 کروڑ سال سے جاری ہے جب پہلے یک خلوی جاندار سمندر کے بیچ نمودار ہوئے تھے۔

ہماری جنم بھومی کی 4 ارب 63 کروڑ سالہ تاریخ میں زمیں کی جغرافیائی اور جیالوجیکل شکل کبھی بھی لمبے عرصے تک ایک جیسی نہیں رہی۔ شاید یہ زمین کے زندہ ہونے کی دلیل ہے۔ زمین کی یہ جغرافیائی اور موسمیاتی تبدیلیاں سطح زمین اور سمندر میں موجود حیات پر براہ راست اثر انداز ہوتی رہی ہیں۔

اگر ہم وقت میں پیچھے جائیں تو کوئی 18 کروڑ سال پہلے ہمارا بر صغیر ہند، بر اعظم افریقہ، جنوبی امریکہ، آسٹریلیا اور انٹارکٹیکا سے جڑا ہوا تھا۔ اس جنوبی کرے کے عظیم بر اعظم کو گونڈوانا لینڈ کا نام دیا گیا ہے۔ گونڈوانا لینڈ کے شمال میں ایک سمندر تھا جسے بحر ٹیتھس Tythes Sea کہتے ہیں جس کے شمال میں دوسرا بر اعظیم واقع تھا جسے لوریشیا کا نام دیا گیا ہے۔ آج کے دور کا ایشیا، یورپ، عرب اور شمالی امریکہ لوریشیا کا حصہ تھے۔ ان دونوں قدیم بر اعظموں کے مجموعے کو پینجیا کہا جاتا ہے۔
گونڈوانا لینڈ اور لوریشیا کا حصہ رہنے والے آج کے بر اعظموں کی تہوں سے ایک ہی قسم کی نباتاتی اور حیوانی حیات کے فوسلز ملے ہیں۔ ظاہر ہے آج یہ بر اعظم ایک دوسرے سے بلکل الگ تھلگ ہیں اور ان کے بیچ وسیع سمندر حائل ہیں۔ مخصوص زمانوں میں ان پر ایک جیسی حیات کی موجودگی بر اعظموں کے سرکنے کے نظریعے یعنی Continental Drift Theory کو سچ ثابت کرتی ہے۔

خیر، 18 کروڑ سال پہلے جنوبی بر عظیم گونڈوانہ لینڈ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا تو سب سے پہلے افریقا اور جنوبی امریکہ باقی ماندہ حصے سے الگ ہو گئے۔ ہمارا ہندوستان ( برصغیر) بھی آخر کار 13 کروڑ سال پہلے آسٹریلیا اور انٹارکٹیکا سے علیحدہ ہو کر تیز رفتاری سے شمال مشرق کی سمت سرکنے لگا۔ اور بالا آخر تقریبا 6 کروڑ سال پہلے یہ ایشیا سے ٹکرا گیا۔ اس ٹکراؤ کی وجہ سے وسیع تر جغرافیائی تبدیلیاں رو نما ہوئیں جن میں سب سے نمایاں کوہ ہمالیہ اور اس کے ہمسائہ سلسلہ ہائے کوہ کا قیام تھا۔ ان جغرافیائی تبدیلیوں نے موسمیاتی اور ارضیاتی تبدیلیوں کو جنم دیا۔ پہلے سے موجود پرانے دریا یا تو ختم ہو گئے یا پھر انھوں نے اپنا راستہ بدل لیا۔ سندھ، گنگا و جمنا اور برہم پتر نے اسی دور میں آنکھ کھولی۔ جنھوں نے بعد میں ہندوستان کی اولین انسانی تہذیبوں (وادی سندھ کی تہذیب) کی آماج گاہ بننا تھا۔

آئیے مزید آگے بڑھتے ہیں۔ یہ کوئی ساڑھے چھ کروڑ سال پہلے کا زمانہ ہے ہمالیہ کا نو مولود سلسلہ بلند سے بلند تر ہوتا جارہا ہے۔ افغانستان، ایران اور برما کے پہاڑی سلسلے وجود میں آچکے ہیں۔ اسی زمانے میں برصغیر میں ایک اہم واقع رونما ہوتا ہے۔ یہ واقع اپنے ہمعصر دیگر حوادث کے ساتھ مل کر ایک عہد کے خاتمے اور نئے عہد کے آغاز کا باعث بننے والا تھا۔

اور وہ واقع تھا دکن کا عظیم لاوا۔ موجودہ وسطی اور جنوبی بھارت تقریبا سارے کا سارا دکن کے عظیم لاوے کی زد میں آچکا تھا۔ یہ زبردست آتش فشانی زیر زمین بر اعظمی پلیٹوں کے سرکنے کے سبب شروع ہوئی اس مظہر کو پلیٹ ٹیکٹو نکس کہتے ہیں۔ زیر زمین شدید گرمی کے اثر سےپگھلی ہوئی چٹانیں لاوے کی شکل میں سطح زمین پر برسنے لگیں۔ قیاس ہے کہ آتش فشانی کا یہ سلسلہ کوئی 30 ہزار سال تک مسلسل جاری رہا۔ جس کی وجہ سے وسطی ہندوستان کے بیشتر علاقے پر پگھلے ہوئے لاوے کے دریا رواں دواں تھے۔ اور اس کے نتیجے میں زمین کے اندر سے نکلنے والی خطرناک آتش فشانی گیسیں دور دور تک فضا میں پھیل گئیں جنھوں نے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ جنوب مشرقی ایشیا، وسط ایشیا اور جنوب مشرقی عرب تک کی فضا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس دور کو ماہر ارضیات تاخیری کریٹیشئس دور کا نام دیتے ہیں۔ یہ دکن کے اسی معدنی لاوے کا ہی اثر ہے کہ جنوبی و وسطی ہندوستان کی زمیں آج اپنی زرخیزی میں ثانی نہیں رکھتی۔ مگر وہیں پہ یہ لاوا اپنے عہد کے جانداروں کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہوا۔

چونکہ قانون قدرت ہے کہ ہر عروج کو زوال ہوتا ہے۔ ڈائینو سار پچھلے 23 کروڑ سالوں سے زمین پر حکمرانی کرتے چلے آرہے تھے۔ اب ان کے زوال کا وقت تھا۔ کیونکہ قدرت ایک مختلف قسم کے جانداروں کو زمین پر بسانے کا فیصلہ کر چکی تھی۔ اور وہ جاندار تھے ممالیہ جانور۔ ابھی دکن کی آتش فشانی اپنے عروج پر تھی کہ اسی وقت ایک ایسا واقع رونما ہوا جو دھرتی سےڈائینو راج کے خاتمے کا سبب بنا۔

6 کروڑ 60 لاکھ سال پہلے کوئی 12 سے 15 میٹر چوڑا شہاب ثاقب کا ایک بہت بڑا ٹکڑا کرہ ہوائی میں داخل ہونے کے بعد خلیج میکسیکو میں ساحل کے قریب ٹکرا گیا۔ اس زبردست ٹکراؤ کی تاثیر سے عظیم سونامی لہریں پیدا ہوئیں۔ دھول اور گرد کے بادلوں نے پوری زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ دو ماہ سے زیادہ عرصے تک سورج کی روشنی زمیں تک پہنچنے سے قاصر رہی۔ روشنی کے بغیر درخت اور پودے مرنے لگے۔ جس کے نتیجے میں سبزہ خور ڈائینو سارز کی خوراک ختم ہونے لگی اور وہ بھوک سے مرنے لگے۔ گوشت خور ڈائینو سارز جن کی خوراک کا انحصار انھیں سبزا خور جانوروں پر تھا ان کا بھی صفہ ہستی سے خاتمہ ہوگیا۔

ڈائینو سارز کے ساتھ مچھلیاں اور دیگر بڑے جثے کے ممالیہ جانور بھی مارے گئے۔ صرف چھوٹی جسامت کے اور زیر زمین بلوں میں رہنے والے چند ممالیہ اور چھوٹے سائیز کے ڈائینو ہی زندہ بچنے میں کامیاب ہوئے۔ یہی چھوٹے سائز کے ڈاینو سار بعد میں پرندوں کی شکل میں ارتقا پزیر ہو کر اپنی نسل آگے بڑھانے میں کامیاب رہے۔ اور چھوٹے ممالیہ جاندار کسی بھی قسم کے بڑے مد مقابل کی غیر موجودگی میں زمینی وسائیل کو استعمال کرتے ہوئےزیادہ بڑے اور انواع و اقسام کے ممالیہ جانداروں میں ڈھلنے لگے۔ ممالیہ دور شروع ہوچکا تھا۔ زندہ رہنے اور اپنی نسل آگے بڑھانے کی خواہش نے ارتقا ئی عمل کو چابک لگائی تو زیادہ سے زیادہ ذہین جانداروں کا ظہور ہونے لگا۔ اور پھر کوئی 2 لاکھ سال پہلے اس سیارے نے وہ دن بھی دیکھا جب تاریخ کے سب سے زیادہ ذہین اور شاطر جانور نے مشرقی افریقا کے کسی غار میں آنکھ کھولی۔ یہ انسانی دور کا آغاز تھا۔ !

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں