میڈیکل کالجوں کا پراف
ڈاکٹروں کی سرزمین کیوبا میں واقع گوانتاناموبے اور عراق کی ابو غریب جیل دنیا کے بدنام زمانہ عقوبت خانے ہیں۔ یہاں عموما دہشتگردی، ملک دشمنی اور غداری وغیرہ جیسے سنگین جرائم میں ملوث خطرناک مجرموں کو قید کیا جاتا ہے۔ محصورین کو چھ فٹ لمبے، چار فٹ چوڑے آہنی سلاخوں سے بنے پنجروں میں قید کیا جاتا ہے جنہیں ٹارچر سیلز کہتے ہیں۔
ان ٹارچر سیلز کی بناوٹ ایسی ہوتی ہے کہ قیدی نہ تو ان میں نہ تو مکمل طور پر لیٹ سکتا ہے، نہ ہی بیٹھ سکتا ہے بلکہ اکڑوں بیٹھا سزا بھگتا رہتا ہے۔ یہاں انہیں مہینوں اندھیرے میں رکھا جاتا ہے۔ اس اذیت سے گزار کر ملزموں سے اقرار جرم کروایا جاتا ہے۔
میڈیکل کالجوں کا سالانہ امتحان یعنی پراف بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ فرق محض اتنا ہوتا ہے کہ طلباء از خود نظر نہ آنے والے پنجروں میں قید ہو جاتے ہیں۔ جہاں نہ تو وہ لیٹ سکتے ہیں نہ بیٹھ پاتے ہیں۔ بس پڑے پڑے کروٹیں بدلتے رہتے ہیں۔ اندھیرا عموما ان کے حالات پر چھایا رہتا ہے اور اقبال جرم اور سزا بالترتیب امتحان اور نتائج کی صورت میں طاہر ہوتا ہے۔
پورے تعلیمی سال کے دوران آوارہ گردی، چشم دریدگی اور قسم قسم کی رنگ رنگیوں سے دل پشوری کرنے والے شہزادے بھی اس موسم میں اپنے اپنے بٍلوں میں دبک کر بیٹھ جاتے ہیں۔ طاقچوں سے کتابیں نکالتے ہیں، پھونک پھونک دھول اڑاتے ہیں اور پھر کتابیں ان کا اور یہ کتابوں کا منہ چڑاتے ہیں۔
اس دورانیے میں خوف کا بھی ان دیکھا الگ روپ ہوتا ہے۔ بڑے بڑے جگر دار سورما بھی پراف سے ایسے خوفزدہ پائے جاتے ہیں جیسے قدیم زمانے میں سلطانہ ڈاکو کے ڈر سے لوگ سر شام ہی کواڑ بند کیے گھروں میں دبک کر بیٹھ جاتے تھے۔ مگر سلطانہ ان کو لوٹتا تھا، جن کے ہاں اسے مال ملتا تھا۔ پراف ان کی قسمت پر خاک ڈالتا ہے جن کی جھولی خالی ہوتی ہے۔
سالانہ امتحان سے پہلے کے موسم کی قابل ذکر سوغاتوں میں تمباکو نوشی (بشمول جعلی چرس و گانجا) اور چائے، کافی وغیرہ نمایاں ہیں۔ طلباء تو خیر ازل سے ہی دھتکارے ہوئے نشئی ٹھرے، اس دوران میں طالبات بھی دھوئیں کے مرغولے اڑانے اور خود کو پرسکون کرنے کا ماڈرن طریقہ آزماتی ہیں۔
ایسے ساغر و مینا کے رسیا طلباء میں سے بعض ان اجزاء کے عادی بھی بن جاتے ہیں اور بعدازاں کسی مزار کے احاطے یا فلائی اوور کے نیچے بیٹھے بھنگیوں کو مارفین کے ٹیکے لگانے کی تربیت دے رہے ہوتے ہیں جو انہوں اسپتالوں میں کلنیکل سکلز (Clinical skills) کے دوران سیکھےتھے۔
اس ساری بے سروسامانی کے بعد پرچہ حل کرنے کا منظر سب سے دلچسپ ہوتا ہے۔ عام حالات میں خود کو ماڈرن اور لبرل قرار دینے والے بھی تیز رفتاری سے زیر لب مقدس آیات پڑھتے خالی گتے کو پھونکیں مار رہے ہوتے ہیں۔
پرچہ ملنے پر کچھ دیر تو شاک کی سی کیفیت پائی جاتی ہے رفتہ رفتہ حواس بحال ہونے کے بعد ماہر نشانہ باز طلباء کنکشن تلاش کرتے ہیں۔ کنکشن کی تلاش میں طلباء کا زاویہ نگاہ تین سو ساٹھ درجے پر گھومتا ہے۔ اور آخر کار رخ یار یعنی مخالف طالب کے پرچے پر جا ٹھرتا ہے۔ جہاں سے یہ مخالف پرچے کا عکس بشمول کاما و فل سٹاپ اپنی شیٹ پر اتارتے ہیں۔
کچھ عقابی نگاہیں اس قدر تیز ہوتی ہیں کہ اگر دوسرا طالبعلم مریخ پر بھی بیٹھا ہو تو بھی ان کا فوکس بنا رہتا ہے اور کسی کو ’آنکھوں آنکھ‘ خبر نہیں ہوتی۔
بقول شاعر
پرچہ اس کا دیکھتے ہیں اس ادا سے وہ
اور یہ بھی دیکھتے ہیں کوئی دیکھتا نہ ہو
اس ’کوئی‘ میں نگران محمتحنوں کے علاوہ کوئی شامل نہیں۔


