جھیل کے آنسو
ہمارے پھیپھڑے برف سے بھرے ہوئے تھے۔ ڈھلوان چڑھتے چڑھتے ہماری رانوں میں جیسے تیزاب پھیل گیا تھا۔ سامنے آخری تودہ تھا۔ ہم برف میں پنجے پھنسا پھنسا کر قدم اٹھاتے آخری تودے کے اوپر چڑھ آئے۔ سامنے دیکھا! مگر یہاں تو کچھ بھی نہیں تھا۔ بس دھند کی ایک گاڑھی دبیز چادر تھی جو ہمارے چاروں طرف سے لپیٹے ہوئے تھی۔ ہم نڈھال ہو کے بیٹھ گئے اور آسمان تکنے لگے۔ اچانک برفانی ہوا کے جھونکے چلنے لگے۔ کہر چھٹنے لگی اور سارا منظر شفاف ہو گیا۔ گویا کسی سہاگن کا گھونگھٹ سرک گیا ہو۔ ہمارے سامنے بیضوی نقشے کہ برف کے گرد پھیلا ہوا گہرا نیلا پانی تھا۔ یہ آنسو جھیل تھی۔ یہ آنسو کم اور آنکھ زیادہ لگ رہی تھی۔ کسی کنواری بنگالن کی آنکھ۔ تراشی ہوئی، کاجل لگی اور پر شکوہ۔
Read more




