جھیل کے آنسو

ہمارے پھیپھڑے برف سے بھرے ہوئے تھے۔ ڈھلوان چڑھتے چڑھتے ہماری رانوں میں جیسے تیزاب پھیل گیا تھا۔ سامنے آخری تودہ تھا۔ ہم برف میں پنجے پھنسا پھنسا کر قدم اٹھاتے آخری تودے کے اوپر چڑھ آئے۔ سامنے دیکھا! مگر یہاں تو کچھ بھی نہیں تھا۔ بس دھند کی ایک گاڑھی دبیز چادر تھی جو ہمارے چاروں طرف سے لپیٹے ہوئے تھی۔ ہم نڈھال ہو کے بیٹھ گئے اور آسمان تکنے لگے۔ اچانک برفانی ہوا کے جھونکے چلنے لگے۔ کہر چھٹنے لگی اور سارا منظر شفاف ہو گیا۔ گویا کسی سہاگن کا گھونگھٹ سرک گیا ہو۔ ہمارے سامنے بیضوی نقشے کہ برف کے گرد پھیلا ہوا گہرا نیلا پانی تھا۔ یہ آنسو جھیل تھی۔ یہ آنسو کم اور آنکھ زیادہ لگ رہی تھی۔ کسی کنواری بنگالن کی آنکھ۔ تراشی ہوئی، کاجل لگی اور پر شکوہ۔

Read more

واٹر کولر کی قربانی

روس میں سفید رات کا جشن منایا جاتا ہے۔ اٹلی میں لوگ سنگتروں کی لڑائی کا تہوار مناتے ہیں اور ایک دوسرے پر پکے ہوئے سنگترے اچھالتے ہیں۔ سپین میں بپھرے ہوئے بد مست بھینسوں کو اشتعال دلا کر ان کے آگے دوڑنے کا رواج ہے۔ ہندو دیوالی پر پھلجڑیاں چھوڑتے ہیں اور آتش بازی کرتے ہیں، ہولی پر رنگ بکھیرتے ہیں۔ برطانیہ میں ایسٹر اور کرسمس پر لوگ عمدہ کھانے کھاتے ہیں اور شراب نوشی کر کے ناچتے گاتے

Read more

میڈیکل کالج کی کہانیاں

یہ غالباً 6 اکتوبر دو ہزار چودہ کی ایک خُنک صبح تھی۔ شِدت کے موسم گرما کے بعد جاڑے کی آمد آمد تھی، پَت جَھڑ عروج پر تھا۔ ہر طرف بھورے بھورے پَتے بکھرے ہوئے تھے۔ لوگ اور موٹریں گرے ہوئے پتوں کے اوپر چلتے۔ گاڑیوں کے ٹائر انہیں بری طرح کچل دیتے۔ کچلے جانے پر پتے چَرچرر چَرر آواز پیدا کر کے اس توقیری پر صدائے احتجاج بلند کرتے۔ عام لوگوں کے لیے یہ ایک عام سا دن تھا۔

Read more

آٹھ اکتوبر 2005 کا زلزلہ: ایک طالبعلم کے ذاتی تجربے کی کہانی

ان وقتوں کے پرائمری سکولوں میں پہلی کلاس عموما اسلامیات یا عربی کی رکھی جاتی تھی۔ اعتقاد یہ تھا مقدس کلام سے کالی پرچھائیاں زائل ہوں اور دن کا شُبھ آغاز ہو۔ قاری اقبال صاحب ہمیں اسلامیات پڑھاتے تھے۔ اس روز قاری صاحب بوجہ غیر حاضر تھے۔ فری پیریڈ میں ہماری چاندی ہو جایا کرتی تھی۔ خالی کلاس میں ہم کاغذی گولہ سا بناتے اس پر چپکتا فیتہ ( اسکاچ ٹیپ) لپیٹتے اور موٹی جلد چڑھی کتاب سے کرکٹ کھیلا

Read more

رتی گلی کا رومانس

رتی گلی دیوِی ہے۔ روپ کے دیوتا کی سب سے چہیتی بیٹی۔ نیلم کے بازار حُسن کی مَلکہ۔ دَواریاں سے بائیں ہاتھ کی جانب اوپر کو مُڑیں تو مسلسل پتھریلی ڈھلوان آتی ہے۔ سترہ اٹھارہ کلو میٹر کا سفر قریباً چار گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔ یہ ساری مسافت جِیپوں پر بیٹھ کر یا شاید اچھل اچھل کر گزاری جاتی ہے۔ ایسا ہی ہے رَتی گلی کے محل سرا کا راستہ، خوب رو رقاصہ کا مسکن۔ وادی نیلم روپ نگر

Read more

ہماری لائبریری

لائبریری میں سکوت طاری ہے۔ ائیر کنڈیشنڈ کی سرد کُہر آلود ہوائیں چل رہی ہیں۔ زیادہ تر میزیں خالی ہیں۔ کہیں کہیں اِکا دُکا طالبعلم بیٹھے مطالعہ کر رہے ہیں۔ ایک کونے کی میز پر سفید کلف زدہ اوور آل پہنے ہوئے ایک خُوبرو دوشیزہ کتابوں پر جُھکی ہوئی ہے۔ اس کے حِنا مَالیدہ بال اس کے سفید اوور آل پر بے نیازی سے بکھرے ہوئے ہیں۔ ہوا کے جھونکے گزرنے پر اس کی کتھئی زلفیں دِھیرے دِھیرے کروٹیں لے

Read more

ڈاکٹروں کو آخر مسئلہ کیا ہے؟

ڈاکٹر ضیا الدین آفریدی کِنگ فہد ہاسپٹل سعودی عرب میں سرجِری کے کنسلٹنٹ تھے۔ ریالوں میں تَن خواہ لیتے۔ ان کی آمدن اتنی تھی کہ روزانہ کا معاوضہ لاکھوں میں تھا۔ پُر امن ماحول میں پُر تعیش زندگی گزار رہے تھے تھے۔ درد دل رکھنے والے انسان تھے۔ عرب بَدوؤں کے علاج سے دل بھرا، اپنے دیس میں رُلتے مریضوں کی خدمت کا خمار چڑھا، سنہری نوکری اور لگژری لائف اسٹائل کو لات ماری اور پشاور چلے آئے۔پشاور میں خیبر میڈیکل کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر مقرر ہوئے اور خیبر ٹیچنگ اسپتال جو شیر پاؤ اسپتال بھی کہلاتا ہے میں علاج معالجے اور طب کے طالبعلموں کے لیے درس و تدریس کا کام کرنے لگے۔

Read more

مدرز ڈے: حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

تھامس ایڈیسن معروف موجد گزرا ہے۔ اسے بلا شبہ ایجادات کا جد امجد کہا جا سکتا ہے۔ اس کی مشہور ایجاد برقی قمقمہ تھی۔ اس نے ایک ہزار ناکام کوششوں کے بعد ایسا بلب بنایا جو کچھ دیر روشن ہوا اور پھر اس کی دھات پگھل گئی۔ یہ شخص انتہائی صابر اور مستقل المزاج شخص تھا۔ لوگ اس کا مذاق اڑاتے۔ اسے دیوانہ اور پاگل کے القابات سے پکارا جاتا۔ مگر وہ دل جمعی سے ایک کے بعد ایک تجربات کرتا چلا گیا۔ اس نے کبھی کسی کو پلٹ کر جواب نہ دیا۔ وہ لوگوں کے اڑائے گئے چھینٹوں کو اپنے دامن کی زینت سمجھتا تھا۔

Read more

آٹھ ہزار فٹ بلند چراگاہ سری کوٹ

اَڑنگ کیل (نیلم) سے سری کوٹ اِس طرح سے مختلف ہے کہ ایک تو اڑنگ کیل کا ایریا بہت زیادہ ہے دوسرا چوٹی کی بہار میں وہاں کی ہریالی کا رنگ سیاہی مائل سبز، جب کہ سری کوٹ کا ہلکا ہَرا ہوتا ہے۔ باقی دونوں مقامات پر پہنچنے کے بعد فرحت کا احساس کم و بیش ایک سا ہے۔

Read more

دوسرا جنم: 8 اکتوبر 2005 کے زلزلے کی بطور کم سن طالب علم ذاتی تجربے پر لکھی گئی تحریر

ان وقتوں کے پرائمری سکولوں میں پہلی کلاس عموما اسلامیات یا عربی کی رکھی جاتی تھی۔ اعتقاد یہ تھا مقدس کلام سے کالی پرچھائیاں زائل ہوں اور دن کا شُبھ آغاز ہو۔ قاری اقبال صاحب ہمیں اسلامیات پڑھاتے تھے۔ اس روز قاری صاحب بوجہ غیر حاضر تھے۔ فری پیریڈ میں ہماری چاندی ہو جایا کرتی تھی۔ خالی کلاس میں ہم کاغذی گولہ سا بناتے اس پر چپکتا فیتہ ( اسکاچ ٹیپ) لپیٹتے اور موٹی جلد چڑھی کتاب سے کرکٹ کھیلا

Read more

میڈیکل کالجوں کا پراف

ڈاکٹروں کی سرزمین کیوبا میں واقع گوانتاناموبے اور عراق کی ابو غریب جیل دنیا کے بدنام زمانہ عقوبت خانے ہیں۔ یہاں عموما دہشتگردی، ملک دشمنی اور غداری وغیرہ جیسے سنگین جرائم میں ملوث خطرناک مجرموں کو قید کیا جاتا ہے۔ محصورین کو چھ فٹ لمبے، چار فٹ چوڑے آہنی سلاخوں سے بنے پنجروں میں قید کیا جاتا ہے جنہیں ٹارچر سیلز کہتے ہیں۔ ان ٹارچر سیلز کی بناوٹ ایسی ہوتی ہے کہ قیدی نہ تو ان میں نہ تو مکمل

Read more

میڈیکل کالج کا چوتھا سال

تیسرے سال کے سالانہ پیشہ ورانہ امتحان یعنی اینول پراف میں خوش بختی،تانکا جھانکی اور کسی حد تک محنت و ریاضت کے باوجود بمشکل کامیابی کے بعد ریاضی کے حساب سے ساٹھ فیصدی ڈاکٹر لونڈے جب اچھلتے کودتے اور پُھدکتے ہوئے سال چہارم میں جب قدم رکھتے ہیں تو ان کی امیدوں اور ارادوں میں پختگی آچکی ہوتی ہے۔ یعنی بیک وقت شرافت اور بے غیرتی کے اس لاعلاج مقام پر فائز ہو چکے ہوتے ہیں جہاں سے واپسی قریب

Read more

میڈیکل کالج کے تیسرے سال والے

میڈیکل کالج کے پانچ سالوں میں تیسرے سال والوں کا وہی مقام ہے جو دنیا میں تیسری دنیا کا۔ یعنی پسماندہ۔ مفلوک الحال اور غیر اہم! میڈیکل کالجوں اور ان سے منسلک ٹیچنگ ہسپتالوں میں چیف جسٹسوں اور دل کے دوروں کے بعد سب سے بڑا دورہ جو پڑتا ہے وہ ڈاکٹری کا ہے جو تیسرے سال والوں کو پڑتا ہے! دوسرے سال کا نسبتا آسان پراف دینے کے بعد رنگروٹ پہلے دن نئے، کلف لگے اوور آل کے کالر

Read more