ڈاکٹروں کو آخر مسئلہ کیا ہے؟

ڈاکٹر ضیا الدین آفریدی کِنگ فہد ہاسپٹل سعودی عرب میں سرجِری کے کنسلٹنٹ تھے۔ ریالوں میں تَن خواہ لیتے۔ ان کی آمدن اتنی تھی کہ روزانہ کا معاوضہ لاکھوں میں تھا۔ پُر امن ماحول میں پُر تعیش زندگی گزار رہے تھے تھے۔ درد دل رکھنے والے انسان تھے۔ عرب بَدوؤں کے علاج سے دل بھرا، اپنے دیس میں رُلتے مریضوں کی خدمت کا خمار چڑھا، سنہری نوکری اور لگژری لائف اسٹائل کو لات ماری اور پشاور چلے آئے۔پشاور میں خیبر میڈیکل کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر مقرر ہوئے اور خیبر ٹیچنگ اسپتال جو شیر پاؤ اسپتال بھی کہلاتا ہے میں علاج معالجے اور طب کے طالبعلموں کے لیے درس و تدریس کا کام کرنے لگے۔

Read more

مدرز ڈے: حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

تھامس ایڈیسن معروف موجد گزرا ہے۔ اسے بلا شبہ ایجادات کا جد امجد کہا جا سکتا ہے۔ اس کی مشہور ایجاد برقی قمقمہ تھی۔ اس نے ایک ہزار ناکام کوششوں کے بعد ایسا بلب بنایا جو کچھ دیر روشن ہوا اور پھر اس کی دھات پگھل گئی۔ یہ شخص انتہائی صابر اور مستقل المزاج شخص تھا۔ لوگ اس کا مذاق اڑاتے۔ اسے دیوانہ اور پاگل کے القابات سے پکارا جاتا۔ مگر وہ دل جمعی سے ایک کے بعد ایک تجربات کرتا چلا گیا۔ اس نے کبھی کسی کو پلٹ کر جواب نہ دیا۔ وہ لوگوں کے اڑائے گئے چھینٹوں کو اپنے دامن کی زینت سمجھتا تھا۔

Read more

آٹھ ہزار فٹ بلند چراگاہ سری کوٹ

اَڑنگ کیل (نیلم) سے سری کوٹ اِس طرح سے مختلف ہے کہ ایک تو اڑنگ کیل کا ایریا بہت زیادہ ہے دوسرا چوٹی کی بہار میں وہاں کی ہریالی کا رنگ سیاہی مائل سبز، جب کہ سری کوٹ کا ہلکا ہَرا ہوتا ہے۔ باقی دونوں مقامات پر پہنچنے کے بعد فرحت کا احساس کم و بیش ایک سا ہے۔

Read more

دوسرا جنم: 8 اکتوبر 2005 کے زلزلے کی بطور کم سن طالب علم ذاتی تجربے پر لکھی گئی تحریر

ان وقتوں کے پرائمری سکولوں میں پہلی کلاس عموما اسلامیات یا عربی کی رکھی جاتی تھی۔ اعتقاد یہ تھا مقدس کلام سے کالی پرچھائیاں زائل ہوں اور دن کا شُبھ آغاز ہو۔ قاری اقبال صاحب ہمیں اسلامیات پڑھاتے تھے۔ اس روز قاری صاحب بوجہ غیر حاضر تھے۔ فری پیریڈ میں ہماری چاندی ہو جایا کرتی…

Read more

میڈیکل کالجوں کا پراف

ڈاکٹروں کی سرزمین کیوبا میں واقع گوانتاناموبے اور عراق کی ابو غریب جیل دنیا کے بدنام زمانہ عقوبت خانے ہیں۔ یہاں عموما دہشتگردی، ملک دشمنی اور غداری وغیرہ جیسے سنگین جرائم میں ملوث خطرناک مجرموں کو قید کیا جاتا ہے۔ محصورین کو چھ فٹ لمبے، چار فٹ چوڑے آہنی سلاخوں سے بنے پنجروں میں قید…

Read more

میڈیکل کالج کا چوتھا سال

تیسرے سال کے سالانہ پیشہ ورانہ امتحان یعنی اینول پراف میں خوش بختی،تانکا جھانکی اور کسی حد تک محنت و ریاضت کے باوجود بمشکل کامیابی کے بعد ریاضی کے حساب سے ساٹھ فیصدی ڈاکٹر لونڈے جب اچھلتے کودتے اور پُھدکتے ہوئے سال چہارم میں جب قدم رکھتے ہیں تو ان کی امیدوں اور ارادوں میں…

Read more

میڈیکل کالج کے تیسرے سال والے

میڈیکل کالج کے پانچ سالوں میں تیسرے سال والوں کا وہی مقام ہے جو دنیا میں تیسری دنیا کا۔ یعنی پسماندہ۔ مفلوک الحال اور غیر اہم! میڈیکل کالجوں اور ان سے منسلک ٹیچنگ ہسپتالوں میں چیف جسٹسوں اور دل کے دوروں کے بعد سب سے بڑا دورہ جو پڑتا ہے وہ ڈاکٹری کا ہے جو…

Read more