انقلابی لبرل لڑکی سحرش احمد سے دلچسپ مکالمے کا احوال


میں نے اپنی دانشور دوست سحرش احمد سے جب سوال کیا کہ موجودہ انسانیت کہیں ایک اور جنگ عظیم کی طرف تو نہیں جارہی ہے؟ سحرش احمد نے کہا اس سوال کا جواب ایٹمی توانائی دریافت کرنے والے سائنسدان آئن سٹائن بہت پہلے ہی دے چکے ہیں۔ آئن سٹائن سے کسی نے یہی سوال کیا تھا کہ کیا تیسری جنگ عظیم ہونے والی ہے؟ یہ سوال سنتے ہی آئن سٹائن کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ آئن سٹائن نے کہا مجھ سے تیسری جنگ عظیم کے بارے میں کچھ نہ پوچھو، میں تیسری جنگ عظیم کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ ہاں اگر چوتھی جنگ عظیم کے بارے میں کچھ پوچھنا چاہتے ہو تو اس کے بارے میں بتا سکتا ہوں؟ وہ شخص حیران ہوا اور اس نے کہا، پھر چوتھی جنگ عظیم کے بارے میں ہی کچھ بتادیں۔ آئن سٹائن نے کہا چوتھی جنگ عظیم نہیں ہوگی۔ تیسری جنگ عظیم ہی انسانی تاریخ کی آخری جنگ ثابت ہوگی۔ اس جنگ کے بعد زمین سے انسان اور انسانیت کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو جائےگا۔

سحرش احمد نے کہا اجمل شبیر تیسری جنگ عظیم کے لئے ابنارمل لیڈر، سیاستدان، رہنما، جرنیل اور باقی طاقتور حلقے صف بندی کر چکے ہیں۔ ان طاقتور حلقوں کی یہ بدصورت گیم انسانیت کی بربادی کا سبب بنے گی۔ سیاہ رات آنے کو ہے۔ اس سیاہ رات کو روکنے کے لئے امید کی کوئی کرن دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ انسان ایٹم بموں پر بیٹھے ہیں، یہ ایٹم بم کبھی بھی پھٹ سکتے ہیں۔ شام، عراق، بحرین، یمن، پاکستان، افغانستان، شمالی کوریا سے لے کر امریکہ، یورپ اور روس تک ہر جگہ جنگ عظیم کی منصوبہ بندی ہورہی ہے۔ تباہ کن ایٹمی ہتھیار بنانے کا کاروبار زوروں پر ہے۔ پہلے کی طرح اب بھی امریکہ، روس اور برطانیہ وغیرہ دنیا کے تمام ملکوں کو خوفناک ہتھیار فروخت کررہے ہیں۔ یہ سب کچھ جنگ عظیم کے لئے ہی تو ہورہا ہے۔

ہتھیاروں کا بزنس عروج پر ہے۔ سینکڑوں انتہا پسند اور دہشت گرد تنظیمیں پوری دنیا میں دہشت گردی کررہی ہیں۔ پھر کیسے تیسری جنگ عظیم کو روکا جا سکتا ہے؟ طاقتور ملک ہتھیار کو فروخت کرکے کھربوں ڈالرز کما رہے ہیں اور انسان مر رہے ہیں۔ دنیا کے اسی فیصد وسائل دفاع اور سیکیورٹی کے نام پر برباد ہورہےہیں۔ پھر بھی کہیں امن وامان نہیں، امریکہ سے روس اور روس سے عراق و شام اور پاکستان تک اور پاکستان سے یورپ تک ہر جگہ جنگ ہے۔ بیلجئیم، برطانیہ، فرانس، بھارت، برما، لندن و نیویارک تک دھماکے ہورہے ہیں۔ طاقتور چالاک اور عیار ہیں اور یہ عوام اندھے، بہرے اور گونگے ہو چکے ہیں۔ افسوس کےدنیا کی بے بس انسانیت کو سمجھ نہیں آرہا کہ طاقتور حلقے انہیں کیسی خوفناک تباہی و بربادی کی طرف لے کر جارہے ہیں۔

افغانستان، شام اور بحرین کو قبرستان بنا دیا گیا ہے پھر بھی اسلحے کی فروخت جاری ہے۔ دنیا کا ہرملک اورانسان دوسرے انسان یا ملک کو یا تو قتل کررہا ہے یا پھر اسے قتل کرنے کی سازش میں مصروف ہے۔ دنیا میں ہر سال پچاس ملین سے زائد انسان بھوک، غربت اور بیماریوں سے مر جاتے ہیں۔ لیکن ہر سال ایک ہزار بلین ڈالرزجنگی ساز و سامان پر خرچ کیا جاتا ہے۔ یہ ہے انسانیت جہاں محبت اور امن کے لئے کوئی دلچسپی دیکھائی نہیں دے رہی۔ انسانوں نے زندگی میں دلچسپی لینا بند کردی ہے۔ انسانی تاریخ میں کبھی اس قدر انسانوں کا قتل عام نہیں ہوا جتنا اب ہورہا ہے۔
سحرش احمد نے کہا اجمل شبیرپاکستان اور بھارت کا میڈیا جنگی ماحول پیدا کرنے میں مصروف ہے۔ اخبارات، نیوز چینلز طاقتور حلقوں کے جنگی اور خونی بیانات سے لبریز ہیں۔ دنیا کی آبادی آٹھ ارب ہوچکی ہے۔ خوراک کم ہو رہی ہے۔ پانی کے ذخائر مٹ رہے ہیں، چاروں طرف مہاجرین کا بحران ہے۔ یمن، بحرین، میانماراور شام میں لاکھوں معصوم بچے مر گئے۔ لاکھوں بچوں کی زندگی رسک پر ہے۔ زمین خشک ہو رہی۔ زندگی غائب ہو رہی ہے۔ لیکن طاقت کا نشہ ہے کہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔

انسانوں کو یہ سمجھ کیوں نہیں آرہی کہ طاقتور حلقوں کو جنگ طاقتور بناتی ہے؟ اس لئے وہ کبھی جنگ کو دنیا سے لاپتہ نہیں ہونے دیں گے۔ طاقتور ابنارمل لیڈر کبھی بھی امن اور محبت کو راستہ نہیں دیں گے۔ اس دنیا میں قومی ترانے اور قومی جھنڈے موت کا سبب بن رہے ہیں۔ جھنڈوں کی وجہ سے لاکھوں انسان مر گئے۔ لاکھوں مررہے ہیں، ہر ملک ایک دوسرےکا دشمن ہے، لال پیلے جھنڈے اور سرحدیں کبھی انسان اور انسانیت کو ایک نہیں ہونے دیں گے۔ اس دنیا میں غصے، نفرت اور تعصب سے غرغراتے انسان چلتے پھرتے نظر آتےہیں۔ یہ انسان نہیں بارودی روبوٹ ہیں جو موت کی خدمت پر مامور ہیں۔

اگر جنگ عظیم سے بچنا ہے تو پھر جنگ پیدا کرنے والے تمام خیالات اور آلات کا خاتمہ کرنا ہوگا اور محبت کا عظیم ٹمپل تعمیر کرنا ہوگا۔ طاقتوروں کی تباہی ممکن دیکھائی نہیں دے رہی۔ جنگ اب انسانیت کی ضرورت بن گئی ہے۔ جنگ عظیم سے بچنا ہے اور دنیا کو امن اور محبت کا گہوارہ بنانا ہے تو پھر باشعور اور آگہی والے انسانوں کو سامنے آنا ہوگا۔ باشعورانسان کو نیا پروگرام و منشور دینا ہوگا۔ آج اور ماضی کا انسان امن، محبت، قوم، محب وطی اور ذات پات کے نام پر جنگ کرتا آیا ہے اور جنگ کرتا جا رہا ہے، یہ انتشار زدہ انسان ہے۔ اس کی روح بدصورت ہو چکی ہے۔ یہ ایسا انسان ہے جو اپنے اندر کی دنیا کے ساتھ بھی جنگ میں ہے اور باہر بھی قتل و غارت گری میں مصروف ہے۔

بدقسمتی یہ ہےکہ طاقتوروں کے ساتھ ساتھ دانشور اور ادیب سب کے سب ایک دوسرے کے دشمن بنے بیٹھے ہیں۔ سحرش احمد پھر دنیا کو محفوظ کیسے بنایا جائے؟ اس پر سحرش احمد نے کہا یہ احمقوں اوربے قوفوں کی دنیا ہے۔ اس کے لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ان کا مرنا ٹھہر گیا ہے۔ انسان اب اس زمین پر بوجھ ہے، یہ انسان نہیں، آلودہ ترین زہرہلی مخلوق ہیں۔ یہ موت کے نئےنئے طریقے دریافت کررہے ہیں۔ ان کو مر جانے دو۔ دفع کرو ایسی انسانیت کو، جنگ عظیم کو روکنے کے لئے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ کم از کم یہ جنگ زمین کو موجودہ انسان نما مخلوق سے صاف کردے گی، نہ محلات رہیں گے، نہ منافق ذہنیت بچے گی، اور نہ ہی وہائٹ ہاؤسزہوں گے۔ سحرش احمد نے کہا سوال تیسری جنگ عظیم کا نہیں؟ سوال انسانی شعور اور آگہی کا ہے۔ موجودہ انسانی دماغ شعوروآگہی سے محروم ہے۔

سحرش احمد پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگی صورتحال پر بھی بہت پریشان تھی۔ میں نے پوچھا یہ انسان جنگیں کیوں کرتے ہیں؟ کیا کبھی اس دنیا سے جنگوں کا دور دورہ ختم ہو سکے گا؟ اس پر سحرش احمد نے کہا پہلے تو تمہاری اس بات سے اتفاق ہی نہیں کرتی کہ اس دنیا میں انسان جنگیں کررہے ہیں۔ یہ جنگیں انسان نما مخلوق کررہی۔ انسان تو ابھی تک اس دنیا میں آیا ہی نہیں ہے، اس لئے جنگیں کبھی ختم نہیں ہوں گی۔ ملکوں کے لئے جنگیں بہت ضروری ہو چکی ہیں۔ جب تک ملکوں کا وجود ہے، جنگیں ہوتی رہیں گی۔ جنگ و جدل اس وقت ختم ہوگی، جب ملک ختم ہو جائیں گے۔ ۔

طاقتور اور دولت مند لوگوں کی اہمیت ان جنگوں اور ملکوں کی وجہ سے ہے۔ اسی لئے ان کو زیادہ سے زیادہ ملکوں کی ضرورت ہے۔ جتنے زیادہ ملک ہوں گے، جتنی زیادہ تقسیم ہو گی، جتنی زیادہ قومیں ہوں گی، اتنی زیادہ ان طاقتوروں کو طاقت نصیب ہوگی۔ پھریہ طاقتور لوگ قوم پرستی، محب وطنی کے نعرے غریبوں سے لگوائیں گے تو تب ہی ان کی اہمیت بنی رہے گی۔ یہ بے شعورانسانوں کو یہ کہتے رہیں گے کہ ان کا خون دوسری قوم سے مختلف ہے۔ ان کے اصول دوسری قوم سے مختلف ہیں۔ ان کی زبان دوسری قوم سے مختلف ہے۔ یہ محب وطنی کے نام پر انسانوں کو شہید کرواتے رہیں گے۔ تم نے دیکھا نہیں یہ دنیا جس قدر چھوٹے چھوٹے ملکوں میں تقسیم ہوتی جارہی ہے، اسی قدر جنگ و جدل بھی بڑھتی جارہی ہے، طاقتور حلقے تقسیم کے کھیل کی وجہ سے طاقتورہورہے ہیں، عام انسانوں کو وطن پرستی اور محب وطنی کا کوئی فائدہ نہیں مل رہا، یہ تو صرف مرنے اور شہید ہونے کے لئے ہیں، وطن کے نام پر شہید ہونا ان کا مقدر بنا دیا گیا ہے۔ باشعور انسانوں کو ایک فیصلہ کرنا چاہیے۔ وہ فیصلہ یہ کہ اس زمین کے تمام انسان متحد ہو جائیں۔

آج کےانسانوں کو ایک دوسرے پر اعتماد نہیں ہے، یہ ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں۔ ایک دوسرے سے جنگ کرتے ہیں۔ ایک دوسرے سے حسد کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ ملکوں کی وجہ سے ہورہا ہے۔ کائنات میں یہ زمین ایک چھوٹا سا سیارہ ہے۔ زمین پر آزادی انسان کا بنیادی حق ہے پھرکیوں انسان کو پاسپورٹ، ویزے اور سرحد کی ضرورت ہے؟ جس دن انسان ویزے، پاسپورٹ اور سرحد کی قید سے آزاد ہوگیاوہی تو دن ہوگا جب انسان حقیقی آزادی کو انجوائے کرے گا۔ وہ دن اس لئے نہیں آرہا کیونکہ انسان ابھی تک اس دنیا میں آیا ہی نہیں ہے۔ یہ آٹھ ارب انسان انسان نہیں ہیں بلکہ انسان نما کوئی اور مخلوق ہیں۔ موجودہ انسان نے ابھی تک آزادی دیکھی ہی نہیں۔

یہ دنیا امیر ہو سکتی ہے۔ اس میں خوشیاں ناچ سکتی ہیں، یہ دنیا صحت مند بھی ہوسکتی ہےلیکن یہ سب کچھ اس وقت ممکن ہے جب تقسیم کا خاتمہ ہوگا۔ کیسی دنیا ہے جہاں امریکہ اور روس پاکستان اور بھارت کو دھڑا دھڑ ہتھیار بھی فروخت کررہے ہیں اور جب ان کے درمیان ٹینشن ہوتی ہے تو پھر ان کو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خطے کے امن کا خیال رکھیں اور جنگ سے باز رہیں۔ طاقتور ملک جنگ روکنا نہیں چاہتے جنگ کروانا چاہتے ہیں۔ یہ خود بھی جنگیں کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی جنگ کرانے پر مجبور کرتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے عوام صدیوں سے امن اور محبت کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ رہتے رہے ہیں۔ لیکن اب محب وطنی کے نام پرایک دوسرے کے دشمن ہیں، یہ دشمنی محب وطنی کے نام پر چالاکی اور عیاری سے طاقتوروں نے ان کے درمیان پیدا کی ہے۔ طاقتوروں کی یہ اسٹریٹیجی ہے کہ پسماندہ ممالک ایک دوسرے سے لڑتے رہیں۔ ان کا اسلحہ خریدتے رہیں۔ سب مفادات کا کھیل ہے۔

گزشتہ 3000 ہزار سالوں میں 5000 ہزار سے زائد جنگیں لڑی گئیں، کروڑوں انسان ہلاک ہوگئے۔ ملکوں اور حکومتوں نے کیا کیا؟ انہوں نے عام انسانوں صرف عام انسانوں کے درمیان دشمنی پیدا کی۔ خوف کا استحصال کیا۔ اور اس طرح جنگیں کرائی گئیں اور کروڑوں انسان مروا دیے گئے؟ کیا دنیا ہے جہاں بھارت کو پاکستان سے اور پاکستان کو بھارت سے خوف ہے۔ روس کو امریکہ سے اور امریکہ کو روس سے خوف ہے۔ ہر ملک کو دوسرے ملک سے خوف ہے۔ اگر ایسا ہو رہا ہے جو کہ ہورہا ہے تو پھر ان ملکوں اور حکومتوں نے انسانیت کی کیا خدمت کی ہے؟ یہ ایک ظالمانہ اور جابرانہ گیم ہے۔ جو ہزاروں سال سے طاقتوروں نے شروع کر رکھی ہے۔ انسان ہر جگہ ایک جیسے ہیں۔ وہ جنگ میں قتل نہیں ہونا چاہتے، نہ ہی ایک دوسرے کو قتل نہیں کرنا چاہتے۔

پاکستان اور بھارت میں کروڑوں انسان غربت، قحط اور آلودگی سے مررہے ہیں، کیا کبھی امریکہ ان کی مدد کے لئے آیا۔ کیا غربت، بے روزگاری کے خاتمے کے لئے امریکہ یا یورپ وغیرہ نے پاکستان اور بھارت کی مدد کی۔ لیکن آج اگران کے درمیان جنگ ہوجائے تو امریکہ بھارت کے ساتھ کھڑا ہوگا، چین پاکستان کے ساتھ ہوگا؟ کیا اسے دوستی کہتے ہیں؟ سحرش احمد بولتے بولتے اچانک خاموش ہو گئی۔ موم بتیاں اچانک بجھ گئی۔ کمرے میں گہرا اندھیرا چھا گیا۔ اب تاریک اندھیرا تھا۔ ہم دونوں اندھیرے میں تحلیل ہو چکے تھے۔ ایسے محسوس ہوا رہا تھا جیسے تاریکی چھا گئی ہے۔ دروازے سے روشنی کی باریک سی جھلک دکھائی دی۔ ہم خاموشی اور خوف زدہ کیفیت سے وہاں سے اٹھے اور روشنی کی طرف چل دیے

Facebook Comments HS