مائیکروفکشن میں عقیل عباس کی ’دلہن‘۔
ڈی ایچ لارنس لکھتے ہیں ’کسی نئی آواز کو سننا مشکل ہے اتنا ہی مشکل جتناکہ کسی انجانی بولی کو سننا۔ کیونکہ دنیا ڈر کے مارے نئی آواز کو نہیں سنتی، کیونکہ دنیا اگر کسی بات سے ڈرتی ہے تو وہ ہے نیا تجربہ، اور اس کیوجہ یہ ہے کہ ایک نیا تجربہ بہت سے پرانے تجربات کو درہم برہم کر دیتا ہے‘۔
ادب ہمیشہ خالصتاً انسانی رویوں اور سماجی ناہمواریوں کی بنیاد پر تخلیق پاتا ہے۔ تہذیب اورابلاغیات کی ترقی نے لکھنے والوں کو متاثر کیا ہے۔ جب اس نے اپنے مخصوص اور محدوددائرے سے نکل کر عالمی ادب کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا توپھر نئی جہتوں کو بھی قبول کیا۔ اس کے لیے وہ دباؤ کا شکارنہیں ہوا۔ تبدیلی نا گریز ہے اور کامیاب تخلیق کار ہمیشہ زمانے کا نبض شناس ہوتا ہے۔ مگر لکھنے میں موضوعاتی تجربے بہت ضروری ہیں، منٹو اور عصمت چغتائی کی کامیابی کی ایک وجہ یہ بھی مانی جاتی ہے کہ انہوں نے گھٹن زدہ ماحول میں ایسے موضوعات کا انتخاب کیا جن پر بات کرنے پر بھی کفر اور فحاشی کے فتوے لگتے ہیں۔
انسانی ترقی نے وقت کو پر لگا دیے ہیں، آگے بڑھنے کی دور میں مصروف حضرت انسان جہاں نیچر سے دور ہوا وہیں مطالعے سے بھی پیچھے ہٹتا نظر آیا۔ کبھی پانچ سو سے ایک ہزار صفحات پر مشتمل کتابوں کا مطالعہ بوجھ نہیں تھا مگر ٹویٹر جنریشن نے لکھنے والوں کوبھی اپنی سوچ بدلنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ناول سے ناولٹ، افسانوں سے مختصر افسانے سامنے آئے اور اب مائیکرو فکشن۔ ناول اورافسانوں میں روسی، لاطینی اور انگریزی ادب کے علاوہ چینی اور جاپانی ادب بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے، عربی اور فارسی میں بھی کلاسیک تحریریں موجودہیں۔
بیسویں صدی میں اٹھنے والی مارڈن ازم کی تحریکوں نے معمولات زندگی کو کافی حد تک بدل کر رکھ دیا۔ علمی بنیاد پر بھی ادب میں کئی فنی تجربے ہوئے، جن کے اثرات کئی زبانوں کے ادب پر براہ راست مرتب ہوئے۔ ناول سے افسانے کی جگہ مختصر افسانے نے لی، اور پھر افسانچے سامنے آنے لگے۔ بیسویں صدی کے اوائل میں لاطینی امریکہ سے مائیکرو فکشن کا تجربہ کیا گیا جو انگریزی زبان سے براہ راست اردو زبان میں آیا اور بہت حد تک قبولیت حاصل کرنے میں کامیاب رہا، بے تحاشا تنقید کے باوجود۔
آپ اس ساری تبدیلی کو جو بھی نام دے دیں فکشن جو افسانے سے مختصر ہو کر وجود میں آیا اس کی توجیح یہی ہے کہ قلیل عرصے میں پڑھ کر وہی ذائقہ حاصل کرنا جو ناول یا افسانے سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ ادب سے لذت حاصل کرنے کا اندازہر قاری کا اپنا ہے۔ کوئی ناول کا قاری ہے تو کوئی افسانے یا مختصر افسانے کا، بس بات قاری کے موڈ کی ہے۔
مائیکرو فکشن کا ظہور لاطینی امریکہ میں بیسویں صدی کے اوائل میں ہوا جہاں سے یہ مغربی یورپ پہنچ گیا اور آخری دہائیوں میں شام اور عراق تک پہنچ چکا تھا، مراکش الجزائر اور تیونس میں اسے پذیرائی ملی۔ امریکیوں نے اسے فلیش فکشن کا نام دیا تو چاپانیوں نے اسے ہتھیلی سائز کی کہانی کہا۔ چین میں اسے منٹ لانگ، سموک لانگ یا سگریٹ نوشی ٹائم کہانی بھی کہا گیا۔ کچھ لکھاریوں نے اسے پوپ کہانی سمجھا۔ کبھی اسے مختصر ترین افسانہ یا مائیکروسٹوری کہا گیا۔ کہیں پورٹریٹ ادب کا نام دیا گیا تو کہیں ٹیلی گراف سٹوری کے نام سے پکارا گیا۔ مائیکرو فکشن مغرب کے کئی معروف لکھاریوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا جن میں ایمبروز بیئرس، والٹ وٹمین اور کیٹ چوپن سرفہرست ہیں۔
دوسری جانب عربی روایتی افسانہ بھی اس کی چھیڑچھاڑ سے محفوظ نہیں رہ سکا اور محمد ابراہیم بوعلو، احمد زیادے، احمدبوزفوز، محمد زفراف، حسن برطال نے عربی ادب میں اس کی راہیں ہموار کیں۔ تاہم عالمی ادب میں مختصر ترین ادب کی روایت سب سے زیادہ جاپان میں ملتی ہے۔
اردو ادب میں اس کی آمد ہوئی اور تجربات شروع ہو گئے۔ اہم ترین مسئلہ لفظوں کا تعین تھا کہ یہ مختصر ترین افسانہ، جسے کچھ لکھاریوں نے مائیکروف کا نام دیا، کتنے الفاظ پرمشتمل ہو کیونکہ مائیکروفکشن تین سو الفاظ سے تجاویز نہیں کر سکتا جبکہ فلیش فکشن تین سو الفاظ سے ایک ہزار الفاظ تک مشتمل ہوتا ہے۔ مائیکرو فکشن تین سو پانچ سو الفاظ تک ہونا چاہیے کئی ادبی گروپ اس حوالے سے بحت کرتے ہیں اور سوشل میڈیا فورم پر باقاعدہ مقابلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ جہاں لکھنے کے لیے کہیں تین سو الفاظ کی قید ملتی ہے تو ہیں کہیں یہ حد پانچ سو الفاظ مقرر ہے۔
مائیکرو فکشن اب نہ صرف تشکیل کے مراحل طے کر چکا ہے بلکہ اس کے خدو خال بھی کئی حد تک واضح ہو چکے ہیں بلکہ اس کی اپنی ادبی شناخت بھی قائم ہو چکی ہے۔ بنیادی طور پر میرا اپنا رجحان بھی مائیکرو فکشن کی طرف ہو چکا ہے۔ طویل نظمیں، کالمز، بلاگ اور مائیکروف لکھنا ہی اچھا لگتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے مائیکروفکشن کے حوالے سے ایک کتاب ’ دلہن اور دوسرے مائیکرو فکشن‘ میرے ہاتھ لگی، جو عقیل عباس کی لکھی ہوئی تھی۔ عقیل عباس بنیادی طور پر شاعر ہے تاہم جب فکشن کی طرف رجحان گیا تو اس نے اسے خود سے قریب پایا۔ جس کی وجہ اس کے بقول مائیکرومیں شاعری کی چاشنی موجود ہے اور اس کا ردھم مجھے متاثر کرتا ہے۔
دلہن میں عقیل نے موضوعاتی تجربات کیے ہیں اور بغیر کسی روک ٹوک کے مائیکروف کے لیے اپنے موضوع کا انتخاب کیا ہے۔ اس کے موضوع التجائیہ بھی ہیں، سوالیہ بھی جبکہ کئی نفسیاتی پہلوؤں کو بھی سوال کی صورت میں سامنے لاتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں۔ وہ تاریخ کے کچھ تاریک پنوں کو بھی جدید سوال کی صورت میں اٹھا تا ہے۔ وہ انسان اور خدا کے تعلق کوسمجھنے کا خواہاں ہے کہ آخر کیوں صاحب زر خدا کا محاسب بن کر اپنی جیسی مخلوق پر ظلم ڈھاتا ہے۔ اس نے مِتھ کا بھہ سہارا لیا ہے جو فکشن کی دنیا میں کا جزلانیفک ہے اور وہ خود کو اس سے الگ نہیں کر سکا۔ دلہن کے ایک اور انداز نے مجھے بہت متاثر کیا، وہ ہے مکالماتی افسانہ۔ مائیکروف میں یہ انداز مجھے ہمیشہ سے بھایا ہے
مائیکرو فکشن کی یہ پہلی بھر پور کتاب ہے جس میں پڑھ۔ نے والے کو افسانے کی بنیت، غزل کی نغمگی اورنظم کی چاشنی ملے گی۔ استدعا، سفرالی الخیر، مائیکرو فکشن، بے بصر، ایکٹریس کا شوہر، قوسین، دلہن، نظم، مارس پر موت، سیفو کے لیے، لز باس کی ملکہ، Longing، ماں اور لبیک۔ ایک سے بڑھ کر ایک۔ مائیکرو فکشن کا ایک واضح مطلب مختصر لفظوں میں بڑی بات کہہ دینا کہوں تو عقیل کے مائیکروف نے اس صدیوں پرانی بات کو سچ ثابت کر دیا، اس نے تبدیلی کے اس نئے جگنو سے روشنی لے کر اپنے قلم کو نئی راہوں کا امین بنا دیا ہے۔ شاہد آنے والے دنوں میں اس میں بھی تبدیلی آ جائے جیسا کہ بدھا نے کہا تھا
‘دنیا میں ہر چیز تبدیل ہو جائے گی سوائے تبدیلی کے‘۔


