زنداں کی قیدی عورتیں اور آٹھ مارچ سے رہائی

پاکستان خواتین کی جدو جہد کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، اپنے ایک چھوٹے سے حق کے لئے بھی اسے بہت ساری قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔ پھر کہیں جا کر کسی کو اس کا حق ملتا ہے تو کہیں اسے بری عورت کا لقب دے کرموت کی نیند سلا دیا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اچھی عورت، ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کا کوئی حق نہیں اور اچھی بہنیں بھی وہی ہیں جو بھائیوں کی محبت میں وارثت میں بھی حصہ طلب نہ کریں۔پاکستانی عورت کومذہب اور سماج کے نام پر ہر طرح کے ظلم کا سامنا ہے مگر وہ پھر بھی ڈٹی کھڑی ہے۔ جبکہ مذہب کسی کوبھی عورت کا حق مارنے کی اجازت نہیں دیتا مگر صد افسوس کہ اسے نشانہ مذہبی احکامات کی ملائیت زدہ تشریح کی بنیاد پر ہی کیا جاتا ہے۔ جس میں اہم ترین اسے تعلیم اور شعورسے دور رکھنا ہے۔ سوال یہ ہے آخر کب تک عورت کو جاہل رکھ کر اس کا استحصال کیا جائے گا اور اسے استعمال کیا جائے گا؟

Read more

شیطان، لڑکی، مہنگائی کی بلیک کافی اور پنجاب اسمبلی

عالمی فکشن میں جتنا مجھے پاؤلو کوئیلہو، ساتر، کافیکا اور البرٹ کامیو نے متاثر کیاہے اتنا کسی نے نہیں کیایا شاید مطالعہ ابھی انہی تک محدود ہے۔ خاص طورپر برازیل سے تعلق رکھنے والے کوئیلہو، جس کا الکیمسٹ اور الظاہر The Alchemist and The Pilgrimageجتنی بارپڑھا اتنا ہی لطف آیا۔ مگر گذشتہ دنوں پاؤلوکوئیلہو کا ایک اور ناول The Devil & The Miss Prym یعنی شیطان اور لڑکی بھی پڑھنے کا موقع ملا۔

انسانی فطرت میں شامل بدی اور اچھائی کے قدیم موضوع کا احاطہ کرتا ہوا یہ ناول اپنے کرافٹ کے حوالے سے نہ صرف کافی منفرد ہے بلکہ سوچ کے کئی در بھی وا کرتا ہے۔ جسے سمجھنے کے لیے قاری کوبھی اپنے دائرے سے باہر آنا پڑتا ہے۔

Read more

جنسی خواہشات کی عدم تکمیل اور دم توڑتی ممتا

لیپ ٹاپ آن کیا اور ان پیج کھول کرکالم لکھنے بیٹھ گئی۔ کئی لفظ لکھے، بے ربط جملے بنائے مگر کیا لکھوں، یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ جنگ، پاک بھارت کشیدگی، اور اس کے بھیانک اثرات کیا ہوسکتے ہیں، اس کا شعور سب کو ہے۔ ایک کڑوا سچ ہے کہ جو جنگ نہیں لڑتے و ہ اس کا جشن مناتے ہیں اور جو جنگ لڑتے ہیں، وہ اس کا جشن نہیں منا سکتے۔ دونوں ممالک کے انتہا پسندوں کو خبر کروکہ جنگ کی صورت میں صرف بیوگی اور یتیمی جنم لیتی ہے، اور ہمیں بیواؤں اور یتیموں کا بر عظیم نہیں چاہیے۔ جنگ کا اختتام بھی جب میز پر ہی ہونا ہے تو کیوں نہ آغاز پر ہی یہ ٹیبل سجا لی جائے تاکہ نقصان نہ ہو۔مسلسل انتہا پسندی دیکھ دیکھ کر سوچیں منتشر تھیں اس لیے جو لکھا ڈیلیٹ کر دیا۔ دن میں کئی بار یہ حرکت کی، آخر کالم لکھنے کا خیال ہی دل سے نکال دیا۔ دوپہر کے قریب اخبار پڑھنے بیٹھی۔ آخری صفحے پر ایک چھوٹی سی خبر نے ناصرف توجہ اپنی طرف مبذول کرالی، بلکہ کالم کے لیے موضوع مل گیاشاید۔ ایسی خبریں تسلسل سے اخبارات اور ٹی وی چینلز کاحصہ بن رہی ہیں، جن میں مائیں اپنی ہی اولاد کوقتل کر رہی ہیں جوکہ انتہائی شرمناک ہے۔

Read more

خواتین، انسانی رویے اور پیشہ ورانہ ذمہ داریاں

اس امر میں کوئی دو رائے نہیں کہ انسان کے اچھے یا برے رویے اس کے ارد گرد رہنے والے افراد پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ تاہم خواتین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اکثر و بیشتر وہ اپنے جذبات چھپانے کے معاملے میں مردوں کے مقابلے میں زیادہ کامیاب رہتی ہے خاص طور پر اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں۔ میری ذاتی رائے اور تجربے کے مطابق انسان کو گھر اور آفس سے نکلتے ہوئے اپنے گھریلو اور ورکنگ مسائل اپنی اپنی جگہوں پر چھوڑ کر آنا چاہیے ورنہ دونوں طرف کی زندگی متاثر ہوتی ہے۔ خاص طور پر اپنے ورکنگ مقام پر انسان کو نہ صرف برداشت بلکہ خوش اخلاقی کا لبادہ ضرور اوڑھناچاہیے تاکہ کوئی بھی آپ کی کسی بھی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرے۔

Read more

شادی میں تاخیر، ادھورے جذبوں کے پورے روگ

پاکستان کا سماجی ڈھانچہ جن بنیادوں پر کھڑا نظر آتاہے وہ نہ توریاستی مذہب اسلام کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے اور نہ ہی اس خطے برصغیر کے قدیم مذہب ہندوازم سے پاک ہو سکا ہے۔ ملکی اکثریت یعنی 97 فیصد کلمہ گو مسلمانوں پر مشتمل ہے مگر مذہبی احکامات میں سے صرف ان پر عمل کرتی ہوئی نظر آتی ہے جو انہیں پسند ہیں۔ ہم پورے کے پورے دین میں شامل نہیں ہیں۔ ہم پرآدھے تیتر، آدھے بیٹر والی مثال صادق آتی ہے، یہی وجہ ہے ہم اور ہمارا سماجی ڈھانچہ خسارے کاشکار ہے۔

قرآن مجید فرقان حمید میں سورہ العصر ایک چھوٹی سی سورۃ ہے مگر اپنے مفہوم اور پیغام کے حوالے سے آفاقی اہمیت کی حامل ہے۔ سورہ العصر کا مفہوم ہے کہ ”اللہ عصر کے وقت کی قسم اٹھا کر کہتے ہیں کہ بے شک انسان خسارے میں ہے، ماسوائے جو لوگ ایمان لائے، نیک اعمال کیے، حق کی دعوت دی، صبر کیا اور صبر کی تلقین کی“۔ یہ سورت مبارکہ معاشرتی، سماجی سمیت زندگی کے ہر شعبے میں ایک مثالی انسان بننے کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے۔

Read more

بچوں کے خلاف جنسی جرائم

وطن عزیز میں گذشتہ کچھ برسوں سے معصوم بچے بچیوں کے خلاف جنسی جرائم میں اضافہ کی جو لہر اٹھی ہے اور جو حقائق سامنے آئیں ہیں بلاشبہ وہ ہماری سماجی تربیت کے منہ پر ایسا طمانچہ ہے جس کی گونج شاید ہم ابھی تک سمجھ نہیں پا رہے۔ اس لیے ہر گزرتے دن کے…

Read more

موبائل فونز کے ذریعے خواتین کو ہراساں کرنے کا سلسلہ

نادیہ کا تعلق خیبر پختوا کے شہر کوہاٹ سے ہے اورو ہ ایک مقامی سکول میں ملازمت کر کے اپنے والدین کی مالی معاونت کرتی ہے۔ تعلیم یافتہ اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق رکھنے والی یہ لڑکی ایک کھلی دہشتگردی کا شکار ہوئی۔ اُسکی والدہ کا موبائل فون بازار جاتے ہوئے چھین لیا گیا جو اتفاق سے ایسے بد قماش کے ہاتھ لگا جس کا کام ہی لڑکیوں کو تنگ کرنا تھا۔ اس نے موبائل میں موجود تمام خواتین کے نمبرز پر کال کی اور ان کو دوستی کے لئے مجبور کیا۔ دوسری جانب اس نے سم کارڈ کی ساری معلومات حاصل کر کے نادیہ کی زندگی عذاب کرنا شروع کر دی۔

Read more

مارننگ شوز، ادب اور مکالمے کی روایت

گذشتہ کچھ ماہ سے طبیعت کی خرابی اور ذاتی مسائل کی وجہ سے گھر سے ہی اشاعتی اداروں اور پروڈکشن ہاؤس کے ساتھ کام کا سلسلہ جاری ہے۔ اس لیے صبح ناشتے میں ٹی وی یاترا جاری رہتی ہے ورنہ پہلے ناشتے میں اخبار لازمی ہوتا تھا وہ اب نیٹ پر مل جاتاہے اس لیے ٹی وی پر ڈھائے جانے والے ستم سہنے پڑتے ہیں مگر خبریں نہیں، صبح صبح کچھ ہٹ کر چاہیے۔ اگر مزاج کے مطابق مل جائے تو کیا کہنے مگر شاید ایسا ممکن نہیں۔

کافی عرصے سے اس موضوع پر لکھنا چاہ رہی تھی، اسی لیے ایک مکمل تحریر لکھنے کے لیے گذشتہ کئی دنوں سے انتہائی فضول قسم کے مارننگ شوزدیکھنے پڑے، جس نے ذہنی اور روحانی کوفت میں بلاکا اضافہ کر دیا، کچھ شوز یوٹیوب پر دیکھے۔ جس کے بعد یہ کہنا پڑ رہا ہے یہ مارننگ شوز ہماری خواتین کوسماجی، معاشی تباہی اور فکری بانجھ پن کی جس سطح پر لے کر جا رہے ہیں، وہ انتہائی تشویشناک ہے۔ جس پر قلم نہ اٹھانا شاید ایک قومی جرم ہو گا۔

Read more

مرد بنیں، درندے نہیں

ہمارے معاشرے میں مرد کی تعریف بڑی عجیب ہے، یعنی بچے پیدا کرنے والا، گالی دے کر بات کرنے والا، عورت کی چیڑپھاڑ کرنے والامرد ہی اصلی مرد ہے، اور وہ جو عورت کی عزت کرتے ہیں، انہیں تحفظ فراہم کرتے ہیں، انہیں کمزور مرد سمجھا جاتا ہے۔ اگردیکھاجائے تو مرد کا اولین فرض عورت کو تحفظ فراہم کرنا ہی ہے۔ اس لیے اسے باپ، بھائی، بیٹا اور شوہر کا روپ دے کر اس کاکردار واضح کیا گیا ہے۔ جو مرد ان رشتوں میں بہتر ہیں وہ اپنی ساری خامیوں، اور معاشی کمزوریوں سمیت مضبوط کردار کے حامل مرد ہیں مگر وہ جو اپنی برتری کے زعم میں عورت کا تماشا بناتے ہیں، وہی اصل میں ”مردانہ کمزوری کا شکار خصی مرد“ ہیں اور معاشرے کا ناسور بھی۔

Read more

لکھاری یا روگی بنانے والے گھناؤنے کردار

میں لفظوں میں زندہ رہتی ہوں، لفظ پہننا اور اوڑھنا اچھا لگتا ہے۔ یہ جو اخبار ہیں نہ، یہ میرے ہر درد کی دوا ہیں، سر کے نیچے رکھتی ہوں توسردرد ختم ہو جاتی، کمر کے نیچے رکھ لوں تو سکون ملتا ہے۔ انہیں نہیں پتہ کہ یہ لفظ میرے لیے کیا ہے۔ روبینہ پروین شکوہ کناں نظروں سے فرح ہاشمی، ڈاکٹر ثمینہ اور میری طرف دیکھ کر کہہ رہی تھی۔ وہ بول رہی تھی اور میری آنکھیں سے آنسو مسلسل رواں تھے۔

وہ چوبرجی چوک میں ایک جھگی میں رہنے لگی تھی، ذہنی توازن بگڑ گیا تھا۔ کوئی کب تک سہہ سکتا ہے، آخر تھک جاتا ہے۔ وہ بھی تھک گئی مسلسل ظلم سہہ سہہ کر۔ نکل آئی گھر کی چاردیواری سے ننگے سر اور برہنہ پا۔ کسی نے موسم کی شدت سے بچانے کے لیے جہاں سوئی ہوئی تھی، وہاں چادر ٹانک دی، جو دیکھتے دیکھتے جھگی بن گئی۔ اردگرد دکاندار اچھے تھے۔ اس کے کھانے پینے کا خیال رکھنے لگے، بیمارہوتی تو دوا لا دیتے، یوں وہ اس جگہ کا حصہ بن گئی۔ وہ کون تھی، کہاں سے آئی تھی، کوئی نہیں جانتا تھا۔

Read more
––>