شادی کے اٹھارہ دن بعد ہی اسے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنا پڑا۔ جس سے وہ پیچھے نہیں ہٹی۔ اس کے مطالبے کو پورا ہونے میں دو ماہ لگے۔ زندگی کا سب سے زیادہ خوب صورت رشتہ اس نے اپنی ذات کی تمام سچائیوں کے ساتھ قبول کیا تھا، مگر یہ تعلق جب اپنی تمام تر بد صورتیوں کے ساتھ اس کے سامنے آیا، تو اس نے فیصلہ لینے میں دیر نہیں کی۔ اسے اس بات کا بھی ادراک ہو گیا تھا کہ آج نہیں تو کل، یہ رشتہ ختم ہونا ہی ہے، تو پھر کسی بچے کے بغیر الگ ہونا زیادہ بہتر ہے۔
اس شخص میں وہ تمام برائیاں بدرجہ اتم موجود تھیں، جو کسی بھی نارمل انسان کو ابنارمل بنانے کے لیے کافی تھیں۔ اوپر سے اس مرد کا ہم جنس پرست ہونا الگ عذاب تھا، دنیا کو تو وہ جیسے تیسے جھیل ہی لے گی، مگر عادات بد کے شکار مرد کے ساتھ گزارا کرنا، اس کے لیے بہت مشکل تھا۔ اس نے بڑی صاف ستھری زندگی گزاری تھی۔ اس کے والد، بھائی، مامے چاچے اور خاندان کے دیگر مرد بھی با کردار تھے۔ اسی لیے اس شخص کا جو کردار سامنے آیا، وہ اسے کسی بھی طرح قبول نہیں کر پائی۔
Read more