بے مکانی کے طمانچے اور سیاسی پرائم ٹائم

لاہور جیسے شہر میں سفر کرتے ہوئے ایک بات خاص طور پر نوٹ کی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ گرمی ہو یا سردی آپ کو میٹرو بس سروس کے روٹ کے نیچے کئی افراد شور و غل سے بے نیاز سوئے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان میں نشئی بھی ہو سکتے ہیں۔ بھٹکے…

Read more

بیانات کا سلاد، اعلانات کی سوکھی روٹیاں

دارالامان کاشانہ لاہور میں یتیم لڑکیوں کے ساتھ کیے جانے والے مبینہ سلوک کا بھیانک سکینڈل سامنے آیا ہے۔ ہر گزرتا دن میری دھرتی کے اجالوں کو نگلتا جا رہا ہے۔ ریاست کا کردار ہر دوسرے معاملے میں دوغلے پن کا شکار ہے جس سے سب سے زیادہ متاثر محروم طبقات ہو رہے ہیں۔ وہ…

Read more

تہذیبی زبوں حالی اور ہمارے بچے

ہر تباہ حال تہذیب جہالت اور وحشت کے قد آور درخت کا پھل ہوتی ہے جو اس کے تنے سے بہت دور جا کر گرتی ہے۔ سماج میں جب نیکی اور پاک دامنی برائی، دولت اور جرم کے سامنے سر تسلیم خم کر لے تو یقین کر لیجیے کہ وہ معاشرہ اخلاقی گراوٹ اور اقتصادی…

Read more

تازہ دھرنے میں مذہبی کارڈ کا استعمال

جے یو آئی کا لانگ مارچ حکومت کی ناکام کارکردگی کے حوالے سے تھا مگر اسلام آباد پہنچ کر وہاں کی جانے والی تقاریر میں اسے مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جس سے ملکی فضا میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ ستر 72 برسوں میں ہم نے ایک ہی کام…

Read more

پاکستانی خواتین میں نفسیاتی مسائل کی سنگین صورت حال

دنیا بھر میں نفسیاتی عوارض اور مسائل میں جو ممالک زیادہ آگے ہیں، اُن میں چین پہلے نمبر پر، بھارت دوسرے نمبر پر، امریکہ تیسرے نمبر پر، برازیل چوتھے نمبر پر، روس پانچویں نمبر پر، انڈونیشیاء چھٹے نمبر پر، پاکستان ساتھویں نمبر پر، نائیجریا آٹھویں نمبر پر، بنگلہ دیش نویں نمبر پر اور میکسیکو دسویں…

Read more

بچوں کے معاملے میں ہماری بنیادی لاپرواہی

پاکستان کے نونہال اپنے ہی معاشرے میں اپنوں ہی کے درمیان غیر محفوظ زندگی گزار رہے ہیں۔ بچوں کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ساحل کی جانب سے بچوں پر ہونے والے جنسی تشدد کی رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ جس کے مطابق پاکستان میں سال 2019 کے دوران اب تک تیرہ سو چار بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ جنسی تشدد کا نشانہ بننے والوں میں سات سو انتیس بچیاں جبکہ پانچ سو 75 بچے شامل ہیں۔ اس حساب سے رواں برس روزانہ 7 سے زائد بچے جنسی تشدد کا شکار ہوئے۔ اسی طرح کم عمری میں شادی کے چالیس واقعات پیش آئے جبکہ ایک بچی کو ونی بھی کیا گیا۔ ۔ 12 بچوں اور بچیوں کو مدرسے میں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

Read more

زنداں کی قیدی عورتیں اور آٹھ مارچ سے رہائی

پاکستان خواتین کی جدو جہد کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، اپنے ایک چھوٹے سے حق کے لئے بھی اسے بہت ساری قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔ پھر کہیں جا کر کسی کو اس کا حق ملتا ہے تو کہیں اسے بری عورت کا لقب دے کرموت کی نیند سلا دیا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اچھی عورت، ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کا کوئی حق نہیں اور اچھی بہنیں بھی وہی ہیں جو بھائیوں کی محبت میں وارثت میں بھی حصہ طلب نہ کریں۔پاکستانی عورت کومذہب اور سماج کے نام پر ہر طرح کے ظلم کا سامنا ہے مگر وہ پھر بھی ڈٹی کھڑی ہے۔ جبکہ مذہب کسی کوبھی عورت کا حق مارنے کی اجازت نہیں دیتا مگر صد افسوس کہ اسے نشانہ مذہبی احکامات کی ملائیت زدہ تشریح کی بنیاد پر ہی کیا جاتا ہے۔ جس میں اہم ترین اسے تعلیم اور شعورسے دور رکھنا ہے۔ سوال یہ ہے آخر کب تک عورت کو جاہل رکھ کر اس کا استحصال کیا جائے گا اور اسے استعمال کیا جائے گا؟

Read more

شیطان، لڑکی، مہنگائی کی بلیک کافی اور پنجاب اسمبلی

عالمی فکشن میں جتنا مجھے پاؤلو کوئیلہو، ساتر، کافیکا اور البرٹ کامیو نے متاثر کیاہے اتنا کسی نے نہیں کیایا شاید مطالعہ ابھی انہی تک محدود ہے۔ خاص طورپر برازیل سے تعلق رکھنے والے کوئیلہو، جس کا الکیمسٹ اور الظاہر The Alchemist and The Pilgrimageجتنی بارپڑھا اتنا ہی لطف آیا۔ مگر گذشتہ دنوں پاؤلوکوئیلہو کا ایک اور ناول The Devil & The Miss Prym یعنی شیطان اور لڑکی بھی پڑھنے کا موقع ملا۔

انسانی فطرت میں شامل بدی اور اچھائی کے قدیم موضوع کا احاطہ کرتا ہوا یہ ناول اپنے کرافٹ کے حوالے سے نہ صرف کافی منفرد ہے بلکہ سوچ کے کئی در بھی وا کرتا ہے۔ جسے سمجھنے کے لیے قاری کوبھی اپنے دائرے سے باہر آنا پڑتا ہے۔

Read more

جنسی خواہشات کی عدم تکمیل اور دم توڑتی ممتا

لیپ ٹاپ آن کیا اور ان پیج کھول کرکالم لکھنے بیٹھ گئی۔ کئی لفظ لکھے، بے ربط جملے بنائے مگر کیا لکھوں، یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ جنگ، پاک بھارت کشیدگی، اور اس کے بھیانک اثرات کیا ہوسکتے ہیں، اس کا شعور سب کو ہے۔ ایک کڑوا سچ ہے کہ جو جنگ نہیں لڑتے و ہ اس کا جشن مناتے ہیں اور جو جنگ لڑتے ہیں، وہ اس کا جشن نہیں منا سکتے۔ دونوں ممالک کے انتہا پسندوں کو خبر کروکہ جنگ کی صورت میں صرف بیوگی اور یتیمی جنم لیتی ہے، اور ہمیں بیواؤں اور یتیموں کا بر عظیم نہیں چاہیے۔ جنگ کا اختتام بھی جب میز پر ہی ہونا ہے تو کیوں نہ آغاز پر ہی یہ ٹیبل سجا لی جائے تاکہ نقصان نہ ہو۔مسلسل انتہا پسندی دیکھ دیکھ کر سوچیں منتشر تھیں اس لیے جو لکھا ڈیلیٹ کر دیا۔ دن میں کئی بار یہ حرکت کی، آخر کالم لکھنے کا خیال ہی دل سے نکال دیا۔ دوپہر کے قریب اخبار پڑھنے بیٹھی۔ آخری صفحے پر ایک چھوٹی سی خبر نے ناصرف توجہ اپنی طرف مبذول کرالی، بلکہ کالم کے لیے موضوع مل گیاشاید۔ ایسی خبریں تسلسل سے اخبارات اور ٹی وی چینلز کاحصہ بن رہی ہیں، جن میں مائیں اپنی ہی اولاد کوقتل کر رہی ہیں جوکہ انتہائی شرمناک ہے۔

Read more

خواتین، انسانی رویے اور پیشہ ورانہ ذمہ داریاں

اس امر میں کوئی دو رائے نہیں کہ انسان کے اچھے یا برے رویے اس کے ارد گرد رہنے والے افراد پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ تاہم خواتین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اکثر و بیشتر وہ اپنے جذبات چھپانے کے معاملے میں مردوں کے مقابلے میں زیادہ کامیاب رہتی ہے خاص طور پر اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں۔ میری ذاتی رائے اور تجربے کے مطابق انسان کو گھر اور آفس سے نکلتے ہوئے اپنے گھریلو اور ورکنگ مسائل اپنی اپنی جگہوں پر چھوڑ کر آنا چاہیے ورنہ دونوں طرف کی زندگی متاثر ہوتی ہے۔ خاص طور پر اپنے ورکنگ مقام پر انسان کو نہ صرف برداشت بلکہ خوش اخلاقی کا لبادہ ضرور اوڑھناچاہیے تاکہ کوئی بھی آپ کی کسی بھی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرے۔

Read more