افسانہ:کفن کی ادائیگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

“بابامجھے فوراً پانچ ہزار روپے چاہئیں، میں آج سکھر جاؤں جا رہا ہوں۔ سلمان تحکمانہ انداز میں اپنے والد کو مخاطب کرتے ہوئے گویا ہوا، میرے دوست علی زمان کی شادی ہے کپڑے لوں گا اور کرایہ بھاڑہ کرنا ہے۔ یہ سن کر رحیم چاچا (اس کے باپ) نے کہا کہ بیٹا اتنی بڑی رقم تو میرے پاس نہیں ہے۔ تمھیں پتہ تو ہے تمھارا لاغر اور ضعیف باپ گورکن کا کام کرکے لوگوں کی قبریں کھود کر روز کے جو پیسے لاتا ہے اس سے گھر کا خرچ چلتا ہے۔

سلمان کا باپ ایک قبرستان میں کھدائی کا کام کرتا تھا ان کا بیٹا سلمان ماں کے لاڈ پیار کی وجہ سے اس قدر عیاش اور بگڑ گیا تھا۔ اس کی ماں کی وفات کے بعد اس کے باپ نے سنبھالنا چاہا تو مزید بگڑتا گیا۔ گلے محلے کے لڑکوں کے ساتھ بیٹھنا، بھتہ خوری، چوری چکاری اور محلے کی لڑکیوں کو چھیڑنا روز کا معمول بن گیا تھا یہاں تک کہ اب وہ نشہ بھی کرنے لگا تھا۔ اسے اپنی بہن تک کی پرواہ نہیں تھی کہ وہ جوان ہو رہی ہے اور اس کے لئے اچھے گھرانے کا لڑکا دیکھے اور محنت مزدوری کرکے اس کی شادی کے لئے رقم اکھٹی کرے۔

باپ (رحیم چاچا) اپنی زندگی کے آخری ایام گزار رہاتھا وہ دمہ اور شوگر کا مریض بوڑھا صبح کو نکل جاتا اور شام سورج کے ڈھلنے پر قدموں کو گھر کی سمت گھسیٹتا۔ رحیم بابا کی بیٹی اور سلمان کی بہن نور فاطمہ غریبی کی چادر میں ڈھکی حیاء کی پیکر وہ لڑکی محلے والوں کی سلائی کڑھائی کر کے اپنے باپ کا خانہ داری میں ہاتھ بٹاتی۔ اور کچھ پیسے بچاکر رکھتی کہ شادی میں کام آئیں گے۔ اس نے چاہا کیوں نہ ان پیسوں میں سے کچھ پیسے سلمان کو دے دے۔

بیچارہ دوست کی شادی میں جارہا ہے اسے ضرورت پڑ ے گی تقریبا ً 15ہزار روپے کی رقم اس کی کئی مہینوں کی محنت کی کمائی بھائی باپ کو بتائے بغیر چھپا کر جمع کی تھی۔ لہذا پیسے نکالنے کے لئے صندوق کی جانب بڑھی ابھی وہ صندوق کا تالا کھول ہی رہی تھی کہ باہر دروازے پر دستک ہوئی۔ نور فاطمہ نے اندر سے کہا کون؟ آواز آئی پولیس! پولیس کا نام سن کر چونک گئی جلدی میں دروازہ کھول دیا۔ پولیس والے اندر داخل ہوئے اور کہا کہاں ہے تمھارا ڈکیت بھائی۔

نور فاطمہ یہ سُن کر کہتی ہے کیوں کیا ہوا صاحب؟ اس کے خلاف چوری کا اور لڑکیوں کو چھیڑنے کا مقدمہ درج کرایا گیا ہے۔ تمھارے ایک پڑوسی نے شکایت درج کرائی ہے کہ وہ ان کی لڑکی کو کالج جاتے ہوئے چھیڑتا ہے اور گلی محلے کے لڑکوں کے ساتھ مل کر ان کا تعاقب کرتا ہے۔ اب اس کے خلاف ایف آئی آر ہی ہوگی تم جیل میں ہی ملنا اب اپنے لاڈلے بھائی کو، یہ کہہ کر صوبے دار نے کہا بتاؤ کہاں ہے تمھارا بھائی؟ اتنے میں سلمان باہر سے جیسے ہی اندر داخل ہوا پولیس والوں نے اس پر ایسے جھپٹا مارا جیسے بلی چوہے پر مارتی ہے اور سلمان کو مارتے ہوئے پکڑ کر لے گئے۔

کسی نے رحیم چاچا کو قبرستان میں جاکر سلمان کی گرفتاری کی اطلاع دی تو وہ بوڑھا باپ بیچارہ ایک قبر کی کھدائی میں لگا تھا وہ چھوڑ چھاڑ کر ابھی جانے ہی لگا تھا کہ انہیں سلمان کے ایک دوسرے دوست نے بتایا کہ سلمان کے خلاف ایف آئی آر کٹ چکی ہے اور اسے اب جیل ہو جائے گی۔ اس پر چوری اور لڑکیوں کو ہراساں کرنے کا مقدمہ لگا ہے۔ لاغر اور غموں سے چور محنت کش ضعیف کو یہ سن کر دھچکا لگا اور بے ہوش ہوگیا۔ رحیم بابا کو اسپتال لے جایا گیا اور ساتھ ہی بیٹی کو بھی خبر کردی گئی۔ ایک طرف اس کا بھائی جیل میں جانے کے لئے لے جایا جا رہا تھا تو دوسری طرف باپ اسپتال میں پڑا تھا۔ وہ روتی ہوئی اسپتال پہنچی اور ڈاکٹر سے اپنے بابا کی طبیعت کا پوچھا۔

ڈاکٹر نے کہا بی بی تمھارے ابو کو دل کا دورہ پڑا ہے وہ آئی سی یو میں ہیں ان کے علاج کے لئے رقم جمع کراؤ، تو نور فاطمہ نے کہا ڈاکٹر صاحب آپ علاج شروع کریں میں پیسے لے کر آتی ہوں وہ بھاگی بھاگی اسپتال سے نکلی بس میں بیٹھی اور گھر کی جانب روانہ ہوئی ابھی گھر کا دروازہ کھولنے کے لئے چابی پرس سے نکال ہی رہی تھی کہ گھر کا داخلی دروازہ کھلا پایا۔ وہ اندر داخل ہوئی اور جو منظر دیکھا اس کی روح جیسے پرواز کرگئی ہو وہ ستہ میں آگئی اس نے مہینوں و سالوں محنت کرکے جو پیسے جمع کیے تھے وہ چوری ہوچکے تھے۔ کافی دیر تک اس پر سکتہ طاری رہا اس لڑ کی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے؟ بمشکل اس نے اپنے ڈھیلے، بے جان اور لرزتے جسم کو سنبھالا اور سوچا پڑوسیوں سے مدد طلب کروں شاید کوئی مدد کردے۔

اس نے برابر والی آنٹی کے دروازے پر دستک دی باجی ہمارے گھر چوری ہوگئی ہے۔ آپ کو کچھ علم ہے کہ کون داخل ہوا ہمارے گھر میں، بس یہ سننا تھا کہ وہ عورت جسے انگاروں سے اٹھ کر آئی اور کہنے لگی۔ ہمیں کیا پتہ تمھارے گھر کون آیا؟ کون گیا؟ تمھارا بھائی تو خود چور ہے، کہیں وہی تو چُرا کر نہیں لے گیا یہ سُن کر نور فاطمہ بولی نہیں نہیں باجی میرا بھائی تھانے میں ہے اور اس پر چوری کا الزام ہے۔ ارے کتنی بے شرم لڑکی ہو تم سارا محلہ جانتا ہے کہ تمھارا بھائی چوری کرتا ہے۔ بھتہ خوری، لڑکیوں کو چھیڑنا یہ سب مشغلے ہیں اس کے جاؤ یہاں سے آج کے بعد قدم مت رکھنا میری دہلیز پر۔ آئیں بڑی کہ پیسے دے دو۔

وہ لڑکی روتی ہوئی وہاں سے چلی اور کونے پر بنی قاسم بھائی کی کریانے کی دکان پر رک گئی اور قاسم بھائی سے کہا کہ:
قاسم بھائی ابا کو دل کا دورہ پڑا ہے آپ میری کچھ مدد کر دیں قاسم بھائی نے یہ سن کر کہا فاطمہ مجھے پتہ ہے مگرآج کل میرا کاروبار بھی صحیح نہیں چل رہا اوپر سے تم لوگوں پرمیرے راشن کے پیسے بھی ادھار ہیں۔ یہ سُن کر وہ اچھا چاچا کہتی ہوئی وہاں سے چل دی اور مایوسی کے عالم میں سوچوں میں غُم جارہی تھی کہ اب کیا کرے گی باپ اسپتال میں ہے اور بھائی جیل منتقل کردیا گیا ہوگا؟ وہ ان ہی خیالوں میں غرق تھی اور راستہ اسپتال سے چند قدم کا رہ گیا تھا کہ اس کے ماموں زاد بھائی نے اسے بتایا کہ چاچا رحیم اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ یہ سننا تھاکہ وہ لڑکی بدحواس اسپتال کی جانب بھاگی اور مسلسل بولتی جارہی تھی کہ ابا نہیں مر سکتے، وہ میرے جینے کا سہارا ہیں، انہیں میری اور سلمان بھائی کی شادی دیکھنی ہے یہ دہراتی ہوئی جب آئی سی یو میں داخل ہوئی تو اس کے بابا کا لاشہ پڑا دیکھا۔

وہ ضعیف اور مصائب کا مارا بوڑھا بے یارومددگار اور روپیہ پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے خالق حقیقی سے جا ملا۔ وہ باپ کی میت دیکھ کر بین کرنا شروع کردیتی ہے اور مکمل ٹوٹ جاتی ہے۔ اس کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے کہ باپ کی میت کو اسپتال سے گھر لے کرجائے خدا کا کرنا ایک ڈاکٹر مسیحا بن کر آتا ہے۔ اور کہتا ہے کہ یہ لو 10ہزار روپے اپنے بابا کے کفن دفن کے لئے رکھ لوتو وہ لڑکی روتی ہوئی کہتی ہے کہ اب ان کاغذوں کا میں کیا کرو۔ جب میرا باپ زندہ تھا کسی نے میری مدد نہ کی اس نے وہ پیسے لینے سے انکار کردیا۔

بات یہ تھی کہ وہ ڈاکٹر ان کے محلے کا تھا اور رحیم چاچا کی شرافت، حسن اخلاق، خودداری کا دلدادہ تھا اس ڈاکٹر نے کہا تمھارا باپ مجھے جانتا تھا اور وہ میرے استاد ہونے کے ساتھ ساتھ باپ بھی تھے کیوں کہ وہ ان پڑھ اور غریب ہونے کے باوجود کسی رئیس، حاتم طائی اور درویش سے کم نہ تھے ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ یہ کہہ کر ڈاکٹر نے کہا لو بیٹا یہ لے لو اس لڑکی نے وہ رقم لے لی۔ اور ساتھ ہی اسپتال کے باہر کھڑی ایمبولینس کے ڈرائیور کواس ڈاکٹر نے تاکید کی کہ اس لڑکی کے ساتھ اس کے باپ کی میت ہے۔ اسے گھر تک چھوڑ آؤ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •