ہیما مالینی اور دھرمیندر کو ملانے والا

مدن موہلا کے والد جے گوپال موہلا اور اداکار منوج کمار کے والد پنڈت ہربنس لال گوسوامی آپس میں اچھے دوست تھے؛ گوسوامی جی کا تعلق ایبٹ آباد سے تھا اور وہ اُردو فارسی کے شاعر تھے، انھیں علامہ اقبال نے خضر کا تخلص عطا کیا تھا۔ اس دور میں منوج کمار محب وطنی پر بنی فلموں کے لیے پہچانے جاتے تھے، اس لیے انھیں جلد کام نہیں ملتا تھا؛ وہ فارغ تھے ان کے پاس اگلی فلم نہیں تھی، اس لیے گوسوامی جی نے اپنے بیٹے کی سفارش اپنے دوست جے گوپال سے کرائی کہ اپنے بیٹے سے کہو، کہ وہ میرے بیٹے کو لے کر ایک فلم بنائے۔ مدن موہن کمرشل فلمیں بنایا کرتے تھے اس لیے انھوں نے منوج کمار سے کہا میرے پاس اگلی فلم کی کہانی تو موجود ہے، پر اس میں کردار ایک غنڈے کا ہے اور اپ کی شناخت فلموں میں ایک ایمان دار شہری کی رہی ہے۔ آگے سے منوج کمار بولے غنڈے کا کردار بھی چلے گا، اور یوں مدن موہلا نے اپنی اگلی فلم "دس نمبری” میں منوج کمار اور ہیما مالینی کو لیا اور اس فلم کی ڈائریکشن بھی انھوں نے خود دی۔ یہ فلم 1976 میں ریلیز ہوئی اور خوب چلی۔ اس فلم میں مکیش کی آواز میں یہ گیت "دنیا ایک نمبری تو میں دس نمبری” بہت مشہور رہا؛ یہ گیت مجروح سلطان پوری نے لکھا تھا۔
ہندی فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے ماضی کے معروف فلم پروڈیوسر مدن موہلا حال ہی میں انتقال کر گئے۔ مدن موہلا کا جنم تقسیم سے قبل 30 ستمبر 1936 کو چنیوٹ پنجاب میں ہوا تھا۔ ان کے والد جے گوپال موہلا چنیوٹ میں کراکری کا کاروبار کیا کرتے تھے؛ کالج کے زمانے میں جے گوپال موہلا کی دوستی لاہور میں پرتھوی راج کپور سے ہو گئی؛ پرتھوی راج چوں کہ اس وقت فلموں میں کام کرنے لگے تھے، اس لیے وہ اکثر جے گوپال موہلا کو کہا کرتے تھے، کہ میں تمھیں فلموں میں لے کر آنا چاہتا ہوں، تم پروڈیوسر بن جاو، اور میں ایکٹر بن جایا کروں گا اور خود کی اپنی فلم بنایا کریں گے۔ یوں ایک دن جے گوپال موہلا نے پرتھوی راج کپور کی مان کر نیو سوشل تھیٹر کے نام سے ایک پروڈکشن ہاوس کھول لیا اور 1937 میں پرتھوی راج کپور کو لے کر اپنی پہلی فلم "ودیا پتی” بنائی۔
مدن موہلا اور دھرمیندر
تقسیم کے بعد جے گوپال موہلا اپنے خاندان کو لے کر بمبئی (حال ممبئی) آئے اور دیو لالی کے علاقے میں رہنے لگے جہاں دلیپ کمار بھی پشاور سے اکر اپنے خاندان کے ساتھ رہ رہے تھے۔ تقسیم کے بعد جے گوپال موہلا نے پرتھوی راج کپور کو لے کر مزید دو فلمیں پروڈیوس کیں، جن میں فلم "انسان” 1952 اور "احسان” 1954 شامل ہیں۔ بمبئی میں کچھ عرصہ رہنے کے بعد جے گوپال موہلا خاندان کو لے کر ہریانہ لاڈو اکر رہنے لگے اور وہیں پر ان کے بیٹے مدن موہلا نے باقی تعلیم مکمل کی؛ مستقبل میں موہن موہلا نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلنے کا فیصلہ کر لیا۔ مدن موہلا کا پورا نام مدن موہن موہلا رکھا گیا تھا لیکن فلمی دنیا میں پہنچنے کے بعد انھوں نے صرف مدن موہلا نام استعمال کرنا شروع کیا۔ انھیں اس بات کا افسوس تھا کہ ان کے والد فلمی دنیا میں نام نہیں بنا سکے، لیکن میں کچھ بڑا کام کر کے اپنے والد کا نام روشن کروں گا۔
ممبئی پہنچنے کے بعد موہن موہلا نے سیون آرٹ فلمز کے نام سے اپنا پروڈکشن ہاوس کھول لیا اور بطور پروڈیوسر انھوں نے بسواجیت اور مالا سنہا کو لے کر اپنی پہلی فلم “آسرا” (1966) بنائی۔ یہ فلم ستین بوس نے ڈائریکٹ کی تھی اور فلم خاصی ہٹ رہی؛ جس سے انھیں کام کرنے کا مزید حوصلہ اور سرمایہ مل گیا۔ اس کے بعد مدن موہلا نے دھرمیندر کو سائن کرنے کا فیصلہ کیا؛ ان دنوں دھرمیندر بہت مصروف رہتے تھے، وہ چوبیس گھنٹے میں اٹھارہ گھنٹے کی شوٹنگ کیا کرتے تھے، لیکن مدن موہلا کی پہلی فلم "آسرا” کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے دھرمیندر انکار نہیں کر سکے۔ ہیما مالینی ان دنوں ایک عام سی اداکارہ تھیں، لیکن مدن موہلا نے انھیں دھرمیندر کے ساتھ ہیروئین کے طور پر فلم “شرافت” میں کاسٹ کر لیا۔ اس فلم کے ڈائریکٹر اسیت سین تھے، جب کہ اسکرین پلے مدن موہلا نے مشہور افسانہ نویس کرشن چندر سے لکھوایا۔ جب یہ فلم ریلیز (1970 میں) ہوئی، تو سپر ہٹ ہوئی؛ فلم بینوں کو دھرمیندر اور ہیما مالینی کی جوڑی بھی بہت اچھی لگی۔ اس فلم کے نو سال بعد دھرمیندر اور ہیما مالینی نے شادی کرلی اور یوں دھرمیندر اور ہیما مالینی کی جوڑی بنانے میں مدن موہلا کا بڑا ہاتھ رہا۔ اس جوڑی نے 42 فلموں میں ایک ساتھ کام کیا ہے۔ فلم ’’شرافت‘‘ کی کام یابی کے دو سال بعد 1972 میں مدن موہلا نے پھر دھرمیندر اور ہیما مالینی کو لے کر فلم “راجا جانی” بنائی۔ اس فلم کے ڈائریکٹر موہن سہگل تھے، اور یہ فلم سپر ہٹ ثابت ہوئی۔ مدن موہلا نے پہلے سے زیادہ کام یابی سمیٹی۔
کچھ سال بعد 1982 میں مدن موہلا نے دھرمیندر، جتیندر، امجد خان، ہیما مالینی اور زینت امان کو لے کر فلم "سمراٹ” بنائی۔ اس فلم کی شوٹنگ مالٹا میں کرائی گئی تھی اور یہ فلم موہن سہگل نے ڈائریکٹ کی تھی، لیکن یہ فلم زیادہ نہیں چل سکی۔ مدن موہلا کو سنبھلنے میں کئی سال لگے اور بعد دس سال کے طویل عرصے کے بعد 1992 میں مدن موہلا نے دھرمیندر، انیل کپور، کیمی کٹکر اور میناکشی شِشادری کو لے کر فلم “حملہ” بنائی، اس فلم کے ڈائریکٹر اور رائٹر این چندرا تھے۔ این چندرا ایکشن فلموں کے لیے مشہور تھے، ان کی ڈائریکشن میں فلم کام یاب بھی رہتی تھی، پر بدقسمتی فلم "حملہ” نے الٹا حملہ کردیا؛ یہ فلم بری طرح سے فلاپ ہو گئی۔ اس کی وجہ سے مدن موہلا کو شدید مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ مدن موہلا کی آخری فلم "چھپا رستم” 2001 میں ریلیز ہوئی، جس کی کاسٹ میں مدن موہلا نے سنجے کپور، ممتا کلکرنی اور منیشا کوئرالہ کو لیا تھا؛ جب کہ اس فلم کے ڈائریکٹر عزیز سجاول تھے، یہ فلم کام یاب رہی اور اس فلم میں الکا یاگنک کی آواز میں یہ گیت "ارے او شہری بابو” خاصا مشہور ہوا۔ مدن موہلا موسیقاروں میں لکشمی کانت پیارے لال کو پسند کرتے تھے؛ لکشمی کانت پیارے لال نے مدن موہلا کی پانچ فلموں کے لیے موسیقی ترتیب دی، جن میں فلم شرافت، راجا جانی، دس نمبری، سمراٹ اور فلم حملہ شامل ہیں۔
مدن موہلا کی ذاتی زندگی کی طرف اگر رُخ کیا جائے تو وہ چار بھائیوں اور بہن میں سب سے بڑے تھے۔ انھوں نے شادی شریشتا سے کی، جس سے ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہوئی۔  مدن موہلا اپنے خاندان پر جان نچھاور کیا کرتے تھے۔ انھوں نے جو کچھ کمایا وہ اپنے بہن بھائیوں بیوی اور بچوں پر لگایا۔ انھوں نے اپنے بھائیوں اور بیٹوں کو نہ صرف پڑھایا بلکہ ان کی شادیاں بھی کرائیں۔ فلم انڈسٹری میں انھوں نے نہایت شرافت کے ساتھ وقت گزارا۔ ان کی فلمی دنیا میں دھرمیندر کے ساتھ آخری دم تک دوستی رہی۔ زندگی میں ان پر بہت برے حالات بھی آئے لیکن انھوں نے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائے۔ آج کل وہ گم نامی کی زندگی بسر کررہے تھے؛ ممبئی کے علاقے جوہو میں ان کا اپارٹمنٹ ہے جہاں وہ بیوی اور بچوں کے ساتھ رہتے تھے۔
مدن موہلا اپنی شریک حیات کے ساتھ
آخری عمر میں وہ اکثر چینیوٹ، فیصل آباد اور لاہور میں گزرے دنوں کو یاد کرتے رہتے تھے۔ بڑھاپے کی وجہ سے وہ خاصے کم زور ہو گئے تھے اور اکثر بیمار رہنے لگے تھے۔ انڈین میڈیا کو ان کے انتقال کی خبر بھی نہیں ہوئی اور خبر بھی کیسے ہوتی، اب انھیں جانتا کون ہے۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ جو شخص فلم پر پیسا لگاتا ہے، جس کی وجہ سے موسیقار، گلوکار، نغمہ نگار، رائٹر اور اداکار سب کو پیسا اور شہرت ملتی ہے لیکن فلم پروڈیوسر کو کوئی یاد نہیں رکھتا اور ایک دن وہ گم نامی میں مر جاتا ہے۔ جیسے مدن موہلا گم نامی اس دنیا سے چلے گئے۔ لیکن سرحد پار سے میں نے انھیں یاد کر کے اپنا فرض نبھایا ہے۔ یہاں میں امریکا میں مقیم مدن موہلا کی بھانجی وندانا جینگن کا خصوصی شکریہ ادا کروں گا، جنھوں نے میری بہت مدد کی انھوں نے نہ صرف مجھے اپنے ماموں کی نایاب تصویریں بھیجیں، بل کہ انھوں نے امریکا میں موجود مدن موہلا کی بہن اور اپنی ماں کنچن جینگل اور انڈیا میں موجود مدن موہلا کے چھوٹے بھائی پرادیمن موہلا سے بھی میری بات کروائی، جن کے بغیر میں مدن موہلا کے بارے میں اتنی جان کاری نہیں دے سکتا تھا؛ کیوں کہ انٹرنیٹ سے مدن موہلا کے بارے میں جان کاری نہیں ملتی، لیکن اب اس ارٹیکل کے بعد دست یاب رہے گی۔
Comments - User is solely responsible for his/her words