کرکٹر سے نغمہ نگار تک کا سفر

جلیس شیروانی کے قلمی سفر کی ابتدا بہت دل چسپ ہے؛ بچپن میں علی گڑھ میں ان کے پڑوس میں مجروح گورکھپوری، آل احمد سرور اور بشیر بدر سے ملنے بہت سارے لوگ آیا کرتے تھے؛ یہ چہل پہل دیکھ کر ان کا بھی من ہوا کہ میری بھی ٹھیک اسی طرح لوگوں میں عزت ہونی چاہیے۔ پر جب انھیں معلوم ہوا کہ یہ سبھی تو شاعر و ادیب ہیں، تب انھوں نے سوچا کہ پھر تو مجھے بھی شاعر

Read more

سازوں کو حسرت سے تکتا غریب بچہ جو موسیقارِ اعظم کہلایا

گئے دنوں کا ذکر ہے، لکھنؤ کے لاٹوش روڈ پر سازوں کی ایک دُکان ہوا کرتی تھی؛ ’’بھوندو اینڈ کمپنی‘‘۔ ایک ننھا سا بچہ بار بار سازندوں کی اِس دُکان کے چکر لگاتا۔ دُکان کے مالک غربت علی نے اس بچے سے پوچھا: ’’تم ان سازوں کو کیوں گھورتے رہتے ہو‘‘؟ بچے نے جواب دیا، ’’کیوں کہ میں انھیں خرید نہیں سکتا‘‘۔ اس کے ساتھ ہی بچے نے کہا: ’’کیا میں دُکان میں جھاڑو پوچا لگانے کا کام کر سکتا

Read more

ہیما مالینی اور دھرمیندر کو ملانے والا

مدن موہلا کے والد جے گوپال موہلا اور اداکار منوج کمار کے والد پنڈت ہربنس لال گوسوامی آپس میں اچھے دوست تھے؛ گوسوامی جی کا تعلق ایبٹ آباد سے تھا اور وہ اُردو فارسی کے شاعر تھے، انھیں علامہ اقبال نے خضر کا تخلص عطا کیا تھا۔ اس دور میں منوج کمار محب وطنی پر بنی فلموں کے لیے پہچانے جاتے تھے، اس لیے انھیں جلد کام نہیں ملتا تھا؛ وہ فارغ تھے ان کے پاس اگلی فلم نہیں تھی،

Read more

اور جب میں ریکھا سے ملنے اس کے گھر پہنچا

’’اگر تم راکھی سے ملنے گئے تو یاد رکھنا، اسے گلے مت ملنا، کیوں کہ یہ مجھ سے برداشت نہیں ہو گا؛ البتہ ریکھا مجھے بھی کسی زمانے میں بہت زیادہ پسند تھی، اس لیے تم اس سے ضرور گلے ملنا‘‘۔ انڈیا جانے سے ایک دو دن پہلے قصہ خوانی بازار میں ہماری ہفتہ وار محفل میں، میرے ایک دوست جو پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں، نے یہ الفاظ مجھ سے کہے۔ انھوں نے مجھ سے وعدہ لیا کہ

Read more

ایک دل کش، دل فریب بنگالی حسینہ

وہ خوب صورت بنگالی لڑکی اب اس دنیا میں موجود نہیں، جو تھوڑی سی سانولی تھی جس کی آنکھوں میں کاجل لگا ہوتا تھا، جس کے بال ہمیشہ بندھے ہوتے تھے؛ اور ساڑھی اس کے تن پر موجود رہتی تھی۔ میں بات اس ادکارہ کی کر رہا ہوں جس کے انتقال کی خبر 9 جولائی 2017 کو بریک کرتے ہوئے بھارتی میڈیا نے رسمی طور پر بس سرسری یہ بتایا تھا، کہ امیتابھ بچن کی فلم ’’آنند‘‘ کی ہیروئن سمیتا سنیال

Read more

میرا لبرل گاؤں کرک آخر اجڑ گیا

میری پیدائش تو پشاور کی ہے، لیکن آبا و اجداد کا تعلق ضلع کرک سے ہے۔ ہمارے گاؤں کرک میں تقسیم سے قبل بہت سارے ہندو آباد تھے۔ آج بھی میرے دادا انہیں بڑے شوق سے یاد کرتے ہیں، جن کے ساتھ میرے دادا کا بچپن گزرا ہے۔ دادا جی فوج میں تھے 48 ء اور 65 ء کی لڑائی لڑ چکے ہیں۔ 65 ء کی جنگ کے بارے میں دادا جی بتاتے ہیں، جب جنگ میں کوئی ہندو فوجی پکڑا جاتا تھا، تو میں فوراً انھیں دیکھنے پہنچ جاتا تھا کہ شاید ان میں سے کوئی میرے بچپن کا دوست نکل آئے۔

پوری جنگ میں دادا جی، اس ایک حسرت میں قیدیوں سے ملتے رہے۔ سوچتا ہوں کہ ہمارے بڑوں نے کتنا اچھا دور گزارا ہے، اور آج یہ ہم کس دور میں آ گئے، جہاں ہم سے ایک مندر کا وجود تک برداشت نہیں ہو سکا۔ اور بالآخر آج اس تاریخی مندر کو بھی ڈھا دیا گیا جو کہ کرک میں مذہبی رواداری کی آخری نشانی تھی۔ یہ سب ایک دن میں نہیں ہوا۔ اس کے پیچھے کئی سال کی محنت ہے۔ حالاں کہ ایسا کچھ پہلے نہیں تھا۔ میں نے اپنے گاؤں کرک کے لوگوں کو بڑا لبرل پایا ہے۔

Read more

راج کشور: شعلے کا ہیجڑا یا پڑوسن کا لاہوری؟

ممبئی سے ہمارے دوست دریندر جین نے، راج کشور کے انتقال کے موقع پر بتایا، کہ کچھ سال پہلے جب وہ مجھے ایک بس اسٹینڈ پر کھڑے نظر آئے، تو میں نے انھیں پہچاننے کی کوشش کرتے ہوئے نادانی سے پوچھ لیا۔ ’’آپ شعلے والے راج کشور ہی ہیں ناں‘‘؟ وہ تھوڑی ناراضی کے ساتھ بولے، ’’پڑوسن والا راج کشور بھی تو کہہ سکتے ہو نا‘‘۔ ممبئی سے راج کشور کی ایک خاتون مداح نے ان سے ملاقات کا احوال

Read more

چاند ریما بہادری

یوں تو ماضی میں ہندی فلم انڈسٹری میں ماں کے کردار میں نروپا رائے اور للیتا پور کو زیادہ شہرت ملی لیکن ایک اور گمنام اداکارہ بھی تھی جس کا کسی کو کوئی خاص علم نہیں ہے۔ میں بات کررہا ہوں کریکٹر رول نبھانے والی ماضی کی اداکارہ چاند ریما بہادری کی، جو کہ معروف اداکارہ ریٹا بہادری کی ماں تھیں۔ چاند ریما بہادری کا تعلق ایک بنگالی پس منظر رکھنے والے خاندان سے تھا۔ ان کے شوہر شری رامیش چندرہ بہادری سنٹرل انڈیا میں بطور کمشنر تعینات تھے۔

ان کا مختف شہروں میں تبادلہ ہوتا رہتا تھا جب ان کا تبادلہ اندور شہر میں ہوا تو وہاں ان کی بیٹی ریٹا بہادری کا جنم ہوا۔ چاند ریما بہادری اور ان کے شوہر سیر و سیاحت کے شوقین تھے چھٹیوں میں دونوں بچوں کے ساتھ گھومنے نکل جایا کرتے تھے۔ ایک بار جب چھٹیوں میں ان کا جانا ممبئی ہوا تو ممبئی انہیں اتنا پسند آیا کہ مستقبل میں انہوں نے ممبئی میں رہنے کا من بنا لیا۔ اور پھر کچھ سال بعد 1957 میں ممبئی منتقل ہوگئے۔

Read more

فحش نگار منٹو اور نئے پاکستان کے وکیل

منٹو نے بہت پہلے کہہ دیا تھا، اگر آپ میرے افسانوں کو برداشت نہیں کر سکتے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ زمانہ ہی نا قابل برداشت ہے۔ آج منٹو کی وفات کی چھہ دہائیوں بعد بھی، پاکستان سے وہ زمانہ نہیں گزرا، جس میں منٹو کو برداشت کیا جا سکے۔

پڑوس میں نندیتا داس نے اردو میں لکھنے والے سعادت حسن منٹو پر فلم بنائی، ہمارے یہاں ہوا یہ کہ پہلے سینسر بورڈ نے نندیتا داس کی فلم ’’منٹو‘‘ کی ریلیز پر پاپندی عائد کر دی، اور اب پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے الحمرا آرٹس کونسل کی انتظامیہ کو یہ کہتے ہوئے، منٹو فیسٹیول کینسل کرا دیا ہے، کہ جب تک میں وزیر ہوں، تب تک منٹو یا اس جیسے دوسرے فحش نگاروں کے ڈراموں کی نمایش ’الحمرا‘ میں نہیں کرائی جائے گی۔ یہ بحث ایک بار پھر سر اٹھانے لگی ہے، کہ آیا منٹو فحش نگار تھا، یا ایک جراح جو کہ معاشرے کے زخموں کی جراحی کرتا تھا۔ ذہن نشیں رہے، کہ ’منٹو فیسٹیول‘ میں ’اجوکا تھیٹر‘ منٹو کی حیات اور اُن کی کہانیوں پر چار ڈرامے پیش کرنے جا رہا تھا۔

Read more

دلیپ کمار کے عاشقوں کے خیر

آج دلیپ کمار کے جنم دن پر میں اپنے دوست ورنیت کمار تیاگی کی داستان سنانے جا رہا ہوں۔ ورنیت کمار میری طرح دلیپ کمار کا بہت بڑا مداح ہے اور میری طرح وہ بھی دلیپ کمار سے مل چکا ہے۔ ورنیت کی دلیپ کمار سے ملاقات کی داستان بھی بڑی عجیب وغریب ہے۔ اور اس سلسلے میں، دلیپ کمار کی اہلیہ سائرہ بانو کا عمر بھر احسان مند ہوں کیوں کہ انھوں نے اپنے شوہر دلیپ کمار سے مجھے ملنے دیا اور میں اج بھی وہ دن نہیں بھولتا، جس دن ہم دلیپ کمار سے ملنے پشاور سے ممبئی پہنچے تھے اور اس دن ان کی طبیعت بھی نا ساز تھی اور وہ اس وقت سو رہے تھے، لیکن سائرہ بانو نے انھیں ہمارے لیے نیند سے جگا دیا تھا۔ سائرہ بانو سے رابطے میں رہنے کی وجہ سے دلیپ کمار کے بہت سارے مداحوں نے سائرہ بانو سے سفارش کرنے کا کہا لیکن میں نے کبھی کسی کو اتنا سنجیدہ نہیں لیا؛ ہاں! البتہ اپنے دوست ورنیت کے لیے میں نے ضرور سائرہ بانو سے سفارش کی تھی۔

Read more

چاکلیٹی ہیرو، پشاوری ششی کپور

قصہ خوانی بازار سے ملحق گلی ڈھکی نعل بندی میں، ان کا آبائی گھر ’کپور حویلی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ حویلی  تین منزلہ ہے اور پچاس کمروں پر مشتمل ہے۔ ششی کپور کی پشاور آمد پر شہر کو اس وقت دُلھن کی طرح سجایا گیا تھا، اور اہل پشاور نے تب اپنے پشاوری ششی کپور کا عظیم الشان استقبال کیا تھا۔ ششی کپور نے اہل پشاور سے، ایک جلسے میں، اپنے مادری زبان ہندکو میں خطاب کیا، جو ان کے اعزاز میں منعقد کیا گیا تھا۔ اس دوران کچھ منچلوں نے ششی کپور سے شرارتاً پوچھا:
’’کیا کرشمہ کپور کو بھی ہندکو زبان آتی ہے‘‘؟

ششی کپور مسکرائے اور بولے، ’’ہم سب اپنے گھر میں اپنی مادری زبان ہندکو ہی بولتے ہیں۔ جو کہ ہم پشاوریوں کی اپنی زبان ہے‘‘۔
اس وقت ششی کپور نے جذباتی ہو کر کہا، ’’میں نے پشاور آ کر دوسرا جنم لے لیا ہے‘‘۔ یہ سنتے ہی پشاوریوں نے ’’ہندو مسلم بھائی بھائی‘‘ کے نعرے لگانا شروع کردیے۔

Read more

حیدرآباد دکن، کے معروف شاعر مضطر مجاز

حیدرآباد دکن، کے معروف شاعر اور ماہر اقبالیات مضطر مجاز 83 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔ مضطر مجاز 21 سال سے روزنامہ منصف حیدرآباد کے ادبی ایڈیشن کے مدیر رہے۔ انتقال سے دو دن قبل بھی وہ روزنامہ منصف کے دفتر پر موجود تھے اور 18 اکتوبر کا شمارہ بھی ترتیب دیا تھا۔ مضطر مجاز کا اصل نام سید غلام حسین رضوی تھا۔ ان کی پیدائش 13 فروری 1935 کو ہوئی۔ ان کا تعلق بلند اترپردیش سے تھا لیکن

Read more

زندگی کے خلاف مظاہرے میں شرکت

غریب کی زندگی کالی چھپکلی کے مانند ہوتی ہے، کالی چھپکلی جو مر کر بھی دیوار سے چپکی رہتی ہے، ہمیں ڈراتی ہے۔ ”صاب مجھے جاگیرداروں سے ڈر لگتا ہے۔ اس لیے میں ان کے خلاف مظاہرہ نہیں کرپاتا، اور پھر جاگیردار دیوتا سمان ہوتا ہے، جسے پوجا جاتا ہے۔ دیوتاوں کی طرح اس کے قدموں میں لکشمی ہوتی ہے، اور لکشمی زندگی ہے۔ لکشمی دیوی ہے۔ یہ دیوی جب جاتی ہے تو جیون سانس آزادی کے بدلے میں دے

Read more

فیمنسٹ فلم میکر کلپنا لاجمی: فن اور زندگی پر ایک نظر

کلپنا لاجمی کا جنم 31 مئی 1954 بمبئی (حال ممبئی) میں ہوا۔ اُن کے والد گوپی لاجمی، نیوی میں کیپٹن تھے، جب کہ ماں للیتا لاجمی مشہور مصورہ، اور ایک اسکول میں بطور آرٹ ٹیچر پڑھایا کرتی تھیں۔ للیتا لاجمی، اداکار گرو دت کی بہن تھیں؛ اس ناتے سے کلپنا لاجمی گرو دت کی بھانجی ہوئیں۔ جب کلپنا لاجمی پیدا ہوئیں، تو اُن کے والد کی مے نوشی کی لت کی وجہ سے، اُن گھر کے مالی حالات دگر گوں

Read more

الہ آباد اب پریاگ راج ہو گیا ہے

بھارت، اترپردیش یعنی یوپی میں ہندو انتہا پسند سیاست دان یوگی ادیتا ناتھ نے الہ آباد کا نام تبدیل کر کے پریاگ راج رکھ دیا ہے۔ اب جگہ جگہ نصب الہ آباد کے سرکاری سائن بورڈز تبدیل کیے جا رہے ہیں۔ ویکیپڈیا پر امیتابھ بچن، نہرو اور اندرا گاندھی وغیرہ کی جائے پیدائش کا نام بھی الہ آباد کے بجائے پریاگ راج کر دیا گیا ہے۔ اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس فیصلے کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے۔ بہر حال

Read more

گم نام فلم پروڈیوسر مدھن موہلا آں جہانی ہوئے

ہندی فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے ماضی کے گم نام فلم پروڈیوسر مدن موہلا انتقال کرگئے۔ مدن موہلا نے اپنی کیریئر میں چھہ فلمیں بنائی اور ایک فلم بھی ڈائریکٹ کی۔ بطور فلم پروڈیوسر مدن موہلا نے بسواجیت اور مالا سنہا کو لے کر 1966 میں اپنی پہلی فلم "آسرا” بنائی، یہ فلم ستین بوس نے ڈائریکٹ کی۔ اس کے بعد مدن موہلا نے دھرمیندر اور ہیما مالنی کو لے کر 1970 میں فلم "شرافت” بنائی اس فلم کے

Read more

محمد علی جناح کا کردار ادا کرنے والے شری ولاب ویاس

بالی وُڈ کے نام ور کریکٹر ایکٹر شری ولاب ویاس کا جنم 1958 میں جیسلمیر، راجھستان میں ہوا تھا۔ انھوں نے دہلی نیشنل ڈراما اسکول سے ایکٹینگ کی تعلیم حاصل کی۔ شروعات میں انھوں نے تھیٹر پر اداکاری کی، لیکن 1984 میں انھیں ٹیلی فلم ’’مجھے جواب دو‘‘ میں کام کرنے کا موقع ملا اور اگلے سال 1985 میں انھوں نے مشہور تھیٹر پلے ’’وراثت‘‘ میں بھی کام کیا؛ لیکن کئی سال انتظار اور محنت کے بعد انھیں بالی وُڈ

Read more