صادق و امین
ہال پوری طرح بھر چکا تھا، کرسیوں پر کوئی جگہ نہ ہونے کی وجہ سے کافی لوگ ادھر ادھر ٹہل رہے تھے، جن کو بٹھانے اور تقریب کی کارروائی شروع کرنے کی غرض سے اسٹیج سیکریٹری نے کچھ نعرے لگوائے۔
’سماجی انصاف‘۔ ہال سے زوردار آواز آئی ’ہماری منزل‘
’صنفی مساوات‘۔ ہال سے آواز آئی ’ہمارا نظریہ‘
اس قسم کے نعروں کے بعد اسٹیج سیکریٹری نے اعلان کیا کہ ’نو منتخب مجلس عاملہ کے اجلا س میں کافی دیرکی بحث کے بعد اتفاقِ رائے سے اس حقیقی عوامی جماعت کی سربراہی کے لئے حاجی عبدالشکور کے نام پر اتفاق ہو گیا ہے۔
یہ اجلاس ایک نئی جماعت کے قیام کے سلسلے میں تھا جس میں بلا تفریق مذہب، رنگ، نسل، جنس ہر طبقے کے لوگ شامل تھا، جماعت کے قیام کا بنیادی مقصد معاشرتی اور معاشی انصاف کے لئے مل کر جدوجہد کرنا تھا، چونکہ سب لوگ ملک میں موجود سیاسی جماعتوں سے نالاں تھے مگر ان کو سیاسی عمل سے بڑی امیدیں تھیں اس لئے ہال میں تمام صوبوں سے ہر مذہب اور طبقے کے لوگ شریک ہوئے تھے، ہال میں عو رتوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود تھی کیونکہ سب لوگ اس بات پر متفق تھے کہ ملک کی 51 فیصدآبادی کوساتھ لئے بغیر کامیابی ممکن نہیں ہے۔
ویسےتو جماعت کی سربراہی کے لئے بہت سارے نام تھے لیکن حاجی عبدالشکور کے نام پر اتفاق کی واحد وجہ یہ تھی کہ وہ پانچ وقت کے نمازی، کئی بار حج کرنے اور علاقے کے غربا اور بیواؤں کی کفالت کی وجہ سے مشہور تھے، ان کی شرافت کی بھی مثالیں دی جاتی تھیں، گو کہ انہوں نے شرعی حدود میں رہتے ہوئے چار شادیاں کی ہوئی تھیں جن میں سے عقد ِثانی اور عقدِ ثالث اس مدرسے کی طالبات سے کیا تھا جس کی وہ دل کھول کر مالی اعانت کرتے رہتے ہیں، اس کے علاوہ مسجد کمیٹی کے سربراہ ہونے کی وجہ سے ان کے کردار پر کبھی کوئی انگلی نہیں اٹھی تھی، ان کے رزق کی طرح اولادمیں بھی برکت تھی، بیٹیاں بھی تھیں لیکن کبھی کسی نے حاجی صاحب کی ازواج اور بیٹیوں کو گھر اور مدرسے کے علاوہ کہیں آتے جاتے بہت کم ہی دیکھا تھا، انہی خصوصیات کی وجہ سے ان کے صادق اور امین ہونے میں شک و شبہے کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔
اسٹیج سیکریٹری نے جب جماعت کی سربراہی کے لئے حاجی صاحب کا نام لیا تو کافی دیر تک ہال میں تالیاں بجتی رہیں مگر دوسری صف میں بیٹھے نارائن داس نے کچھ فاصلے پر بیٹھے پیٹرکو سوالیہ نظروں سے دیکھا، جواباٌ پیٹرنے بھی کندھے اٹھا کے اپنی حیرت کا اظہارکیا۔
صدارتی نشست پر حاجی صاحب کے براجمان ہونے کے بعد اسٹیج سیکریٹری نے مجلسِ عاملہ کے ارکان کو بلانا شروع کیا، لوگ تقاریر میں مقاصد کے بجائے حاجی صاحب کو خوش کرنے کی کوششوں میں لگ گئے۔
پہلے صاحب نے خطاب کی شروعات ہی اس جملے سے کی کہ حاجی صاحب وہ ہر دلعزیز شخص ہیں جو معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے حیائی کے سخت خلاف ہیں، وہ چاہیں گے کہ سب کی بہو بیٹیاں باپردہ ہوں اور دینی علوم کے حصول کےذریعے ان کی دنیا اور آخرت سنور جائے۔
اس تقریر کے ساتھ ہی ہال میں بیٹھی بیگمات کے پسینے چھوٹ گئے اور کن انکھیوں سے ایک دوسرے کو دیکھنے کے ساتھ ہی دوسری اور تیسری صف میں بیٹھی نوجوان لڑکیوں کی طرف دیکھا جو اشاروں ہی اشاروں میں ایک دوسرے سے صورتحال کی یکایک تبدیلی پر گویا حیرت کا اظہار کا اظہار کر رہی تھیں۔
دوسرے مقرر صاحب نے اسٹیج پر آتے ہی حاجی صاحب کے کارناموں میں ان ہندو لڑکیوں کو مسلمان بنانے کا ذکرچھیڑ دیا، جن کے گھر سے نکلنے کے بعد کچھ مسلمان نوجوانوں پر اغوا کے کیسز بھی داخل ہوئے مگر حاجی صاحب کےجذبہِ ایمانی اور اخراجات کی فراوانی سے معاملے دب گئے تھے۔
ان کی باتوں پر نارائن کے ہمت جواب دے گئی، گویا وہ اس جماعت کے ساتھ نباہ نہ ہونے کا خیال دل میں لئے اپنی ساری انقلابی حکمت عملی کو ڈسٹ بن میں پھینکنے کی ٹھان کر نشست سے اٹھے اور خاموشی سے ہال سے باہر نکل آئے، ان کی دیکھا دیکھی پیٹر اور دیگر غیر مسلم لوگوں نے بھی کھسکنا شروع کردیا، ساتھ ہی عورتیں بھی نکلنے لگیں۔
اسٹیج سیکریٹری پہلے تو حیرت سے اس بات کا جائزہ لینے لگے پھر موقع پاکر مجلس عاملہ کے ایک سرکردہ رکن کو اپنی تشویش سے آگاہ کرنے ان کے پاس پہنچے مگر اس نے بھی اپنی بیزاری کا اظہار کیا تو واپس اپنی سیٹ پر آگئے۔
تیسرے صاحب نے اسٹیج پر آتے ہی ملک کے سودی نظام پرلعن طعن سے تقریر کا آغاز کیا اور گوہر افشانی اس بات پر آن پہنچی کہ ملک کو قائم رکھنے کے لئے کالاباغ ڈیم کی تعمیر ناگزیر ہے، ایسا نہیں ہوا تو ہندوستان اس ملک کا پانی بند کرکے سب کو بھوکا پیاسا مار دے گا۔
ایسی جوشیلی تقریر کرتے ہوئے وہ بار بار حاجی صاحب سے متفق ہونے کی تصدیق بھی کرواتے جارہے تھے۔
ان کی جوشِ خطابت نے سندھ، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے لوگوں کے ارمانوں پر پانی پھیر دیا اور وہ بھی ایک ایک ہو کر ہال سے باہر نکلنا شروع ہوگئے۔ لوگوں کے نکلنے کے ساتھ ہی صحافیوں نے بھی ہنسنا اور طنزیہ جملے کسنا شروع کردیے۔
اب اسٹیج سیکریٹری نے جا کر خود حاجی صاحب کو سرگوشی کے انداز میں صورتحال کی نزاکت کا احساس دلایا، تھوڑی دیر تو حاجی صاحب خاموش ہو گئے پھر جیب سے موبائل فون نکالا اور میسیجز کرنے میں مصروف ہوگئے، کچھ ریپلائیز آنے کے بعد ان کے چہرے پر اطمینان بھری مسکراہٹ آگئی اور اشارے سے اسٹیج سیکریٹری کو بھی مطمئن رہنے کی نوید دے دی۔
چوتھے مقرر تشریف لائے اور حاجی صاحب کے جذبہ ایمانی کا ذکر چھیڑ دیا، کہنے لگے کہ یہ کسی بدعتی شخص کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتیں گے، ہمارے ملک میں مزارات پر جو شرک ہوتا ہے، اس کو ختم کردیں گے، حاجی صاحب بھی اپنی ریش مبارک پر ہاتھ پھیر کر انشاءاللہ کہتے ہوئے اثبات میں سر ہلاتے جارہے تھے، ایسی صورتحال بریلوی لوگوں کے قابلِ قبول نہیں تھی، لہذا ان کی نشستیں بھی خالی ہونا شروع ہوگئیں، مقرر نے جب محرم کے جلوسوں کو بھی کھلی بدعت اور غیر شرعی کام قرار دیا اور حاجی صاحب کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے ان کی طرف دیکھا تو اسٹیج سیکریٹری ان کے کان میں کھسر پھسر کر رہے تھے، صاحب اس طرح گویا ہوئے کہ جناب میں جانتا ہوں کہ آپ کبھی ایسے بدعتی کاموں کو پسند نہیں کریں گے۔
اب نئی جماعت میں شمولیت کے خواہشمند اہل تشیع نےبھی ہال سے نکلنے میں عافیت جانی۔
آدھے سے زیادہ ہال خالی ہوچکا تھا، نئی جماعت کی مجلس عاملہ کے کچھ ارکان بھی جا چکے تھے، اسٹیج سیکریٹری نے ایک اہم سیاسی رہنما کو اسٹیج پر بلا کر کان میں کچھ کہا، اس نے تقریر کا آغاز 1857 کی جنگ آزادی سے کے واقعات سے شروع کیا، ہندوستان کی رٹی رٹائی تاریخ بیان کرکے پہلی اور دوسری جنگ عظیم کا ذکر چھیڑ دیا، پھر تحریک پاکستان کے واقعات سے ہوتے ہوئے تقسیم ہند تک جا پہنچے۔
ان کی تقریر کس نے سنی یہ تو پتہ نہیں لیکن ہال کی خالی نشتیں پھر سے بھرنا شروع ہو گئی تھیں، ہال میں نئے آنے والے لوگ کون تھے، ان سے کسی کو غرض، لیکن اسٹیج سیکریٹری کے لیے چہرے جانے پہچانے تھے، پہلے تو محلے کے لوگ تھے، نائی بھی تھا، نان بائی بھی، دھوبی بھی تھا، دودھ والا بھی، دوسری طرف حاجی صاحب کے اہل ِ خانہ، سسرالی، ہم زلف اور دیگر رشتہ بھی، مگر ابھی بھی ہال کی کافی کرسیاں خالی تھیں۔
اسٹیج سیکریٹری حاجی عبدالشکور کو صدارتی تقریر کے لئے بلانے سے پہلے ان سے مشورہ کرنے گئے تو انہوں نے تھوڑی اور مہلت مانگی، جس کے بعد اس نے ہال پر نظر دوڑائی، جماعت کے قیام کی خواہشمندوں میں سے کوئی نظر نہیں آیا، بالآخر ان کی نظر ایک ایسے آدمی پر نظر پڑ گئی جو بلا توقف بولنے کی صلاحیت رکھتے تھے، انہوں نے آتے ہی فرائض کی اہمیت سے لے کر چھوٹی چھوٹی نیکیوں تک کا ذکر چھیڑ دیا، اسٹیج سیکریٹری کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں تھا، ان کو فکر تھی خالی کرسیاں بھرنے کا، اچانک محلے کی جامعہ مسجد کے امام صاحب ہال میں وارد ہوئے، جن کو دیکھ کر حاجی صاحب کے چہرے پر اطمینان کی لہر دوڑ گئی، امام صاحب کے پیچھے مدرسے کے طالبوں کی ایک بڑی تعداد ہال میں داخل ہونے لگی، دیکھتے ہی دیکھتے تمام کرسیاں بھر گئیں، بہت سارے باریش اور سر پر سفید ٹوپی پہنے طلبہ جگہ ختم ہونے کی وجہ سے کھڑے رہ گئے، اب اسٹیج سیکریٹری کی ہمت بندھی کہ حاجی صاحب کو خطاب کی دعوت دے لیکن اس سے پہلے کچھ نعرے لگائے جائیں، اسٹیج سے پہلا نعرہ سنائی دیا ِ ’سماجی انصاف‘۔ ہال سے کوئی جواب نہیں آیا، پھر دوسرا نعرہ گونجا ’صنفی مساوات‘۔ کوئی جواب نہیں آیا۔
ایسے میں حاجی صاحب نے ہال میں بیٹھے ایک رشتہ دار کو اشارہ دیا جس نے ہال میں کھڑے ہو کر نعرہ لگایا ‘ نعرہ تکبیر’ ہال سے پرجوش جواب آیا ’اللہ اکبر‘۔


