مولوی صاحبان سر سید کو کیوں واجب القتل مانتے تھے؟


سر سید کی مخالفت کا یہ ڈیزائن سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس کے تحت سب سے پہلے سر سید کی مخالفت کی گئی۔ جب سر سید خاموش نہیں ہوئے تو ان پر کفر و شرک کا فتویٰ لگا دیا گیا۔ اس پر بھی سر سید کے قدم نہیں لڑکھڑائے تو ملحد، زندیق، دجال جیسے بچے کھچے القابات بھی ان پر دھر دیے گئے۔ اس کے بعد بھی سر سید نہیں رکے تو ان کے ساتھ کھانا کھانے پر روک کا فتویٰ دے کر ان کا حقہ پانی بند کرانے کی کوشش ہوئی۔ اس پر بھی سر سید نہیں ڈرے تو ان لوگوں کو بھی کافر قرار دے دیا گیا جو ان کو کافر نہیں مانتے۔ معلوم ہوا کہ ہر قدم پر کوشش یہی رہی کہ جس طرح بھی ممکن ہو سر سید کے قدم تھام لئے جائیں۔ اپنے آس پاس کے حالات پر غور کیجئے تو شاید اس ڈیزائن کے کچھ نظارے آپ کو مل جائیں۔

سر سید کی مخالفت کرنے والوں میں ایک جماعت وہ بھی تھی جس نے کھل تو گالم گلوچ نہیں کی لیکن طعنہ دینے میں کبھی پیچھے بھی نہیں رہی۔ اکبر الہ آبادی کا یہ شعر ہی دیکھئے
سید اٹھے جو گزٹ لے کے تو لاکھوں لائے
شیخ قرآن دکھاتے پھرے پیسا نہ ملا

یہاں شاعر اپنی اس تکلیف کا اظہار کر رہا ہے کہ سر سید کو تو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نام پر خوب چندے ملے لیکن دارالعلوم دیوبند کے لئے اتنے عطیات جمع نہ ہو سکے۔ شعر میں گزٹ اور قرآن کی جو بائنری استعمال کی گئی ہے اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ دراصل یہ دو مصرع ایک مخصوص ذہنیت کا عمدہ تعارف ہیں اور اسی ذہنیت نے مسلمانوں کو جدید تعلیم سے دور کرنے میں بہت کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

اس ذہنیت کے مطابق جدید علوم دراصل گزٹ یعنی فرنگ یعنی انگریز یعنی مغرب ہیں اور اس کے مقابل جدید علوم سے نجات حاصل کرنے اور صرف دینی تعلیم حاصل کرنے کا راستہ ہے جس کی علامت کے لئے شاعر نے قرآن کا استعارہ استعمال کیا۔ مطلب جس کو دنیاداری، مادیت، مغرب اور بے دینی چاہیے وہ گزٹ یعنی جدید تعلیم کا راستہ پکڑ لیں اور جن کی آرزو دینداری ہو وہ اس سے توبہ کرکے دوسرے رستے پر چلے آئیں جہاں جدید تعلیم کا کوئی گزر نہیں۔ یہ ایک شعر پورا بیانیہ ہے کہ ہمارے کچھ بزرگوں نے کس جانفشانی سے جدید علوم اور دینی تعلیم کو ایک دوسرے کی ضد بنا دیا۔ اس شعر میں جدید تعلیم کو گزٹ کے استعارہ کے ذریعہ ذلت کی نگاہ سے دیکھنے کی کوشش بھی قابل ملاحظہ ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

مالک اشتر ، دہلی، ہندوستان

مالک اشتر،آبائی تعلق نوگانواں سادات اترپردیش، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ترسیل عامہ اور صحافت میں ماسٹرس، اخبارات اور رسائل میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لکھنا، ریڈیو تہران، سحر ٹی وی، ایف ایم گیان وانی، ایف ایم جامعہ اور کئی روزناموں میں کام کرنے کا تجربہ، کئی برس سے بھارت کے سرکاری ٹی وی نیوز چینل دوردرشن نیوز میں نیوز ایڈیٹر، لکھنے کا شوق

malik-ashter has 117 posts and counting.See all posts by malik-ashter