جلد ہی میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری بریانی کھاتے نظر آئیں گے


پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری جعلی اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کے معاملے میں سب کو جیل جاتے نظر آ رہے ہیں۔ بڑے بڑے سیاسی پنڈت اور نجومیوں کو یہ پختہ یقین ہے کہ آصف علی زرداری جیل سے بچنے کے لیے میاں نواز شریف سے ہاتھ ملانے سے گریز کر رہے ہیں کیونکہ اس وقت آصف علی زرداری نہیں چاہ رہے کہ کہیں موکل ناراض ہو جائیں اور ان کی بھی اینٹ سے اینٹ بج جائے۔ آصف علی زرداری کو سیاست میں جوڑ توڑ کا ماہر کھلاڑی مانا جاتا ہے کہ وہ ایک ایسے کھلاڑی ہیں جو شہ اور مات میں مہارت رکھتے ہیں مگر اس کے باوجود بھی وہ یہ شطرنج کی یہ بازی ہارتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ زرداری صاحب وزیر اعظم عمران خان کو سیاست سکھاتے سکھاتے خود ایل۔ بی۔ ڈبلیو ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور سیاست کے اصلی کھلاڑی زرداری کو سیاست کا کھیل ان سے سیکھنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

آصف علی زرداری راولپنڈی اور اسلام آباد کے جڑواں شہروں کی طرح آگ اور پانی میں پھنسے ہوئے ہیں اگر آگ سے بچ گئے تو پانی میں ڈوب جائیں گے۔ پہلے بھی آصف علی زرداری اس آگ اور پانی سے بچنے کے لیے خود ساختہ جلاوطنی اور لمبی بیماری کاٹ چکے ہیں اور اس دفعہ تو وہ کچھ لومڑی کی سی چال میں کچھ ایسے پھنسے ہیں کہ نہ تو وہ باہر جا سکتے نہ وہ اندر جانے کے موڈ میں ہیں۔ آصف علی زردای کے لیے جیل جانا کوئی نئی بات نہیں وہ پہلے بھی جیل کاٹ چکے ہیں مگر ساتھ ساتھ وہ ان کیسزز سے عدالتوں سے باعزت بری بھی ہوئے ہیں اب یہ کمال آصف علی زرداری کے پِیروں کا تھا یا پھر کوئی ڈیل تھی یہ تو موکل ہی بہتر جانتے ہیں۔ مگر یہ بات تو ملک خداداد میں ماننی پڑے گی کہ یہاں پر کسی بھی شخص کو ہیرو سے زیرو بننے میں بس کچھ ہی دیر لگتی ہے بس اشارہ ہی کافی ہوتا ہے اور سب کچھ خودبخود ہو جاتا ہے۔ یہاں سیاستدانوں کے خلاف پروپیگنڈا تو بہت ہوتا ہے مگر ثابت کرنے وقت طوطے خاموش نظر آتے ہیں۔

میاں نواز شریف بھی کبھی منظور نظر تھے مگر جب ہوا بدلی تو پاکستان مسلم لیگ ن کا مضبوط قلعہ پنجاب بھی ڈھے گیا تو دیرینہ ساتھی بھی ساتھ چھوڑتے ہوئے نظر آئے۔ نواز شریف اپنی بیٹی مریم اور داماد کیپٹن صفدر سمیت احتساب عدالت سے سزا پا کے جیل بھی گئے اور نا کافی ثبوتوں کی بنا پر اسلام آباد کورٹ سے ضمانت پر رہا ہو کر گھر بھی آ چکے ہیں مگر ابھی کیس اور ریفرنسز چل رہے ہیں اور کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا یہ تو میاں صاحب ہی جانتے ہیں یاں پھر آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر میاں ںواز شریف کی رہائی کے بعد ان کی خاموشی نے لوگوں کو شکوک و شبہات میں مبتلا کر دیا ہے کہ رہائی کے اتنے دنوں کے بعد بھی میاں صاحب خاموش کیوں ہیں؟ لوگ یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ کیا میاں صاحب کا بیانیہ بدل گیا ہے یا پھر وہ تیل کی دھار دیکھنے والی پالیسی کو اپناتے ہوتے اس انتظار میں ہیں کہ آصف علی زرداری کے ساتھ کیا ہوتا ہے اس کے بعد وہ اپنی چال چلیں گے۔

چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ میاں نواز شریف نے آصف علی زرداری سے اپوزیشن کو متحد کرنے کے لیے مدد مانگ لی ہے تاکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ٹف ٹائم دے کر یہ بتا سکیں کہ سیاست کے داؤ پیچ کیا ہوتے ہیں اور حکومت کیسی کی جاتی ہے۔ یہ سب کو پتہ ہے کہ اگر آصف علی زرداری اس بھنور میں پھنسے نہ ہوئے ہوتے تو حکومت کو 100 دن کے ہنی مون میں ہی لوہے کے چنے چبوا دیتے۔ اس وقت پاکستان تحریک انصاف حکومتی گاڑی پر تو سوار ہے مگر دشوار گزار راستوں کی بھول بھلیاں اور خطرناک موڑوں سے نا آشنا اور نا تجربہ کار ہے اور کوئی ایک بھی غلطی ان کو سیدھا گہری کھائی میں گرا سکتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ٹیکسز اور مہنگائی کی سونامی کے ساتھ آگے بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہے اور گاڑیوں، بھینسوں اور قومی املاک کی نیلامی کے باوجود بھی وہ دن دور نہیں جب حکومت آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور نظر آئے گی اور کہا جائے گا خزانہ خالی تھا، کہاں جاتے۔ مگر سوال یہ ہے کہ حکومت اپنے ہنی مون کے دورانیے میں ہی غلطیوں پر غلطیاں کر کے قلابازیاں کھا رہی ہے اس کے باوجود بھی اپوزیشن خاموش ہے اور متحد نہیں ہو پا رہی ہے۔ آخر کیا مجبوری ہے آصف علی زرداری کی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ میاں نواز شریف کی صورتحال کے بعد آصف علی زرداری پر بھی واضح ہو گیا ہے کہ جیل تو وہ جائیں گے مگر کچھ بھی ہو جائے آخرکار ایک دن آئے گا جب وہ ناکافی ثبوتوں کی بنا پر وہ عدالتوں سے دوبارہ با عزت بری ہوکر وکٹری کا نشان بنا کر مسکراتے ہوئے نظر آئیں گے۔ اس لیے وہ وقت دور نہیں جب میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری بریانی کھاتے نظر آئیں گے اور پاکستان تحریک انصاف اپنی ہی حکومت میں سڑکوں پر جلسے جلوس کرتے نظر آئیں گے اور اس وقت یہ کہا جائے گا کہ پتہ ہی نہیں چل رہا کہ پاکستان تحریک انصاف حکومت میں یا کہ اپوزیشن میں۔

Facebook Comments HS