ڈیم فول


پاکستان سمیت دیگر ترقی پزیر ممالک کا المیہ ہے کہ یہاں ترقی صرف نعرہ بن کر رہ گئی ہے ۔ کبھی روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے پر اس کی آس دی جاتی ہے تو کبھی تبدیلی کے نام پر اور کبھی خوشحالی کے نام پر آسرا دیا جاتا ہے۔ لیکن دراصل نعروں سے تقریر تو اچھی کی جا سکتی ہے لیکن ان سے ملک اور قوم کی تقدیر بدلنا ممکن نہیں ۔ ایسا ہی ایک نعرہ آج کل ڈیم بناؤ کی صورت میں عام ہو چکا ہے۔

پاکستان کے لئے پانی ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے اس سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو پانی کی شدید قلت کا شکار ہیں۔ لیکن اس سے نمٹنے کا جو طریقہ اب اپنایا جا رہا ہے شاید وہ زیادہ سودمند ثابت نہ ہوگا ۔ مجھے ڈر یہ ہے کہ شائد یہ حقیقی مسئلہ سیاست کی نذر نہ ہو جائے۔

چیف جسٹس صاحب کا ڈیم فنڈ والا قدم ویسے نتائج نہ دے سکے گا جس کی قوم امید کر رہی ہے۔ ایسا ممکن ہے کہ یہ مہم بھی قرض اتارو ملک سنوارو کی طرح کسی قسم کے دور رس نتائج نہ دے سکے اور جمع کیا ہوا پیسہ بھی کسی اور مقصد کے لیئے استعمال ہو جائے ۔ میں اصولی طور پر چیف جسٹس صاحب کے اس اقدام کو صحیح نہیں سمجھتا۔ چیف جسٹس صاحب پاکستان کے سب سے مقدس ادارے کے سربراہ ہیں، ان کے کندھوں پر عوام کو انصاف کی فراہمی کا فریضہ ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں سائیکل چوری کا مقدمہ کئی برس لیتا ہے وہاں جب ملک کی اعلی ترین عدلیہ کے سربراہ چندہ کی مہم چلائیں گے تو یقینا ان کے کام میں خلل پڑے گا ۔ ایسی صورت میں جج صاحب کو عام عوام سے میل جول بڑھانا پڑے گا اور پچھلے دنوں سندھ میں جس طرح کالا باغ ڈیم کے خلاف چیف جسٹس صاحب کی موجودگی میں نعرہ بازی ہوئی ا س سے ہم سب واقف ہیں ۔ ایسے اقدام سے عدلیہ کی عزت پر حرف آتا ہے میرے خیال سے چیف جسٹس صاحب کو ایسی صورتحال کا مزید سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ وہ جتنا عوامی میل جول بڑھائیں گے اتنا ہی عوامی رویوں کا شکار ہونا پڑے گا۔ اور چندہ مہم کے لیئے انہیں عوام میں جانا پڑے گا۔ اس تمام عمل سے عدالت جیسے مقدس ادارے کی عزت پر حرف آئے گا ۔

اگر بھاشا ڈیم کے معاشی اشاریوں کی طرف نظر ڈالیں تو وہ بھی کوئی حوصلہ افزا صورتحال نہیں دکھا رہے ۔ اس ڈیم کو بنانے کے لئے جتنا سرمایہ درکار ہے وہ صرف چندے سے حاصل کرنا نا ممکن ہوگا۔ 2013 کے تخمینے کے مطابق اس ڈیم کو بنانے کے لیئے 14 ارب ڈالرز کی ضرورت تھی جو کہ تقریبا 1600 ارب روپے سے زیادہ بنتے ہیں۔ اتنی رقم صرف چندے سے یا قومی وسائل سے حاصل کرنا ممکن نہ ہوگا۔ قرضہ حاصل کیے بغیر یہ منصوبہ شاید ممکن نہ ہو۔ اس صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے بلند و بانگ دعووں سے گریز کرنا چاہیئے۔ حکومت وقت کو چندہ جمع کرنے کے بجائے نئی آبی پالیسی پر کام کرنا چاہیئے، ملک کے موجودہ آبی ذخائر کو بہتر کیا جائے ، کاشتکاری کے جدید طریقہ کاروں کی ترویج کی جائے ، بھاشا اور مہمند جو طویل مدتی منصوبے ہیں ان پر بھی کام کیا جائے لیکن ساتھ ساتھ چھوٹے منصوبے جیسے بلوچستان میں چھوٹے ڈیمز بنائے جائیں ۔تحقیق بتاتی ہے کہ بلوچستان میں ہم تقریبا ایک دریائے سندھ سالانہ سمندر کی نذر کر دیتے ہیں بلوچستان سطح سمندر سے بلند ہے جس کی وجہ سے یہاں سمندری پانی زمین میں داخل نہیں ہوتا اس وجہ سے پانی کو سمندر میں بھیجنا ضروری نہیں ۔ اس کے برعکس سندھ کے ذیلی علاقے چونکہ سطح سمندر سے نیچے ہیں اس وجہ سے دریا کا پانی سمندر میں جانا بے انتہا ضروری ہے ۔ پانی کی کمی کی وجہ سے پہلے ہی سندھ کے ضلعے بدین اور سجاول شدید معاشی ابتری کا شکار ہیں۔ کیٹی بندر تین مرتبہ اپنے اصل مقام سے منتقل ہو چکا ہے جس کی وجہ صرف سمندری پانی کا داخل ہونا اور پانی کی کمی ہے ۔ حکومت کو ملک میں پینے کے پانی کے مسائل کے حل کے لئے کام کرنا چاہیئے ۔ بد قسمتی کی بات ہے کہ پاکستان میں پینے کے پانی کی کوئی پالیسی نہیں۔ شہروں نے زیر زمین پانی کا بے دریغ استعمال کیا نہ صرف پینے کے لئے بلکہ کاشتکاری کے لئے بھی ، جس کی سب سے واضح مثال کوئٹہ شہر ہے جہاں زیر زمین پانی اس حد تک نکالا گیا کہ شہر اب بربادی کے کنارے پر پہنچ گیا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر بھی اگر دیکھا جائے تو پاکستان بھاشا ڈیم کی وجہ سے کافی مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے ماضی میں بھی بین الاقوامی معاشی اداروں نے اس منصوبے کو فنڈ کرنے سے ہچکچاہٹ کا اظہار کیا تھا بھارت اس ڈیم کی تعمیر کو مسئلہ کشمیر سے جوڑنے کی کوشش کرے گا کیونکہ پاکستان مسئلہ کشمیر کو لیکر اقوام متحدہ میں گیا ہے اور بھارت گلگت بلتستان کو بھی کشمیر سے منسلک کرتا ہے ۔ چین کے مفادات بھی اس ڈیم کی وجہ سے متاثر ہوتے ہیں ۔بھاشا ڈیم چونکہ CPEC روٹ پر موجود ہے اور اس کی وجہ سے شاہرہ قراقرم بھی متاثر ہوگی تو شاید چین بھی اس منصوبے کو کھلے دل سے تسلیم نہ کرے ۔ چین نے پاکستان کو بھاشا ڈیم کی تعمیر کی پیشکش کی تھی لیکن پاکستان نے چین کی سخت شرائط کی بنا پر اس کی پیشکش مسترد کردی تھی۔

پاکستان کو فوری طور پر افغانستان سے دریائے کابل پر پانی کا معاہدہ کرنا چاہیئے ۔ افغانستان دریائے کابل پر ڈیموں کی تعمیر کر رہا ہے اور بھارت کے تعاون سے بننے والے یہ ڈیم تین سال کی مدت میں بن جائیں گے اس صورت میں پاکستان میں پانی کی آمد میں خاطر خواہ کمی ہوگی ۔ حکومت کو فوری طور پر اس پر کام شروع کر دینا چاہیئے۔ پاکستان چونکہ دریایے کابل کے نچلے حصے کا مالک ہے اس وجہ سے بین الاقوامی قوانین کے مطابق پاکستان کا اس پر زیادہ حق ہے ۔ ایک اور اہم مسئلہ جو بھاشا ڈیم حل نہیں کر سکے گا وہ ہے سیلاب کے دنوں میں مشرقی دریاؤں اور دریائے کابل کے پانی کو روکنے کی استطاعت ، یہ ڈیم اس پانی کو نہیں روک سکے گا ۔ ماضی میں سیلاب سے جو تباہی آئی اس سیلاب کا زیادہ تر پانی مشرقی دریاؤں کی جانب سے آیا۔ بھاشا ڈیم اس پانی کو جمع نہیں کر سکے گا بلکہ یہ ڈیم صرف گلیشئروں کے پانی کوروک سکے گا ۔ بھاشا سمیت دیگر ڈیم بنانا انتہائی ضروری ہیں لیکن مجھے صرف اس بات کا اندیشہ ہے کہ کہیں ہم صرف بھاشا ڈیم کی بنانے کے چکر میں دوسرے منصوبے نظر انداز نہ کر دیں ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ ڈیم بھی کالا با غ ڈیم کی طرح متنازعہ ہو جائے اور عوام کے لئے ڈیم تو نہ بن پائے لیکن عوام ڈیم فول بن جائیں۔

Facebook Comments HS