قدیم یونان کا ذہین فلاسفر ارسطو

دنیا کا عظیم فاتح سکندر اعظم ، ارسطو کا شاگرد تھا۔ الیگزنڈر دی گریٹ یا سکندر اعظم نے تقریبا تین سال تک ارسطو سے تعلیم و تربیت حاصل کی۔ ارسطو کو جب ایتھنز میں سزائے موت سنائی گئی تو وہ ایتھنز سے چلا گیا۔ ایتھنز کو چھوڑتے ہوئے اس نے کہا تھا کہ اب وہ یونان کے لوگوں کو یہ موقع فراہم نہیں کرے گا کہ وہ فلسفے کو نقصان پہنچائیں، اس لئے وہ سقراط کی طرح زہر کا پیالا پی کر نہیں مرے گا۔
ارسطو دنیا کا وہ واحد فلاسفر ہے جس نے تقریبا تمام علوم کے بارے میں کچھ نہ کچھ لکھا ہے۔ اس نے سوشل سائنسز، پولیٹیکل سائنس، اخلاقیات، نیچرل فلاسفی، سائنس، فزکس، بیالوجی، میٹا فزکس جیسے موضوعات پر بہت کچھ لکھا ہے۔ اس کے علاوہ منطق، موسیقی، ریاضی، آسٹرانومی، کاسمالوجی اور ہسٹری پر بھی اس کی بہت ساری تحریریں موجود ہیں۔ اس نے سائیکالوجی، تھیالوجی، سیاسی تاریخ، گورنمنٹ تھیوری، شاعری، آرٹ، ڈرامہ اور تھیٹر پر بھی اپنا نقطہ نظر بیان کیا ہے۔
اس نے جس موضوع پر بھی لکھا کمال کردیا۔ اس کے بعد اس کی ہر تحریر مکمل موضوع بن گئی۔ فزکس پر لکھا تو فزکس کا ایک مکمل ڈسپلن ترتیب پا گیا۔ جدید یونیورسٹیوں میں مختلف موضوعات کی بنیادی کلاسیفیکیشن اور ٹرمز کی ڈیفینیشنز ارسطو نے ترتیب دیں۔ یہ واحد فلسفی ہے جس نے لاجیکل سسٹم کی نشوونما کی۔ منطق کا طریقہ کار سائنسی انداز میں بتایا۔ جب منطق کا یہ سسٹم اس نے مختلف موضوعات پر اپلائی کیا تو اس سے کوئی نئی دریافت یا نئی بات سامنے آئی۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ جس نے بھی ارسطو سے فیض یاب ہونا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس کے لاجیکل سسٹم کو سب سے پہلے سمجھنے کی کوشش کرے۔
وہ اپنا لاجیکل سسٹم لٹریچر ریویو سے شروع کرتا ہے کہ جس موضوع پر وہ جو کچھ لکھنا چاہتا ہے یا کچھ نئی بات کرنا چاہتا ہے اس کے بارے میں اس سے پہلے اس موضوع پر کیا کچھ لکھا اور کہا گیا ہے۔ اس موضوع پر انسانی تاریخ میں کس طرح کا بحث و مباحثہ ہوتا رہا ہے۔ کسی بھی نقطہ نظر پر پر کچھ کہنے سے پہلے وہ مخالفانہ نقطہ ہائے نظر بیان کرتا ہے۔ اس عمل کو وہ dialectics کہتا ہے۔ اس کا مطلب ہے اہم بحث و مباحثے کو سمجھنا۔ جب وہ کسی بحث و مباحثے کو کھولتا ہے اور اس کے بعد اپنا منطقی تجزیہ دیتا ہے تو اس تجزیئے کو بھی وہ لاجیکل سسٹم سے گزارتا ہے۔ تراش خراش کے بعد وہ کوئی نئی بات یا نئی دریافت سامنے لاتا ہے۔
ارسطو کے اس لاجیکل سسٹم کو آرگنان کہا جاتا ہے۔ اس لاجیکل سسٹم کا ہمیشہ فلاسفی پر بہت اثر رہا ہے۔ اس کی بہت سی ایسی کتابیں ہیں جو صرف لاجیکل سسٹم کی وضاحت کے لئے لکھی گئی ہیں۔
ارسطو سائنسز کو تین مختلف حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ اس کے مطابق سائنسز کی تین کیٹاگریز ہیں۔ تھیوریٹیکل سائنسز، پریکٹیکل سائنسز اور پروڈکٹیو سائنسز۔ تمام وہ سائنسز جن کو نیچرل سائنسز کہا جاتا ہے۔ معاشی نظام سے جن کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ وہ علم جو صرف اپنے لئے یا اپنے واسطے پڑھا جائے اسے وہ تھیوریٹیکل سائنسز کہتا ہے۔ سوشل سائنسز، سیاست کا علم، ان کو وہ پریکٹیکل سائنسز کا نام دیتا ہے۔ ارسطو کے مطابق وہ علم جس کے نتیجے میں انسانی زندگی اور انسانی سماج میں بہتری آئے اسے وہ پریکٹیکل سائنسز کہتا ہے۔
وہ علم جس سے انسانی تہذیب اور انسانی زندگی میں خوشی، اطمینان اور خوبصورتی پیدا ہو۔ انسانی زندگی میں آسائشیں پیدا ہوں، ایسے علوم کو وہ پروڈیکٹو سائنسز میں شمار کرتا ہے۔ زراعت، موسیقی، تھیٹر، ڈانس، شاعری وغیرہ کو وہ پروڈیکٹیو سائنسز کہتا ہے۔ اس کے مطابق یہ تمام علوم انسانی زندگی کو جدید اور خوبصورت بناتے ہیں جس سے انسان روحانی اور معاشی طور پر خوش رہتا ہے۔
تقریبا دو ہزار سال تک ارسطو کے نظریات کا اثر انسانی سوچ پر رہا ہے۔ اس کی وجہ سے جدید سائنسی سوچ دنیا میں پھلی پھولی ہے۔ اسلام کے سنہری دور میں مسلمان فلسفیوں کا پسندیدہ ترین فلسفی ارسطو تھا۔ ابن رشد نے اسپین میں بیٹھ کر ارسطو کے نظریات کو بارویں اور تیرہویں صدی میں یورپ تک پھیلایا۔ جس کی وجہ سے یورپی دنیا میں نشاۃ ثانیہ ہوئی۔ جب تک نیوٹن اس زمین پر نہیں آیا تب تک فزکس کے بنیادی اصول و ضوابط ارسطو نے تشکیل دیے تھے۔ نیوٹن کے آنے کے بعد فزکس کی دنیا میں نئی انقلابی تبدیلیاں آئیں جو ارسطو کے نظریات سے مختلف تھیں۔

