مفروضے پر اعتقاد انا کا معاشقہ ہے


مفروضہ حقیقت کا کندن بن سکتا ہے اگر اس کو تشکیک کی بھٹی میں تنقید کی آنچ سے گذارا جائے وگرنہ استرداد کے کوڑے دام میں چلا جاتا ہے یا تیقن سے اعتقاد کا جوہڑ بن جاتا ہے جس سے تعفن پھیل کر اگلی نسلوں کے لیے بھی سانس لینا دشوراکر دیتا ہے۔ آج کے جتنے سائنسی حقائق ہیں وہ کبھی مفروضات تھے جن کو تجربات اور مشاہدات، تشکیک اور تنقید کے پل صراط سے گذار کر آفاقی حقائق کے درجات تک پہنچا دیا گیا ہے لیکن مگر مفروضات جو اس کٹھن سفر میں کسی مقام پر رہ گئے وہ یا تو ناپید ہوگئے یا بپھر تیقن کے درجے پر آج بھی سوچ اور عقلیت کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔

مفروضہ کسی مجذوب کا وجدان یا کسی عقلیت پسند کی مستقبل بینی نہیں بلکہ ماضی کے مشاہدات، تجربات اور نتائج کی بنیاد پرعقل و خرد کا سوال ہے جس کا جواب تلاش کرکے اسے مسترد یا قبول کیا جاتا ہے۔ بعض مفروضات سے اٹھنے والے سوالات کا جواب ان مفروضوں کے خالق نے خود ہی ڈھونڈ لیا اور کئی مفروضات پے تشکیک ابھی بھی تسلی کی منزل نہ پاسکی۔ نیوٹن نے اپنا مفروضہ کشش ثقل کو ثابت کیا لیکن چارلس ڈارون نے اپنے نظریہ ارتقا کے مفروضے کو ایک بڑے سوال کی شکل میں چھوڑ دیا۔

جب پہلی بار کہا گیا کہ سورج زمین کے گرد نہیں بلکہ زمین کا سیارہ سورج کے گرد چکر لگاتا ہے تو اجرام فلکی کی حرکیات کے بارے میں مفروضات تیقن کے درجے پر ایمان کا حصہ بن چکے تھے۔ اس مفروضے کو قائم کرنے والوں نے کبھی خلائی جہاز میں بیٹھ کر زمین اور سورج کے بیچ بیٹھ کر اس کا مشاہدہ نہیں کیا تھا بلکہ سورج کی پرستش کرنے والے پروہتوں کے تجربات، زمین پر پڑنے والے اثرات اور لوگوں کے مشاہدات سےیہ نتیجہ اخذ کیا تھا جس سے حقیقتوں کی نئی راہیں کھل گئیں وگرنہ آج تک تیقن کی منزل پر ہی سورج اور چاند ستاروں کی پوجا جاری رہتی۔

دنیا کو سائنس اور فلسفے کی نئی جہتوں سے روشناس کرانے والے ارسطو کے نظریات، خیالات اور تفکرات کئی صدیوں سے تیقن کے تالاب میں جمود کا شکار تھے جس میں ابن رشد نے پہلی بار نقد کا کنکر پھینک کر ہلچل پیدا کردی اس کے بعد یورپ کا نشاط ثانیہ شروع ہوا۔ سپین کی مسجد کے ستون کے ساتھ باندھ کر کفر اور الحاد پھیلانے کے الزام میں لوگوں کی لعنتوں اور نفرتوں کا نشانہ بنائے جانے والا ابن رشد آج اہل مغرب کے جامعات میں مینارہ نور کا درجہ رکھتا ہے جبکہ ہمارے ہاں اس کا کوئی نام لیوا نہیں جبکہ ارسطو کی منطق آج بھی بطور حرف آخر بیشتر مدارس میں پڑھائی جاتی ہے۔

ہمارے دور میں پیدا ہونے والے سٹیفن ہاکنگ نےبلیک ہول کا مفروضہ بہ نفس نفیس خود جاکر مشاہدہ کرکے نہیں بلکہ آج تک ہونے والی تحقیق اور اس کے نتائج، مشاہدات اور تجربات کی روشنی میں سامنے رکھا۔ اس نظریے یا مفروضے کے بارے میں بھی دو قسم کی آرا ٔ پائی جاتی ہیں۔ ایک رائے یہ ہےکہ سٹیفن ہاکنگ جیسے جسمانی طور مفلوج اور معزور شخص کی باتوں پر یقین رکھنا از خود دیوانگی کے مترادف ہے اور دوسری رائے یہ ہے کہ اس مفروضے کو بھی تجربے اور مشاہدے کی کسوٹی پر پرکھا جائے۔ ابھی تک تو سٹیفن ہاکنگ کے بلیک ہول کے نظریے پر کوئی خاطر خواہ استرداد سامنے نہیں آئی ہے ما سوائے بے بنیاد انکار کے جو اہل یقن کا خاصہ ہے مگر دنیا کی بڑی بڑی خلائی رصد گاہوں میں اس نئے مفروضے نے اہل خرد کے خیالات میں ہلچل پیدا کردی ہے جو فلکیاتی طبیعیات کے نئے افقوں تک پہنچنے کے سفر کا آغاز ہے۔

مفروضات صرف سائنسی حقائق ہی کی بنیاد نہیں ہوتے بلکہ سیاسی اور سماجی حقیقتوں کی راہیں بھی یہی سے ہوکر گزرتی ہیں۔ سقراط، افلاطون، ارسطو، کارل مارکس، لینن۔ گاندھی اور جناح کے نظریات و خیالات بھی صرف مفروضات ہی تھے جو تشکیک و تنقید سے گزر کر مقبولیت کے درجے پر فائز ہوئے یا پھر مسترد کردیے گئے۔ طبیعیاتی سائنس اور سیاسی و سماجی سائنس کےمفروضات و حقائق میں محض حرکیات کا فرق ہے۔ سیاسی و سماجی سائنس بہتے دریا کی طرح ہے جس کے حتمی ہونے کا تعین ممکن نہیں۔ نئی دریافتیں، زرائع پیداوار میں تبدیلی سماجی، معاشی اور سیاسی حقیقتیں بھی بدل دیتی ہے جس کی وجہ سے پرانے نظریات اور مفروضات بھی بدل جاتے ہیں۔

ہم اپنی روزمرہ کی زندگیوں مین بھی ایسے مفروضات کو شعوری اور لاشعوری طور پر حقیقت تسلیم کر بیٹھے ہوتے ہیں جو تجربے کی بھٹی میں سے کبھی نہیں گزرے اور نہ سچائی کی کسوٹی پر پرکھے گئے ہیں۔ مفروضے کو سچ کی کسوٹی پر جانچنے کا پہلا قدم شک ہے جو یقین کی حدود کو پھلانگنے میں مدد گار ہوتا ہے وگرنہ تیقن کبھی تشکیک کو پنپنے نہیں دیتا جو سوال کھڑا کرتا ہے۔
تشکیک سے اٹھنے والے سوال کا جواب تلاش کرنے سے ہی حقیقت کے پردے وا ہوتے ہیں اور ہم سچائی کی طرف گامزن ہوتے ہیں۔ نتیجے کی شکل میں سچائی چونکہ غیر متوقع ہوتی ہے اور تلخ بھی اس لئے اس کا خوف بھی ہمیں تشکیک سے روکے رکھتا ہے اس لئے ہم مفروضے سے ہی پیار کرتے ہیں اور اس کو سچائی کی کسوٹی پر نہیں پرکھتے۔ تشکیک اور سوال اٹھانے سے ہمارے تیقن، اعتقاد اور اعتبار اور اس سے جڑی انا کے ٹوٹنے کا خوف ہمیں مفروضوں کے پیچھے چھپی سچائی کو ڈھونڈنے سے باز رکھے ہوئے ہے۔

صنعتی انقلاب نے دنیا کی سیاسی اور سماجی حقیقتوں کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے جس میں ریاست کے روایتی تصور ات اور دھرم و خانقاہ کا کردار بھی شامل ہے۔ اب جدید ابلاغی انقلاب نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی جب جغرافیائی حدود اور فاصلے بے معنی ہوچکے ہیں۔ ہم اپنے پرانے خیالات، تصورات اور نظریات پر اٹھنے والے سوالات کا جواب تلاش کرنے کے لئے اس لئے تیار نہیں کہ کہیں ہمیں ان کو چھوڑنا نہ پڑے اور ہمارےتیقن کو دھچکا نہ لگے جو اب ہمارے انا کا معاشقہ ہے۔ کیا آنکھیں بند رکھنے سے حقیقت بدل جائے گی؟

Facebook Comments HS

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 289 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan