پودوں کے جنسی عمل کی حیران کن تفصیلات سامنے آ گئیں


پودے ایک دوسرے کے ساتھ جنسی عمل کیسے کرتے ہیں؟ پہلی مرتبہ انتہائی حیران کن تفصیل سامنے آگئی

 

یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ پودے بھی ایک دوسرے کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتے ہیں جس کے نتیجے میں پھل پھول میسر آتے ہیں لیکن وہ جنسی تعلق کیسے قائم کرتے ہیں؟ اب سائنسدانوں نے پہلی بار یہ راز بھی منکشف کر دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ پودوں کا جنسی تعلق قائم کرنے کا طریقہ بھی بہت حد تک جانوروں کے جنسی عمل کے طریقے سے مشابہہ ہے۔ نر پودے کے سپرمز پولن میں محفوظ ہوتے ہیں اور وہ ازخود حرکت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ان کے مادہ پودے کے بیضوں تک پہنچنے کے لیے اس میں ایک پولن ٹیوب ہوتی ہے جو سپرمز کو بیضوں تک لے کر جاتی ہے۔ یہ ٹیوب بافتوں کے ایک پیچیدہ نظام پر مبنی ہوتی ہے۔

کینیڈا کی McGill یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے مزید بتایا کہ ”یہ پولن ٹیوب مادہ پودا اپنے اندر موجود پانی کے پریشر سے اس وقت بناتا ہے جس اس میں نر پودے کے سپرمز حاصل کرنے کی خواہش بیدار ہوتی ہے۔ اس پانی کا پریشرحیران کن طور پر اتنا زیادہ ہوتا ہے جتنا کسی کار کے ٹائر میں موجود ہوا کا پریشر۔پھر اس ٹیوب کے ذریعے سپرمز مادہ پودے کے بیضوں تک پہنچتے ہیں اور ان کی افزائش ہوتی ہے۔ ڈاکٹر متھوکوماران پکیریسمے اور ان کی ٹیم نے اس تمام عمل کی ایک ویڈیو بنائی ہے جس میں نر پودے کے سپرمز کے مادہ کے بیضوں تک پہنچنے کے عمل کی وضاحت کی گئی ہے۔ڈاکٹر متھوکوماران کا کہنا تھا کہ ”مادہ پودے کے بیضے اس کے ٹشوز میں بہت نیچے موجود ہوتے ہیں اور پولن ٹیوب ہی سپرمز کو ان تک پہنچاتی ہے۔ پولن ٹیوب کے خلیے پودوں میں سب سے زیادہ تیزی کے ساتھ بڑھنے والے خلیے ہوتے ہیں۔ یہ ایک گھنٹے میں 2سینٹی میٹر تک بڑھتے ہیں، جو پودوں کے دیگر خلیوں کی بڑھوتری کی شرح سے 500گنا زیادہ ہے۔“

Facebook Comments HS